آخرت میں دنیوی رشتے کٹ جائیں گے تفہیم القرآن جلد سوم

 آخرت میں دنیوی رشتے کٹ جائیں گے

تفہیم القرآن جلد سوم ، صفحات 300،  692

سورہ مؤمنون آیت 101

فَاِذَا نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ وَّ لَا يَتَسَآءَلُوْنَ۠۰۰۱۰۱ سورہ مؤمنون آیت 101

پھر جونہی کہ صُور پھونک دیا گیا، اِن کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ سورہ مؤمنون آیت 101

سورة الموٴمنون حاشیہ نمبر۹۴

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ باپ باپ نہ رہے گا اور بیٹا بیٹا نہ رہے گا۔بلکہ مطلب یہ ہے کہ  اُس وقت نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا نہ بیٹا باپ کے۔ ہر ایک اپنے حال میں کچھ اس طرح گرفتار ہو گا کہ دوسرے کو پوچھنے تک کا ہوش نہ ہوگا کجا کہ اس کے ساتھ کوئی ہمدردی یا اُس کی کوئی مدد کر سکے۔ دوسرے مقامات پر اس مضمون کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ وَلَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًا،  ”کوئی جگری دوست اپنے دوست کو نہ پوچھے گا“۔ (المعارج ، آیت ۱۰) اور یَوَدُّ الْمُجْرِ مُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْ مَئِذٍم بِبَنِیْہِ وَصَاحِبَتِہٖ وَاَ خِیْہِ وَفَصِیْلَتِہِ الَّتِیْ تُؤْ وِیْہِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ثُمَّ یُنْجِیْہِ،”اس روز مجرم کا جی چاہے گا کہ اپنی اولاد اور بیوی اور بھائی اور اپنی حمایت کرنے والے قریب ترین کنبے اور دنیا بھر کے سب لوگوں کو فدیے میں دے دے  اور اپنے آپ کو عذاب سے بچا لے“ (المعارج آیات ۱۱ تا ۱۴) اور   یَوْ مَ یَفِرُّ الْمَرْ ءُ مِنْ اَخِیْہِ وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیْہِ وَ صَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ لِکُلِّ امْرِ ئِ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَانٌ یُّغْنِیْہِ، ”وہ دن کہ آدمی اپنے بھائی اور ماں باپ اور بیوی اور اولاد سے بھاگے گا ۔ اس روز ہر شخص اپنے حال میں ایسا مبتلا ہو گا کہ اسے کسی کا ہوش نہ رہے گا“ (عبس، آیات ۳۴ تا ۳۷)۔

آخرت میں دنیوی رشتے کٹ جائیں گے

تفہیم القرآن جلد سوم،  سورہ عنکبوت آیت 25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۚ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ يَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١ٞ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَۗۙ۰۰۲۵ سورہ عنکبوت آیت 25

اور اُس نے کہا ”تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بُتوں کو اپنے درمیان محبّت کا ذریعہ بنالیا ہے مگر قیامت کے روز تم ایک دُوسرے کا انکار اور ایک دُوسرے پر لعنت کرو گے اور آگ تمہارا ٹھکانا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا۔“ سورہ عنکبوت آیت 25

اور اُس نے کہا

 

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر۴١

سلسلۂ کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ بات آگ سے بسلامت نِکل آنے کے بعد حضرت ابراہیمؑ نے لوگوں سے فرمائی ہو گی۔

تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بُتوں کو اپنے درمیان محبّت کا ذریعہ بنالیا ہے

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر۴۲

یعنی تم نے خدا پرستی کے بجائے بُت پرستی کی بنیا د پر اپنی اجتماعی زندگی کی تعمیر کر لی ہے جو دنیوی زندگی کی حد تک تمہارا قومی شیرازہ باندھ سکتی ہے ۔ ا س لیے کہ یہاں کسی عقیدے پر بھی لوگ جمع ہو سکتے ہیں ، خواہ حق ہو یا باطل۔ اور ہر اتفاق و اجتماع ، چاہے وہ کیسے ہی غلط عقیدے پر ہو، باہم دوستیوں، رشتہ داریوں، برادریوں، اور دوسرے تمام مذہبی، معاشرتی و تمدنی اور معاشی و سیاسی تعلقات کے قیام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

ایک دُوسرے پر لعنت کرو گے

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر۴۳

یعنی عقیدۂ باطلہ پر تمہاری یہ ہیئتِ اجتماعی آخرت میں بنی نہیں  رہ سکتی۔ وہاں آپس کی محبت، دوستی، تعاون، رشتہ داری، اور عقیدت و ارادت کے صرف وہی تعلقات برقرار رہ سکتے ہیں جو دنیا میں خدائے واحد کی بندگی اور نیکی و تقویٰ پر قائم ہوئے ہوں ۔ کفر و شرک اور گمراہی و بدراہی پر جُڑے ہوئے سارے رشتے وہاں کٹ جائیں گے ، ساری محبتیں دشمنی میں تبدیل ہو جائیں گی ، ساری عقیدتیں نفرت میں بدل جائیں گی، بیٹے اور باپ، شوہر اور بیوی، پیر اور مرید تک ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ہر ایک اپنی گمراہی کی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر پکارے گا کہ اِس ظالم نے مجھے خراب کیا اس لیے اسے دوہرا عذاب  دیا جائے۔ یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمائی گئی ہے۔ مثلاً سورۂ زُخرف میں فرمایا اَلْاَ خِلَّآ ءُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُہُمْ لَبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ (آیت ۶۷)۔ ” دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے ا، سوائے متقین کے ۔“ سورۂ اعراف میں فرمایا: کُلَّمَا دَخَلْتَ اُمَّۃٌ لَّعَنَتْ اُخْتَھَا حَتّٰیٓ اِذَا ادَّا رَکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًا قَالَتْ اُخْرٰھُمْ لِاُ و لٰھُمْ رَبَّنَا ھٰٓؤُ لَآءِ اَضَلُّوْ نَا فَاٰ تِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ (آیت ۳۸)۔” ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہو گا تو اپنے پاس والے گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا حتٰی کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا  گروہ پہلے والے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے  ہمارے ربّ، یہ لوگ تھے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا، لہٰذا  انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے۔“ اور سُورۂ احزاب میں فرمایا وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَکُبَرَآ ءَ نَا فَاَ ضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا رَبَّنَآ اٰتِھِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْھُمْ لَعْنًا کَبِیْرًا o (آیات ۶۸-۶۷)۔  ”اور وہ کہیں گے اے ہمارے ربّ، ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہم کو راہ سے بے راہ کر دیا، اے ہمارے ربّ تو انہیں دوہری سزا دے اور ان پر سخت لعنت فرما۔“

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں