آخرت میں مشرکین سے کیا بازپرس ہوگی

 

آخرت میں مشرکین سے کیا بازپرس ہوگی

فہرست موضوعات-تفہیم القران جلد سوم-آخرت

صفحہ507

سورہ شعراء آیات 91تا104

وَ بُرِّزَتِ الۡجَحِیۡمُ لِلۡغٰوِیۡنَ ﴿ۙ۹۱﴾ وَ قِیۡلَ لَہُمۡ اَیۡنَمَا کُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۹۲﴾ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ ہَلۡ یَنۡصُرُوۡنَکُمۡ اَوۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ ﴿ؕ۹۳﴾ فَکُبۡکِبُوۡا فِیۡہَا ہُمۡ وَ الۡغَاوٗنَ ﴿ۙ۹۴﴾ وَ جُنُوۡدُ اِبۡلِیۡسَ اَجۡمَعُوۡنَ ﴿ؕ۹۵﴾ قَالُوۡا وَ ہُمۡ فِیۡہَا یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿ۙ۹۶﴾ تَاللّٰہِ اِنۡ کُنَّا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۹۷﴾ اِذۡ نُسَوِّیۡکُمۡ بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۸﴾ وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۹۹﴾ فَمَا لَنَا مِنۡ شَافِعِیۡنَ ﴿۱۰۰﴾ۙ وَ لَا صَدِیۡقٍ حَمِیۡمٍ ﴿۱۰۱﴾ فَلَوۡ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ؕ وَ مَا کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۰۳﴾ وَ اِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾٪ سورہ شعراء آیات 91تا104

۔ اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی  اور ان سے پوچھا جائے گا کہ ”اب کہاں ہیں وہ جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے؟ کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاوٴ کر سکتے ہیں؟“ پھر وہ معبُود اور یہ بہکے ہوئے لوگ ، اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے۔  وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ ﴿اپنے معبُودوں سے﴾ کہیں گے کہ”خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے جبکہ تم کو ربّ العالمین کی برابری کا درجہ دے رہےتھے ۔ اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا۔ اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے  اور نہ کوئی جگری دوست۔  کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں۔

اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی

 

سُوْرَةُ الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :67

یعنی ایک طرف متقی لوگ جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ کیسی نعمتوں سے لبریز جگہ ہے جہاں اللہ کے فضل سے ہم جانے والے ہیں۔ اور دوسری طرف گمراہ لوگ ابھی میدان حشر ہی میں ہوں گے کہ ان کے سامنے اس جہنم کا ہولناک منظر پیش کر دیا جاۓ گا جس میں انہیں جانا ہے۔

پھر وہ معبُود اور یہ بہکے ہوئے لوگ ، اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے

سُوْرَةُ الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :68

اصل میں لفظ : کُبْکِبُوْا فرمایا گیا ہے جس میں دو مفہوم شامل ہیں۔ ایک یہ کہ ایک کے اوپر ایک دھکیل دیا جاۓ گا، دوسرے یہ کہ وہ قعر جہنم تک لڑھکتے چلے جائیں گے۔

اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا

سُوْرَةُ الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :69

 

یہ پیروؤں اور معتقدوں کی طرف سے ان لوگوں کی تواضع ہو رہی ہو گی جنہیں یہی لوگ دنیا میں بزرگ، پیشوا اور رہنما مانتے رہے تھے ، جن کے ہاتھ پاؤں چومے جاتے تھے ، جن کے قول و عمل کو سند مانا جاتا تھا، جن کے حضور نذریں گزرانی جاتی تھیں۔ آخرت میں جا کر جب حقیقت کھلے گی اور پیچھے چلنے والوں کو معلوم ہو جاۓ گا کہ آگے چلنے والے خود کہاں آۓ ہیں اور ہمیں کہاں لے آۓ ہیں تو یہی معتقدین ان کو مجرم ٹھیرائیں گے اور ان پر لعنت بھیجیں گے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ عالم آخرت کا یہ عبرت ناک نقشہ کھینچا گیا ہے تاکہ اندھی تقلید کرنے والے دنیا میں آنکھیں کھولیں اور کسی کے پیچھے چلنے سے پہلے دیکھ لیں کہ وہ ٹھیک بھی جا رہا ہے یا نہیں۔ سورہ اعراف میں فرمایا :

كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ۰۰۳۸)

ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہو گا تو اپنے ساتھ کے گروہ پر لعنت کرتا جاۓ گا۔ یہاں تک کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے متعلق کہے گا کہ اے ہمارے رب، یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، اب انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے۔ رب فرماۓ گا سب ہی کے لیے دوہرا عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔

سورہ حٰم السجدہ میں ارشاد ہوا ہے :

وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا رَبَّنَاۤ اَرِنَا الَّذَيْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ نَجْعَلْهُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَا لِيَكُوْنَا مِنَ الْاَسْفَلِيْنَ۰۰۲۹

اور کافر اس وقت کہیں گے کہ اے پروردگار، ان جنوں اور انسانوں کو ہمارے سامنے لا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تاکہ ہم انہیں پاؤں تلے روند ڈالیں اور وہ پست و ذلیل ہو کر ہیں۔

یہی مضمون سورہ احزاب میں ارشاد ہوا ہے :

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا۰۰۶۷رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيْرًاؒ۰۰۶۸ (آیات 67۔ 68 )

اور وہ کہیں گے اے رب، ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہم کو سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔ اے رب، ان کو دو گنا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر۔

اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے

سُوْرَةُ الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :70

یعنی جنہیں ہم دنیا میں سفارشی سمجھتے تھے اور جن کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ تھا کہ ان کا دامن جس نے تھام لیا بس اس کا بیڑا پار ہے ، ان میں سے آج کوئی بھی سعی سفارش کے لیے زبان کھولنے والا نہیں ہے۔

اور نہ کوئی جگری دوست۔

سُوْرَةُ الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :71

یعنی کوئی ایسا بھی نہیں ہے جو ہمارا غم خوار اور ہمارے لیے کُڑھنے والا ہو، چاہے ہم کو چھڑا نہ سکے مگر کم از کم اسے ہمارے ساتھ کوئی ہمدردی ہی ہو۔ قرآن مجید یہ بتاتا ہے کہ آخرت میں دو ستیاں صرف اہل ایمان ہی کی باقی رہ جائیں گی۔ رہے گمراہ لوگ، تو وہ دنیا میں چاہے کیسے ہی جگری دوست رہے ہوں ، وہاں پہنچ کر ایک دوسرے کے جانی دشمن ہوں گے ، ایک دوسرے کو مجرم ٹھیرائیں گے اور اپنی بربادی کا ذمہ دار قرار دے کر ہر ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ سزا دلوانے کی کوشش کرے گا۔ اَلْاَخِلَّآءُ يَوْمَىِٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَؕؒ (الزخرف۔ آیت 67 ) ’’ دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقین (کی دوستیاں قائم رہیں گی)‘‘۔

کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں۔

سُوْرَةُ الشُّعَرَآء حاشیہ نمبر :72

اس تمنا کا جواب بھی قرآن میں دے دیا گیا ہے کہ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ (الانعام۔ آیت 28 ) ’’ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیج دیا جاۓ تو وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ‘‘۔ رہا یہ سوال کہ انہیں واپسی کا موقع کیوں نہ دیا جاۓ گا، اس کے وجوہ پر مفصل بحث ہم سورہ مؤمنون حواشی 90 تا 92 میں کر چکے ہیں۔

آخرت میں مشرکین سے کیا بازپرس ہوگی

فہرست موضوعات-تفہیم القران جلد سوم-آخرت

صفحہ 654تا657

سورہ قصص آیات 61تا67

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ هُوَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ۰۰۶۱وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَآءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۰۰۶۲قَالَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيْنَ اَغْوَيْنَا١ۚ اَغْوَيْنٰهُمْ كَمَا غَوَيْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَيْكَ١ٞ مَا كَانُوْۤا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ۰۰۶۳وَ قِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ۰۰۶۴وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ۰۰۶۵فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ يَوْمَىِٕذٍ فَهُمْ لَا يَتَسَآءَلُوْنَ۠۰۰۶۶فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِيْنَ۰۰۶۷ سورہ قصص آیات 61تا67

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرفِ حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟

اور (بھُول نہ جائیں یہ لوگ)اُس دن کو جب کہ وہ اِن کو پکارے گا اور پُوچھے گا” کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟“ یہ قول جن پر چسپاں ہوگاوہ کہیں گے” اے ہمارے ربّ ، بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے۔ ہم آپ کے سامنےبراءت کا اظہار کرتے ہیں۔یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے۔“پھر اِن سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو۔

 

 

 

 

 

یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے۔

اور (فراموش نہ کریں یہ لوگ)وہ دن جبکہ وہ اِن کو پکارے گا اور پُوچھے گا کہ ”جو رسُول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا؟“ اُس وقت کوئی جواب اِن کو نہ سُوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دُوسرے سے پُوچھ ہی سکیں گے۔ البتہ جس نے آج توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کر سکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔

قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو

 

سورة القصص حاشیہ نمبر۸۴

یہ ان کے عذر کا چوتھا جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے پہلے دو باتیں اچھی طرح ذہن نشین ہو جانی چاہییں:

اول یہ کہ دنیا کی موجودہ زندگی ، جس کی مقدار کسی کے لیے بھی چند سالوں سے زیادہ نہیں ہوتی، محض ایک سفر کا عارضی مرحلہ ہے ۔ا صل زندگی جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے ، آگے آنی ہے۔ موجودہ عارضی زندگی میں انسان خواہ کتنا ہی سرو سامان جمع کر لے اور چند سال کیسے ہی عیش کے ساتھ بسر کر لے، بہر حال اسے ختم ہونا ہے اور یہاں کاسب سرو سامان آدمی کو  یونہی چھوڑ کر  اٹھ جانا ہے ۔ اس مختصر سے عرصہ حیات کا عیش اگر آدمی کو اس قیمت پر  حاصل ہوتا ہو کہ آئندہ کی ابدی زندگی میں وہ دائماً خستہ حال اور مبتلائے مصیبت رہے، تو کوئی صاحبِ عقل آدمی یہ خسارے کا سودا نہیں کر سکتا۔ اس کے مقابلہ میں ایک عقل مند آدمی اس کو ترجیح دے گا کہ یہاں چند سال مصیبتیں بھگت لے ، مگر یہاں سے وہ بھلائیاں کما کر لے جائے جو بعد کی دائمی زندگی میں اس کے لیے  ہمشگی کی موجب بنیں۔

دوسری بات یہ  ہے کہ اللہ کا دین انسان سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ اس دنیا کی متاع ِ حیات سے استفادہ نہ کرے اور اس کی زینت کو خواہ مخواہ لات ہی ماردے۔ اس کا مطالبہ  صرف یہ ہےکہ وہ دنیا پر آخرت کو ترجیح دے، کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی، اور دنیا کا عیش کم تر ہے اور آخرت کا عیش بہتر۔ اس لیے دنیا کی وہ متاع اور زینت تو آدمی کو ضرور حاصل کرنی چاہیے جو آخرت کی باقی رہنے والی زندگی میں اسے سرخرو کرے، یا کم از کم یہ کہ اسے وہاں کے ابدی خسارے میں مبتلا نہ کرے۔ لیکن جہاںمعاملہ مقابلے کا آپڑے ، یعنی دنیا کی کامیابی اور آخرت کی کامیابی ایک دوسرے  کی ضد ہو جائیں، وہاں  دینِ حق کا مطالبہ انسا ن سے یہ ہے ، اور یہی عقل سلیم کا مطالبہ  بھی ہے، کہ آدمی دنیا کو آخرت پر قربان کر دے اور اس دنیا کی عارضی متاع و زینت کی خاطر وہ راہ ہر گز اختیار نہ کرے جس سے ہمیشہ کے لیے اس کی عاقبت خراب ہوتی ہو۔

 

ان دوباتوں کو نگاہ میں رکھ کر دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ اوپر کے فقروں میں کفار مکہ سے کیا فرماتا ہے۔ وہ یہ نہیں فرماتا کہ  تم اپنی تجارت لپیٹ دو۔ اپنے کاروبار ختم کر دو، اور ہمارے پیغمبر کو مان کر فقیر ہو جاؤ۔ بلکہ وہ یہ فرماتا ہے کہ یہ دنیا کی دولت جس پر تم ریجھے ہوئے ہو، بہت تھوڑی دولت ہے اور بہت تھوڑے دنوں کے لیے تم اس کا فائدہ اس حیاتِ دنیا میں اٹھا سکتے ہو۔ اس کے بر عکس اللہ کے ہاں جو کچھ ہے  وہ اس کی بہ نسبت کم و کیف(Quality اور Quantity ) میں بھی بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا بھی ہے ۔ اس لیے تم سخت حماقت کرو  گے اگر اِس عارضی زندگی کی محدود نعمتوں سے متمتع ہونے کی خاطر وہ روش اختیار کرو جس کا نتیجہ آخرت کے دائمی خسارے کی شکل میں تمہیں بھگتنا پڑے۔ تم خود مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ کامیاب آیا وہ شخص ہے جو محنت و جانفشانی کے ساتھ اپنے رب کی خدمت بجا لائے اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے انعام سے  سرفراز ہو، یا وہ شخص جو گرفتار ہو کر مجرم کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں پیش کیا جانے والا ہو اور گرفتاری سے پہلے محض چند روز حرام کی دولت سے مزے لوٹ لینے کا اس کو موقع مل جائے؟

کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟“

سورة القصص حاشیہ نمبر۸۵

یہ تقریر بھی اسی چوتھے جواب کے سلسلہ میں ہے، اور اس کا تعلق اوپر کی آیت کے آخری فقرے سے ہے۔ اس میں یہ بتایا جا رہا ہے  کہ محض اپنے دنیوی مفاد کی خاطر شرک و بُت پرستی اور انکارِ نبوت کی جس گمراہی پر یہ لوگ اصرار کر رہے ہیں، آخرت کی ابدی زندگی میں اس کا کیسا بُرا نتیجہ انہیں دیکھنا پڑے گا۔ اس سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ فرض کرو دنیا میں تم پر کوئی آفت نہ بھی آئے اور یہاں کی مختصر سی زندگی میں تم حیاتِ دنیا کی متاع و زینت سے خوب بہرہ اندوز بھی ہو لو، تب بھی اگر آخرت میں اس کا انجام یہی کچھ ہونا ہے تو خود سوچ لو کہ یہ نفع کا سودا ہے جو تم کر رہے ہو، یا سراسر خسارے کا سودا؟

یہ قول جن پر چسپاں ہوگا

اس سے مراد وہ شیاطین جن و انس ہیں  جن کو دنیا میں خدا کا شریک بنایا گیا تھا، جن کی بات کے مقابلے میں خدا اور اس کے رسول کی بات کو رد کیا گیا تھا، اور جن کے اعتماد پر صراط مستقیم کو چھوڑ کر زندگی کے غلط راستے اختیار کئے گئے تھے۔ ایسے لوگوں کو خواہ کسی نے الٰہ اور رب کہا ہو یا نہ کہا ہو، بہرحال جب ان کی اطاعت و پیروی اس طرح کی گئی جیسی خدا کی کرنی چاہیے تو لازماً انھیں خدائی میں شریک کیا گیا۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد سوم ، الکہف حاشیہ 50)

ہم آپ کے سامنےبراءت کا اظہار کرتے ہیں

سورة القصص حاشیہ نمبر۸۷

یعنی ہم نے زبر دستی اِن کو گمراہ نہیں کیا تھا۔ ہم نے نہ اِن سے بینائی اور سماعت سلب کی تھی، نہ ان سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں چھین لی تھی، اور نہ ایسی ہی کوئی صورت پیش آئی تھی کہ  یہ توراہِ راست کی طرف جانا چاہتے ہوں مگر ہم ان کا ہاتھ پکڑ کر جبراً انہیں غلط راستے پر کھینچ لے گئے ہوں۔ بلکہ جس طرح ہم خود اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے تھے اسی طرح اِن کے سامنےبھی ہم نے گمراہی پیش کی اور انہوں نے اپنی مرضی سے اس کو قبول کیا۔ لہٰذا ہم ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ ہم اپنے فعل کے ذمہ دار ہیں اور یہ اپنے فعل کے ذمہ دار۔

یہاں یہ لطیف نکتہ  قابلِ توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سوال تو کرے گا شریک ٹھیرانے والوں  سے ۔ مگر قبل اس کے کہ یہ کچھ بولیں، جواب دینے لگیں گے وہ جن کو شریک ٹھیرا یا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عام مشرکین سے یہ سوال کیا جائے گا تو ان کے لیڈر اور پیشوا محسوس کریں گے کہ اب آگئی ہماری شامت ۔ یہ ہمارے سابق پیروضرور کہیں گے کہ یہ لوگ ہماری  گمراہی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ اس لیے پیرووں کے بولنے سے پہلے وہ خود سبقت  کر کے اپنی صفائی پیش کرنی شروع کر دیں گے۔

یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے

سورة القصص حاشیہ نمبر۸۸

یعنی یہ ہمارے نہیں بلکہ اپنے ہی نفس کے بندے بنے ہوئے تھے۔

پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو

سورة القصص حاشیہ نمبر۸۹

یعنی انہیں مدد کےلیے پکار و۔ دنیا میں تو تم نے ان پر بھروسا کر کے ہماری بات رد کی تھی۔ اب یہاں ان سے کہو کہ آئیں اور تمہاری مدد کریں اور تمہیں عذاب سے بچائیں۔

آخرت میں مشرکین سے کیا بازپرس ہوگی

فہرست موضوعات-تفہیم القران جلد سوم-آخرت

صفحہ659،  660

سورہ قصص آیات 74،  75

وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَآءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۰۰۷۴وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ فَعَلِمُوْۤا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰهِ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَؒ۰۰۷۵سورہ  قصص آیات 74،  75

(یاد رکھیں یہ لوگ)وہ دن جبکہ وہ انہیں پکارے گا پھر پُوچھے گا” کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتےتھے؟ “ اور ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے پھر کہیں گے کہ” لاوٴ اب اپنی دلیل۔“ اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے، اور گم ہو جائیں گے ان کے وہ سارے جھُوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے

اور ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے

سورة القصص حاشیہ نمبر۹۲

یعنی وہ نبی جس نے اس اُمت کو خبردار کیا تھا، یا انبیاء کے پیروؤں میں سے کوئی ایسا ہدایت یافتہ انسان جس نے اس امت میں تبلیغ ِ حق کا فریضہ انجام دیا تھا، یا  کوئی ایسا ذریعہ جس سے اس امت تک پیغامِ حق پہنچ چکا تھا۔

پھر کہیں گے کہ” لاوٴ اب اپنی دلیل

سورة القصص حاشیہ نمبر۹۳

یعنی اپنی صفائی میں کوئی ایسی حجت پیش کرو جس کی بنا پر تمہیں معاف کیا جاسکے۔ یا تو یہ ثابت کرو کہ تم جس شرک ، جس انکارِ آخرت اور جس انکارِ نبوت پر قائم تھے وہ بر حق تھا اور تم نے معقول وجوہ کی بنا پر  یہ مسلک اختیار کیا تھا۔ یا یہ نہیں تو پھر کم از کم یہی ثابت کر دو کہ خدا کی طرف سے تم کواس غلطی پر متنبہ کر نے اور ٹھیک بات تم تک پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں