آخرت میں مشرکین کے معبود انھیں جھوٹا قرار دیں گے

 

فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز

آخرت میں مشرکین کے معبود انھیں جھوٹا قرار دیں گے

فہرست موضوعات تفہیم القران جلد سوم-آخرت

صفحہ 442،  443

سورہ فرقان آیات 17تا19

وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَ مَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَؕ۰۰۱۷قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ يَنْۢبَغِيْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِيَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا۰۰۱۸فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِيْعُوْنَ۠ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ يَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيْرًا۰۰۱۹ سورہ فرقان آیات 17تا19

اور وہی دن ہوگا جب کہ (تمہارا ربّ)اِن لوگوں کو بھی گھیر لائے گا اور ان کے اُن معبُودوں  کو بھی بُلالے گا جنہیں آج یہ اللہ کو چھوڑ کر پُوج رہے ہیں، پھر وہ اُن سے پُوچھے گا” کیا تم نے میرے اِن بندوں کو گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود راہِ راست سے بھٹک گئے تھے؟“  وہ عرض کریں گے” پاک ہے آپ کی ذات، ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولیٰ بنائیں۔ مگر آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامانِ زندگی دیا حتٰی کہ یہ سبق بھُول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے۔“  یُوں جھُٹلا دیں گے وہ (تمہارے معبُود)تمہاری اُن باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو  ، پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پا سکو گے اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے  اُسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

ان کے اُن معبُودوں

سورة الفرقان حاشیہ نمبر۲۴

آگے کا مضمون خود ظاہر کر رہا ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد بت نہیں ہیں بلکہ فرشتے ، انبیاء، اولیاء، شہداء اور صالحین ہیں جنہیں مختلف قوموں کے مشرکین معبود بنا بیٹھے ہیں ۔ بظاہر ایک شخص وَمَایَعْبُدُوْنَ کے الفاظ پڑھ کر یہ گمان کرتا ہے کہ اس سے مراد بت ہیں ، کیونکہ عربی زبان میں عموماً  مَا غیر ذوی العقول کے  لیے بولا جاتا ہے ،اور من ذوی العقول کے لیے بولا جاتا ہے۔ جیسے ہم اردو زبان میں ’’کیا ہے ‘‘ غیر ذوی العقول اور ’’ کون ہے ‘‘ذوی العقول کے لیے بولتے ہیں ۔ مگر اردو کی طرح عربی میں بھی یہ الفاظ بالکل ان معنوں کے لیے مخصوص نہیں ہیں ۔ بسا اوقات ہم اردو میں کسی انسان کے متعلق تحقیر کے طور پر کہتے ہیں ’’ وہ کیا ہے ‘‘ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے ۔ وہ کوئی بڑی ہستی نہیں ہے ۔ ایسا ہی حال عربی زبان کا بھی ہے ۔ چونکہ معاملہ اللہ کے مقابلے میں اس کی مخلوق کو معبود بنانے کا ہے ، اس لیے خواہ فرشتوں اور بزرگ انسانوں کی حیثیت بجائے خود بہت بلند ہو مگر اللہ کے مقابلے میں تو گویا کچھ بھی نہیں ہے ۔ اسی لیے موقع و محل کی مناسبت سے ان کے لیے من کے بجائے مَا کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔

یہ خود راہِ راست سے بھٹک گئے تھے

سورة الفرقان حاشیہ نمبر۲۵

یہ مضمون متعدد مقامات پر قرآن مجید میں آیا ہے ۔ مثلاً سورہ سبا میں ہے : وَ يَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ يَقُوْلُ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ۰۰۴۰قَالُوْا سُبْحٰنَكَ اَنْتَ وَوَلِيُّنَا مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ بَلْ كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ١ۚ اَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُوْنَ۰۰۴۱’’ جس روز وہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے پوچھے گا کیا یہ لوگ تمہاری ہی بندگی کر رہے تھے ؟ وہ کہیں گے پاک ہے آپ کی ذات، ہمارا تعلق تو آپ سے ہے نہ کہ ان سے ۔ یہ لوگ تو جِنوں (یعنی شیاطین) کی بندگی کر رہے تھے ۔ ان میں سے اکثر انہی کے مومن تھے ‘‘ (آیات 40 ۔ 41 ) اسی طرح سورۂ  مائدہ کے آخری رکوع میں ہے : وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَ اُمِّيَ اِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ١ۗ بِحَقٍّ....... مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِيْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّيْ وَ رَبَّكُمْ’’ اور جب اللہ پوچھے گا اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ، کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو؟ وہ عرض کرے گا پاک ہے آپ کی ذات، میرے لیے یہ کب زیبا تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا۔ ..... میں نے تو ان سے بس وہی کچھ کہا تھا جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی‘‘۔

اور شامت زدہ ہو کر رہے

سورة الفرقان حاشیہ نمبر۲٦

یعنی یہ کم ظرف اور کمینے لوگ تھے ۔ آپ نے رزق دیا تھا کہ شکر کریں ۔ یہ کھا پی کر نمک حرام ہو گئے اور وہ سب نصیحتیں بھلا بیٹھے جو آپ کے بھیجے ہوئے انبیاء نے ان کو کی تھیں

یُوں جھُٹلا دیں گے وہ (تمہارے معبُود)تمہاری اُن باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو

سورة الفرقان حاشیہ نمبر۲۷

یعنی تمہارا یہ مذہب ، جس کو تم حق سمجھے بیٹھے ہو، بالکل بے اصل ثابت ہو گا، اور تمہارے وہ معبود جن پر تمہیں بھروسہ ہے کہ یہ خدا کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ، اُلٹے تم کو خطا کار ٹھیرا کر بری الذمہ ہو جائیں گے ۔ تم نے جو کچھ بھی اپنے معبودوں کو قرار دے رکھا ہے ، بطور خود ہی قرار دے رکھا ہے ۔ ان میں سے کسی نے بھی تم سے یہ نہ کہا تھا کہ ہمیں یہ کچھ مانو، اور اس طرح ہماری نذر و نیاز کیا کرو، اور ہم خدا کے ہاں تمہاری سفارش کرنے کا ذمہ لیتے ہیں ۔ ایسا کوئی قول کسی فرشتے یا کسی بزرگ کی طرف سے نہ یہاں تمہارے پاس موجود ہے ، نہ قیامت میں تم اسے ثابت کر سکو گے ، بلکہ وہ سب کے سب خود تمہاری آنکھوں کے سامنے ان باتوں کی تردید کریں گے اور تم اپنے کانوں سے ان کی تردید سن لو گے۔

جو بھی تم میں سے ظلم کرے

سورة الفرقان حاشیہ نمبر۲۸

یہاں ظلم سے مراد حقیقت اور صداقت پر ظلم ہے، یعنی کفر و شرک۔ سیاق و سباق خود ظاہر کررہا ہے کہ نبی کو نہ ماننے والے اور خدا کے بجائے دوسروں کو معبود بنا بیٹھنے والے اور آخرت کا انکار کرنے والے "ظلم" کے مرتکب قرار دیے جارہے ہیں۔

 

آخرت میں مشرکین کے معبود انھیں جھوٹا قرار دیں گے

فہرست موضوعات تفہیم القران جلد سوم-آخرت

صفحہ 556،  557

سورہ نمل آیات 4،5،6

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُوْنَؕ۰۰۴اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ۰۰۵وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ۰۰۶ سورہ نمل آیات 4،5،6

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لیے ہم نے اُن کے کرتُوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں5۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بُری سزا ہے اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں۔ اور (اے محمدؐ )بلا شبہہ تم یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا رہے ہو۔

اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں

سورة النمل حاشیہ نمبر۵

یعنی خدا کا قانونِ فطرت یہ ہے ، نفسیاتِ انسانی کی فطری منطق یہی ہے کہ جب آدمی زندگی اور اس کی سعی و عمل کے نتائج کو صرف اسی دنیا تک  محدود سمجھے گا، جب وہ کسی ایسی عدالت کا قائل نہ ہو گا جہاں انسان کے پورے کارنامہ حیات کی جانچ پڑتال کر کے اس کے حُسن وقبح کا آخری اور قطعی فیصلہ کیا جانے والا ہو، اور جب وہ موت کے بعد کسی ایسی زندگی کا قائل نہ ہوگا جس میں حیاتِ دنیا کے اعمال کی حقیقی قدر و قیمت کے مطابق ٹھیک ٹھیک جزا و سزا دی جانے والی ہو، تو لازماً اس کے اندر ایک مادہ پرستانہ نقطۂ نظر نشو نما پائے گا۔ اسے حق اور باطل، شرک اور توحید، نیکی اور بدی، اخلاق اور بد اخلاقی کی ساری بحثیں سراسر بے معنی نظر آئیں گی۔ جو کچھ اُسے اِس دنیا میں لذت و عیش اور مادی ترقی و خوشحالی اور قوت و اقتدار سے ہمکنار کرے وہی اس کے نزدیک بھلائی ہوگی قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی فلسفہ حیات اور کوئی طرزِ زندگی اور نظامِ اخلاق ہو۔ اس کو حقیقت اور صداقت سے دراصل کوئی غرض ہی نہ ہوگی۔ اس کی اصل مطلوب صرف حیات ِ دنیا کی زینتیں اور کامرانیاں ہوں گی جن کے حصول کی فکر اسے ہر وادی میں لیے بھٹکتی پھرے گی۔ اور اس مقصد کے  لیے جو کچھ بھی وہ کرے گا اسے اپنے نزدیک بڑی خوبی کی بات سمجھے گا اور اُلٹا اُن لوگوں کو بیوقوف سمجھے گا جوا ُس کی طرح دنیا طلبی میں منہمک نہیں ہیں اور اخلاق و بد اخلاقی سے بے نیاز ہو کر ہر کام کر گزرنے میں بے باک نہیں ہیں۔

 

کسی کے اعمال بد کو اس کے لیے خوشنما بنا دینے کا یہ فعل قرآن مجیدمیں کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور کبھی شیطان کی طرف۔ جب اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس سے مراد، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، یہ ہوتی ہے کہ جو شخص یہ نقطۂ نظر اختیار کرتا ہے، اسے فطرتاً زندگی یہی ہنجارخوش آئند معلوم ہوتا ہے۔ جب یہ فعل شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس طرزِ فکر اور طرزِ عمل کو اختیار کرنے والے آدمی کے سامنے شیطان ہر وقت ایک خیالی جنت پیش کرتا رہتا ہے اور اسے خوب اطمینان دلاتا ہے کہ شاباش بر خوردار بہت اچھے جا رہے ہو۔

جن کے لیے بُری سزا ہے

سورة النمل حاشیہ نمبر٦

اس بُری سزا کی صورت، وقت اور جگہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ اس دنیا میں بھی مختلف افراد گروہوں اور قوموں کو بے شمار مختلف طریقوں سے ملتی ہے ، اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت عین موت کے دروازے پر بھی اس کا ایک حصہ ظالموں کو پہنچتا ہے ، موت کے بعد عالم برزخ  میں بھی اس سے آدمی دو چار ہوتا ہے،اور پھر روز حشر سے تو اس کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا جو پھر کہیں جا کر ختم نہ ہوگا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں