دین میں عقیدۂ آخرت کی اہمیت
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
دین میں عقیدۂ آخرت کی اہمیت
فہرست موضوعات تفہیم القران جلد چہارم-آخرت
صفحہ
174تا 178
سورہ سباء آیات 3تا8
وَ قَالَ الَّذِيْنَ
كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ١ۙ
عٰلِمِ الْغَيْبِ١ۚ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَ لَا
فِي الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرُ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ
مُّبِيْنٍۗۙ۰۰۳لِّيَجْزِيَ
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ
وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ۰۰۴وَ
الَّذِيْنَ سَعَوْ فِيْۤ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ
رِّجْزٍ اَلِيْمٌ۰۰۵وَ
يَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ
هُوَ الْحَقَّ١ۙ وَ يَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۰۰۶وَ قَالَ
الَّذِيْنَ كَفَرُوْا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمْ اِذَا
مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ۙ اِنَّكُمْ لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍۚ۰۰۷اَفْتَرٰى عَلَى
اللّٰهِ كَذِبًا اَمْ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلِ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ
بِالْاٰخِرَةِ فِي الْعَذَابِ وَ الضَّلٰلِ الْبَعِيْدِ سورہ سباء آیات 3تا8
منکرین کہتے ہیں کیا بات ہے کہ قیامت
ہم پر نہیں آرہی ہے ! کہو، قسم ہے میرے
عالم الغیب پروردگار کی، وہ تم پر آکر رہے گی۔اُس سے ذرّہ برابر کوئی چیز نہ
آسمانوں میں چھُپی ہوئی ہے نہ زمین میں۔ نہ ذرّے سے بڑی اور نہ اُس سے چھوٹی، سب
کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے۔ اور یہ قیامت اس لیے آئے گی کہ جزا دے
اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور
نیک عمل کرتے رہے ہیں۔ اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزقِ کریم۔ اور جن لوگوں نے ہماری
آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب
ہے۔ اے نبیؐ ، علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں
کہ جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے اور خدائے
عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے۔
منکرین لوگوں سے کہتے ہیں” ہم بتائیں
تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرّہ ذرّہ منتشر ہوچکا ہوگا اس
وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دیے جاوٴ گے؟ نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھُوٹ
گھڑتا ہے یا اسے جنُون لاحق ہے۔“
نہیں، بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے
وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بُری طرح بہکے ہوئے ہیں۔
منکرین
کہتے ہیں کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آرہی ہے
سورة سبا حاشیہ نمبر۵
یہ بات وہ طنز اور تمسخر کے طور پر چند را چَندرا کر کہتے
تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بہت دنوں سے یہ پیغمبر صاحب قیامت کے آنے کی خبر سنا
رہے ہیں، مگر کچھ خبر نہیں کہ وہ آتے آتے کہاں رہ گئی۔ ہم نے اتنا کچھ انہیں جھٹلایا،
اتنی گستاخیاں کیں، ان کا مذاق تک اڑایا، مگر وہ قیامت ہے کہ کسی طرح نہیں آ چکتی۔
کہو،
قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی، وہ تم پر آکر رہے گی
سورة سبا حاشیہ نمبر٦
پروردگار کی قسم کھاتے ہوئے اس کے لیے
’’ عالم الغیب‘‘ کی صفت استعمال کرنے سے
خود بخود اس امر کی طرف اشارہ ہو گیا کہ قیامت کا آنا تو یقینی ہے مگر اس کے آنے
کا وقت خدائے عالم الغیب کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ یہی مضمون قرآن مجید میں مختلف
مقامات پر مختلف طریقوں سے بیان ہو اہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو الا عراف، 187۔
طٰہٰ، 15۔ لقمان 34۔ الاحزاب، 63۔الملک، 25۔26۔ النازعات، 42 تا 44۔
سورہ الاعراف آیت 187
(يَسْـَٔلُوْنَكَ
عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ١ۚ
لَا يُجَلِّيْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ
الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِيْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ يَسْـَٔلُوْنَكَ كَاَنَّكَ
حَفِيٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ
النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۰۰۱۸۷سورہ اعراف آیت 187
یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت
کی گھڑی کب نازل ہو گی؟ کہو”اِس کا علم میرے ربّ ہی کے پاس ہے اُسے اپنے وقت پر وہی
ظاہر کرے گا۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہو گا۔وہ تم پر اچانک آجائے
گا۔“ یہ لوگ اِس کے متعلق تم سے اِس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے
ہوئے ہو۔ کہو ”اِس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اِس حقیقت سے ناواقف ہیں۔“،
سورہ طہ آیت 15
اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ
اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى۰۰۱۵سورہ
طہ آیت 15
قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں
اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔
سورہ لقمان 34
اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ
عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ١ۚ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ١ؕ
وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا١ؕ وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ
بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌؒ۰۰۳۴سورہ
لقمان آیت 34
اُس گھڑی کا علم اللہ کی کے پاس ہے ،
وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماوٴں کے پیٹوں میں کیا پرورش پارہا ہے ، کوئی
متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے
والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ
کِس سرزمین میں اس کو موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔
سورہ احزاب آیت 63
يَسْـَٔلُكَ النَّاسُ عَنِ
السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ
السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِيْبًا۰۰۶۳سورہ احزاب آیت 63
لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی
کب آئے گی کہو، اس کا علم تو للہ ہی کو
ہے۔ تمہیں کیا خبر، شاید کہ وہ قریب ہی آ لگی ہو۔
سورہ الملک آیت 25، 26
وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا
الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۲۵قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ
اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۰۰۲۶سورہ الملک آیت 25،
26
یہ کہتے ہیں” اگر تم
سچے ہو تو بتاوٴ یہ وعدہ کب پُورا ہوگا؟
“کہو” اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے
والا ہوں۔
سورہ نازعات آیت
41تا44
يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ
السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَاؕ۰۰۴۲فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ۰۰۴۳اِلٰى رَبِّكَ
مُنْتَهٰىهَاؕ۰۰۴۴سورہ نازعات آیت 41تا44
یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ”آخر وہ
گھڑی کب آکر ٹھہرے گی؟“ تمہارا کیا کام کہ
اُس کا وقت بتاوٴ۔ اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے۔
سب
کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے
سورة سبا حاشیہ نمبر۷
یہ امکان آخرت کے دلائل میں سے ایک دلیل
ہے۔ جیسا کہ آگے آیت نمبر7 میں آ رہا ہے، منکرین آخرت جن وجوہ سے زندگی بعد موت کو بعید از عقل سمجھتے تھے ان میں سے ایک
بات یہ بھی تھی کہ جب سارے انسان مر کر مٹی میں رل مل جائیں گے اور ان کا ذرہ ذرہ
منتشر ہو جائےگا تو کس طرح یہ ممکن ہے کہ یہ بے شمار اجزا پھر سے اکٹھے ہوں اور ان
کو جوڑ کر ہم دوبارہ اپنے انہی اجسام کے
ساتھ پیدا کر دیے جائیں۔ اس شبہ کو یہ کہہ
کر رفع کیا گیا ہے کہ ہر ذرہ جو کہیں گیا ہے، خدا کے دفتر میں اس کا اندراج موجود
ہے اور خدا کو معلوم ہے کہ کیا چیز کہاں گئی ہے۔ جب وہ دوبارہ پیدا کرنے کا ارادہ
کرے گا تو اسے ایک ایک انسان کے اجزائے جسم کو سمیٹ لانے میں کوئی زحمت پیش نہ آئے
گی۔
ان
کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔
سورة سبا حاشیہ نمبر۸
اوپر آخرت کے امکان کی دلیل تھی، اور یہ
اس کے وجوب کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا وقت ضرور آنا ہی چاہیے جب ظالموں کو ان
کے ظلم کا اور صالحوں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیا جائے۔ عقل یہ چاہتی ہے اور انصاف یہ
تقاضا کرتا ہے کہ جو نیکی کرے اسے انعام ملے اور جو بدی کرے وہ سزا پائے۔ اب اگر
تم دیکھتے ہو کہ دنیا کی موجودہ زندگی میں نہ ہر بد کو اس کی بدی کا اور نہ ہر نیک
کو اس کی نیکی کا پورا بدلہ ملتا ہے، بلکہ بسا اوقات بدی اور نیکی کے الٹے
نتائج بھی نکل آتے ہیں، تو تمہیں تسلیم
کرنا چاہیے کہ عقل اور انصاف کا یہ لازمی تقاضا کسی وقت ضرور پورا ہونا چاہیے۔ قیامت
اور آخرت اسی وقت کا نام ہے۔ اس کا آنا نہیں نہ آنا عقل کے خلاف اور انصاف سے بعید ہے۔ اس سلسلہ
میں ایک اور نکتہ بھی اوپر کی آیات سے
واضح ہوتا ہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ ا یمان اور عمل صالح کا نتیجہ مغفرت اور رزق
کریم ہے۔ اور جو لوگ خدا کے دین کو نیچا دکھانے کے لیے معاندانہ جدوجہد کریں ان کے
لیے بدترین قسم کا عذاب ہے۔ اس سے خود بخود یہ ظاہر ہو گیا کہ جو شخص سچے دل سے ایمان
لائے گا اس کے عمل میں اگر کچھ خرابی بھی ہو تو وہ رزق کریم چاہے نہ پائے مگر
مغفرت سے محروم نہ رہے گا اور جو شخص کافر
تو ہو مگر دین حق کے مقابلے میں عناد و مخالفت کی روش بھی اختیار نہ کرے وہ عذاب
سے تو نہ بچے گا مگر بد ترین عذاب اس کے لیے نہیں ہے۔
خدائے
عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے
سورة سبا حاشیہ نمبر۹
یعنی یہ معاندین تمہارے پیش کردہ حق کو باطل ثابت کرنے کے لیے
خواہ کتنا ہی زور لگائیں، ان کی یہ تدبیریں کامیاب نہیں ہو سکتیں، کیونکہ ان باتوں سے وہ جہلا ہی کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ علم
رکھنے والے لوگ ان کے فریب میں نہیں آتے۔
یا
اسے جنُون لاحق ہے
سورة سبا حاشیہ نمبر١۰
قریش
کے سردار اس بات کو خوب جانتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو جھوٹا
تسلیم کرنا عوام الناس کے لیے سخت مشکل ہے، کیونکہ ساری قوم آپ کو صادق القول جانتی تھی اور کبھی ساری عمر کسی نے آپ کی زبان
سے کوئی جھوٹی بات نہ سنی تھی۔ اس لیے وہ لوگوں کے سامنے اپنا الزام اس شکل میں پیش
کرتے تھے کہ یہ شخص جب زندگی بعد موت جیسی انہونی بات زبان سے نکالتا ہے تو
لامحالہ اس کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ یا تو (معاذ اللہ) یہ شخص جان
بوجھ کر ایک جھوٹی بات کہہ رہا ہے، یا پھر یہ مجنون ہے۔ لیکن یہ مجنون
والی بات بھی اتنی ہی بے سر و پا تھی جتنی جھوٹ والی بات تھی۔ اس لیے کہ کوئی عقل
کا اندھا ہی ایک کمال درجہ کے عاقل و فہیم آدمی کو مجنون مان سکتا تھا، ورنہ
آنکھوں دیکھتے کوئی شخص جیتی مکھی کیسے نگل لیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس
بیہودہ بات کے جواب میں کسی استدلال کی ضرورت محسوس نہ فرمائی اور کلام صرف ان کے
اس اچنبھے پر کیا جو موت کے امکان پر وہ ظاہر کرتے تھے۔
وہی
بُری طرح بہکے ہوئے ہیں
سورة سبا حاشیہ نمبر١١
یہ ان کی بات کا پہلا جواب ہے۔ اس کا
مطلب یہ ہے کہ نادانو، عقل تو تمہاری ماری
گئی ہے کہ جو شخص حقیقت حال سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے اس کی بات نہیں مانتے اور
سرپٹ اس راستے پر چلے جا رہے ہو جو سیدھا جہنم کی طرف جاتا ہے، مگر تمہاری حماقت کی
طغیانی کا یہ عالم ہے کہ الٹا اس شخص کو مجنون کہتے ہو جو تمہیں بچانے کی فکر کر
رہا ہے۔
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
دین میں عقیدۂ آخرت کی اہمیت
فہرست موضوعات تفہیم القران جلد
چہارم-آخرت
صفحہ 194، 195
سورہ سبا آیات 20، 21
وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ
اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۲۰وَ مَا كَانَ
لَهٗ عَلَيْهِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَةِ
مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِيْ شَكٍّ١ؕ وَ رَبُّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌؒ۰۰۲۱سورہ سبا آیات 20،
21
اُن کے معاملہ میں
ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا او ر انہوں
نے اُسی کی پیروی کی ، بجُز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن
تھا ۔ ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار
حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت
کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے ۔ تیرا ربّ ہر چیز پر نگران ہے
جو مومن تھا
سورة سبا حاشیہ
نمبر۳۵
تاریخ سے یہ بات
معلوم ہوتی ہے کہ قدیم زمانے سے قوم سبا میں ایک عنصر موجود تھا جو دوسرے معبودوں
کو ماننے کے بجائے خدائے واحد کو مانتا تھا۔ موجودہ زمانے کی اثری تحقیقات کے
سلسلے میں یمن کے کھنڈروں سے جو کتبات ملے ہیں ان میں سے بعض اس قلیل عنصر کی نشان
دہی کرتے ہیں۔ 650 قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے کے بعض کتبات بتاتے ہیں کہ مملکت سبا
کے متعدد مقامات پر ایسی عبادت گاہیں بنی ہوئی تھیں جو ذُسمو ی یا ذوسماوی (یعنی
رب السماء) کی عبادت کے لیے مخصوص تھیں۔ بعض مقامات پر اس معبود کا نام ملکن ذُ سموی(وہ بادشاہ جو
آسمانوں کا مالک ہے ) لکھا گیا ہے۔ یہ عنصر مسلسل صدیوں تک یمن میں موجود رہا۔
چنانچہ 378 ء کے ایک کتبے میں بھی الٰہ ذوسموی کے نام سے ایک عبادت گاہ کی تعمیر
کا ذکر ملتا ہے۔ پھر 465 ء کے ایک کتبے میں یہ الفاظ پائے جاتے ہیں: بنصرور
داالٰھن بعل سمین وارضین ( یعنی اس خدا کی مدد اور تائید سے جو آسمانوں اور زمین
کا مالک ہے )۔ اسی زمانہ کے ایک اور کتبے میں جس کی تاریخ 458 قبل مسیح ہے اسی خدا
کے لیے رحمان کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اصل الفاظ ہیں بردا رحمنن(یعنی رحمان
کی مدد سے )۔
کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے
سورة سبا حاشیہ نمبر۳٦
یعنی ابلیس کو یہ
طاقت حاصل نہ تھی کہ ان کا ارادہ تو خدا کی فرمانبرداری کرنے کا ہو مگر وہ زبردستی
ان کا ہاتھ پکڑ ا کر انہیں نا فرمانی کی راہ پر کھینچ لے گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے
جو کچھ بھی قدرت اس کو دی تھی کہ وہ صرف
اس حد تک تھی کہ وہ انہیں بہکائے اور ایسے
تمام لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لے جو خود اس کی پیروی کرنا چاہیں۔ اور اس اغوا کے
مواقع ابلیس کو اس لیے عطا کیے گئے تاکہ آخرت کے ماننے والوں اور اس کی آمد میں شک
رکھنے والوں کا فرق کھل جائے۔
دوسرے الفاظ میں یہ
ارشاد ربانی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عقیدہ آخرت کے سوا کوئی دوسری چیز ایسی
نہیں ہے جو اس دنیا میں انسان کو راہ راست پر قائم رکھنے کی ضامن ہو سکتی ہو۔ اگر
کوئی شخص یہ نہ مانتا ہو کہ اسے مر کر دوبارہ اٹھنا ہے اور اپنے خدا کے حضور اپنے
اعمال کی جواب دہی کرنی ہے، تو وہ لازماً گمراہ و بد راہ ہو کر رہے گا، کیونکہ اس
کے اندر سرے سے وہ احساس ذمہ داری پیدا ہی نہ ہو سکے گا جو آدمی کو راہ راست پر
ثابت قدم رکھتا ہے۔ اسی لیے شیطان کا سب سے بڑا حربہ، جس سے وہ آدمی کو اپنے پھندے
میں پھانستا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے آخرت سے غافل کرتا ہے۔ اس کے اس فریب سے جو شخص
بچ نکلے وہ کبھی اس بات پر راضی نہ ہو گا کہ اپنی اصل دائمی زندگی کے مفاد کو دنیا
کی اس عارضی زندگی کے مفاد پر قربان کر دے۔ بخلاف اس کے جو شخص شیطان کے دام میں آ
کر آخرت کا منکر ہو جائے، یا کم از کم اس کی طرف سے شک میں پڑ جائے، اسے کوئی چیز
اس بات پر آمادہ نہیں کر سکتی کہ جو نقد سَودا اِس دنیا میں ہو رہا ہے اس سے صرف
اس لیے ہاتھ اٹھا لے کہ اس سے کسی بعد کی
زندگی میں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ دنیا میں جو شخص بھی گمراہ ہوا ہے اسی انکار
آخرت یا شک فی ا لآخرۃ کی وجہ سے ہوا ہے، اور جس نے بھی راست روی اختیار کی ہے اس
کے صحیح طرز عمل کی بنیاد ایمان بالآخرۃ ہی پر قائم ہوئی ہے۔
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
دین میں عقیدۂ آخرت کی اہمیت
فہرست موضوعات تفہیم القران جلد
چہارم-آخرت
سورہ فاطر
موضوع و مضمون: کلام کا مدعا یہ ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوتِ توحید کے مقابلہ میں جو رویہ اس وقت اہل مکہ اور
ان کے سرداروں نے اختیار کر رکھا تھا اس پر ناصحانہ انداز میں ان کو تنبیہ و ملامت
بھی کی جائے اور معلمانہ انداز میں فہمائش بھی۔ مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ نادانو، یہ نبی جس راہ کی طرف
تم کو بلا رہا ہے اس میں تمہارا اپنا بھلا ہے۔ اس پر تمہارا غصہ، اور تمہاری مکاریاں
اور چال بازیاں، اور اس کو ناکام کرنے کے لیے تمہاری تدبیریں دراصل اس کے خلاف نہیں
بلکہ تمہارے اپنے خلاف پڑ رہی ہیں۔ اس کی بات نہ مانو گے تو اپنا ہی کچھ بگاڑو گے،
اس کا کچھ نہ بگاڑو گے۔ وہ جو کچھ تم سے کہ رہا ہے اس پر غور تو کرو، آخر اس میں
غلط کیا بات ہے۔ وہ شرک کی تردید کرتا ہے۔ تم خود آنکھیں کھول کر دیکھو، کیا شرک
کے لیے دنیا میں کوئی معقول بنیاد موجود ہے؟ وہ توحید کی دعوت دیتا ہے۔ تم خود عقل
سے کام لے کر غور کرو، کیا اللہ فاطر السمٰوات و الارض کے سوا کہیں کوئی ایسی ہستی
پائی جاتی ہے جو خدائی صفات اور اختیارات رکھتی ہو؟ وہ تم سے کہتا ہے کہ تم اس دنیا
میں غیر ذمہ دار نہیں ہو بلکہ تمہیں اپنے خدا کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اور
اس دنیوی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں ہر ایک کو اپنے کیے کا نتیجہ دیکھنا
ہو گا۔ تم خود سوچو کہ اس پر تمہارے شبہات اور اچنبھے کس قد ر بے اصل ہیں۔ کیا
تمہاری آنکھیں رات دن اعادہ خلق کا مشاہدہ نہیں کر رہی ہیں؟پھر تمہارا ہی اعادہ اس
خدا کے لیے کیوں ناممکن ہو جس نے تم کو ایک ذرا سے نطفے سے پیدا کر دیا۔ کیا تمہاری
عقل یہ گواہی نہیں دیتی کہ بھلے اور بُرے کو یکساں نہ ہونا چاہیے؟ پھر تم ہی بتاؤ
کہ معقول بات کیا ہے؟ یہ کہ بھلے اور برے کا انجام یکساں ہو، یعنی مٹی میں ملنا
اور فنا ہو جانا؟ یا یہ کہ بھلے کو بھلا اور برے کو برا بدلہ ملے؟ اب اگر ان سراسر
معقول اور مبنی بر حقیقت باتوں کو تم نہیں مانتے اور جھوٹے خداؤں کی بندگی نہیں
چھوڑتے اور اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھتے ہوئے شتر بے مہا رہی کی طرح دنیا میں جینا
چاہتے ہو تو اس میں نبی کا کیا نقصان ہے۔ شامت تو تمہاری اپنی ہی آئے گی۔ نبی پر
صرف سمجھانے کی ذمہ داری تھی، اور وہ اس نے ادا کر دی۔
سلسلہ کلام میں بار بار نبی صلی اللہ
علیہ و سلم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ جب نصیحت کا حق پوری طرح ادا کر رہے ہیں تو
گمراہی پر اصرار کرنے والوں کے راہ راست قبول نہ کرنے کی کوئی ذمہ داری آپ کے اوپر
عائد نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ آپ کو یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ جو لوگ نہیں ماننا
چاہتے ان کے رویے پر نہ آپ غمگین ہوں اور نہ انہیں راہ راست پر لانے کی فکر میں
اپنی جان گھلائیں۔ اس کے بجائے آپ اپنی
توجہات ان لوگوں پر صرف کریں جو بات سننے کے لیے تیار ہیں۔
ایمان قبول کرنے والوں کو بھی اسی
سلسلے میں بڑی بشارتیں دی گئی ہیں تا کہ ان کے دل مضبوط ہوں اور وہ اللہ کے وعدوں
پر اعتماد کر کے راہ حق میں ثابت قدم رہیں۔
Comments
Post a Comment