آخرت میں کوئی شخص کسی کے گنا ہ کا بار اپنے اوپر نہ لے سکے گا

 

آخرت میں کوئی شخص کسی کے گنا ہ کا بار اپنے اوپر نہ لے سکے گا

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم-آخرت

صفحہ 683،  684 

سورہ عنکبوت آیات 12،13

وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِيْلَنَا وَ لْنَحْمِلْ خَطٰيٰكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِحٰمِلِيْنَ مِنْ خَطٰيٰهُمْ مِّنْ شَيْءٍ١ؕ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۰۰۱۲وَ لَيَحْمِلُنَّ اَثْقَالَهُمْ وَ اَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ١ٞ وَ لَيُسْـَٔلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَؒ۰۰۱۳ سورہ عنکبوت آیات 12،13

یہ کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاوٴں کو ہم اپنے اُوپر لے لیں گے۔ حالانکہ اُن کی خطاوٴں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اُوپر لینے والے نہیں ہیں، وہ قطعاً جھُوٹ کہتے ہیں۔ ہاں ضرور وہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی۔ اور قیامت کے روز یقیناً ان سے اِن افترا پردازیوں کی باز پرس ہوگی جو وہ کرتے رہے ہیں۔

تمہاری خطاوٴں کو ہم اپنے اُوپر لے لیں گے

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر١۷

ان کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ اول تو زندگی بعد موت اور حشر و نشر اور حساب و جزا ء کی یہ باتیں سب ڈھکوسلا ہیں۔ لیکن اگر بالفرض کوئی دوسری زندگی ہے اور اس میں  کوئی باز پرس  بھی ہونی ہے ، تو ہم ذمہ لیتے ہیں کہ خدا کے سامنے ہم سارا عذاب ثواب اپنی گردن پر لے لیں گے۔ تم ہمارے کہنے سے اس نئے دین کو چھوڑ دو اور اپنے دین آبائی کی طرف واپس آجاؤ۔ روایات میں متعدد سردارانِ قریش کے متعلق یہ مذکور ہے کہ ابتداءً جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے ان سے مل کر یہ لوگ اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ حضرت عمر ؓ کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ جب وہ ایمان لائے تو ابو سفیان اور حرب بن اُمیّہ بن  خَلف نے ان سے مل کر بھی یہی کہا تھا۔

حالانکہ اُن کی خطاوٴں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اُوپر لینے والے نہیں ہیں

 

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر١۸

یعنی اول تو یہی ممکن نہیں ہے کہ کوئی شخص خدا کے ہاں کسی دوسرے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لے اور کسی کے کہنے سے گناہ کرنے والا خود اپنے گناہ کی سزا پانے سے بچ جائے، کیونکہ وہاں تو ہر شخص اپنے کیے  کا آپ ذمہ دار ہے۔ لَا تَزِرُوَ ازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔ لیکن اگر بالفرض ایسا ہو بھی تو جس وقت کفر و شرک کا انجام ایک دہکتی ہوئی جہنم کی صورت میں سامنے آئے گا اس وقت کس کی یہ ہمت ہے کہ دنیا میں جو وعدہ اس نے کیا تھا اس کی لاج رکھنے کے لیے یہ کہہ دے کہ حضور، میرے کہنے سے جس شخص نے ایمان کو چھوڑ کر ارتداد کی راہ اختیار کی تھی، آپ اسے معاف کر کے جنت میں بھیج دیں، اور میں جہنم میں اپنے کفر کے ساتھ اس کے کفر کی سزا بھی بھگتنے کے لیے تیار ہوں۔

اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر١۹

یعنی وہ خدا کے ہاں اگرچہ دوسروں کا بوجھ تو نہ اٹھائیں گے ، لیکن دوہرا بوجھ اُٹھانے سے بچیں گے بھی نہیں۔ ایک بوجھ ان پر خود گمراہ ہونے کا لدے گا، اور دوسرا بوجھ دوسروں کو گمراہ کرنے کا بھی ان پر لادا جائے گا۔ اس بات کو یوں سمجھیے کہ ایک شخص خود بھی چوری کرتا ہے اور کسی دوسرے شخص سے بھی کہتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ چوری کے کام میں حصہ لے۔ اب اگر وہ دوسرا شخص اس کے کہنے سے چوری کرے گا تو کوئی عدالت اسے اس بنا پر نہ چھوڑدے گی کہ اس نے دوسرے کے کہنے سے جرم کیا ہے۔ چوری کی سزا تو بہرحال اسے ملے گی اور کسی اصولِ انصاف کی رو سے بھی یہ درست نہ ہو گا کہ اسے چھوڑ کر اس کے بدلے کی سزا اس سے پہلے چور کو دے دی جائے جس نے اسے بہکا کر چوری کے راستے پر ڈالا تھا۔ لیکن وہ پہلا چور اپنے جرم کے ساتھ اِس  جرم  کی سزا بھی پائے گا کہ اس نے خود چوری کی سو کی، ایک دوسرے شخص کو بھی اپنے ساتھ چور بنا ڈالا۔ قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر اس قاعدے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لِيَحْمِلُوْۤا اَوْزَارَهُمْ كَامِلَةً يَّوْمَ الْقِيٰمَةِ١ۙ وَ مِنْ اَوْزَارِ الَّذِيْنَ يُضِلُّوْنَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوْنَؒ۰۰۲۵ (النحل۔ آیت ۲۵)۔ ” تا کہ وہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے پورے اٹھائیں اور اُن لوگوں کے بوجھوں کا بھی ایک حصّہ  اٹھائیں جن کو وہ علم کے بغیر گمراہ کرتے ہیں۔“ اور اسی قاعدے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ من دعا الیٰ  ھدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذٰلک من اجورھم شیًٔا و من دعا الیٰ ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل اٰثام من تبعہ لا ینقص ذٰلک من اٰثامھم شیًٔا۔ (مسلم) ”جس شخص نے راہِ راست کی طرف دعوت دی اس کو ان سب لوگوں کے اجر کے برابر اجر ملے گا جنہوں نے اس کی دعوت پر راہِ راست اختیار کی بغیر اس کے کہ اُن کے اجروں میں کوئی کمی ہو۔ اور جس شخص نے گمراہی  کی طرف دعوت دی اس پر ان سب لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہو گا جنہوں نے اس کی پیروی کی بغیر اس کے کہ اُن کے گناہوں میں کوئی  کمی ہو۔“

اور قیامت کے روز یقیناً ان سے اِن افترا پردازیوں کی باز پرس ہوگی جو وہ کرتے رہے ہیں۔

سورة العنکبوت حاشیہ نمبر۲۰

”افترا  پردازیوں“ سے مراد وہ جھوٹی باتیں ہیں  جو کفار کے اِس قول میں چھپی ہوئی تھیں کہ  ”تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اوپر لے لیں گے۔“ دراصل وہ لوگ دو مفروضات کی بنیاد پر یہ بات کہتے تھے۔ ایک یہ کہ جس مذہبِ شرک کی وہ پیروی کر رہے ہیں وہ بر حق ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہبِ توحید غلط ہے، اس لیے اُس سے کفر کرنے میں کوئی  خطا نہیں ہے۔ دوسرا مفروضہ یہ تھا کہ کوئی حشر نہیں  ہونا ہے اور یہ حیاتِ اُخروی کا تخیّل ، جس کی وجہ سے ایک مسلمان کفر کرتے ہوئے ڈرتا ہے، بالکل بے اصل ہے۔ یہ مفروضات اپنے دل میں رکھنے کے بعد وہ ایک مسلمان سے کہتے تھے کہ اچھا اگر تمہارے نزدیک کفر کرنا ایک خطا ہی ہے ، اور کوئی حشر بھی ہونا ہے جس میں اِس خطا پر تم سے باز پرس ہو گی ، تو چلو تمہاری اس خطا  کو ہم اپنے سر لیتے ہیں، تم ہماری  ذمہ داری پر دینِ محمدؐ کو چھوڑ کر دینِ آبائی میں واپس آجاؤ۔ اس معاملہ میں پھر مزید دو جھوٹی باتیں شامل تھیں۔ ایک ان کا یہ خیا ل کہ  جو شخص کسی کے کہنے پر جرم کرے وہ اپنے جرم کی ذمہ داری سے بَری ہو سکتا ہے اور اس کی پوری ذمہ داری وہ شخص اُٹھا سکتا ہے جس کے کہنے پر اس نے جرم کیا ہے۔ دوسرا ان کا یہ جھوٹا   وعدہ  کہ قیامت کے روز وہ اُن لوگوں کی ذمہ داری واقعی اُٹھا لیں گے جو ان کے کہنے پر ایمان سے کفر کی طرف پلٹ گئے ہوں۔ کیونکہ جب قیامت فی الواقع قائم  ہو جائے گی اور ان کی امیدوں کے خلاف جہنّم ان کی آنکھوں کے سامنے ہو گی اُس وقت  وہ ہر گز تیار نہ ہوں گے کہ اپنے کفر کا خمیازہ بھگتنے کے ساتھ اُن لوگوں کے  گناہ کا بوجھ بھی پورا کا پورا اپنے اوپر لے لیں جنہیں وہ دنیا میں بہکا کر گمراہ کرتے تھے۔

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں