آخرت میں ہر شخص کے ساتھ اس کے اوصاف کے لحاظ سے معاملہ ہوگا
آخرت میں ہر شخص کے ساتھ اس کے اوصاف کے لحاظ سے معاملہ ہوگا
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن- جلد سوم-آخرت
صفحہ 127
سورہ طہ آیت 112
وَ مَنْ
يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا
هَضْمًا۰۰۱۱۲ سورہ طہ آیت 112
اور کسی ظلم یا حق
تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو۔
سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر۸۷
یعنی وہاں فیصلہ ہر
انسان کے اوصاف (Merits ) کی بنیاد پر ہو گا۔ جو شخص کسی ظلم کا
بارِ گناہ اُٹھائے ہوئے آئے گا ، خواہ اس
نے ظلم اپنے خدا کے حقوق پر کیا ہو، یا خلقِ خدا کے حقوق پر ، یا خود اپنے نفس پر
، بہرحال یہ چیز اسے کامیابی کا منہ نہ دیکھنے دے گی۔ دوسری طرف جو لوگ ایمان اور
عملِ صالح (محض عمل ِ صالح نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ عملِ صالح، اور محض ایمان بھی
نہیں بلکہ عملِ صالح کے ساتھ ایمان) لیے ہوئے آئیں گے ، اُن کے لیے وہاں نہ
تو اس امر کا کوئی اندیشہ ہے کہ ان پر ظلم ہو گا، یونہی خواہ
مخواہ بے قصُور ان کو سزا دی جائے گی، اور
نہ اسی امر کا کوئی خطرہ ہے کہ ان کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا جائے گا اور ان
کے جائز حقوق مار کھائے جائیں گے۔
Comments
Post a Comment