فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول- اجر اجر کے حقدار لوگ

 Reward -List of topics - Tafhim al-Qur'an - Volume I

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول-  اجر

اجر کے حقدار لوگ صفحہ 203

اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى ١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۰۰۲۶۲ سورہ بقرہ آیت 262

جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرکے پھر احسان نہیں جتاتے، نہ دکھ دیتے ہیں ، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں۔ سورہ بقرہ آیت 262

سورة البقرة حاشیہ نمبر۳۰١

یعنی نہ تو اُن کے لیے اس بات کا کوئی خطرہ ہے کہ ان کا اجر ضائع ہو جائے گا اور نہ کبھی یہ نوبت آئے گی کہ وہ اپنے اس خرچ پر پشیمان ہوں۔             

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول-  اجر

اجر کے حقدار لوگ ،  217

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ۰۰۲۷۷سورہ بقرہ آیت 277

ہاں، جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں، اُن کا اجر بے شک ان کے ربّ کے پاس ہے اور ان کےلیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔ سورہ بقرہ آیت 277

 

سورة البقرة حاشیہ نمبر ۳۲۲

اس رکوع میں اللہ تعالیٰ بار بار دو قسم کے کرداروں کو بالمقابل پیش کر رہا ہے۔ ایک کردار خود غرض، زر پرست، شائیلاک قسم کے انسان کا ہے، جو خدا اور خلق دونوں کے حقوق سے بےپروا ہو کر روپیہ گننے اور گِن گِن کر سنبھالنے اور ہفتوں اور مہینوں کے حساب سے اس کو بڑھانے اور اس کی بڑھوتری کا حساب لگانے میں منہمک ہو۔ دُوسرا کردار ایک خدا پرست، فیّاض اور ہمدرد انسان کا کردار ہے، جو خدا اور خلقِ خدا دونوں کے حقوق کا خیال رکھتا ہو، اپنی قوتِ بازو سے کما کر خود کھائے اور دُوسرے بندگانِ خدا کو کھلائے اور دل کھول کر نیک کاموں میں خرچ کرے۔ پہلی قسم کا کردار خدا کو سخت نا پسند ہے۔ دنیا میں اس کردار پر کوئی صالح سوسائیٹی نہیں بن سکتی ، اور آخرت میں ایسے کردار کے لیے غم و اندوہ اور  کلفت و مصیبت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ بخلاف اس کے اللہ کو دُوسری قسم کا کردار پسند ہے، اسی سے دُنیا میں صالح سوسائیٹی بنتی ہے اور وہی آخرت میں انسان کے لیے موجبِ فلاح ہے۔

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول-  اجر

اجر کے حقدار لوگ ،  302،  303

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْيَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ۰۰۱۶۹فَرِحِيْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ يَسْتَبْشِرُوْنَ۠ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَۘ۰۰۱۷۰يَسْتَبْشِرُوْنَ۠ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ     ۰۰۱۷۱سورہ آل عمران آیات 169تا 171

جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں،120 اپنے رب کے پاس  رزق پا رہے ہیں، جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں  دیا ہے اُس پر خوش وخُرم  ہیں ،121 اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ِ ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج  کاموقع  نہیں ہے۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل  پر شاداں و فرحاں  ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔سورہ آل عمران آیات 169تا171

سورة ال عمران حاشیہ نمبر١۲١

مسند احمد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مروی ہے  جس کا مضمون یہ ہے کہ جو شخص نیک عمل  لے کر دُنیا سے جاتا ہے اُسے اللہ کے ہاں اس قدر پُر لُطف اور پُر کیف زندگی میسّر آتی ہے  جس کے بعد وہ کبھی دُنیا میں واپس آنے کی تمنا نہیں کرتا۔ مگر شہید اس سے مستثنیٰ ہے۔ وہ تمناکرتا ہے کہ پھر دُنیا  میں بھیجا جائے اور پھر اُس لذّت ، اس سرُور اور اس نشے سے لُطف اندوز ہو جو راہِ خدا میں جان دیتے  وقت حاصل ہوتا ہے۔

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول-  اجر

اجر کے حقدار لوگ ،  396،

لَا خَيْرَ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَيْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيْهِ اَجْرًا عَظِيْمًا۰۰۱۱۴ سورہ النساء آیت 114

لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کا م کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے، اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا اسے ہم بڑا اجر  عطا کریں گے۔سورہ نساء آیت 114

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول-  اجر

اجر کے حقدار لوگ-2-  412،

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِيْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ١ؕ وَ سَوْفَ يُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِيْنَ اَجْرًا عَظِيْمًا۰۰۱۴۶ سورہ نساء آیت 146

البتہ جو ان میں سے تائب ہو جا ئیں اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر دیں،ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں اور اللہ مومنوں  کو ضرور اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔ سورہ نساء آیت 146

سورة النساء حاشیہ نمبر١۷۴

اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر دینے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی وفاداریاں اللہ کے سوا کسی اور سے وابستہ نہ ہوں، اپنی ساری دلچسپیوں اور محبتوں اور عقیدتوں کو وہ اللہ کے آگے نذر کردے، کسی چیز کے ساتھ بھی دل کا ایسا لگا ؤ باقی نہ رہے کہ اللہ کی رضا کے لیے اُسے قربان نہ کیا جا سکتا ہو۔

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول-  اجر

اجر کے حقدار لوگ  414،

وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓىِٕكَ سَوْفَ يُؤْتِيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًاؒ۰۰۱۵۲ سورہ نساء آیت 152

۔۔ بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں، اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں، ان کو ہم ضرور ان کے اجر  عطا کریں گے ، اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ سورہ نساء آیت 152

 

سورة النساء حاشیہ نمبر١۷۹

یعنی جو لوگ خدا کو اپنا واحد معبُود اور مالک تسلیم کر لیں ، اور اس کے بھیجے ہوئے تمام رسُولوں کی پَیروی قبول کریں، صرف وہی اپنے اعمال پر اجر کے مستحق ہیں ، اور وہ جس درجہ کا عمل صالح کریں گے اسی درجہ کا اجر پائیں گے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے خدا کی لاشریک الہٰیّت و ربوبیّت ہی تسلیم نہ کی  ، یا جنہوں نے خدا کے نمائندوں میں سے بعض کو قبول اور بعض کو ردکرنے کا باغیانہ طرزِ عمل اختیار کیا، تو ان کے لیے کسی عمل پر کسی اجر کا سوال سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتا ، کیونکہ ایسے لوگوں کا کوئی عمل خدا کی نگاہ میں قانونی عمل نہیں ہے۔

 

سورة النساء حاشیہ نمبر١۸۰

یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں گے  ان کا حساب لینے میں اللہ سخت گیری نہیں برتے گا بلکہ ان کے ساتھ بہت نر می اور درگزر سے کام لے گا۔

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول-  اجر

اجر کے حقدار لوگ  424

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ سَنُؤْتِيْهِمْ اَجْرًا عَظِيْمًاؒ۰۰۱۶۲ سورہ نساء آیت 162

مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں اور ایماندار ہیں وہ سب اس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف نازل  کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی۔ اس طرح کے ایمان لانے والے اور نماز و زکوٰة کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روز آخرت پر سچّا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے۔ سورہ نساء ایت 162

 

سورة النساء حاشیہ نمبر۲۰۳

یعنی ان میں سے جو لوگ کتبِ آسمانی کی حقیقی تعلیم سے واقف ہیں اور ہر قسم کے تعصّب ، جاہلانہ ضد، آبائی تقلید اور نفس کی بندگی سے آزاد ہو کر اُس امرِ حق کو سچے دل سے مانتے ہیں جس کا ثبوت آسمانی کتابوں سے مِلتا ہے ، ان کی روش کا فر وظالم یہودیوں کی عام روش سے بالکل مختلف ہے۔ ان کو بیک نطر محسُوس ہو جاتا ہے کہ جس دین کی تعلیم پچھلے انبیاء نے دی تھی اسی کی تعلیم قرآن دے رہا ہے ، اس لیے وہ بے لاگ حق پرستی کے ساتھ دونوں پر ایمان لے آتے ہیں۔

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول-  اجر

اجر کے حقدار لوگ  430

فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُوَفِّيْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ يَزِيْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِيْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِيْمًا١ۙ۬ وَّ لَا يَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّ لَا نَصِيْرًا۰۰۱۷۳   سورہ نساء آیت 173

اُس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لاکر نیک طرزِ عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پُورے پُورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا، اور جِن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے اُن کو اللہ درد ناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مدد گاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے۔ سورہ نساء آیت 173

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد اول-  اجر

اجر کے حقدار لوگ  450 

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۰۰۹ سورہ مائدہ آیت 9

جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاوٴں سے درگزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا۔ سورہ مائدہ آیت 9

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں