فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز تفہیم القران جلد چہارم-آخرت آخرت کے دلائل-2
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
تفہیم القران جلد چہارم-آخرت
آخرت کے دلائل-2
صفحہ 175
سورہ سبا آیات 5، 6
وَ الَّذِيْنَ سَعَوْ فِيْۤ
اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِيْمٌ۰۰۵وَ يَرَى
الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ
الْحَقَّ١ۙ وَ يَهْدِيْۤ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ ۰۰۶ سورہ
سبا آیات 5، 6
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا
دکھانے کے لیے زور لگایا ہے، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔ اے نبیؐ ، علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو
کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے اور خدائے عزیز و
حمید کا راستہ دکھاتا ہے۔
ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب
ہے
سورة سبا حاشیہ نمبر۸
اوپر آخرت کے امکان کی دلیل تھی، اور یہ
اس کے وجوب کی دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا وقت ضرور آنا ہی چاہیے جب ظالموں کو ان
کے ظلم کا اور صالحوں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیا جائے۔ عقل یہ چاہتی ہے اور انصاف یہ
تقاضا کرتا ہے کہ جو نیکی کرے اسے انعام ملے اور جو بدی کرے وہ سزا پائے۔ اب اگر
تم دیکھتے ہو کہ دنیا کی موجودہ
زندگی میں نہ ہر بد کو اس کی بدی کا اور نہ ہر نیک کو اس کی
نیکی کا پورا بدلہ ملتا ہے، بلکہ بسا اوقات بدی اور نیکی کے الٹے نتائج بھی نکل آتے ہیں، تو تمہیں تسلیم کرنا چاہیے کہ
عقل اور انصاف کا یہ لازمی تقاضا کسی وقت ضرور پورا ہونا چاہیے۔ قیامت اور آخرت اسی
وقت کا نام ہے۔ اس کا آنا نہیں نہ آنا عقل کے خلاف اور انصاف سے بعید ہے۔ اس سلسلہ
میں ایک اور نکتہ بھی اوپر کی آیات سے
واضح ہوتا ہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ ا یمان اور عمل صالح کا نتیجہ مغفرت اور رزق
کریم ہے۔ اور جو لوگ خدا کے دین کو نیچا دکھانے کے لیے معاندانہ جدوجہد کریں ان کے
لیے بدترین قسم کا عذاب ہے۔ اس سے خود بخود یہ ظاہر ہو گیا کہ جو شخص سچے دل سے ایمان
لائے گا اس کے عمل میں اگر کچھ خرابی بھی ہو تو وہ رزق کریم چاہے نہ پائے مگر
مغفرت سے محروم نہ رہے گا اور جو شخص کافر
تو ہو مگر دین حق کے مقابلے میں عناد و مخالفت کی روش بھی اختیار نہ کرے وہ عذاب
سے تو نہ بچے گا مگر بد ترین عذاب اس کے لیے نہیں ہے۔
خدائے عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے
سورة سبا حاشیہ نمبر۹
یعنی یہ معاندین تمہارے پیش کردہ حق کو باطل ثابت کرنے کے لیے
خواہ کتنا ہی زور لگائیں، ان کی یہ تدبیریں کامیاب نہیں ہو سکتیں، کیونکہ ان باتوں سے وہ جہلا ہی کو دھوکا دے سکتا ہیں۔ علم
رکھنے والے لوگ ان کے فریب میں نہیں آتے۔
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات تفہیم القران جلد
چہارم-آخرت
صفحہ 191
سورہ سبا آیت 15
لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِيْ
مَسْكَنِهِمْ اٰيَةٌ سورہ
سبا آیت 15
سبا
کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی
سورة سبا حاشیہ نمبر۲۵
سلسلۂ بیان کو سمجھنے کے لیے رکوع اول
کے مضمون کو نگاہ ہیں رکھنا ضروری ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کفار عرب آخرت کی
آمد کو بعید از عقل سمجھتے تھے۔ اور جو رسولؐ اس عقیدے کو پیش کر رہا تھا اس کے متعلق کھلم کھلا یہ کہہ رہے تھے کہ ایسی
عجیب باتیں کرنے والا آدمی یا تو مجنون ہو سکتا ہے، یا پھر وہ جان بوجھ کر افترا
پردازی کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ
تعالی نے پہلے چند عقلی دلائل ارشاد فرمائے جن کی تشریح ہم حواشی نمبر 7۔8۔12 میں
کر چکے ہیں۔ اس کے بعد رکوع دوم میں حضرت داؤد و سلیمانؑ کا قصّہ اور پھر سبا کا
قصہ ایک تاریخی دلیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس سے مقصود یہ حقیقت ذہن نشین
کرنا ہے کہ روئے زمین پر خود نوع انسانی کی اپنی سرگزشت، قانونِ مکافات کی شہادت
دے رہی ہے۔ انسان اپنی تاریخ کو غور سے دیکھے تو اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ دنیا
کوئی اندھیر نگری نہیں ہے جس کا سارا کارخانہ اندھا دھند چل رہا ہو بلکہ اس پر ایک
سمیع و بصیر خدا فرمانروائی کر رہا ہے جو
شکر کی راہ اختیار کرنے والوں کے ساتھ ایک
معاملہ کرتا ہے اور ناشکری و کافر نعمتی کی
راہ چلنے والوں کے ساتھ بالکل ہی ایک دوسرا معاملہ فرماتا ہے۔ کوئی سبق لینا چاہے
تو اسی تاریخ سے یہ سبق لے سکتا ہے کہ جس خدا کی سلطنت کا یہ مزاج ہے اس کی خدائی میں نیکی اور بدی کا انجام کبھی یکساں نہیں ہو
سکتا۔ اس کے عدل و انصاف کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ ایک وقت ایسا آئے جب نیکی کا پورا اجر اور بدی کا پورا بدلہ دیا
جائے۔
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات تفہیم القران جلد
چہارم-آخرت
صفحہ272، 273
سورہ یس آیات 77، 83
اَوَ لَمْ
يَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِيْمٌ
مُّبِيْنٌ۰۰۷۷وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِيَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ
يُّحْيِ الْعِظَامَ وَ هِيَ رَمِيْمٌ۰۰۷۸قُلْ
يُحْيِيْهَا الَّذِيْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ
عَلِيْمُۙ۰۰۷۹ا۟لَّذِيْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ
نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ۰۰۸۰اَوَ لَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ
يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى ١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ۰۰۸۱اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ
فَيَكُوْنُ۰۰۸۲فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ
اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَؒ۰۰۸۳ سورہ یس آیات
77، 83
کیا انسان دیکھتا نہیں
ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالُو بن کر کھڑا ہو گیا؟ اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھُول جاتا ہے۔ کہتا ہے ”کون اِن ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ
بوسیدہ ہو چکی ہوں؟“ اس سے کہو، اِنہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا
تھا ، اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے۔ وہی جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ
پیدا کر دی اور تم اس سے اپنے چُولہے روشن کرتے ہو۔ کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اِس
پر قادر نہیں ہے کہ اِن جیسوں کو پیدا کر سکے؟ کیوں نہیں، جبکہ وہ ماہر خلّاق ہے۔
وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہو جا
اور وہ ہوجاتی ہے۔ پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے، اور اسی کی
طرف تم پلٹا ئے جانے والے ہو۔ ؏۵
کیا انسان دیکھتا نہیں ہے
سورة یٰس حاشیہ نمبر٦۴
اب کفار کے اس سوال کا استدلالی جواب
دیا جا رہا ہے جو آیت 48 میں نقل کیا گیا تھا۔ ان کا یہ سوال کہ ’’ قیامت کی دھمکی
کب پوری ہو گی‘‘ کچھ اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کے آنے کی تاریخ معلوم کرنا
چاہتے تھے ، بلکہ اس بنا پر تھا کہ وہ مرنے کے بعد انسانوں کے دوبارہ اٹھائے جانے
کو بعید از امکان، بلکہ بعید از عقل سمجھتے تھے ۔ اسی لیے ان کے سوال کے جواب میں
امکان آخرت کے دلائل ارشاد ہو رہے ہیں۔
ابن عباس، قتادہ اور سعید بن جُبیر کی
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر کفار مکہ کے سرداروں میں سے ایک شخص
قبرستان سے کسی مردے کی ایک بوسیدہ ہڈی لیے ہوئے آگیا اور اس نے نبی صلی اللہ و علیہ
و سلم کے سامنے اسے توڑ کر اور اس کے منتشر اجزا ہوا میں اڑا کر آپ سے کہا، اے
محمدؐ تم کہتے ہو کہ مردے پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ۔ بتاؤ، ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے
گا؟ اس کا جواب فوراً ان آیات کی صورت میں دیا گیا۔
پھر وہ صریح جھگڑالُو بن کر کھڑا ہو گیا
سورة یٰس حاشیہ نمبر٦۵
یعنی وہ نطفہ جس میں محض ایک ابتدائی
جرثومہ حیات کے سوا کچھ نہ تھا، اس کو ترقی دے کر ہم نے اس حد تک پہنچایا کہ وہ نہ
صرف جانوروں کی طرح چلنے پھرنے اور کھانے پینے لگا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس میں
شعور و تعقُّل اور بحث و استدلال اور تقریر و خطابت کی وہ قابلیتیں پیدا ہو گئیں
جو کسی حیوان کو نصیب نہیں ہیں، حتٰی کہ اب وہ اپنے خالق کے بھی منہ آنے
لگا ہے ۔
اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے
سورة یٰس حاشیہ نمبر٦٦
یعنی ہمیں مخلوقات کی طرح عاجز سمجھتا
ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جس طرح انسان کسی مردے کو زندہ نہیں کر سکتا، اسی طرح ہم بھی نہیں کر سکتے ۔
اور اپنی پیدائش کو بھُول جاتا ہے
سورة یٰس حاشیہ نمبر٦۷
یعنی یہ بات بھول جاتا ہے کہ ہم نے بے جان مادہ
سے وہ ابتدائی جرثومہ حیات پیدا کیا جو اس کا ذریعہ تخلیق بنا اور پھر اس جرثومے
کو پرورش کر کے اسے یہاں تک بڑھا لائے کہ آج وہ ہمارے سامنے باتیں چھانٹنے کے قابل
ہوا ہے ۔
تم اس سے اپنے چُولہے روشن کرتے ہو
سورة یٰس حاشیہ نمبر٦۸
یا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ہرے
بھرے درختوں میں وہ آتش گیر مادہ رکھا ہے جس کی بدولت تم لکڑیوں سے آگ جلاتے ہو۔ یا
پھر یہ اشارہ ہے مرْخ اور عَفَار نامی ان دو درختوں کی طرف جن کی ہری بھری ٹہنیوں
کو لے کر اہل عرب ایک دوسرے پر مارتے تھے تو ان سے آگ جھڑنے لگتی تھی۔ قدیم زمانہ
میں عرب کے بدّو آگ جلانے کے لیے یہی چقماق استعمال کیا کرتے تھے اور ممکن ہے آج
بھی کرتے ہوں۔
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات تفہیم القران جلد
چہارم-آخرت
صفحہ 280تا282
سورہ صٰفّٰت آیات 11تا21
فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ
اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِيْنٍ
لَّازِبٍ۰۰۱۱بَلْ
عَجِبْتَ وَ يَسْخَرُوْنَ۪۰۰۱۲وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا
يَذْكُرُوْنَ۪۰۰۱۳وَ
اِذَا رَاَوْا اٰيَةً يَّسْتَسْخِرُوْنَ۪۰۰۱۴وَ قَالُوْۤا
اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِيْنٌۚۖ۰۰۱۵ءَاِذَا مِتْنَا
وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ۠ۙ۰۰۱۶اَوَ اٰبَآؤُنَا
الْاَوَّلُوْنَؕ۰۰۱۷قُلْ
نَعَمْ وَ اَنْتُمْ دَاخِرُوْنَۚ۰۰۱۸فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ
وَّاحِدَةٌ فَاِذَا هُمْ يَنْظُرُوْنَ۰۰۱۹وَ قَالُوْا يٰوَيْلَنَا هٰذَا
يَوْمُ الدِّيْنِ۰۰۲۰هٰذَا
يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؒ۰۰۲۱ سورہ صٰفّٰت آیات 11تا21
اب اِن سے پوچھو، اِن کی پیدائش زیادہ
مشکل ہے یا اُن چیزوں کی جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں؟ اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا
ہے۔ تم (اللہ کی قدرت کے کرشموں پر)حیران
ہواور یہ اس کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے۔ کوئی
نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھوں میں
اُڑاتے ہیں اورکہتے ہیں”یہ تو صریح جادُو ہے،
بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جب ہم مر چکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں
کا پنجر رہ جائیں اُس وقت ہم پھر زندہ کر کے اُٹھا کھڑے کیے جائیں؟ اور کیا ہمارے
اگلے وقتوں کے آباو اجداد بھی اُٹھائے جائیں گے؟“ اِن سے کہوہاں، اور تم (خدا کے
مقابلے میں)بے بس ہو۔
بس ایک ہی جھِڑکی ہوگی اور یکایک یہ
اپنی آنکھوں سے ( وہ سب کچھ جس کی خبر دی جارہی ہے)دیکھ رہے ہوں گے۔ اُس وقت یہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم
الجزا ہے ۔۔۔۔ ” یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھُٹلا یا کرتے تھے۔
جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں؟
سورة الصفت حاشیہ نمبر۸
یہ کفار مکہ کے اس شبہ کا جواب ہے جو
وہ آخرت کے بارے میں پیش کرتے تھے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ آخرت ممکن نہیں ہے ، کیونکہ
مرے ہوئے انسانوں کا دوبارہ پیدا ہونا محال ہے ۔ اس کے جواب میں امکانِ آخرت کے
دلائل پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے سامنے یہ سوال رکھتا ہے کہ اگر
تمہارے نزدیک مرے ہوئے انسانوں کو دو بارہ پیدا کرنا بڑا سخت کام ہے جس کی قدرت تمہارے خیال میں ہم کو حاصل
نہیں ہے تو بتاؤ کہ یہ زمین و آسمان، اور یہ بے شمار اشیاء جو آسمانوں اور زمین میں
ہیں ، ان کا پیدا کرنا کوئی آسان کام ہے ؟ آخر تمہاری عقل کہاں ماری گئی ہے کہ خدا
کے لیے یہ عظیم کائنات پیدا کرنا مشکل نہ تھا، اور جو خود تم کو ایک دفعہ پیدا کر
چکا ہے ، اس کے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری دوبارہ تخلیق سے وہ عاجز ہے ۔
لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے
سورة الصفت حاشیہ نمبر۹
یعنی یہ انسان کوئی بڑی چیز تو نہیں
ہے ۔ مٹی سے بنایا گیا ہے اور پھر اسی مٹی سے بنایا جا سکتا ہے ۔
لیس دار گارے سے انسان کی پیدائش کا
مطلب یہ بھی ہے کہ انسان اول کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی اور پھر آگے نسل انسانی
اُسی پہلے انسان کے نطفے سے وجود میں آئی ۔ اور یہ بھی ہے کہ ہر انسان لیس دار
گارے سے بنا ہے ۔ اس لیے کہ انسان کا سارا مادّہ وجود زمین ہی سے حاصل ہوتا ہے ۔
جس نطفے سے وہ پیدا ہوا ہے وہ غذا ہی سے بنتا ہے ، اور استقرارِ حمل کے وقت سے
مرتے دم تک اس کی پوری ہستی جن اجزاء سے مرکب ہوتی ہے وہ سب بھی غذا ہی سے فراہم
ہوتے ہیں ۔ یہ غذا خواہ حیوانی ہو یا نباتی، آخر کار اس کا ماخذ وہ مٹی ہے جو پانی
کے ساتھ مل کر اس قابل ہوتی ہے کہ انسان کی
خوراک کے لیے غلے اور ترکاریاں اور پھل نکالے ، اور ان حیوانات کو پرورش کرے جن کا
دودھ اور گوشت انسان کھاتا ہے ۔
پس بنائے استدلال یہ ہے کہ یہ مٹی اگر
حیات قبول کرنے کے لائق نہ تھی تو تم آج کیسے زندہ موجود ہو؟ اگر اس میں زندگی پیدا
کیے جانے کا آج امکان ہے ، جیسا کہ تمہارا موجود ہونا خود اس کے امکان کو صریح طور
پر ثابت کر رہا ہے ، توکل دوبارہ اسی مٹی سے تمہاری پیدائش کیوں ممکن نہ ہو گی ؟
یہ تو صریح جادُو ہے
سورة الصفت حاشیہ نمبر١۰
یعنی عالم طلسمات کی باتیں ہیں ۔ کوئی
جادو کی دنیا ہے جس کا یہ شخص ذکر کر رہا ہے ، جس میں مردے اٹھیں گے ، عدالت ہو گی،
جنت بسائی جائے گی اور دوزخ کے عذاب ہوں گے ۔ یا پھر یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ یہ شخص دل چلوں کی سی باتیں کر رہا ہے ، اس
کی یہ باتیں ہی اس بات کا صریح ثبوت ہیں کہ کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے جس کی وجہ
سے بھلا چنگا آدمی یہ باتیں کرنے لگا۔
تم (خدا کے مقابلے میں)بے بس ہو۔
سورة الصفت حاشیہ نمبر١١
یعنی اللہ جو کچھ بھی تمہیں بنانا
چاہے بنا سکتا ہے ۔ جب اس نے چاہا اس کے ایک اشارے پر تم وجود میں آ گئے ۔جب وہ
چاہے گا اس کے ایک اشارے پر تم مر جاؤ گے ۔ اور پھر جس وقت بھی وہ چاہے گا اس کا ایک
اشارہ تمہیں اٹھا کھڑا کرے گا۔
دیکھ رہے ہوں گے
سورة الصفت حاشیہ نمبر١۲
یعنی جب یہ بات ہونے کا وقت آئے گا تو
دنیا کو دوبارہ برپا کر دینا کوئی بڑا لمبا چوڑا کام نہ ہو گا ۔ بس ایک ہی جھڑکی
سوتوں کو جگا اٹھا نے کے لیے کافی ہو گی۔ ’’ جھڑکی ‘‘ کا لفظ یہاں بہت معنیٰ خیز ہے ،اس سے بعث بعد الموت کا کچھ ایسا
نقشہ نگاہوں کے سامنے آتا ہے کہ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک جو انسان مرے
تھے وہ گویا سوتے پڑے ہیں ، یکایک کوئی ڈانٹ کر کہتا ہے ’’ اٹھ جاؤ‘‘ اور بس آن کی
آن میں وہ سب اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔
یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جھُٹلا یا
کرتے تھے
سورة الصفت حاشیہ نمبر١۳
ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان سے اہل ایمان
کہیں ، ہو سکتا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہو، ہو سکتا ہے کہ میدان حشر کا سارا ماحول
اس وقت زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود انہی لوگوں
کا دوسرا رد عمل ہو۔ یعنی اپنے دلوں میں وہ اپنے آپ ہی کو مخاطب کر کے کہیں کہ دنیا
میں ساری عمر تم یہ سمجھتے رہے کہ کوئی فیصلے کا دن نہیں آنا ہے ، اب آ گئی تمہاری
شامت ، جس دن کو جھٹلاتے تھے وہی سامنے آگیا۔
فہرست موضوعات تفہیم القران سیریز
آخرت کے دلائل
فہرست موضوعات تفہیم القران جلد
چہارم-آخرت
صفحہ 331، 332
سورہ ص آیات 27، 28
وَ مَا
خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ
الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ۰۰۲۷اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ
كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ١ٞ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ۰۰۲۸ سورہ ص آیات 27،
28
ہم نے اس آسمان اور
زمین کو اور اس دنیا کو جو ان کے درمیان ہے ، فضول پیدا نہیں کر دیا ہے۔
یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کُفر کیا ہے، اور ایسے کافروں کے لیے
بربادی ہے جہنّم کی آگ سے۔ کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لاتے اور نیک عمل کرتے ہیں
اور اُن کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں
کر دیں؟ کیا متّقیوں کو ہم فاجروں
جیسا کر دیں؟
فضول پیدا نہیں کر دیا ہے
سورة ص حاشیہ نمبر۲۹
یعنی محض کھیل کے طور
پر پیدا نہیں کر دیا ہے کہ اس میں کوئی حکمت نہ ہو، کوئی غرض اور مقصد نہ ہو، کوئی عدل اور انصاف
نہ ہو، اور کسی اچھے یا بُرے فعل کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو۔ یہ ارشاد پچھلی تقریر
کا ماحصل بھی ہے اور آگے کے مضمون کی تمہید بھی۔ پچھلی تقریر کے بعد یہ فقرہ ارشاد
فرمانے سے مقصود یہ حقیقت سامعین سے ذہن نشین کرانا ہے کہ انسان یہاں شترِ بے مہار
کی طرح نہیں چھوڑ دیا گیا ہے ، نہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے کہ یہاں جس کا جو کچھ جی
چاہے کرتا رہے اور اس پر کوئی باز پُرس نہ ہو۔ آگے کے مضمون کی تمہید کے طور پر اس
فقرے سے کلام کا آغاز کر کے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جو شخص جزا و سزا کا قائل نہیں
ہے اور اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھا رہے کہ نیک و بد سب آخر کار مر کر مٹی ہو جائیں گے
، کسی سے کوئی محاسبہ نہ ہو گا، نہ کسی کو بھلائی یا بُرائی کا کوئی بدلہ ملے گا،
وہ دراصل دنیا کو ایک کھلونا اور اس کے بنانے والے کو کھلنڈرا سمجھتا ہے اور اس کا
خیال یہ ہے کہ خالق کائنات نے دنیا بنا کر اور اس میں انسان کو پیدا کر کے ایک فعل
عبث کا ارتکاب کیا ہے ۔ یہی بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے
ارشاد فرمائی گئی ہے ۔ مثلاً فرمایا:
اَفَحَسِبْتُمْ
اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ۰۰۱۱۵ (المومنون:115)
کیا تم نے یہ سمجھ
رکھا ہے کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کر دیا ہے اور تم ہمارے طرف پلٹائے جانے والے نہیں
ہو؟
وَ مَا
خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا لٰعِبِيْنَ۰۰۳۸مَا خَلَقْنٰهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا
يَعْلَمُوْنَ۰۰۳۹اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيْقَاتُهُمْ اَجْمَعِيْنَۙ۰۰۴۰ (الدُّ خان: 38۔40)
ہم نے آسمانوں اور زمین
کو اور کائنات کو جو ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا ہے ۔ ہم نے ان
کو بر حق پیدا کیا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۔ درحقیقت فیصلے کا دن ان سب کے
لیے حاضری کا وقت مقرر ہے ۔
کیا متّقیوں کو
ہم فاجروں جیسا کر دیں؟
سورة ص حاشیہ نمبر۳۰
یعنی کیا تمہارے نزدیک
یہ بات معقول ہے کہ نیک اور بد دونوں آخر کار یکساں ہو جائیں؟ کیا یہ تصور تمہارے
لیے اطمینان بخش ہے کہ کسی نیک انسان کو اس کی نیکی کا کوئی صلہ اور کسی بد آدمی
کو اس کی بدی کا کوئی بدلہ نہ ملے؟ ظاہر بات ہے کہ اگر آخرت نہ ہو اور اللہ تعالیٰ
کی طرف سے کوئی محاسبہ نہ ہو اور انسانی افعال کی کوئی جزا و سزا نہ ہو تو اس سے
اللہ کی حکمت اور اس کے عدل دونوں کی نفی ہو جاتی ہے اور کائنات کا پورا نظام ایک
اندھا نظام بن کر رہ جاتا ہے ۔ اس مفروضے پر تو دنیا میں بھلائی کے لیے کوئی محرّک
اور بُرائی سے روکنے کے لیے کوئی مانع سرے سے باقی ہی نہیں رہ جا تا ہے ۔ خدا کی
خدائی اگر معاذاللہ ایسی ہی اندھیر نگری ہو تو پھر وہ شخص بے وقوف ہے جو اس زمین
پر تکلیفیں اُٹھا کر خود صالح زندگی بسر کرتا ہے اور خلقِ خدا کی اصلاح کے لیے کام
کرتا ہے ، اور وہ شخص عقلمند ہے جو ساز گار مواقع پا کر ہر طرح کی زیادتیوں سے
فائدے سمیٹے اور ہر قسم کے فسق و فجور سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔
Comments
Post a Comment