آخرت کو نہ ماننے کے نتائج تفہیم القرآن جلد سوم

 آخرت کو نہ ماننے کے نتائج

تفہیم القرآن جلد سوم

صفحات 26، 27،  49، 142،  293،  440،  441،  552،  553،  555،  556،  598،  599،  600،  734،  735

صفحات 26،  27

سورہ کہف آیات 35،  36،  37

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِيْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ۰۰۳۵وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً١ۙ وَّ لَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ لَاَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا۰۰۳۶قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِيْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ۰۰۳۷ سورہ کہف آیات 35،  36،  37

پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا  اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا”میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی، اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے ربّ کے حضُور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاوٴں گا۔“  اُس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اُس سے کہا”کیا تُو کُفر کرتا ہے اُس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیااور تجھے ایک پورا آدمی بنا کر کھڑا کیا؟ سورہ کہف آیات 35،  36،  37

پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا 

سورة الکھف حاشیہ نمبر۳۷

 یعنی جن باغوں کو وہ اپنی جنت سمجھ رہا تھا۔ کم ظرف لوگ جنہیں دنیا میں کچھ شان و شوکت حاصل ہو جاتی ہے ، ہمیشہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ انہیں دنیا ہی میں جنت نصیب ہو چکی ہے ، اب اور کونسی جنت ہے جسے حاصل کرنے کی وہ فکر کریں۔

اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاوٴں گا۔

سورة الکھف حاشیہ نمبر۳۸

 یعنی اگر بالفرض کوئی دوسری زندگی ہے بھی تو میں وہاں اس سے بھی زیادہ خوش حال رہوں گا کیونکہ یہاں میرا خوشحال ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ میں خدا کا محبوب اور اس کا چہیتا ہوں۔

تجھے ایک پورا آدمی بنا کر کھڑا کیا؟

سورة الکھف حاشیہ نمبر۳۹

 اگر چہ اس شخص نے خدا کی ہستی سے انکار نہیں کیا تھا، بلکہ وَلَئِنْ رُّ دِدْتُّ اِلٰی رِبِّیْ کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خدا کے وجود کا قائل تھا، لیکن اس کے باوجود اس کے ہمسائے نے اسے کفر باللہ کا مجرم قرار دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر باللہ محض ہستی باری کے انکار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ تکبُّر اور فخر و غرور اور انکار آخرت بھی اللہ سے کفر ہی ہے۔ جس نے یہ سمجھا کہ بس میں ہی میں ہوں ، میری دولت اور شان و شوکت کسی کا عطیہ نہیں بلکہ میری قوت و قابلیت کا نتیجہ ہے ، اور میری دولت لازوال ہے ، کوئی اس کو مجھ سے چھیننے والا نہیں ، اور کسی کے سامنے مجھے حساب دینا نہیں ، وہ اگر خدا کو مانتا بھی ہے تو محض ایک وجود کی حیثیت سے مانتا ہے ، اپنے مالک اور آقا اور فرماں روا کی حیثیت سے نہیں مانتا۔ حالانکہ ایمان باللہ اِسی حیثیت سے خدا کو ماننا ہے نہ کہ محض ایک موجود ہستی کی حیثیت سے۔

آخرت کو نہ ماننے کے نتائج

تفہیم القرآن جلد سوم

صفحہ 49

سورہ کہف آیات 103تا106

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًاؕ۰۰۱۰۳اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ هُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًا۰۰۱۰۴اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآىِٕهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيْمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَزْنًا۰۰۱۰۵ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰيٰتِيْ وَ رُسُلِيْ هُزُوًا۰۰۱۰۶سورہ کہف آیات 103تا106

اے محمدؐ ، ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کہ زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی  اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔

ان کی جزا جہنّم ہے اُس کُفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اُس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات  اور میرے رسُولوں کے ساتھ کرتے رہے

دنیا کہ زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی

سورة الکھف حاشیہ نمبر۷٦

 اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے ترجمے میں اختیار کیا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ ’’ جن کی ساری سعی و جہد دنیا کی زندگی ہی میں گم ہو کر رہ گئی‘‘۔ یعنی انہوں نے جو کچھ بھی کیا خدا سے بے نیاز اور اور آخرت سے بے فکر ہو کر صرف دنیا کے لیے کیا۔ دنیوی زندگی ہی کو اصل زندگی سمجھا۔ دنیا کی کامیابیوں اور خوشحالیوں ہی کو اپنا مقصود بنا یا۔ خدا کی ہستی کے اگر قائل ہوئے بھی تو اس بات کی کبھی فکر نہ کی کہ اس کی رضا کیا ہے اور ہمیں کبھی اس کے حضور جا کر اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے۔ اپنے آپ کو محض ایک خود مختار و غیر ذمہ دار حیوان عاقل سمجھتے رہے جس کے لیے دنیا کی اس چراگاہ سے تمتع کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے۔

قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے

سورة الکھف حاشیہ نمبر۷۷

 یعنی اس طرح کے لوگوں نے دنیا میں خواہ کتنے ہی بڑے کارنامے کیے ہوں ، بہر حال وہ دنیا کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو جائیں گے۔ اپنے قصر اور محلات،اپنی یونیورسٹیاں اور لائبریریاں ، اپنے  کار خانے اور معمل ، اپنی سڑکیں اور ریلیں ، اپنی ایجادیں اور صنعتیں ، اپنے علوم و فنون اور اپنی آرٹ گیلریاں ، اور دوسری وہ چیزیں جن پر وہ فخر کرتے ہیں ، ان میں سے تو کوئی چیز بھی اپنے ساتھ لیے ہوئے وہ خدا کے ہاں نہ پہنچیں گے کہ خدا کی میزان میں اس کو رکھ سکیں۔ وہاں جو چیز باقی رہنے والی ہے وہ صرف مقاصد عمل اور نتائج عمل ہیں۔ اب اگر کسی کے سارے مقاصد دنیا تک محدود تھے اور نتائج بھی اس کو دنیا ہی میں مطلوب تھے اور دنیا میں وہ اپنے نتائج عمل دیکھ بھی چکا ہے تو اس کا سب  کیا کرایا دنیائے فانی کے ساتھ ہی فنا ہو گیا۔ آخرت میں جو کچھ پیش کر کے وہ کوئی وزن پا سکتا ہے وہ تو لازماً کوئی ایسا ہی کارنامہ ہونا چاہیے جو اس نے خدا کی رضا کے لیے کیا ہو، اس کے احکام کی پابندی کرتے ہوئے کیا ہو اور ان نتائج کو مقصود بنا کر کیا ہو جو آخرت میں نکلنے والے ہیں۔ ایسا کوئی کارنامہ اگر اس کے حساب میں نہیں ہے تو وہ ساری دوڑ دھوپ بلاشبہ اکارت گئی جو اس نے دنیا میں کی تھی۔

سورہ انبیاء   موضوع مضمون

           کفار مکہ کا یہ تصور کہ زندگی بس ایک کھیل ہے جسے چند روز کھیل کر یونہی ختم ہو جانا ہے ، اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ہے ، کسی حساب کتاب اور جزا و سزا سے سابقہ نہیں پیش آنا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔یہ چیز چونکہ اس عجلت و بے اعتنائی کی اصل جڑ تھی جس کے ساتھ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا استقبال کر رہے تھے ، اس لیے بڑے ہی مؤثر انداز میں اس کا توڑ کیا گیا ہے

آخرت کو نہ ماننے کے نتائج

تفہیم القرآن جلد سوم

سورہ مؤمنون آیات 75تا77

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ۰۰۷۵وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا يَتَضَرَّعُوْنَ۰۰۷۶حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيْدٍ اِذَا هُمْ فِيْهِ مُبْلِسُوْنَؒ۰۰۷۷ سورہ مؤمنون آیات 75تا77

اگر ہم اِن پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں آج کل یہ مُبتلا ہیں ، دُور کردیں تو یہ اپنی سرکشی میں بالکل ہی بہک جائیں گے۔  اِن کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے اِنہیں تکلیف میں مبتلا کیا، پھر بھی یہ اپنے ربّ کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں۔ البتہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم اِن پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں  تو یکایک تم دیکھو گے کہ اس حالت میں یہ ہر خیر سے مایوس ہیں۔

یہ ہر خیر سے مایوس ہیں

سورة الموٴمنون حاشیہ نمبر۷۳

اصل میں لفظ  مُبْلِسُوْن استعمال ہوا ہے جس کا پورا مفہوم مایوسی سے ادا نہیں ہوتا۔ بَلَس اور  اِبْلَاس کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ حیرت کی وجہ سے دنگ ہو کر رہ جانا۔ خوف اور دہشت کے مارے دم بخود ہو جانا۔ رنج و غم کے مارے دل شکستہ ہو جانا۔ ہر طرف سے نا اُمید ہو کر ہمت توڑ بیٹھنا۔ اور اسی کا ایک پہلو مایوسی و نامرادی کی وجہ سے برافروختہ (Desperate ) ہوجانا بھی ہے جس کی بنا پر شیطان کا نام ابلیس رکھا گیا ہے۔ اس نام میں یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ یاس اور نامرادی (Frustration ) کی بنا پر اُس کا زخمی تکبّر اس قدر بر انگیختہ ہو گیا ہے کہ اب وہ جان سے ہاتھ دھو کر ہر بازی کھیل جانے اور ہر جرم کا ارتکاب کر گزرنے پر تُلا ہوا ہے۔

آخرت کو نہ ماننے کے نتائج، فہرست موضوعات تفہیم القران جلد سوم

صفحات 441،442

سورہ فرقان آیت 11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيْرًاۚ۰۰۱۱ سورہ فرقان آیت 11

اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ” اُس گھڑی“کو جھُٹلا چکے ہیں  ۔۔۔۔ اور جو اُس گھڑی کو جھُٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیّا کر رکھی ہے۔

اُس گھڑی

سورة الفرقان حاشیہ نمبر۲۰

اصل میں لفظ ’’ السّاعۃ ‘‘ استعمال ہوا ہے ۔ ساعت کے معنی گھڑی اور وقت کے ہیں اور ال اس پر عہد کا ہے ، یعنی وہ مخصوص گھڑی جو آنے والی ہے ، جس کے متعلق ہم پہلے تم کو خبر دے چکے ہیں ۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ یہ لفظ ایک اصطلاح کے طور پر اس وقت خاص کے لیے بولا گیا ہے جب کہ قیامت قائم ہو گی، تمام اولین و آخرین از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ، سب کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ حساب لے گا، اور ہر ایک کو اس کے عقیدہ و عمل کے لحاظ سے جزا یا سز ادے گا۔

جھُٹلا چکے ہیں

سورة الفرقان حاشیہ نمبر۲١

 یعنی جو باتیں یہ کر رہے ہیں ان کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کو واقعی کسی قابل لحاظ بنیاد پر قرآن کے جعلی کلام ہونے کا شبہ ہے ، یا ان کو در حقیقت یہ گمان ہے کہ جن آزاد کردہ غلاموں کے یہ نام لیتے ہیں وہی تم کو سکھاتے پڑھاتے ہیں ، یا انہیں تمہاری رسالت پر ایمان لانے سے بس اس چیز نے روک رکھا ہے کہ تم کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہو، یا وہ تمہاری تعلیم حق کو مان لینے کے لیے تیار تھے مگر صرف اس لیے رک گئے کہ نہ کوئی فرشتہ تمہاری اردلی میں تھا اور نہ تمہارے لیے کوئی خزانہ اتارا گیا تھا۔ اصل وجہ ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے بلکہ آخرت کا انکار ہے جس نے ان کو حق اور باطل کے معاملے میں بالکل غیر سنجیدہ بنا دیا ہے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ سرے سے کسی غور و فکر اور تحقیق و جستجو کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے ، اور تمہاری معقول دعوت کو رد کرنے کے لیے ایسی ایسی مضحکہ انگیز حجتیں پیش کرنے لگتے ہیں ۔ ان کے ذہن اس تخیل سے خالی ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی بھی ہے جس میں انہیں خدا کے سامنے جا کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس چار دن کی زندگی کے بعد مر کر سب کو مٹی ہو جانا ہے ۔ بت پرست بھی مٹی ہو جائے گا اور خدا پرست بھی اور منکر خدا بھی۔ نتیجہ کسی چیز کا بھی کچھ نہیں نکلنا ہے ۔ پھر کیا فرق پڑ جاتا ہے ، مشرک ہو کر مرنے اور موحد یا ملحد ہو کر مرنے میں ۔ صحیح اور غلط کے امتیاز کی اگر ان کے نزدیک کوئی ضرورت ہے تو اس دنیا کی کامیابی و ناکامی کے لحاظ سے ہے ۔ اور یہاں وہ دیکھتے ہیں کہ کسی عقیدے یا اخلاقی اصول کا بھی کوئی متعین نتیجہ نہیں ہے جو پوری یکسانی کے ساتھ ہر شخص اور ہر رویے کے معاملے میں نکلتا ہو۔ دہریے آتش پرست ، عیسائی، موسائی ، ستارہ پرست ، بت پرست، سب اچھے اور برے دونوں ہی طرح کے حالات سے دوچار ہوتے ہیں ۔ کوئی ایک عقیدہ نہیں جس کے متعلق تجربہ بتاتا ہو کہ اسے اختیار کرنے والا ، یا رد کر دینے والا اس دنیا میں لازماً خوش حال یا لازماً بد حال رہتا ہو۔ بد کار اور نیکو کار بھی یہاں ہمیشہ اپنے اعمال کا ایک ہی مقرر نتیجہ نہیں دیکھتے ۔ ایک بد کار مزے کر رہا ہے اور دوسرا سزا پا رہا ہے ۔ ایک نیکو کار مصیبت جھیل رہا ہے تو دوسرا معزز و محترم بنا ہوا ہے ۔ لہٰذا دنیوی نتائج کےعتبار سے کسی مخصوص اخلاقی رویے کے متعلق بھی منکرین آخرت اس بات پر مطمئن نہیں ہو سکتے کہ وہ خیر ہے یا شر ہے ۔ اس صورت حال میں جب کوئی شخص ان کو ایک عقیدے اور ایک اخلاقی ضابطے کی طرف دعوت دیتا ہے تو خواہ وہ کیسے ہی سنجیدہ اور معقول دلائل کے ساتھ اپنی دعوت پیش کرے ، ایک منکر آخرت کبھی سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرے گا بلکہ طفلانہ اعتراضات کر کے اسے ٹال دے گا۔

آخرت کو نہ ماننے کے نتائج، فہرست موضوعات تفہیم القران جلد سوم

صفحات 552، 553

سورہ نمل موضوع، مضمون

قرآن کی رہنمائی سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، اور اس کی بشارتوں کے مستحق بھی وہی صرف وہی لوگ ہیں جو ان حقیقتوں کو تسلیم کریں جنہیں یہ کتاب اس کائنات کی بنیادی حقیقتوں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے۔ اور پھر مان لینے کے  بعد اپنی عملی زندگی میں بھی اطاعت و اتباع کا رویہ اختیار کریں۔ لیکن اس راہ پر آنے اور چلنے میں جو چیز سب سے بڑھ کر مانع ہوتی ہے وہ انکار آخرت ہے۔کیونکہ یہ آدمی کو غیر ذمہ دار، بندہ نفس اور فریفتہ حیات دنیا بنادیتا ہے۔ جس کے بعد آدمی کا خدا کے آگے جھکنا اور اپنے نفس کی خواہشات پر اخلاقی پابندیاں برداشت کرنا ممکن نہیں رہتا۔ اس تمہید کے بعد تین قسم کی سیرتوں کے نمونے پیش کیے گئے ہیں۔

          ایک نمونہ فرعون اور سرداران قوم ثمود اور سرکشان قوم لوط کا ہے جن کی سیرت فکر آخرت سے بے نیازی اور نتیجتًہ نفس کی بندگی سے تعمیر ہوئی تھی ۔ یہ لوگ کسی نشانی کو دیکھ کر بھی ایمان لانے کو تیار نہ ہوئے ۔ یہ الٹے ان لوگوں کے دشمن ہو گئے جنہوں نے ان کو خیر و صلاح کی طرف بلایا۔ انہوں نے اپنی ان بدکاریوں پربھی پورا اصرار کیا جن کا گھناونا پن کسی صاحب عقل سے بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ انہیں عذاب الٰہی میں گرفتار ہونے سے ایک لمحہ پہلے تک بھی ہوش نہ آیا۔

          دوسرا نمونہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہے جن کو خدانے دولت، حکومت، اور شوکت و حشمت سے اس پیمانے پر نوازا تھا کہ کفار مکہ کے سردار اس کا خواب بھی نہ دیکھ سکتے تھے۔لیکن اس کے باوجود چونکہ وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے جوابدہ سمجھتے تھے، اور انہیں احساس تھا کہ انہیں جو کچھ بھی حاصل ہے خدا کی عطا سے حاصل ہے ، اس لئے ان کا سر ہر وقت منعم حقیقی کے آگے جھکا رہتا تھا اور کبر نفس کا کوئی شائبہ تک ان کی سیرت و کردار میں نہ پایا جاتا تھا۔

          تیسرا نمونہ ملکہ سبا کا ہے جو تاریخ عرب کی نہایت مشہور دولت مند قوم پر حکمران تھی۔ اس کے پاس وہ تمام اسباب جمع تھے جو کسی انسان کو غرورنفس میں مبتلا کر سکتے ہیں جن چیزوں کے بل پر کوئی انسان گھمنڈ کر سکتا ہے وہ سرداران قریش کی بہ نسبت لاکھوں درجہ زیادہ اسے حاصل تھیں۔ پھر وہ ایک مشرک قوم سے تعلق رکھتی تھی۔ تقلید آبائی کی بنا پر بھی، اور اپنی قوم میں اپنی سرداری برقرار کھنے کی خاطر بھی، اس کے لئے دین شرک کو چھوڑ کر دین توحید اختیار کرنا اس سے بہت زیادہ مشکل تھا جتنا کسی عام مشرک کے لئے ہو سکتا ہے لیکن جب اس پر حق واضح ہوگیا تو کوئی چیز اسے قبول حق سے نہ روک سکی ، کیونکہ اس کی گمراہی محض ایک مشرک ماحول میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے تھی۔ نفس کی بندگی اور خواہشات کی غلامی کا مرض اس پر مسلط نہ تھا۔ خدا کے حضور جواب دہی کے احساس سے اس کا ضمیر فارغ نہیں تھا۔

آخرت کو نہ ماننے کے نتائج، فہرست موضوعات تفہیم القران جلد سوم

صفحات 555، 556

سورہ نمل آیات 4، 5

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُوْنَؕ۰۰۴اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ۰۰۵ سورہ نمل آیات 4، 5

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لیے ہم نے اُن کے کرتُوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں5۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بُری سزا ہے6 اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں۔ سورہ نمل آیات 5، 5

اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں

سورة النمل حاشیہ نمبر۵

یعنی خدا کا قانونِ فطرت یہ ہے ، نفسیاتِ انسانی کی فطری منطق یہی ہے کہ جب آدمی زندگی اور اس کی سعی و عمل کے نتائج کو صرف اسی دنیا تک  محدود سمجھے گا، جب وہ کسی ایسی عدالت کا قائل نہ ہو گا جہاں انسان کے پورے کارنامہ حیات کی جانچ پڑتال کر کے اس کے حُسن وقبح کا آخری اور قطعی فیصلہ کیا جانے والا ہو، اور جب وہ موت کے بعد کسی ایسی زندگی کا قائل نہ ہوگا جس میں حیاتِ دنیا کے اعمال کی حقیقی قدر و قیمت کے مطابق ٹھیک ٹھیک جزا و سزا دی جانے والی ہو، تو لازماً اس کے اندر ایک مادہ پرستانہ نقطۂ نظر نشو نما پائے گا۔ اسے حق اور باطل، شرک اور توحید، نیکی اور بدی، اخلاق اور بد اخلاقی کی ساری بحثیں سراسر بے معنی نظر آئیں گی۔ جو کچھ اُسے اِس دنیا میں لذت و عیش اور مادی ترقی و خوشحالی اور قوتِ و اقتدار سے ہمکنار کرے وہی اس کے نزدیک بھلائی ہوگی قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی فلسفہ حیات اور کوئی طرزِ زندگی اور نظامِ اخلاق ہو۔ اس کو حقیقت اور صداقت سے دراصل کوئی غرض ہی نہ ہوگی۔ اس کی اصل مطلوب صرف حیات ِ دنیا کی زینتیں اور کامرانیاں ہوں گی جن کے حصول کی فکر اسے ہر وادی میں لیے بھٹکتی پھرے گی۔ اور اس مقصد کے  لیے جو کچھ بھی وہ کرے گا اسے اپنے نزدیک بڑی خوبی کی بات سمجھے گا اور اُلٹا اُن لوگوں کو بیوقوف سمجھے گا جوا ُس کی طرح دنیا طلبی میں منہمک نہیں ہیں اور اخلاق و بد اخلاقی سے بے نیاز ہو کر ہر کام کر گزرنے میں بے باک نہیں ہیں۔

 

          کسی کے اعمال بد کو اس کے لیے خوشنما بنا دینے کا یہ فعل قرآن مجیدمیں کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور کبھی شیطان کی طرف۔ جب اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس سے مراد، جیسا کہ اوپر بیان ہوا،  یہ ہوتی ہے کہ جو شخص یہ نقط نظر اختیار کرتا ہے، اسے فطرتاً زندگی کا یہی ہنجار خوش آئند محسوس ہوتا ہے۔   جب یہ فعل شیطان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس طرزِ فکر اور طرزِ عمل کو اختیار کرنے والے آدمی کے سامنے شیطان ہر وقت ایک خیالی جنت پیش کرتا رہتا ہے اور اسے خوب اطمینان دلاتا ہے کہ شاباش بر خوردار بہت اچھے جا رہے ہو۔

جن کے لیے بُری سزا ہے

سورة النمل حاشیہ نمبر٦

اس بُری سزا کی صورت، وقت اور جگہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ اس دنیا میں بھی مختلف افراد گروہوں اور قوموں کو بے شمار مختلف طریقوں سے ملتی ہے ، اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت عین موت کے دروازے پر بھی اس کا ایک حصہ ظالموں کو پہنچتا ہے ، موت کے بعد عالم برزخ  میں بھی اس سے آدمی دو چار ہوتا ہے،اور پھر روز حشر سے تو اس کا ایک سلسلہ شروع ہو جائے گا جو پھر کہیں جا کر ختم نہ ہوگا۔

آخرت کو نہ ماننے کے نتائج، فہرست موضوعات تفہیم القران جلد سوم

صفحات 598، 599، 600

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد سوم

صفحہ ،599،598،  600

سورہ نمل آیات 66تا69

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫ٞ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَؒ۰۰۶۶وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَىِٕنَّا لَمُخْرَجُوْنَ۰۰۶۷لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ۰۰۶۸قُلْ سِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ۰۰۶۹ سورہ نمل آیات 66تا 69

بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس  سے اندھے ہیں۔یہ منکرین کہتے ہیں”کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو چکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟ یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آبا و اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سُنتے چلے آرہے ہیں ۔“ کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے۔ سورہ نمل آیات 66تا69

بلکہ یہ اُس  سے اندھے ہیں

سورة النمل حاشیہ نمبر۸۵

الو ہیت کے بارے میں ان لوگوں کی بنیادی غلطیوں پر متنبہ کرنے کے بعد اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ جو ان شدید گمراہیوں میں پڑے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ غور فکر کرنے کے بعد یہ کسی دلیل وبر ہا ن سے اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ خدائی میں درحقیقت کچھ دوسری ہستیاں اللہ تعالیٰ کی شریک ہیں ۔ بلکہ اس کی اصلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کبھی سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر ہی نہیں کیا ہے۔ چونکہ یہ لوگ آخرت سے بے خبر ہیں۔ یا اس کی طرف سے  شک میں ہیں۔ یا اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس لیے فکرِ عقبٰی سے بے نیازی نے ان کے اندر سراسر ایک غیر ذمہ دارانہ رویّہ پیدا کر دیا ہے۔ یہ کائنات اور خود اپنی زندگی کے حقیقی مسائل کے بارے میں سرے سے کوئی سنجیدگی رکھتے ہی نہیں۔ ان کو اس کی پروا ہی نہیں ہے کہ حقیقت کیا ہے اور ان کا فلسفہ حیات اُس حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں۔ کیونکہ ان کے نزدیک آخر کار مشرک اور دہریے اور موحد اور مُشکک سب کو مر کر مٹی ہو جانا ہے  اور کسی چیز کا بھی کوئی نتیجہ نکلنا نہیں ہے۔

 

          آخرت کا یہ مضمون اس سے پہلے کی آیت کے اِس فقرے سے نکلا ہے کہ ”وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے“۔اُس فقرے میں تو یہ بتایا گیا تھا کہ جن کو معبود بنایا جاتا ہے۔۔۔۔اور ان میں فرشتے ، جِن ، انبیاء، اور اولیاء سب شامل تھے۔۔۔۔ ان میں سے کوئی بھی آخرت کے وقت سے واقف نہیں ہے کہ وہ کب آئے گی۔ اس کے بعد اب عام مشرکین و کفار کے بارے میں تین باتیں ار شاد ہوئی ہیں۔ اوّل یہ کہ وہ سرے سے یہی نہیں جانتے کہ آخرت کبھی ہو گی بھی یا نہیں ۔ دوسرے یہ کہ ان کی یہ بے خبری اس بنا پر  نہیں ہے  کہ انہیں اس کی اطلاع ہی کبھی نہ دی گئی ہو،بلکہ اس بنا پر ہے کہ جو خبر انہیں دی گئی اس پر انہوں نے یقین نہیں کیا بلکہ اس کی صحت میں شک کرنے لگے ۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے کبھی غور و خوض کر کے اُن دلائل کو جانچنے کی زحمت ہی نہیں اٹھائی جو آخرت کے وقوع کے بارے میں پیش کیے گئے ، بلکہ اس کی طرف سے اندھے بن کر رہنے ہی کو انہوں نے ترجیح دی۔

دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے

سورة النمل حاشیہ نمبر۸٦

اس مختصر سے فقرے میں آخرت کی دو زبر دست دلیلیں بھی ہیں اور نصیحت بھی۔

          پہلی دلیل یہ ہے کہ دنیا کی جن قوموں نے بھی آخرت  کو نظر انداز کیا ہے وہ مجرم بنے بغیر نہیں رہ سکی ہیں ۔ وہ  غیر ذمہ دار بن کرر ہیں۔ انہوں نے ظلم و ستم ڈھائے۔ وہ فسق و فجور میں غرق ہو گئیں۔ اور اخلاق کی تباہی نے آخر کار ان کو برباد کر کے چھوڑا۔ یہ تاریخ انسانی کا مسلسل تجربہ، جس پر زمین میں ہر طرف تباہ شدہ قوموں  کے آثار شہادت دے رہے ہیں، صاف ظاہر کرتا ہے کہ آخرت کے ماننے اور نہ ماننے کا نہایت گہرا تعلق انسانی رویے کی صحت اور عدم صحت سے ہے۔ اس کو مانا جائے تو رویہ درست رہتا ہے ، نہ مانا جائے تو رویہ غلط ہو جاتا ہے ۔ یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اس کانہ ماننا صریح حقیقت کے خلاف ہے ، اسی وجہ سے یہ گاڑی پٹڑی سے اتر جاتی ہے۔

           دوسری دلیل یہ ہے کہ تاریخ کے اس طویل تجربے میں مجرم بن جانے والی قوموں کا مسلسل تباہ ہونا اس حقیقت پر صاف دلالت کر رہا ہے کہ یہ کائنات بے شعور طاقتوں کی اندھی بہری فرمانروائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیمانہ نظام ہے جس کے اندر ایک اٹل قانون مکافات کام کر رہا ہے ۔ جس کی حکومت انسانی قوموں کے ساتھ سراسر اخلاقی بنیادوں پر معاملہ کر رہی ہے ۔ جس میں کسی قوم  کو بد کر داریوں کی کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی کہ ایک دفعہ عروج پاجانے کے بعد وہ ابد الآ باد تک دادِ عیش دیتی رہے  اور ظلم و ستم کے ڈنکے بجائے چلی جائے۔ بلکہ ایک خاص حد کو پہنچ کر ایک زبر دست ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور اس کو بامِ عروج سے گرا کر قعِر مذلت میں پھینک دیتا ہے ۔اس حقیقت کو جو شخص سمجھ لے وہ کبھی اس امر میں شک نہی کر سکتا کہ یہی قانونِ مکافات اس دنیوی زندگی کے بعد ایک دوسرے عالم کا تقاضا کرتا ہے جہاں افراد کا اور قوموں کا اور بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی کا انصاف چُکا یا جائے۔ کیونکہ محض ایک ظالم قوم کے تباہ ہوجانے سے تو انصاف کے سارے تقاضے پورے نہیں ہو ں گے ۔ اس سے اُن مظلوموں کی تو کوئی داد رسی نہیں ہوئی جن کی لاشوں  پر انہوں نے اپنی عظمت کا قصر بنا یا تھا۔ اس سے ان ظالموں  کوتو کوئی سزا نہیں ملی جو تباہی کے آنے سے پہلے مزے اڑا کر جا چکے تھے۔ اس سے ان بدکاروں پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہو ا جو پشت درپشت اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے گمراہیوں اور بد اخلاقیوں کی میراث چھوڑتے چلے گئے تھے۔ دنیا میں عذاب بھیج کر تو صرف اُن کی آخری نسل کے مزید ظلم کا سلسلہ توڑ دیا گیا ۔ ابھی عدالت کا اصل کام تو ہوا ہی  نہیں کہ ہر ظالم کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے اور ہر مظلوم کے نقصان کی تلافی کی جائے، اور اُن سب لوگوں کو انعام دیا جائے جو بدی کے اِس طوفان میں راستی پر قائم اور اصلاح کے لیے کوشاں رہے اور عمر بھر اِس راہ میں اذیتیں سہتے رہے۔ یہ سب لازماً کسی وقت ہونا چاہیے، کیونکہ  دنیا میں قانونِ مکافات کی مسلسل کار فرمائی کائنات کی فرمانروا حکومت  کا یہ مزاج اور طریقہ کار صاف بتا رہی ہے کہ وہ انسانی اعمال کو ان کی اخلاقی قدر کے لحاظ سے تولتی اور ان کی جزا و سزا دیتی ہے۔

          ان دودلیلوں کے ساتھ اس آیت میں نصیحت کا پہلو یہ ہے کہ پچھلے مجرموں کا انجام دیکھ کر اس سے سبق لو اور انکار آخرت کے اُسی احمقانہ عقیدے پر اصرار نہ کیے چلے جاؤ جس نے اُنہیں مجرم بنا کر چھوڑا تھا۔

آخرت کو نہ ماننے کے نتائج، فہرست موضوعات تفہیم القران جلد سوم

سورہ روم آیات 7،8،9

يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ۰۰۷اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ١۫ مَا خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَاۤ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكٰفِرُوْنَ۰۰۸اَوَ لَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَّ اَثَارُوا الْاَرْضَ وَ عَمَرُوْهَاۤ اَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوْهَا وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ١ؕ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَؕ۰۰۹ سورہ روم آیات  7، 8، 9

لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر  نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر بہت سے لوگ اپنے  رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔ اور کیا یہ لو گ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے ، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا ہے۔ ان کےپاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔ پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے

آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں

سورة الروم حاشیہ نمبر۴

یعنی اگرچہ آخرت پر دلالت کرنے والے آثار و شواہد کثرت سے موجود ہیں اور اس سے غفلت کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ، لیکن یہ لوگ اس سے خود ہی غفلت برت رہے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ، یہ ان کی اپنی کوتاہی ہے کہ دنیوی زندگی کے اس ظاہری پردے پر نگاہ جما کر بیٹھ  گئے ہیں اور اس کے پیچھے جو کچھ آنے والا ہے اس سے بالکل بے خبر ہیں، ورنہ خدا کی طرف سے ان کو خبردار کر نے  میں کوئی کوتاہی نہیں ہوئی ہے۔

اپنے آپ میں غور و فکر  نہیں کیا؟

سورة الروم حاشیہ نمبر۵

یہ آخرت پر بجائے خود ایک مستقل استدلال ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر یہ لوگ باہر کسی طرف نگاہ دَوڑانے سے پہلے خود اپنے وجود پر غور کرتے تو انہیں اپنے اندر ہی وہ دلائل مل جاتے جو موجودہ زندگی کے بعد دوسری زندگی کی ضرورت ثابت کرتے ہیں۔ انسان کی تین امتیازی خصوصیات ایسی ہیں جو اس کو زمین کی دوسری موجودات سے ممیز کرتی ہیں:

ایک یہ کہ زمین اور اس کے ماحول کی بے شمار چیزیں اس کے لیے مسخر کر دی گئی ہیں اور ان پر تصرف کے وسیع اختیارات اس کو بخش دیے گئے ہیں۔

دوسرے یہ کہ اِسے اپنی راہِ  زندگی کے انتخاب میں آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایمان اور کفر، طاعت اور معصیت، نیکی اور بدی کی راہوں میں سے جس راہ پر بھی جانا چاہے جا سکتا ہے۔ حق اور باطل ، صحیح اور غلط ، جس طریقے  کو بھی اختیار کرنا چاہے کر سکتا ہے۔ ہر راستے پر چلنے کے لیے اسے توفیق دے دی جاتی ہے اور اس پر چلنے میں وہ خدا کے فراہم کردہ   ذرائع استعمال کرسکتا ہے ، خواہ وہ خدا کی اطاعت کا راستہ ہو یا اس کی نافرمانی کا راستہ۔

تیسرے یہ کہ اس میں پیدائشی طور پر اخلاق کی حِس رکھ دی گئی ہے جس کی بنا پر وہ اختیاری اعمال اور غیر اختیاری اعمال میں فرق کرتا ہے ، اختیاری اعمال پر نیکی اور بدی کا حکم لگاتا ہے ، اور بداہتًہ یہ رائے قائم کر تا ہے کہ اچھا عمل جزا کا اور بُرا عمل سزا کا مستحق ہونا چاہیے۔

 

یہ تینوں خصوصیتیں جو انسا ن کے اپنے وجود میں پائی جاتی ہیں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ کوئی وقت ایسا ہونا چاہیے جب انسان سے محاسبہ کیا جائے۔ جب اس سے پوچھا جائے کہ جو کچھ دنیا میں  اس کو دیا گیا تھا اس پر تصرف کے اختیارات کو اس نے کس طرح استعمال کیا؟ جب یہ دیکھا جائے کہ اس نے اپنی آزادئ انتخاب کو استعمال کر کے صحیح راستہ اختیار کیا یا غلط؟ جب اس کے اختیاری اعمال کی جانچ کی جائے اور نیک عمل پر جزا اور بُرے عمل پر سزا دی جائے  ۔ یہ وقت لامحالہ انسان کا کارنامۂ زندگی ختم اور اس کا دفترِ عمل بند ہونے کے بعد ہی آسکتا ہے نہ کہ اس سے پہلے۔ اور یہ وقت لازماً اسی وقت آنا چاہیے جب کہ ایک فرد یا ایک قوم کا نہیں بلکہ تمام انسانوں کا دفتر ِ عمل بند ہو۔ کیونکہ ایک فرد  یا ایک قوم کے مر جانے پر اُن اثرات کا سلسلہ ختم  نہیں ہو جاتا جو اس نے اپنے اعمال کی بدولت دنیا میں چھوڑ ے ہیں۔ اُس کے چھوڑے ہوئے اچھے بُرے اثرات بھی تو اس کے حساب میں شمار  ہونے چاہییں۔ یہ اثرات جب تک مکمل طورپر ظاہر نہ ہو لیں انصاف کے مطابق   پورا محاسبہ کرنا اور پوری جزا  یا  سزا دینا کیسے ممکن ہے؟ اس طرح انسان کا اپنا وجود اس بات کی شہادت دیتا ہے، اور زمین میں انسان کو جو حیثیت حاصل ہے وہ آپ سے آپ اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ دنیا کی موجودہ زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ایسی ہو جس میں عدالت قائم ہو، انصاف کے ساتھ انسان کے کارنامۂ زندگی کا محاسبہ کیا جائے، اور ہر شخص کو اس کے کام کے لحاظ سے جزا دی جائے۔

مقرر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے

سورة الروم حاشیہ نمبر٦

اس فقرے میں آخرت کی  دو مزید دلیلیں دی گئی ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر انسان اپنے وجود سے باہر کے نظامِ کائنات کو بنظرِ غور دیکھے تو اسے دو حقیقتیں نمایاں نظر آئیں گی:

ایک یہ کہ یہ کائنات برحق بنائی گئی ہے۔ یہ کسی بچے کا کھیل نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے اس نے ایک بے ڈھنگا سا گھروندا بنا لیا ہو جس کی تعمیر اور تخریب دونوں ہی بے معنی ہوں۔ بلکہ یہ ایک سنجیدہ نظام ہے ، جس کا ایک ایک ذرّہ اس بات پر گواہی دے رہا ہے کہ اسے کمال درجہ حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے، جس کی ہر چیز میں ایک قانون کار فرما ہے، جس کی ہر شے با مقصد ہے۔ انسان کا سارا تمدّن اور اس کی پوری معیشت اور اس کے تمام  علوم و فنون خود اس بات  پر گواہ ہیں۔ دنیا کی ہر چیز کے پیچھے کام کرنے والے قوانین کو دریافت کر کے اور ہر شے جس مقصد کے لیے بنائی گئی ہے اسے تلاش کر کے ہی انسان یہاں یہ سب کچھ تعمیر کر سکا ہے۔ ورنہ ایک بے ضابطہ اور بے مقصد کھلونے میں اگر ایک پُتلے کی حیثیت سے اس کو رکھ دیا گیا ہو تا تو کسی سائنس اور کسی تہذیب و تمدّن کا تصوّر تک نہ کیا جا سکتا تھا۔ اب آخر یہ بات تمہاری عقل میں کیسے سماتی ہے کہ جس حکیم نے اِس حکمت اور مقصدیت کے ساتھ یہ دنیا بنائی ہے اور اس کے اندر تم جیسی ایک مخلوق کو اعلیٰ درجہ کی ذہنی و جسمانی طاقتیں دے کر، اختیارات دے کر، آزادیٔ انتخاب دے کر، اخلاق کی حِس دے کر اپنی دنیا کا بے شمار سروسامان تمہارے حوالے کیا ہے، اس نے تمہیں بے مقصد ہی پیدا کر دیا ہوگا؟ تم دنیا میں تعمیر و تخریب، اور نیکی و بدی، اور ظلم و عدل، اور راستی و ناراستی کے سارے ہنگامے برپا کر نے کے بعد بس یونہی مر کر مٹی میں مل جاؤ گے اور تمہارے کسی اچھے اور بُرے کام کا کوئی نتیجہ نہ ہوگا؟ تم اپنے ایک ایک عمل سے اپنی اور اپنے جیسے ہزاروں انسانوں کی زندگی پر اور دنیا کی بے شمار اشیاء پر بہت سے مفید یا مضر اثرات ڈال کر چلے جاؤ گے اور تمہارے مرتے ہی یہ سارا دفترِ عمل بس یونہی لپیٹ کر دریا بُرد کر دیا جائے گا؟

 

دوسری حقیقت  جو اس کائنات کے نظام  کا مطالعہ کرنےسے صاف نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ  یہاں کسی چیز کے لیے بھی ہمیشگی نہیں ہے۔ ہر چیز کے لیے عمر مقرر ہے جسے پہنچنے کے بعد وہ ختم ہو جاتی ہے۔ اور یہی معاملہ بحیثیت مجموعی پوری کائنات کا بھی ہے۔ یہاں جتنی طاقتیں کام کر رہی ہیں وہ سب محدود ہیں۔ ایک وقت تک ہی وہ کام کر رہی ہیں ، اور کسی وقت پر انہیں لامحالہ خرچ ہوجانا اور اس نظام کو ختم ہو جانا ہے۔ قدیم زمانے میں تو علم کی کمی کے باعث اُن فلسفیوں اور سائنسدانوں کی بات کچھ چل بھی جاتی تھی جو دنیا کو ازلی و ابدی قرار دیتے تھے۔ مگر موجودہ سائنس نے عالَم کے حدوث و قِدَم کی اُس بحث میں ، جو ایک مدّتِ دراز سے دہریوں اور خداپرستوں کے درمیان چلی آرہی تھی، قریب قریب حتمی طور پر اپنا ووٹ خداپرستوں کے حق میں ڈال دیا ہے۔ اب دہریوں کے لیے عقل اور حکمت کا نام لے کر یہ دعویٰ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے کہ دنیا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی اور قیامت کبھی نہ آئے گی۔ پرانی مادّہ پرستی کا سارا انحصار اس تخیل پر تھا کہ مادہ فنا نہیں ہو سکتا، صرف صورت بدلی جا سکتی ہے، مگر ہر تغیّر کے بعد مادّہ مادّہ ہی رہتاہے اور اس کی مقدار میں کوئی کمی و بیشی نہیں ہوتی۔ اس بنا پر یہ نتیجہ نکالا جاتا  تھا کہ اس عالَمِ مادّی کی نہ کوئی ابتدا ہے نہ انتہا۔ لیکن اب جوہری توانائی (Atomic Energy ) کے انکشافات نے اس پورے تخیل کی بساط اُلٹ کر رکھ دی ہے۔ اب یہ بات کھل گئی ہے کہ قوّت مادّے  میں تبدیل ہوتی ہے اور مادّہ پھر قوت میں تبدیل ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نہ صورت باقی رہتی ہے نہ ہیولیٰ۔ اب حَرکیاتِ حرارت کے دوسرے قانون (Second Law of Thermo-Dynamics ) نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ عالَم مادّی نہ ازلی  ہو سکتا ہے نہ ابدی۔ اس کو لازمًا ایک وقت شروع اور ایک وقت ختم ہونا ہی چاہیے۔ اس لیے سائنس  کی بنیاد پر اب قیامت کا انکار ممکن نہیں رہا ہے۔ اور ظاہر  بات ہے کہ جب سائنس ہتھیار ڈال دے تو فلسفہ کِن ٹانگوں پر اُٹھ کر قیامت کا انکار کرے گا؟

ملاقات کے منکر ہیں

سورة الروم حاشیہ نمبر۷

یعنی اس بات کے منکر کہ انہیں مرنے کے بعد اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔

جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟

سورة الروم حاشیہ نمبر۸

یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار دنیا میں دوچار آدمیوں ہی نے تو نہیں کیا ہے۔ انسانی تاریخ کے دوران کثیر التعداد انسان اس مرض میں مبتلا ہوتے رہے ہیں۔ بلکہ پوری پوری قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے یا تو اس کا انکار کیا ہے ، یا اس سے غافل ہو کر رہی ہیں، یا حیات بعد الموت کے متعلق ایسے غلط عقیدے ایجاد کر لیے ہیں جن سے آخرت کا عقیدہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر تاریخ کا مسلسل تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انکارِ آخرت جس صور ت میں بھی کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اخلاق بگڑے ، وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ  لر شتر  بے مہار بن گئے، انہوں ظلم و فساد اور فسق و فجور کی حد کر دی، اور اسی چیز کی بدولت قوموں پر قومیں تباہ ہوتی چلی گئیں۔ کیا ہزاروں سال کی تاریخ کا یہ تجربہ، جو پے در پے  انسانی نسلوں کو پیش آتا  رہا ہے، یہ ثابت نہیں کرتا کہ آخرت ایک حقیقت ہے جس کا انکار انسان کے لیے تباہ کن ہے؟ انسان کششِ ثقل کا اسی لیے تو قائل ہے کہ تجربے اور مشاہدے سے اس نے مادّی اشیاء کو ہمیشہ زمین کی طرف گرتے دیکھا ہے۔ انسان نے زہر کو زہر اسی لیے تو  مانا ہے کہ جس نے بھی  زہر کھایا وہ ہلاک ہوا۔ اسی طرح جب آخرت کا انکار ہمیشہ انسان کے لیے اخلاقی بگاڑ کاموجب ثابت ہوا ہے تو کیا یہ تجربہ یہ سبق دینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ آخرت ایک حقیقت ہے اور اس کو نظر انداز کر کے دنیا میں زندگی بسر کرنا غلط ہے؟

 زمین کو خوب ادھیڑا تھا

سورة الروم حاشیہ نمبر۹

اصل میں لفظ اَثَارُو ا الْاَرْضَ استعمال ہو ا ہے ۔ اس کا اطلاق زراعت کے لیے ہل چلانے پر بھی ہو سکتا ہے اور زمین کھود کر زیرِ زمین پانی، نہریں، کاریزیں اور معدنیات وغیرہ نکالنے پر بھی۔

انہوں نے نہیں کیا ہے

 

سورة الروم حاشیہ نمبر١۰

اس میں اُن لوگوں کے استدلال کا جواب موجود ہے جو محض مادی ترقی کو کسی قوم کے صالح ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے زمین کے ذرائع کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال (Exploit ) کیا ہے، جنہوں نے دنیا میں عظیم الشان تعمیری کام کیے ہیں اور ایک شاندار تمدّن کو جنم دیا ہے ، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ ان کو جہنم کا ایندھن بنا دے۔ قرآن اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ یہ ”تعمیری کام“ پہلے بھی بہت سی قوموں نے بڑے پیمانے پر کیے ہیں، پھر کیا تمہاری آنکھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ قومیں اپنی تہذیب اور اپنے تمدّن سمیت پیوند ِ خاک ہو گئیں اور ان کی  ”تعمیر“ کا قصرِ  فلک بوس  زمین پر آرہا؟ جس خدا کے قانون نے یہاں عقیدہ ٔ حق اور اخلاقِ صالحہ کے بغیر محض مادّی تعمیر کی یہ قدر کی ہے ، آخر کیا وجہ ہے کہ اسی خدا کا قانون دوسرے جہان میں انہیں واصل جہنم نہ کرے؟

نشانیاں لے کر آئے

سورة الروم حاشیہ نمبر١١

یعنی ایسی نشانیاں لے کر آئے  جو ان کے نبی صادق ہونے کا یقین دلانے کے لیے کافی تھیں۔ اس سیاق و سباق میں انبیاء کی آمد کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف انسان کے اپنے وجود میں ، اور اس سے باہر ساری  کائنات کے نظام میں، اور انسانی تاریخ کے مسلسل تجربے میں آخرت کی شہادتیں موجود تھیں، اور دوسری  طرف پے درپے ایسے انبیاء بھی آئے جن کے ساتھ ان کی نبوت کے برحق ہونے کی کھلی کھلی علامتیں پائی جاتی ہیں اور انہوں نے انسانوں کو خبردار کیا کہ فی الواقع آخرت آنے والی ہے۔

وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے

سورة الروم حاشیہ نمبر١۲

یعنی اس کے بعد جو تباہی ان قوموں پر آئی وہ ان پر خدا کا ظلم نہ تھا بلکہ وہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوں نے اپنے اوپر کیا۔ جو شخص یا گروہ نہ خود سوچے اور نہ کسی سمجھانے والے کے سمجھانے سے صحیح رویہ اختیار کرے اس پر اگر تباہی آتی ہے تو وہ آپ ہی اپنے برے انجام کا ذمہ دار ہے۔ خدا پر اس کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔ خدا نے تو اپنی کتابوں اور اپنے انبیاء کے ذریعہ سے انسان کو حقیقت کا علم دینے کا انتظام  بھی کیا ہے ، اور وہ علمی و عقلی وسائل بھی عطا کیے ہیں جن سے کام لے کر وہ ہر وقت انبیاء اور کتب آسمانی کے دیے ہوئے علم کی صحت جانچ سکتا ہے۔ اِس رہنمائی اور ان ذرائع سے اگر خدا نے انسان کو محروم رکھا ہوتا  اور اس  حالت میں انسان کو غلط روی کے نتائج سے دوچار ہونا پڑتا تب بلاشبہہ خدا پر ظلم کے الزام کی گنجائش نکل سکتی تھی۔

 

 

Comments