آخرت میں ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے خدا کے حضور میں پیش ہوگا
آخرت میں ہر شخص اپنی
انفرادی حیثیت میں اپنے خدا کے حضور میں پیش ہوگا
تفہیم القرآن جلد سوم ، صفحہ 29،
79تا87
صفحہ 29، سورہ کہف
آیت 48
وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا
كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١ٞ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ
مَّوْعِدًا۰۰۴۸ سورہ کہف آیت 48
اور سب کے سب تمہارے ربّ کے حضُور صف در صف پیش کیے جائیں
گے۔۔۔۔ لو دیکھ لو، آگئے نا تم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا
کیا تھا۔ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے
تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے۔ سورہ کہف آیت 48
لو دیکھ لو، آگئے نا تم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم
کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔
سورة الکھف حاشیہ نمبر۴۵
یعنی اس وقت منکرین
آخرت سے کہا جائے گا کہ دیکھو، انبیاء کی دی ہوئی خبر سچی ثابت ہوئی نا۔ وہ تمہیں
بتاتے تھے کہ جس طرح اللہ نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے اسی طرح دو بارہ پیدا کرے
گا ، مگر تم اسے ماننے سے انکار کرتے تھے۔ بتاؤ، اب دوبارہ تم پیدا ہو گئے یا نہیں
؟
سورہ مریم آیت 80 تا 95
وَّ نَرِثُهٗ مَا يَقُوْلُ وَ يَاْتِيْنَا فَرْدًا۰۰۸۰وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّيَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ۰۰۸۱كَلَّا١ؕ سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ يَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّاؒ۰۰۸۲ اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّيٰطِيْنَ عَلَى
الْكٰفِرِيْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ۰۰۸۳فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْهِمْ١ؕ اِنَّمَا
نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ۰۰۸۴يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ
وَفْدًاۙ۰۰۸۵وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ۰۰۸۶لَا
يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ
عَهْدًاۘ۰۰۸۷وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ۰۰۸۸لَقَدْ جِئْتُمْ
شَيْـًٔا اِدًّاۙ۰۰۸۹تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ
الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ۰۰۹۰اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ
وَلَدًاۚ۰۰۹۱وَ مَا يَنْۢبَغِيْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ۰۰۹۲اِنْ
كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحْمٰنِ
عَبْدًاؕ۰۰۹۳لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ۰۰۹۴وَ كُلُّهُمْ اٰتِيْهِ
يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَرْدًا۰۰۹۵سورہ مریم آیات 80تا95
پھر تُو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے
انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں
گا؟ کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس
نے رحمٰن سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟۔۔۔۔ ہر گز نہیں، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ
لیں گے اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ
اضافہ کریں گے۔ جس سروسامان اور لاوٴ لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ
جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا۔
اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں
تاکہ وہ اِن کے پُشتیبان ہوں۔ کوئی پُشتیبان نہ ہوگا۔ وہ سب ان کی عبادت کا انکار
کریں گے اور اُلٹے اِن کے مخالف بن
جائیں گے۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم
نے اِن منکرینِ حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو اِنہیں خُوب خُوب (مخالفتِ حق
پر)اُکسا رہے ہیں؟ اچھا، تو اب اِن نُزوُلِ عذاب کے لیے بےتاب نہ ہو۔ ہم اِن کے دن
گِن رہے ہیں۔ وہ دن آنے والا ہے جب متقی
لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمٰن کے حضور پیش کریں گے ،اور مجرموں کو پیاسے
جانوروں کی طرح جہنّم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔ اُس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادر
نہ ہوں گے بجز اُس کے جس نے رحمٰن کے حضور سے پروانہ حاصل کر لیا ہو۔
وہ کہتے ہیں کہ رحمٰن نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔۔۔۔ سخت بے
ہُودہ بات ہے جو تم لوگ گھڑ لائے ہو۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے
اور پہاڑ گر جائیں، اس بات پر کہ لوگوں نے رحمٰن کےلیے اولاد ہونے کا دعوٰی کیا!رحمٰن
کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ زمین اور آسمانوں کے اندر جو بھی ہیں
سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں۔ سب پر وہ محیط ہے اور اس نے
اُن کو شمار کر رکھا ہے۔ سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔
سورہ مریم آیات 77تا95
میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گا
سورة مریم حاشیہ نمبر۴۷
یعنی وہ کہتا ہے کہ تم مجھے خواہ کتنا ہی گمراہ و بدکار
کہتے رہو اور عذابِ الہٰی کے ڈراوے دیا
کرو ، میں تو آج بھی تم سے زیادہ خوشحال ہوں اور آئندہ بھی مجھ پر نعمتوں کی بارش
ہوتی رہے گی۔ میری دولت دیکھو، میری وجاہت اور ریاست دیکھو، میرے نا مور بیٹوں کو دیکھو، میری زندگی میں
آخر تمہیں کہاں یہ آثار نظر آتے ہیں کہ میں خدا کا مغضوب ہوں؟ ۔۔۔۔۔۔ یہ مکّے میں
کسی ایک شخص کے خیالات نہ تھے ، بلکہ کفارِ مکّہ کا ہرشیخ اور سردار اسی خبط میں
مبتلا تھا۔
ہر گز نہیں، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے
سورة مریم حاشیہ نمبر۴۸
یعنی اس کے جرائم کے ریکارڈ میں اس کا یہ کلمہ ٔ غرور بھی
شامل کر لیا جائے گا اور اس کا مزا بھی
اسے چکھنا پڑے گا۔
اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں
تاکہ وہ اِن کے پُشتیبان ہوں
سورة مریم حاشیہ نمبر۴۹
اصل میں لفظ عِزًّا استعمال ہوا ہے، یعنی وہ ان کے لیے سببِ عزّت ہوں۔ مگر عزّت سے مراد عربی زبان میں کسی شخص کا ایسا طاقت ور اور زبردست ہونا ہے
کہا س پر کوئی ہاتھ نہ ڈال سکے اور ایک
شخص کا دوسرے شخص کے لیے سببِ عزت بننا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اس کی حمایت پر ہو
جس کی وجہ سے اس کا کوئی مخالف اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر نہ دیکھ سکے۔
وہ سب ان کی عبادت کا انکار کریں گے
سورة مریم حاشیہ نمبر۵۰
یعنی وہ کہیں گے کہ نہ ہم نے کبھی اِن سے کہا تھا کہ ہماری
عبادت کرو ، اور نہ ہمیں یہ خبر تھی کہ یہ احمق لوگ ہماری عبادت کر رہے ہیں۔
ہم اِن کے دن گِن رہے ہیں
سورة مریم حاشیہ نمبر۵١
مطلب یہ ہے کہ اِن کی زیادتیوں پر تم بے صبر نہ ہو۔ اِن کی
شامت قریب آلگی ہے ۔ پیمانہ بھرا چاہتا ہے ۔ اللہ کی دی ہوئی مہلت کے کچھ دن باقی
ہیں ، اُنہیں پورا ہو لینے دو۔
جس نے رحمٰن کے حضور سے پروانہ حاصل کر لیا ہو
سورة مریم حاشیہ نمبر۵۲
یعنی سفارش اسی کے حق میں ہو گی جس نے پروانہ حاصل کیا ہو،
اور وہی سفارش کر سکے گا جسے پروانہ ملا ہو۔ آیت کے الفاظ ایسے ہیں جو دونو ں پہلو
ؤں پر یکساں روشنی ڈالتے ہیں۔
یہ
بات کہ سفارش صرف اسی کے حق میں ہو سکے گی جس نے رحمان سے پروانہ حاصل کر لیا ہو،
اس کا مطلب یہ ہےکہ جس نے دنیا میں ایمان لا کر اور خدا سے کچھ تعلق جوڑ کر اپنے
آپ کو خدا کے عفو و درگزر کا مستحق بنا لیا ہو۔ اور یہ بات کہ سفارش وہی کر سکے گا
جس کو پروانہ ملا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے جن جن کو اپنا شفیع اور سفارشی
سمجھ لیا ہے وہ سفارشیں کرنے کے مجاز نہ ہوں گے بلکہ خدا خود جس کو اجازت دے گا وہی
شفاعت کے لیے زبان کھول سکے گا۔
Comments
Post a Comment