موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت سے جہنم میں داخل کئے جانے تک مجرمین کے احوال تفہیم القرآن جلد سوم
موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے وقت سے جہنم میں داخل کئے جانے تک مجرمین کے احوال
تفہیم القرآن جلد سوم صفحہ 135 تا137
سورہ طہ آیات
124تا127
وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً
ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى ۰۰۱۲۴قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِيْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِيْرًا۰۰۱۲۵قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْيَوْمَ
تُنْسٰى۰۰۱۲۶وَ كَذٰلِكَ نَجْزِيْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ يُؤْمِنْۢ
بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى ۰۰۱۲۷ سورہ طہ آیات
124تا127
اور جو میرے”ذکر“(درسِ نصیحت)سے منہ موڑے گا اُس
کے لیے دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی اور قیامت
کے روز ہم اسے اندھا اُٹھائیں گے۔“ ۔۔۔۔
وہ کہے گا” پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں
اُٹھایا؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا”ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو ، جبکہ وہ تیرے
پاس آئی تھیں ، تُو نے بُھلا دیا تھا۔ اُسی طرح آج تُو بھلایا جا رہا ہے۔ “۔۔۔۔
اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے ربّ کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں)بدلہ
دیتے ہیں ، اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت
اور زیادہ دیرپا ہے۔
دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی
سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر١۰۵
دنیا میں تنگ زندگی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے تنگ دستی
لاحق ہو گی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اسے چین نصیب نہ ہوگا۔ کروڑ پتی بھی
ہوگا تو بے چین رہے گا۔ ہفت اقلیم کا فرمانروا بھی ہو گا تو بے کلی اور بے اطمینانی
سے نجات نہ پائے گا۔ اس کی دنیوی کامیابیاں ہزاروں قسم کی ناجائز تدبیروں کا نتیجہ
ہوں گی جن کی وجہ سے اپنے ضمیر سے لے کر گردوپیش کے پورے اجتماعی ماحول تک ہر چیز
کے ساتھ اس کی پیہم کشمکش جاری رہے گی جو
اسے کبھی امن و اطمینان اور سچی مسرّت سے بہرہ مند نہ ہونے دے گی۔
قیامت کے روز ہم اسے اندھا اُٹھائیں گے
”اس جگہ آدم علیہ
السّلام کا قصہ ختم ہو جاتا ہے۔ یہ قصہ جس طریقے سے یہاں ، اور قرآن کے دوسرے
مقامات پر بیان ہوا ہے اس پر غور کرنے سے میں یہ سمجھا ہوں کہ (واللہ اعلم
بالصواب) کہ زمین کی اصل خلافت وہی تھی جو آدم علیہ السّلام کو ابتداءً جنت میں دی
گئی تھی۔ وہ جنت ممکن ہے کہ آسمانوں میں ہو اور ممکن ہے کہ اِسی زمین پر بنائی گئی ہو۔ بہر حال وہاں اللہ تعالیٰ کا
خلیفہ اس شان سے رکھا گیا تھا کہ اس کےکھانے پینے اور لباس و مکان کا سارا انتظام
سرکار کے ذمّہ تھا اور خدمت گار (فرشتے) اُس کے حکم کے تابع تھے۔ اس کو اپنی ذاتی
ضروریات کے لیے قطعًا کوئی فکر نہ کرنی پڑتی تھی، تاکہ وہ خلافت کے بزرگ تر اور
بلند تر وظائف ادا کرنے کے لیے مستعد ہو سکے۔ مگر اس عہد ے پر مستقل تقرر ہونے سے
پہلے امتحان لینا ضروری سمجھا گیا تاکہ امیدوار کی صلاحیتوں کا حال کھُل جائے اور یہ
ظاہر ہو جائے کہ اس کی کمزوریاں کیا ہیں اور خوبیاں کیا ۔ چنانچہ امتحان لیا گیا اور جو بات کھُلی وہ یہ تھی کہ اُمیدوار تحریص
و اِطماع کے اثر میں آکر پھسل جاتا ہے، اطاعت کے عزم پر مضبوطی سے قائم نہیں رہ
رہتا، اور اس کے علم پر نسیان غالب آجاتا ہے۔ اِس امتحان کے بعد آدم اور ان کی
اولاد کو مستقل خلافت پر مامور کرنے کے بجائے آزمائشی خلافت دی گئی ، اور آزمائش
کے لیے ایک مدّت (اجلِ مسمّٰی ، جس اختتام قیامت پر ہو گا) مقرر کر دی گئی۔ اِس
آزمائش کے دَور میں اُمیدوار کے لیے معیشت کا سرکاری انتظام ختم کر دیا گیا۔ اب
اپنی معاش کا انتظام انہیں خود کرنا ہے۔ البتہ زمین اور اس کی مخلوقات پر ان کے
اختیارات برقرار ہیں ۔ آزمائش اس بات کی ہے کہ اختیار رکھنے کے باوجود یہ اطاعت
کرتے ہیں یا نہیں اور اگر بھُول لاحق ہوتی ہے ،
یا تحریص و اطماع کے اثر میں آکر پھسلتے ہیں ، تو تنبیہ ، تذکیر اور تعلیم
کا اثر قبول کر کے سنبھلتے بھی ہیں یا نہیں؟
اور ان کا آخری فیصلہ کیا ہوتا ہے ، طاعت کا یا معصیت کا؟ اس آزمائشی خلافت کے
دَوران میں ہر ایک کے طرزِ عمل کا ریکارڈ محفوظ رہے گا ۔ اور یوم الحساب میں جو
لوگ کامیاب نکلیں گے انہی کو پھر مستقل خلافت ، اُس دائمی زندگی
اور لازوال سلطنت کے ساتھ جس کا لالچ
دے کر شیطان نے حکم کی خلاف ورزی کرائی تھی، عطا کی جائے گی۔ اُس وقت یہ
پُوری زمین جنت بنا دی جائے گی اور اس کے وارث خدا کے صالح بندے ہوں گے جنہوں نے
آزمائشی خلافت میں طاعت پر قائم رہ کر، یا بھُول لاحق ہونے کے بعد بالآخر طاعت کی
طرف پلٹ کر اپنی اہلیت ثابت کر دی ہو گی۔ جنت کی اس زندگی کو جو لوگ محض کھانے پینے
اور اَینڈنے کی زندگی سمجھتے ہیں ان کا خیال صحیح نہیں ہے۔ وہاں پیہم ترقی ہو گی
بغیر اس کے کہ اس کے لیے کسی تنزل کا خطرہ ہو۔ اوروہاں خلافتِ الہٰی کے عظیم الشان
کام انسان انجام دے گا بغیر اس کے کہ اسے پھر کسی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے ۔ مگر
ان ترقیات اور اُن خدمات کا تصوّر کرنا ہمارے لیے اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک بچے کے
لیے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بڑا ہو کر جب وہ شادی کرے گا توازدواجی زندگی کی
کیفیات کیا ہوں گی۔ اسی لیے قرآن میں جنت کی زندگی کے صرف انہی لذائذ کا ذکر کیا گیا ہے جن کا ہم اس دنیا
کی لذتوں پر قیاس کر کے کچھ اندازہ کر سکتے ہیں۔
اُسی طرح آج تُو بھلایا جا رہا ہے
سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر١۰۷
قیامت کے روز نئی زندگی کے آغاز سے لے کر جہنم میں داخل
ہونے تک جو مختلف کیفیات مجرمین پر گزریں گی
ان کو قرآن مجید میں مختلف مواقع پر جدا جدا بیان کیا گیا ہے۔ ایک کیفیت یہ
ہے : لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآ ءَکَ
فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ،” تُو اِس چیز سے غفلت میں پڑا ہوا تھا ، اب ہم نے
تیرے آگے سے پردہ ہٹا دیا ہے، آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے“ یعنی تجھے نظر آرہا ہے۔(ق۔
آیت ۲۲)۔ دوسری کیفیت یہ ہے:
اِنَّمَا یُؤَ خِّرُھُمْ لِیَوْ مٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَا رُ مُھْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُسِھِمْ لَا یَرْتَدُّ
اِلَیْہِمْ طَرْفُھُمْ وَاَفْئِدَ تُھُمْ ھَوَآ ء، ” اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اُس
دن کے لیے جب حال یہہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی
پھٹی رہ گئی ہیں، سر اُٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں، نظریں اُوپر جمی ہیں اور دل ہیں
کہ اُڑتے جاتے ہیں“ (ابراہیم ۔ آیت ۴۳)۔ تیسری کیفیت یہ ہے:
وَنُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتَا بًا یَّلْقٰہُ مَنْشُورًا ،
اِقْرَأْ کِتَابَکَ ، کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا، ” اور قیامت
کے روز ہم اس کے لیے ایک نوشتہ نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب پائے گا۔ پڑھ اپنا نامۂ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تُو
خود ہی کافی ہے“ (بنی اسرائیل ۔ آیات ۱۳
– ۱۴)۔ اور انہی کیفیات میں سے ایک یہ
بھی ہے جو آیت زیرِ بحث میں بیان ہوئی ہے۔
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی قدرت سے یہ لوگ آخرت کے ہولناک مناظر اور اپنی شامتِ
اعمال کے نتائج کو تو خوب دیکھیں گے، لیکن بس ان کی بینائی یہی کچھ دیکھنے کے لیے ہو گی۔ باقی دوسری حیثیتوں
سے ان کا حال اندھے کا سا ہو گا جسے اپنا راستہ نظر نہ آتا ہو، جو نہ لاٹھی رکھتا ہو کہ ٹٹول کر چل سکے نہ کوئی
اس کا ہاتھ پکڑ کے چلانے والا ہو، قدم قدم پر ٹھوکریں کھا رہا ہو، اور اس کو کچھ نہ سُوجھتا ہو کہ کدھر جائے اور اپنی
ضروریات کہاں سے پوری کرے۔ اسی کیفیت کو اِن الفاظ میں ادا کیا گیا ہے کہ” جس طرح
تُو نے ہماری آیات کو بھُلا دیا تھا اُسی طرح آج تُو بھلایا جا رہا ہے“، یعنی آج
کوئی پروا نہ کی جائے گی کہ تُو کہاں کہاں ٹھوکریں کھا کر گرتا ہے اور کیسی کیسی محرومیاں برداشت کر رہا ہے۔
کوئی تیرا ہاتھ نہ پکڑے گا ، کوئی تیری حاجتیں پوری نہ کرے گا ، اور تیری کچھ بھی
خبر گیری نہ کی جائے گی۔
اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے ربّ کی آیات نہ ماننے
والے کو (دُنیا میں)بدلہ دیتے ہیں
سورة طٰہٰ حاشیہ نمبر١۰۸
اشارہ ہے اس ”تنگ زندگی“ کی طرف جو اللہ کے ”ذِکر“ یعنی اس
کتاب اور اس کے بھیجے ہوئے درسِ نصیحت سے منہ موڑنے والوں کو دنیا میں بسر کرائی
جاتی ہے۔
Comments
Post a Comment