آخرت میں نیک اور بد لوگوں کی حالت کا فرق

 

آخرت میں نیک اور بد لوگوں کی حالت کا فرق

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن- جلد سوم- آخرت

صفحہ 446تا447

سورہ فرقان آیات 22تا24

يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰٓىِٕكَةَ لَا بُشْرٰى يَوْمَىِٕذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَ يَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا۰۰۲۲وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا۰۰۲۳اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَىِٕذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِيْلًا۰۰۲۴ سورہ فرقان آیات 22تا24

جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گےوہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن نہ ہو گا  ، چیخ اُٹھیں گے کہ پناہ بخدا، اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اُڑا دیں گے۔  بس وہی لوگ جو جنّت کے مستحق ہیں اُس دن اچھی جگہ ٹھہریں گے اور دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے۔

جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گےوہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن نہ ہو گا

 

سورة الفرقان حاشیہ نمبر۳٦

یہی مضمون سورہ اَنعام آیت 8 اور سورہ حجر آیات 7۔8 اور آیات 51 تا 64 میں تفصیل کے ساتھ بیان ہو چکا ہے ۔ اس کے علاوہ ۔ سورہ بنی اسرائیل آیات 90 تا 95  میں بھی کفار کے  بہت سے عجیب و غریب مطالبات کے ساتھ اس کا ذکر کر کے جواب دیا گیا ہے ۔

سورہ انعام آیت 8

وَ قَالُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ مَلَکٌ ؕ وَ لَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الۡاَمۡرُ ثُمَّ لَا یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۸ سورہ انعام آیت 8

کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اُتارا گیا۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اُتاردیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا، پھر انہیں کوئی مُہلت نہ دی جاتی۔

فرشتہ کیوں نہیں اُتارا گیا

سُوْرَةُ الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :5

یعنی جب یہ شخص خدا کی طرف سے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے تو آسمان سے ایک فرشتہ اُترنا چاہیے تھا جو لوگوں سے کہتا کہ یہ خدا کا پیغمبر ہے، اس کی بات مانو ورنہ تمہیں سزا دی جائے گی۔ جاہل معترضین کو اس بات پر تعجب تھا کہ خالقِ ارض و سماء کسی کو پیغمبر مقرر کرے اور پھر اِس طرح اُسے بے یار و مددگار ، پتھر کھانے اور گالیاں سُننے کے لیے چھوڑ دے۔ اتنے بڑے بادشاہ کا سفیر اگر کسی بڑے اسٹاف کے ساتھ نہ آیا تھا تو کم از کم ایک فرشتہ تو اس کی اردلی میں رہنا چاہیے تھا تا کہ وہ اس کی حفاظت کرتا، اس کا رُعب بٹھاتا، اس کی ماموریّت کا یقین دلاتا اور فوق الفطری طریقے سے اس کے کام انجام دیتا۔

پھر انہیں کوئی مُہلت نہ دی جاتی

سُوْرَةُ الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :6

یہ ان کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لینے کے لیے جو مُہلت تمہیں ملی ہوئی ہے یہ اُسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پردۂ غیب میں پوشیدہ ہے۔ ورنہ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا، پھر مُہلت کا کوئی موقع باقی نہ رہے گا۔ اُس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا۔ اس لیے کہ دنیا کی زندگی تمہارے لیے ایک امتحان کا زمانہ ہے، اور امتحان اس امر کا ہے کہ تم حقیقت کو دیکھے بغیر عقل و فکر کے صحیح استعمال سے اس کا ادراک کرتے ہو یا نہیں، اور ادراک کرنے کے بعد اپنے نفس اور اس کی خواہشات کو قابو میں لا کر اپنے عمل کو حقیقت کے مطابق درست رکھتے ہو یا نہیں۔ اس امتحان کے لیے غیب کا غیب رہنا شرط لازم ہے ، اور تمہاری دُنیوی زندگی ، جو دراصل مہلتِ امتحان ہے، اسی وقت تک قائم رہ سکتی ہے جب تک غیب، غیب ہے۔ جہاں غیب شہادت میں تبدیل ہوا، مہلت لازماً ختم ہو جائے گی اور امتحان کے بجائے نتیجہ ٔ امتحان نکلنے کا وقت آپہنچے گا۔ لہٰذا تمہارے مطالبہ کے جواب میں یہ ممکن نہیں ہے کہ تمہارے سامنے فرشتے کو اس کی اصلی صُورت میں نمایاں کر دیا جائے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ابھی تمہارے امتحان کی مدّت ختم نہیں کر نا چاہتا۔(ملاحظہ ہو سُورہ ٔ بقرہ حاشیہ نمبر ۲۲۸)

سُوْرَةُ الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :228

اس دُنیا میں انسان کی ساری آزمائش صرف اس بات کی ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھے بغیر مانتا ہے یا نہیں اور ماننے کے بعد اتنی اخلاقی طاقت رکھتا ہے یا نہیں کہ نافرمانی کا اختیار رکھنے کے باوجود فرماں برداری اختیار کرے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انبیا کی بعثت میں ، کتابوں کی تنزیل میں ، حتّٰی کہ معجزات تک میں عقل کے امتحان اور اخلاقی قوت کی آزمائش کا ضرور لحاظ رکھا ہے اور کبھی حقیقت کو اس طرح بے پردہ نہیں کر دیا ہے کہ آدمی کے لیے مانے بغیر چارہ نہ رہے۔ کیونکہ اس کے بعد تو آزمائش بالکل بے معنی ہو جاتی ہےاور امتحان میں کامیابی و ناکامی کا کوئی مفہوم ہی باقی نہیں رہتا۔ اسی بنا پر یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اُس وقت کا انتظار نہ کرو، جب اللہ اور اس کی سلطنت کے کارکُن فرشتے خود سامنے آ جائیں گے، کیونکہ پھر تو فیصلہ ہی کر ڈالا جائے گا۔ ایمان لانے اور اطاعت میں سر جُھکادینے کی ساری قدر و قیمت اُسی وقت تک ہے، جب تک حقیقت تمہارے حواس سے پوشیدہ ہے اور تم محض دلیل سے اس کو تسلیم کر کے اپنی دانشمندی کا اور محض فہمائش سے اس کی پیروی و اطاعت اختیار کر کے اپنی اخلاقی طاقت کا ثبوت دیتے ہو۔ ورنہ جب حقیقت بے نقاب سامنے آجائے اور تم بچشمِ سر دیکھ لو کہ یہ خدا اپنے تختِ جلال پر متمکّن ہے ، اور یہ ساری کائنات کی سلطنت اس کے فرمان پر چل رہی ہے ، اور یہ فرشتے زمین و آسمان کے انتظام میں لگے ہوئے ہیں، اور یہ تمہاری ہستی اُس کے قبضہء قدرت میں پوری بے بسی کے ساتھ جکڑی ہوئی ہے، اس وقت تم ایمان لائے اور اطاعت پر آمادہ ہوئے، تو اس ایمان اور اطاعت کی قیمت ہی کیا ہے؟ اس وقت تو کوئی کٹّے سے کٹّا کافر اور بد تر سے بدتر مجرم و فاجر بھی انکار و نافرمانی کی جراٴت نہیں کر سکتا۔ ایمان لانے اور اطاعت قبول کرنے کی مُہلت بس اُسی وقت تک ہے جب تک کہ پردہ کشائی کی وہ ساعت نہیں آتی۔ جب وہ ساعت آگئی، تو پھر نہ مُہلت ہے نہ آزمائش ، بلکہ وہ فیصلے کا وقت ہے۔

سورہ حجر آیت 7، 8

لَوْ مَا تَاْتِيْنَا بِالْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۰۰۷مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ۰۰۸ سورہ حجر آیت 7، 8

ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اُتار دیا کرتے۔ وہ جب اُترتے ہیں تو حق کے ساتھ اُترتے ہیں اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی

سورة الحجر حاشیہ نمبر۵

یعنی فرشتے  محض تماشا دکھا نے کے لیے نہیں اتارے جاتے کہ جب کسی قوم نے کہا بلاؤ فرشتوں کو اور وہ فورًا حاضر ہوئے۔ نہ فرشتے اِس غرض کے لیے  کبھی بھیجے جاتے ہیں کہ وہ آکر لوگوں کے سامنے حقیقت کو بے نقاب کر یں اور پردۂ غیب کو چاک کر کے وہ سب کچھ دکھا دیں جس پر ایمان لانے کی دعوت انبیاء علیہم السلام نے دی ہے۔ فرشتوں کو بھیجنے کا وقت تو وہ آخر ی وقت ہوتا ہے جب کسی قوم کا فیصلہ چکا دینے کا ارادہ کر لیا جاتا ہے ۔ اُس وقت بس فیصلہ چکایا جاتا ہے ،  یہ نہیں کہا جاتا کہ اب ایمان لاؤ تو چھوڑے دیتے ہیں۔ ایمان لانے کی جتنی مہلت بھی ہے اسی وقت تک ہے جب تک کہ حقیقت بے نقاب نہیں ہو جاتی۔ اُس کے بے نقاب ہو جانے کے بعد ایمان لانے کا کیا سوال۔

”حق کے ساتھ اُترتے ہیں“ کا مطلب ”حق لے کر اُترنا“ ہے۔ یعنی وہ اس لیے آتے ہیں کہ باطل کو مٹا کر حق  کو اس کی جگہ قائم کر دیں ۔ یا دوسرے الفاظ میں یوں سمجھیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ لے کر آتے ہیں اور اسے نافذ کر کے چھوڑتے ہیں۔

سورہ حجر آیات 51تا64

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَۘ۰۰۵۱اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ۰۰۵۲قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ۰۰۵۳قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِيْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ۰۰۵۴قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ۰۰۵۵قَالَ وَ مَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ۰۰۵۶قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ۰۰۵۷قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِيْنَۙ۰۰۵۸اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِيْنَۙ۰۰۵۹اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِيْنَؒ۰۰۶۰ فَلَمَّا جَآءَ اٰلَ لُوْطِ ا۟لْمُرْسَلُوْنَ۠ۙ۰۰۶۱قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ۰۰۶۲قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ۰۰۶۳وَ اَتَيْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ۰۰۶۴ سورہ حجر آیات 51تا64

اور انہیں ذرا ابراہیمؑ کے مہمانوں کا قصّہ سُناوٴ۔ جب وہ آئے اُس کےہاں اور کہا” سلام ہو تم پر“ تو اُس نے کہا” ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے۔“ اُنہوں نے جواب دیا” ڈرو نہیں، ہم تمہیں ایک بڑے سیانے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔“ ابراہیم ؑ نے کہا” کیا تم اِس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دیتے ہو؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہے ہو؟“ اُنہوں نے جواب دیا” ہم تمہیں جو بشارت دے رہے ہیں، تم مایوس نہ ہو۔“ ابراہیم ؑ نے کہا” اپنے ربّ کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔“ پھر ابراہیم ؑ نے پوچھا” اے فرستادگانِ الٰہی، وہ مہم کیا ہےجس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں؟“ وہ بولے” ہم ایک مُجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ صرف لُوط ؑ کے گھر والے مستثنٰی ہیں ، ان سب کو ہم بچا لیں گے ، سوائے اُس کی بیوی کے جس کےلیے (اللہ فرماتا ہے کہ)ہم نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی۔ پھر جب یہ فرستادے لُوط ؑ کے ہاں پہنچے تو اُس نے کہا”آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں“اُنہوں نے جواب دیا” نہیں، بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس کے آنے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے۔ ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں

سورہ بنی اسرائیل آیات 90تا95

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًاۙ۰۰۹۰اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًاۙ۰۰۹۱اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيْلًاۙ۰۰۹۲اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًاؒ۰۰۹۳ وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا۰۰۹۴قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ۠ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا۰۰۹۵ سورہ بنی اسرائیل آیات 90تا95

اور انہوں نے کہا” ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تُو ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے۔ یا تیرے لیے کھُجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تُو اس میں نہریں رواں کر دے۔ یا تُو آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اُوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے۔ یا خدا اور فرشتوں کو رُو در رُو ہمارے سامنے لے آئے۔ یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے۔ یا تُو آسمان پر چڑھ جائے، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تُو ہمارے اُوپر ایک ایسی تحریر نہ اُتار لائے جسے ہم پڑھیں“۔۔۔۔اے محمد ؐ ، اِن سے کہو” پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟ لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے اُن کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر اُن کے اِسی قول نے کہ”کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا؟“اِن سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجتے۔

کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟

سورة بنی اسرائیل حاشیہ نمبر١۰٦

معجزات کے مطالبے کا ایک جواب اس سے پہلے آیت ۵۹ وَمَا مَنَعَنَآ ااَن تُّرْسِلَ بِالاٰیٰتِ میں گزر چکا ہے۔ اب یہاں اسی مطالبے کا دوسرا جواب دیا گیا ہے۔ اس مختصر سے جواب کی بلاغت تعریف سے بالا تر ہے۔ مخالفین کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر تم پیغمبر ہو تو ابھی زمین کی طرف ایک اشارہ کرو اور یکایک ایک چشمہ پھوٹ بہے، یا فوراً ایک لہلہاتا باغ پیدا ہو جائے اور اس میں نہریں جاریں ہوجائیں۔ آسمان کی طرف اشارہ کرو اور تمہارےجھٹلانے والوں پر آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر جائے۔ ایک پھونک مارو اور چشم زدن میں سونے کا ایک محل  بن کر تیار ہوجائے۔ ایک آواز دو اور ہمارے سامنے خدا اور  اس کے فرشتے فوراً آکھڑے ہوں اور  وہ شہادت دیں کہ ہم  ہی نے محمد ؐ  کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان پر چڑھ کر جاؤ اور اللہ میاں سے ایک خط ہمارے نام لکھوا لاؤ جسے ہم ہاتھ سے چھوئیں اور آنکھوں سے پڑھیں۔۔۔۔۔۔ ان لمبے چوڑے مطالبوں کا بس یہ جواب دے کر  چھوڑ دیا گیا کہ ”ان سے کہو، پاک ہے میرا پر وردگار! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں“؟  یعنی بیوقوفو ! کیا میں نے خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا کہ تم یہ مطالبے مجھ سےکرنے لگے؟ میں نے تم سےکب کہا تھا  کہ میں قادرِ مطلق ہوں؟ میں نے کب کہا تھا کہ زمین و آسمان پر میری حکومت چل رہی ہے؟ میرا دعوٰی تواوّل  روز سے یہی تھا کہ میں خدا کی طرف سے پیغام لانے والا ایک انسان ہوں۔ تمہیں جانچنا ہے تو میرے پیغام کو جانچو۔ ایما ن لانا ہےتو اس پیغام کی صداقت و معقولیت دیکھ کر ایمان لاؤ۔ انکا ر کرنا ہے تو اس پیغام میں کوئی نقص نکال کر دکھاؤ۔  میری صداقت کا اطمینان کرنا ہے تو ایک انسان ہونے کی حیثیت سے میری زندگی کو، میرے اخلاق کو، میرے کام کو دیکھو۔ یہ سب کچھ چھوڑ کر تم مجھ سے یہ کیا مطالبہ کرنے لگے کہ زمین پھاڑ و اور آسمان گراؤ؟ آخر پیغمبری کا ان کاموں سے کیا تعلق ہے؟

کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا؟

سورة بنی اسرائیل حاشیہ نمبر١۰۷

یعنی ہر زمانے کے جاہل لوگ اسی غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ  بشر کبھی پیغمبر نہیں ہو سکتا ۔ اسی لیے جب کوئی رسول آیا تو انہوں نے یہ دیکھ کر  کہ کھاتا ہے، پیتا ہے ، بیوی بچے رکھتا ہے، گوشت پوست کا بنا ہوا ہے، فیصلہ کر دیا کہ پیغمبر نہیں ہے، کیونکہ بشر ہے۔ اور جب وہ گزر گیا تو ایک مدت کے بعد اس کے عقیدت مندوں میں ایسے لوگ پیدا ہونے شروع ہو گئے جو کہنے لگے کہ وہ بشر نہیں تھا، کیونکہ پیغمبر تھا۔ چنانچہ کسی نے اس کو خدا بنایا، کسی نے اسے خدا کا بیٹا کہا، او ر کسی نے کہا کہ خدا  اس میں حلول کر گیا تھا۔ غرض بشریت اور پیغمبری کا ایک ذات میں جمع ہونا جاہلوں کے لیے ہمیشہ ایک معما ہی بنا رہا۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ یٰس، حاشیہ ١١

سورة یٰس حاشیہ نمبر١١

دوسرے الفاظ میں ا ن کا کہنا یہ تھا کہ تم چونکہ انسان ہو اس لیے خدا کے بھیجے ہوئے رسول نہیں ہو سکتے ۔ یہی خیال کفارِ مکہ کا بھی تھا۔ وہ یہ کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) رسول نہیں ہیں کیونکہ وہ انسان ہیں :

وَقَا لُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسولِ یَأکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ۔(الفرقان:7)

وہ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ۔

وَاَسَرُّواالنَّجْوَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ھَلْ ھٰذَٓا اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ اَفَتَأ تُوْنَ السِّحٰرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ (الانبیاء۔3)

اور یہ ظالم لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص (یعنی محمد صلی اللہ علیہ و سلم) تم جیسے ایک بشر کے سوا آخر اور کیا ہے ، پھر کیا تم آنکھوں دیکھتے اس جادو کے شکار ہو جاؤ گے ؟

قرآن مجید کفار مکہ کے اس جاہلانہ خیال کی تردید کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ یہ کوئی نئی جہالت نہیں ہے جو آج پہلی مرتبہ ان لوگوں سے ظاہر ہو رہی ہو، بلکہ قدیم ترین زمانے سے تمام جَہلاء اسی غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ جو بشر ہے وہ رسول نہیں ہو سکتا اور جو رسول ہے وہ بشر نہیں ہو سکتا۔ قوم نوح کے سرداروں نے جب حضرت نوح کی رسالت کا انکار کیا تھا تو یہی کہا تھا:

مَا ھٰذَآاِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْکُمْ وَلَوْ شَآءَاللہُ لَاَنْزَلَ مَلٰئِکَہً۔ مَا سَمِعْنَا بھِٰذَا فِیْ اٰبَآئِنَا لْاَوَّلِیْنَ۔ (المومنون : 24)۔

یہ شخص اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایک بشر ہے تم ہی جیسا، اور چاہتا ہے کہ تم پر اپنی فضیلت جمائے ۔ حالانکہ اگر اللہ چاہتا تو فرشتے نازل کرتا۔ ہم نے تو یہ بات کبھی اپنے باپ دادا سے نہیں سنی (کہ انسان رسول بن کر آئے )۔

قوم عاد نے یہی بات حضرت ہودؑ کے متعلق کہی تھی:

مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ يَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ يَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ۰۰۳۳وَ لَىِٕنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ۰۰۳۴المومنون :33۔34)۔

یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر ہی جیسا۔ کھاتا ہے وہی کچھ جو تم کھاتے ہو اور پیتا ہے وہی کچھ جو تم پیتے ہو۔ اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت کر لی تو تم بڑے گھاٹے میں رہے ۔

قوم ثمود نے حضرت صالحؑ کے متعلق بھی یہی کہا تھا کہ:

اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤo (القمر:24)

کیا ہم اپنے میں سے ایک بشر کی پیروی اختیار کر لیں۔

اور یہی معاملہ قریب قریب تمام انبیاء کے ساتھ پیش آیا کہ کفار نے کہا، اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِثْلُنَا، ’’ تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے بشر۔’‘ اور انبیاء نے ان کو جواب دیا کہ،  اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ  واقعی  ہم تمہاری طرح بشر کے سوا کچھ نہیں ہیں، مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے عنایت فرماتا ہے ‘‘ (ابراہیم:10۔11)

اس کے بعد قرآن مجید کہتا ہے کہ یہی جاہلانہ خیال ہر زمانے میں لوگوں کو ہدایت قبول کرنے سے باز رکھتا رہا ہے اور اسی بنا پر قوموں کی شامت آئی ہے :

اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ٞ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۰۰۵ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا١ٞ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا۔  (التغابن: 6)

کیا اِنہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا تھا اور پھر اپنے کیے کا مزا چکھ لیا اور آگے ان کے لیے درد ناک عذاب ہے ؟ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی دلیلیں لے کر آتے رہے مگر انہوں نے کہا ’’ کیا اب انسان ہماری رہنمائی کریں گے ‘‘ ؟ اسی بنا پر انہوں نے کفر کیا اور منہ پھیر گئے ۔

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا۰۰۹۴۔ (بنی اسرائیل : 94)۔

لوگوں کے پاس جب ہدایت آئی تو کوئی چیز انہیں ایمان لانے سے روکنے والی اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے کہا’’ کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیج دیا‘‘؟

پھر قرآن مجید پوری صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ اللہ نے ہمیشہ انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے اور انسان کی ہدایت کے لیے انسان ہی رسول ہو سکتا ہے نہ کہ کوئی فرشتہ، یا بشریّت سے بالا تر کوئی ہستی :

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِيْۤ اِلَيْهِمْ فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۰۰۷وَ مَا جَعَلْنٰهُمْ جَسَدًا لَّا يَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ مَا كَانُوْا خٰلِدِيْنَ۰۰۸الانبیاء : 7۔8)

ہم نے تم سے پہلے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے جن پر ہم وحی کرتے تھے ۔اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔ اور ہم نے ان کو ایسے جسم نہیں بنایا تھا کہ وہ کھانا نہ کھائیں اور نہ وہ ہمیشہ جینے والے تھے ۔

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ يَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ (الفرقان:20)۔

ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجے تھے وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے ۔

قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ۠ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا۰۰۹۵ (بنی اسرائیل:95)

اے نبی، ان سے کہو کہ اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ان پر فرشتے ہی کو رسول بنا کر نازل کرتے ۔

کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجتے۔

سورة بنی اسرائیل حاشیہ نمبر١۰۸

یعنی پیغمبر کا کام صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ آکر پیغام سنا دیا کرے، بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ اس پیغام کے مطابق انسانی زندگی کی اصلاح کرے۔ اسے انسانی احوال پر اُس پیغام کے اصولوں کا انطباق کرنا ہوتا ہے۔ اسے خودا پنی زندگی میں ان اصولوں کا عملی مظاہر ہ کرنا ہوتا ہے۔ اسے اُن بے شمار مختلف انسانوں کےذہن کی گتھیاں سلجھانی پڑتی ہیں جو اس کا پیغام سننے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسے ماننے والوں کی تنظیم اور تربیت کرنی ہوتی ہے تا کہ اس پیغام کی تعلیمات کے مطابق ایک معاشرہ وجود میں آئے۔ اسے انکار اور مخالفت و مزاحمت کرنے والوں کے مقابلے میں  جدو جہد کرنی ہوتی ہے تا کہ بگاڑ کی حمایت کرنے والی طاقتوں کو نیچا دکھایا جائے اور وہ اصلاح عمل میں آسکے جس کے لیے خدا نے اپنا پیغمبر مبعوث فرمایا ہے۔ یہ سارے کام جبکہ انسانوں ہی میں کرنے کے ہیں تو ان کے لیے انسان نہیں تو اور کون بھیجا جاتا؟ فرشتہ تو زیادہ سے زیادہ بس یہی کرتا کہ آتا اور پیغام پہنچا کر چلا جاتا۔ انسانوں میں انسان کی طرح رہ کر انسان کے سے کام کرنا اور پھر انسانی زندگی میں منشائے الہٰی کے مطابق اصلاح کر کے دکھا  دینا کسی فرشتے کے بس کا کام نہ تھا۔ اس کے لیے تو ایک انسان ہی موزوں ہو سکتا تھا۔

جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اُڑا دیں گے۔

سورة الفرقان حاشیہ نمبر۳۷

تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم۔ ابراہیم، حواشی 25 ۔ 26۔

سورة ابرھیم حاشیہ نمبر۲۵

یعنی  جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ نمک حرامی ، بے وفائی، خود مختاری اور نافرمانی و سرکشی کی روش اختیار کی ، اور اطاعت و بندگی کا وہ طریقہ اختیار کرنے سے انکار کر دیا جس کی دعوت انبیاء علیہم السلام لے کر آئے ہیں ، اُن کا پورا  کارنامۂ حیات اور زندگی بھر کا  سارا سرمایہ ٔ عمل آخر کار ایسا لاحاصل اور بے معنی ثابت ہو گا جیسے ایک راکھ کا ڈھیر  تھا جو اکٹھا ہو ہو کر مدّتِ دراز میں بڑا بھاری ٹیلہ سا بن گیا تھا ، مگر صرف ایک ہی دن کی آندھی نے اس کو ایسا اڑا یا کہ اُس کا ایک ایک  ذرّہ منتشر ہو  کر رہ گیا۔ اُن کی نظر فریب تہذیب ، اُن کا شاندار تمدن ، اُن کی حیرت انگیز صنعتیں ، اُن کی زبردست سلطنتیں ، اُن کی عالیشان یونیورسٹیاں ، اُن کے علوم و فنون اور ادبِ لطیف و کثیف کے اتھاہ  ذخیرے، حتیِ کہ  اُن کی عبادتیں اور اُن کی ظاہری نیکیاں اور اُن کے بڑے بڑے خیراتی اور رفاہی  کارنامےبھی، جن پر وہ  دنیا میں فخر کرتے ہیں ، سب کے سب آخر کار  راکھ کا ایک ڈھیر ہی ثابت ہوں گے جسے یوم ِ قیامت کی آندھی بالکل صاف کر دے گی اور عالمِ آخرت میں اُس کا ایک ذرّہ بھی اُن کے پاس اس لائق نہ رہے گا کہ اُسے خدا کی میزان میں رکھ کر کچھ بھی وزن پا سکیں۔

سورة ابرھیم حاشیہ نمبر۲٦

یہ دلیل ہے اُس دعوے کا جو اوپر کیا گیا تھا۔  مطلب یہ ہے کہ اِس بات کو سُن کر تمہیں تعجب کیوں ہوتا ہے؟ کیا تم دیکھتے نہیں ہو  کہ یہ زمین و آسمان کا عظیم الشان کارخانۂ تخلیق حق پر قائم ہوا ہے  نہ کہ باطل پر ؟ یہاں جو چیز  حقیقت اور واقعیت پر مبنی  نہ ہو، بلکہ ایک بے اصل قیاس و گمان پر جس کی بنا رکھ دی گئی ہو ، اُسے کوئی پائیداری نصیب نہیں ہو سکتی۔ اُس کے لیے قرار وثبات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اُس کے اعتماد پر کام کرنے والا کبھی اپنے اعتماد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ جو شخص پانی پر نقش بنائے اور ریت پر قصر تعمیر کرے  وہ اگر یہ امید رکھتا ہے کہ اس کا نقش باقی رہے گا اور اُس کا قصر کھڑا رہے گا تو اس کی  یہ اُمید کبھی پوری نہیں ہو سکتی ۔ کیونکہ پانی کی یہ حقیقت نہیں ہے کہ  وہ نقش قبول کرے اور ریت کی   یہ حقیقت نہیں کہ وہ عمارتوں  کے لیے مضبوط بنیاد بن سکے۔ لہٰذا سچائی اور حقیقت کو نظر انداز کر کے جو شخص باطل  امیدوں پر اپنے عمل کی بنیاد رکھے اُسے ناکام ہونا ہی چاہیے۔ یہ بات اگر تمہاری سمجھ میں آتی ہے تو پھر یہ سُن کر تمہیں حیرت کس لیے ہوتی ہے کہ خدا کی اِس کائنات  میں جو شخص اپنے آپ کو خدا کی بندگی و اطاعت سے آزاد فرض کر کے کام کرے گا یا خدا کے سوا کسی اَور کسی کی خدائی مان کر (جس کی فی الواقع خدائی نہیں ہے) زندگی بسر کرے گا ، اس کا پورا  کارنامۂ زندگی ضائع ہو جائے  گا؟ جب واقعہ یہ نہیں ہے کہ انسان یہاں خود مختا ر ہے یا خدا کے سوا کسی اور کا بندہ ہے ، تو اس جھوٹ پر ، اس خلاف ِ واقعہ مفروضہ پر، اپنے پورے نظامِ فکر و عمل کی بنیاد رکھنے والا انسان تمہاری رائے  میں پانی پر نقش کھینچنے والے احمق کا سا انجام نہ دیکھے گا تواُ س کے لیے  اور کس انجام کی تم توقع رکھتے ہو؟

دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے

سورة الفرقان حاشیہ نمبر۳۸

یعنی میدان حشر میں جنت کے مستحق لوگوں کے ساتھ مجرمین سے مختلف معاملہ ہو گا۔ وہ عزت کے ساتھ بٹھائے جائیں گے اور روز حشر کی سخت دوپہر گزارنے کے لیے ان کو آرام کی جگہ دی جائے گی۔ اس دن کی ساری سختیاں مجرموں کے لیے ہوں گی نہ کہ نیکو کاروں کے لیے ۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ، حضورؐ نے فرمایا والذی نفسی بیدہ اِنّہٗ لیخفف علی المؤمن حتی یکون اخف علیہ من صلوۃ مکتوبۃ یصلیھا فی الدنیا’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، قیامت کا عظیم الشان اور خوفناک دن ایک مومن کے لیے بہت ہلکا کردیا جائے گا، حتیٰ کہ اتنا ہلکا جتنا دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے کا وقت ہوتا ہے ‘‘۔ (مسند احمد بروایت ابی سعید خدری)۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں