بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
آخرت کے برے انجام سے نہ مال بچا سکتا
ہے نہ اولاد اور نہ باپ دادا کا عمل
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد
پنجم – آخرت
صفحہ 168، 169
سورہ طور آیت 21
وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ
اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ
مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ١ؕ كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ
رَهِيْنٌ۰۰۲۱
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور ان کی
اولاد بھی کسی درجہٴ ایمان میں ان کے نقشِ
قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملادیں گے اور اُن
کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں
گے۔ ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے
اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے۔
یہ مضمون اس سے پہلے سورہ رعد آیت
23، اور سورہ مومن آیت 8 میں بھی گزر چکا ہے ، مگر یہاں ان دونوں مقامات سے
بھی زیادہ ایک بڑی خوش خبری سنائی گئی ہے ۔ سورہ رعد والی آیت میں صرف اتنی بات
فرمائی گئی تھی کہ اہل جنت کے آباؤ اجداد اور ان کی بیویوں میں سے جو جو افراد بھی
صالح ہوں گے وہ سب ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے ۔ اور سورہ مومن میں ارشاد ہوا
تھا کہ فرشتے اہل ایمان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی اولاد اور
ازواج اور آباء میں سے جو صالح ہوں انہیں بھی جنت میں ان سے ملا دے ۔ یہاں ان
دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ
ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو، تو خواہ اپنے عمل کے
لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کا ان کے بہتر ایمان و عمل کی بنا پر
حاصل ہو گا، پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے گی۔ اور یہ ملانا اس
نوعیت کا نہ ہو گا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی سے جا کر ملاقات کر لیا کرے ، بلکہ
اس کے لیے اَلْحَقْنا بِھِمْ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن کے معنی یہ ہیں کہ
وہ جنت میں ان کے ساتھ ہی رکھے جائیں گے ۔ اس پر مزید یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ
اولاد سے ملانے کے لیے آباء کا درجہ گھٹا کر انہیں نیچے نہیں اتارا جائے گا، بلکہ
آباء سے ملانے کے لیے اولاد کا درجہ بڑھا
کر انہیں اوپر پہنچا دیا جائے گا۔
اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے
کہ یہ ارشاد اس بالغ اولاد کے بارے میں ہے جس نے سنِ رُشد کو پہنچ کر اپنے اختیار
اور ارادے سے ایمان لانے کا فیصلہ کیا ہو اور جو اپنی مرضی سے اپنے صالح بزرگوں کے
نقش قدم پر چلی ہو۔ رہی ایک مومن کی وہ اولاد جو سن رشد کو پہنچنے سے پہلے ہی مر
گئی ہو تو اس کے معاملہ میں کفر و ایمان اور طاعت و معصیت کا سرے سے کوئی سوال ہی
پیدا نہیں ہوتا۔ اسے تو ویسے ہی جنت میں جانا ہے اور اس کے آباء کی آنکھیں ٹھنڈی
کرنے کے لیے ان ہی کے ساتھ رکھا جانا ہے ۔
آخرت کے برے انجام سے نہ
مال بچا سکتا ہے نہ اولاد اور نہ باپ دادا کا عمل
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 183
سورہ طور آیات 45، 46
فَذَرْهُمْ حَتّٰى يُلٰقُوْا يَوْمَهُمُ
الَّذِيْ فِيْهِ يُصْعَقُوْنَۙ۰۰۴۵يَوْمَ لَا يُغْنِيْ عَنْهُمْ
كَيْدُهُمْ شَيْـًٔا وَّ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَؕ۰۰۴۶
پس اے نبیؐ ، انہیں ان کے حال پر چھوڑ
دو یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن کوپہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے، جس دن نہ
ان کی اپنی کوئی چال ان کے کسی کام آئے گی نہ کوئی ان کی مدد کو آئے گا۔
آخرت کے برے انجام سے نہ
مال بچا سکتا ہے نہ اولاد اور نہ باپ دادا کا عمل
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 365
سورہ مجادلہ 14تا17
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ
تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا
مِنْهُمْ١ۙ وَ يَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ۰۰۱۴اَعَدَّ اللّٰهُ
لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۵اِتَّخَذُوْۤا
اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ
مُّهِيْنٌ۰۰۱۶لَنْ
تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا١ؕ
اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۱۷
کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو
جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جواللہ کا مغضوب ہے؟ وہ نہ تمہارے ہیں نہ اُن کے، اور وہ جان بُوجھ کر جُھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ اللہ نے ان
کے لیے سخت عذاب مہیّا کر رکھا ہے، بڑے ہی بُرے کرتُوت ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے اپنی قسموں کر ڈھال بنا رکھا ہے
جس کی آڑ میں وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں، اِس پر ان کے لیے ذلّت کا عذاب ہے۔ اللہ سے
بچانے کے لیے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد۔ وہ دوزخ کے یار ہیں،
اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
آخرت میں جھوٹی قسموں سے کام نہ چلے
گا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد
پنجم – آخرت
صفحہ 365
سورہ مجادلہ 14تا17
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ
تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا
مِنْهُمْ١ۙ وَ يَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ۰۰۱۴اَعَدَّ اللّٰهُ
لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۵اِتَّخَذُوْۤا
اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ
مُّهِيْنٌ۰۰۱۶لَنْ
تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا١ؕ
اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۱۷
کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو
جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جواللہ کا مغضوب ہے؟ وہ نہ تمہارے ہیں نہ اُن کے، اور وہ جان بُوجھ کر جُھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔ اللہ نے ان
کے لیے سخت عذاب مہیّا کر رکھا ہے، بڑے ہی بُرے کرتُوت ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔
اُنہوں نے اپنی قسموں کر ڈھال بنا رکھا ہے
جس کی آڑ میں وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں، اِس پر ان کے لیے ذلّت کا عذاب ہے۔ اللہ سے
بچانے کے لیے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد۔ وہ دوزخ کے یار ہیں،
اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Comments
Post a Comment