منکرین آخرت بجائے اس کے کہ اپنی جہالت و گمراہی پر روئیں، آخرت کی صداقت کو ہنسی مذاق میں ٹالنا چاہتے ہیں

 

منکرین آخرت بجائے اس کے کہ اپنی جہالت و گمراہی پر روئیں، آخرت کی صداقت کو ہنسی مذاق میں ٹالنا چاہتے ہیں

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد پنجم-آخرت

صفحہ 223  ،  224

سورہ نجم آیات  57-62

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ۰۰۵۷لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ۰۰۵۸ اَ فَمِنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَۙ۰۰۵۹وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ۰۰۶۰وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ۰۰۶۱فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْاؒؑ۰۰۶۲

آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے، اللہ کے سوا کوئی اُس کو ہٹانے والا نہیں۔  اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہارِ تعجّب کرتے ہو؟ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو؟ اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو؟ جُھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ

اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُۚ۰۰۵۸

آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے۔

سورۃ النجم حاشیہ نمبر۵۰

یعنی یہ خیال نہ کرو کہ سوچنے کے لیے ابھی بہت وقت پڑا ہے ، کیا جلدی ہے کہ ان باتوں پر ہم فوراً ہی سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور انہیں ماننے کا بلا  تاخیر فیصلہ کر ڈالیں۔ نہیں، تم میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کے لیے زندگی کی کتنی مہلت باقی ہے ۔ ہر وقت تم میں سے ہر شخص کی موت بھی آسکتی ہے ، اور قیامت بھی اچانک پیش آسکتی ہے ۔ اس لیے فیصلے کی گھڑی کو دور نہ سمجھو۔ جس کو بھی اپنی عاقبت کی فکر کرنی ہے وہ ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سنبھل جائے۔ کیونکہ ہر سانس کے بعد یہ ممکن ہے کہ دوسرا سانس لینے کی نوبت نہ آئے۔

لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌؕ۰۰۵۷

اللہ کے سوا کوئی اُس کو ہٹانے والا نہیں

سورۃ النجم حاشیہ نمبر۵۱

یعنی فیصلے کی گھڑی جب آ جائے گی تو نہ تم اسے روک سکو گے اور نہ تمہارے معبود ان غیر اللہ میں سے کسی کا یہ بل بوتا ہے کہ وہ اس کو ٹال سکے ۔ ٹال سکتا ہے تو اللہ ہی ٹال سکتا ہے ، اور وہ اسے ٹالنے والا نہیں ہے ۔

اَ فَمِنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ تَعْجَبُوْنَۙ۰۰۵۹

اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہارِ تعجّب کرتے ہو

سورۃ النجم حاشیہ نمبر۵۲

اصل میں لفظ ھٰذَا الْحَدِیْث  استعمال ہوا ہے جس سے مراد وہ ساری تعلیم ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ سے قرآن مجید میں پیش کی جا رہی تھی۔ اور تعجب سے مراد وہ تعجب ہے جس کا اظہار آدمی کسی انوکھی اور ناقابل یقین بات کو سن کر کیا  کرتا ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم جس چیز کی طرف دعوت دے رہے ہیں وہ یہی کچھ تو ہے جو تم نے سن لی۔ اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم کان کھڑے کرتے ہو اور حیرت سے اس طرح منہ تکتے ہو کہ گویا کوئی بڑی عجیب اور نرالی باتیں تمہیں سنائی جا رہی ہیں؟

وَ تَضْحَكُوْنَ وَ لَا تَبْكُوْنَۙ۰۰۶۰ وَ اَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ۰۰۶۱

ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو   ۔گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو

سورۃ النجم حاشیہ نمبر۵۳

یعنی بجائے اس کے کہ تمہیں اپنی جہالت و گمراہی پر رونا آتا، تم لوگ الٹا اس صداقت کا مذاق اڑاتے ہو جو تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہے ۔

فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَ اعْبُدُوْاؒؑ۰۰۶۲

جُھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ

Comments