منکرین آخرت کی سمجھ میں عقیدۂ آخرت نہ آنے کی اصل علت کیا ہے؟
بِسْمِ
اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
منکرین آخرت کی سمجھ
میں عقیدۂ آخرت نہ آنے کی اصل علت کیا ہے؟
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ 109-110
سورہ ق آیات 1-4
قٓ١ۚ۫ وَ
الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِۚ۰۰۱بَلْ
عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا
شَيْءٌ عَجِيْبٌۚ۰۰۲
ق، قسم ہےقرآن مجید کی
۔۔۔۔ بلکہ ان لوگوں کو تعجب اس بات پر ہوا کہ ایک خبردار کرنے والا خود انہی میں
سے ان کے پاس آگیا۔
یہ فقرہ بلاغت کا
بہترین نمونہ ہے جس میں ایک بہت بڑے مضمون کو چند مختصر الفاظ میں سمو دیا گیا ہے۔
قرآن کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اسے بیان نہیں کیا گیا۔ اس کا ذکر کرنے کے
بجائے بیچ میں ایک لطیف خلا چھوڑ کر آگے کی بات ’’ بلکہ‘‘ سے شروع کر دی گئی ہے۔
آدمی ذرا غور کرے اور اس پس منظر کو بھی نگاہ میں رکھے جس میں یہ بات فرمائی گئی
ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ قَسم اور بلکہ کے درمیان جو خلا چھوڑ دیا گیا ہے اس
کا مضمون کیا ہے۔ اس میں در اصل قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ’’اہل مکہ
نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کو ماننے سے کسی معقول بنیاد پر انکار نہیں
کیا ہے، بلکہ اس سراسر غیر معقول بنیاد پر کیا ہے کہ ان کی اپنی جنس کے ایک بشر،
اور ان کی اپنی ہی قوم کے ایک فرد کا خدا کی طرف سے خبردار بن کر آجانا ان کے نزدیک
سخت قابل تعجب بات ہے۔ حالانکہ تعجب کے قابل بات اگر ہوسکتی تھی تو وہ یہ تھی کہ
خدااپنے بندوں کی بھلائی اور برائی سے بے پروا ہو کر انہیں خبردا ر کرنے کا کوئی
انتظام نہ کرتا، یا انسانوں کو خبر دار کرنے کے لیے کسی غیر انسان کو بھیجتا، یا
عربوں کو خبر دار کرنے کے لیے کسی چینی کو بھیج دیتا۔ اس لیے انکار کی یہ بنیاد تو
قطعی نا معقول ہے اور ایک صاحب عقل سلیم یقیناً یہ ماننے پر مجبور ہے کہ خدا کی
طرف سے بندوں کو خبردار کرنے کا انتظام ضرور ہونا چاہیے اور اسی شکل میں ہونا چاہیے
کہ خبر دار کرنے والا خود انہی لوگوں میں سے کوئی شخص ہو جن کے درمیان وہ بھیجا گیا
ہو‘‘۔ اب رہ جاتا ہے کہ سوال کہ آیا محمد صلی اللہ عدلیہ و سلم ہی وہ شخص ہیں جنہیں
خدا نے ا س کام کے لیے بھیجا ہے، تو اس کا فیصلہ کرنے کے لیے کسی اور شہادت کی
حاجت نہیں، یہ عظیم و کریم قرآن، جسے وہ پیش کر رہے ہیں، اس بات کا ثبوت دینے کے لیے
بالکل کافی ہے۔
اس تشریح سے معلوم ہو
جاتا ہے کہ اس آیت میں قرآن کی قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ
و سلم واقعی اللہ کے رسول ہیں اور ان کی رسالت پر کفار کا تعجب بے جا ہے۔ اور قرآن
کے ’’مجید‘‘ ہونے کو اس دعوے کے ثبوت میں پیش کیا گیا ہے۔
ءَاِذَا مِتْنَا
وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ۰۰۳
پھر منکرین کہنے لگے”یہ تو عجیب بات ہے، کیا جب ہم
مر جائیں گے اور خاک ہو جائیں گے (تو دوبارہ اٹھا ئے جائیں گے)؟ یہ واپسی تو عقل
سے بعید ہے۔“
یہ ان لوگوں کا دوسرے
تعجب تھا۔ پہلا اور اصل تعجب زندگی بعد موت پر نہ تھا بلکہ اس پر تھا کہ انہی کی
جنس اور قوم کے ایک فرد نے اٹھ کر دعویٰ کیا تھا کہ میں خدا کی طرف سے تمہیں خبر
دار کرنے کے لیے آیا ہوں۔ اس کے بعد مزید تعجب انہیں اس پر ہوا کہ وہ شخص انہیں جس
چیز پر خبردار کر رہا تھا وہ یہ تھی کہ تمام انسان مرنے کے بعد از سر نو زندہ کیے
جائیں گے، اور ان سب کو اکٹھا کر کے اللہ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور وہاں
ان کے اعمال کا محاسبہ کرنے کے بعد جزا اور سزا دی جائے گی۔
قَدْ عَلِمْنَا
مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِيْظٌ۰۰۴
(حالانکہ) زمین ان کے
جسم میں سےجو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں
سب کچھ محفوظ ہے۔
یعنی یہ بات اگر ان
لوگوں کی عقل میں نہیں سماتی تو یہ ان کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے۔ اس سے یہ تو
لازم نہیں آتا کہ اللہ کا علم اور اس کی قدرت بھی تنگ ہو جائے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ
ابتدائے آفرینش سے قیامت تک مرنے والے بے شمار انسانوں کے جسم کے اجزاء جو زمین میں
بکھر چکے ہیں اور آئندہ بکھرتے چلے جائیں گے، ان کو جمع کرنا کسی طرح ممکن نہیں
ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ہر جُز جس شکل میں جہاں بھی ہے، اللہ تعالیٰ
براہ راست اس کو جانتا ہے، اور مزید براں اس کا پورا ریکارڈ اللہ کے دفتر میں
محفوظ کیا جا رہا ہے جس سے کوئی ایک ذرہ بھی چھُٹا ہوا نہیں ہے۔ جس وقت اللہ کا
حکم ہو گا اسی وقت آناً فاناً اس کے فرشتے اس ریکارڈ سے رجوع کر کے ایک ایک ذرے کو
نکال لائیں گے اور تمام انسانوں کے وہ جسم پھر بنا دیں گے جن میں رہ کر انہوں نے
دنیا کی زندگی میں کام کیا تھا۔
یہ آیت بھی من جملہ
ان آیات کے ہے جن میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ آخرت کی زندگی نہ صرف یہ کہ ویسی
ہی جسمانی زندگی ہو گی جیسی اس دنیا میں ہے، بلکہ جسم بھی ہر شخص کا وہی ہوگا جو
اس دنیا میں تھا اگر یہ حقیقت یہ نہ ہوتی تو کفار کی بات کے جواب میں یہ کہنا بالکل
بے معنی تھا کہ زمین تمہارے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم ہے۔ اور
ذرے ذرے کا ریکارڈ موجود ہے ۔
منکرین آخرت کی سمجھ
میں عقیدۂ آخرت نہ آنے کی اصل علت کیا ہے؟
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ 117
سورہ ق آیت 19
وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ
الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ۰۰۱۹
پھر دیکھو، وہ موت کی
جاں کنی حق لے کر آ پہنچی،یہ وہی چیز ہے جس سے تُو بھاگتا
تھا۔
موت کی جاں کنی
. حق لے کر آ پہنچے
سے مراد یہ ہے کہ موت کی جانکنی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے وہ حقیقت کھلُنی شروع ہو
جاتی جس پر دنیا کی زندگی میں پردہ پڑا ہوا تھا۔ اس مقام سے آدمی وہ دوسرا عالم
صاف دیکھنے لگتا ہے جس کی خبر انبیاء علیہم السلام نے دی تھی۔ یہاں آدمی کو یہ بھی
معلوم ہو جاتا ہے کہ آخرت بالکل برحق ہے، اور یہ حقیقت بھی اس کو معلوم ہو جاتی ہے
کہ زندگی کے اس دوسرے مرحلے میں وہ نیک بخت کی حیثیت سے داخل ہو رہا ہے یا بد بخت
کی حیثیت سے۔
جس سے تُو بھاگتا تھا
. یعنی یہ وہی حقیقت
ہے جس کو ماننے سے تو کنّی کتراتا تھا۔ تو چاہتا تھا کہ دنیا میں بے نتھے بیل کی
طرح چھوٹا پھرے اور مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہ ہو جس میں تجھے اپنے اعمال کا
خمیازہ بھگتنا پڑے۔ اسی لیے آخرت کے تصور سے تو دور بھا گتا تھا اور کسی طرح یہ ماننے
کے لیے تیار نہ تھا کہ کبھی یہ عالم بھی برپا ہونا ہے۔ اب دیکھ لے، یہ وہی دوسرا
عالم تیرے سامنے آ رہا ہے۔
بسم اللہ الرحمان
الرحیم
منکرین آخرت صرف دنیا
کی زندگی کے طالب ہوتے ہیں
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ 210
سورہ نجم آیت 29
فَاَعْرِضْ
عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ يُرِدْ اِلَّا الْحَيٰوةَ
الدُّنْيَاؕ۰۰۲۹
پس اے نبیؐ، جو شخص
ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے، اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے، اسے
اس کے حال پر چھوڑدو
جو شخص ہمارے ذکر سے
منہ پھیرتا ہے
ذکر کا لفظ یہاں کئی
معنی دے رہا ہے اس سے مراد قرآن بھی ہو سکتا ہے ، محض نصیحت بھی مراد ہوسکتی ہے
اور اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خدا کا ذکر سننا ہی جسے گوارا نہیں ہے ۔
اس کے حال پر چھوڑدو
یعنی اس کے پیچھے نہ
پڑو اور اسے سمجھانے پر اپنا وقت ضائع نہ کرو۔ کیوں کہ ایسا شخص کسی ایسی دعوت کو
قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو گا جس کی بنیاد خدا پرستی پر ہو، جو دنیا کے مادی
فائدوں سے بلند تر مقاصد اور اقدار کی طرف بلاتی ہو، اور جس میں اصل مطلوب آخرت کی
ابدی فلاح و کامرانی کو قرار دیا جا رہا ہو۔ اس قسم کے مادہ پرست اور خدا بیزار
انسان پر اپنی محنت صرف کرنے کے بجائے توجہ ان لوگوں کی طرف کرو جو خدا کا ذکر
سننے کے لیے تیار ہوں اور دنیا پرستی کے مرض میں مبتلا نہ ہوں۔
آخرت کو ماننے یا نہ
ماننے میں انسان کا اپنا ہی فائدہ و نقصان مضمر ہے
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ 116
سورہ ق آیت 16
وَ لَقَدْ
خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ
اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ۰۰۱۶
ہم نے انسان کو پیدا
کیا ہے اور اس کے دل میں ابھرنے والے وسوسوں تک کو ہم جانتے ہیں۔ ہم اس کی رگِ
گردن سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں،
ہم نے
. آخرت کے دلائل بیان
کرنے کے بعد اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم چاہےاس آخرت کو مانو یا اس کا انکار
کرو، بہر حال اس کو آنا ہے اور یہ ایک ایسا امر واقعہ ہے جو تمہارے انکار کے
باوجود پیش آ کر رہے گا۔ انبیاء کی پیشگی تنبیہ کو مان کر اس وقت کے لیے پہلے سے تیاری
کر لو گے تو اپنا بھلا کرو گے۔ نہ مانو گے تو خود ہی اپنی شامت بلاؤ گے۔ تمہارے نہ
ماننے سے آخرت آتے آتے رک نہیں جائے گی اور خدا کا قانون عدل معطل نہ ہو جائے گا۔
Comments
Post a Comment