منکر آخرت قوموں کا انجام

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منکر آخرت قوموں  کا انجام

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد پنجم-آخرت

صفحہ  114،  115

سورہ ق آیات 12تا14

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ۰۰۱۲وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ۰۰۱۳وَّ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيْدِ۰۰۱۴

ان سے پہلے نوحؑ کی قوم ، اور اصحاب الرّس،  اور ثمُود، اور عاد، اور فرعون،  اور لوُط کے بھائی اور ایکہ والے، اور تُبَّع کی قوم  کے لوگ بھی جھٹلاچکے ہیں۔  ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا،  اور آخر  کار میری وعید اُن پرچسپاں ہوگئی

سورۃ ق حاشیہ نمبر۱۷

یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے۔ اس سے پہلے کی 6 آیتوں میں امکان آخرت کے دلائل دیے گئے تھے، اور اب ان آیات میں عرب اور اس کے گرد و پیش کی قوموں کے تاریخی انجام کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ آخرت کا جو عقیدہ تمام انبیاء علیہم السلام پیش کرتے رہے ہیں وہی حقیقت کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس کا انکار جس قوم نے بھی کیا وہ شدید اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہو کر رہی اور آخر کار خدا کے عذاب نے آ کر اس کے وجود سے دنیا کو پاک کیا۔ آخرت کے انکار اور اخلاق کے بگاڑ کا یہ لزوم، جو تاریخ کے دوران میں مسلسل نظر آ رہا ہے، اس امر کا صریح ثبوت ہے کہ انسان فی الواقع اس دنیا میں غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ بنا کر نہیں چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ اسے لازماً اپنی مہلت عمل ختم ہونے کے بعد اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ اسی لیے تو جب کبھی وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ کر دنیا میں کام کرتا ہے، اس کی پوری زندگی تباہی کے راستے پر چل پڑتی ہے۔ کسی کام سے اگر پے در پے غلط نتائج برآمد ہوتے چلے جائیں تو یہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ وہ کام حقیقت سے متصادم ہو رہا ہے۔

منکر آخرت قوموں  کا انجام

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد پنجم-آخرت

صفحہ  221،  222

سورہ نجم آیات  50تا54

وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادَا ا۟لْاُوْلٰى ۙ۰۰۵۰وَ ثَمُوْدَاۡ فَمَاۤ اَبْقٰى ۙ۰۰۵۱وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا هُمْ اَظْلَمَ وَ اَطْغٰىؕ۰۰۵۲وَ الْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰىۙ۰۰۵۳فَغَشّٰىهَا مَا غَشّٰىۚ۰۰۵۴

اور یہ کہ اُسی نے عادِ اولیٰ کو ہلاک کیا ، اور ثمود کو ایسا مٹایا کہ ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا، اور اُن سے پہلے  قومِ نوحؑ کو تباہ کیا کیونکہ وہ تھے ہی سخت ظالم و سرکش لوگ، اور اَوندھی  گرنے والی بستیوں کو اُٹھا پھینکا، پھر چھا دیا اُن پر وہ کچھ جو (تم جانتے ہی ہو کہ ) کیا چھا دیا

اَوندھی گرنے والی بستیوں سے مراد قوم لوط کی بستیاں ہیں۔ اور ’’ چھا دیا ان پر جو کچھ چھا دیا‘‘ سے مراد غالباً بحر مردار کا پانی ہے جو ان کی بستیوں کے زمین میں دھنس جانے کے بعد ان پر پھیل گیا تھا اور آج تک وہ اس علاقے پر چھایا ہوا ہے ۔

منکر آخرت قوموں  کا انجام

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد پنجم-آخرت

صفحہ   227

سورہ قمر مضمون

قوم نوح، عاد،قوم لوط ،اور آل فرعون کا حال مختصر الفاظ میں بیان کر کے بتایا گیا ہے کہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں کی تنبیہات کو جھٹلا کر یہ قومیں کس درد ناک عذاب سے دو چار ہوئیں ، اور ایک ایک قوم کا قصہ بیان کرنے کے بعد بار بار یہ بات دہرائی گئی ہے کہ یہ قرآن نصیحت کا آسان ذریعہ ہے جس سے اگر کوئی قوم سبق لے کر راہ راست پر آ جائے تو ان  عذابوں کی نوبت نہیں آسکتی جو ان قوموں پر نازل ہوئے۔ اب آخر یہ کیا حماقت ہے کہ اس آسان ذریعہ سے نصیحت قبول کرنے کے بجائے کوئی اسی پر اصرار کرے کہ عذاب دیکھے بغیر نہ مانے گا۔

منکر آخرت قوموں  کا انجام

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد پنجم-آخرت

صفحہ233تا239

سورہ قمر آیات 9تا22

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ۰۰۹فَدَعَا رَبَّهٗۤ اَنِّيْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ۰۰۱۰فَفَتَحْنَاۤ اَبْوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنْهَمِرٍٞۖ۰۰۱۱وَّ فَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُيُوْنًا فَالْتَقَى الْمَآءُ عَلٰۤى اَمْرٍ قَدْ قُدِرَۚ۰۰۱۲وَ حَمَلْنٰهُ عَلٰى ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّ دُسُرٍۙ۰۰۱۳تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا١ۚ جَزَآءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ۰۰۱۴وَ لَقَدْ تَّرَكْنٰهَاۤ اٰيَةً فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۰۰۱۵فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَ نُذُرِ۰۰۱۶وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۰۰۱۷كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَ نُذُرِ۰۰۱۸اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا فِيْ يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّۙ۰۰۱۹تَنْزِعُ النَّاسَ١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ۰۰۲۰فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَ نُذُرِ۰۰۲۱وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍؒ۰۰۲۲

اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے۔  اُنہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے، اور وہ بری طرح جِھڑکا گیا۔  آخر کار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ ”میں مغلوب ہوچکا ، اب تُو اِن سے انتقام لے۔“ تب ہم نے موسلادھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا،  اور یہ ساراپانی اُس کام کو پورا کرنے  کے لیے مل گیا جو مقدّر ہو چکا تھا ، اور نوح ؑ کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی  پر سوار کر دیا جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی۔ یہ تھا بدلہ اُس شخص کی خاطر جس کی ناقدری  کی گئی تھی۔  اُس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دی  ا، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟ دیکھ لو، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نےاِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے،  پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

عاد نے جھٹلایا، تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی جو لوگوں کو اُٹھا اُٹھا کر اِس طرح پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑ سے اُکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں ۔ پس دیکھ لو کہ کیسا تھا میر اعذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟

 

 

Comments