کفار آخرت سے بالکل مایوس ہیں
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
کفار آخرت سے بالکل مایوس ہیں
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد
پنجم – آخرت
صفحہ 450
سورہ ممتحنہ آیت 12
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ
اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ قَدْ يَىِٕسُوْا
مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا يَىِٕسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِؒ۰۰۱۳
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اُن لوگوں
کو دوست نہ بناؤ جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے، جو آخرت سے اسی طرح مایوس ہیں جس
طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں۔
اصل الفاظ ہیں قَدْ
يَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا يَىِٕسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ
الْقُبُوْرِؒ۰۰۱۳۔
اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ آخرت کی بھلائی اور اس کے ثواب سے اسی
طرح مایوس ہیں جس طرح زندگی بعد موت سے انکار کرنے والے اس بات سے مایوس ہیں کہ ان
کے جو عزیز رشتہ دار قبروں میں جا چکے ہیں وہ کبھی پھر زندہ کر کے اٹھائے جائیں
گے۔ یہ معنی حضرت عبداللہ بن عباسؓ، اور حضرات حسن بصری، قتادہ اور ضحاک رحمہم
اللہ نے بیان کیے ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ وہ آخرت کی رحمت و مغفرت سے
اسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر ہر خیر سے مایوس ہیں، کیونکہ
انہیں اپنے مبتلائے عذاب ہونے کا یقین ہو چکا ہے۔ یہ معنی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ،
اورت حضرات مجاہد، عِکْرِمہ، ابن زید، کلبی، مقاتل اور منصور رحمہم اللہ سے منقول
ہیں۔
Comments
Post a Comment