دائیں بازو والوں کے لیے نعمتیں

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دائیں بازو والوں کے لیے نعمتیں

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت

صفحہ 281،282، 295

سورہ واقعہ آیات 27 تا 38

وَ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِؕ۰۰۲۷فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ۰۰۲۸وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ۰۰۲۹وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ۰۰۳۰وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ۰۰۳۱وَّ فَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍۙ۰۰۳۲لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ۰۰۳۳وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ۰۰۳۴اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ۰۰۳۵فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ۰۰۳۶عُرُبًا اَتْرَابًاۙ۰۰۳۷لِّاَصْحٰبِ الْيَمِيْنِ٢ؕؒ۰۰۳۸

اور دائیں بازو والے، دائیں بازو والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا۔ وہ بے خار بیریوں،  اور تہ بر تہ چڑھے ہوئے کیلوں، اور دُور تک پھیلی ہوئی چھاؤں، اور ہر دم رواں پانی، اور کبھی ختم نہ ہونے والے  اور بے روک ٹوک ملنے والے بکثرت پھلوں،  اور اونچی نشست گاہوں میں ہوں گے۔ ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے اور انہیں باکرہ بنا دیں گے،  اپنے شوہروں کی عاشق اور عمر میں ہم سِن۔ یہ کچھ دائیں بازوں والوں کے لیے ہے۔

دائیں بازو والے

اصل میں لفظ اَصْحَابُ لْمَیْمَنَہ استعمال ہوا ہے۔میمنہ عربی قاعدے کے مطابق یمین  سے بھی ہو سکتا ہے جس کے معنی سیدھے ہاتھ کے ہیں، اور یُمن سے بھی ہو سکتا ہے جس کے معنی ہیں چال نیک۔ اگر اس کو یمین سے ماخوذ مانا جائے تو اصحاب المیمنہ کے معنہ ہوں گے ’’سیدھے ہاتھ والے ‘‘ لیکن اس سے لغوی معنی مراد نہیں ہیں بلکہ اس کا مطلب ہے عالی مرتبہ وگ، اہل عرب سیدھے ہاتھ کو قوت اور رفعت اور عزت کا نشان سمجھتے تھے۔ جس کا احترام مقصود ہوتا تھا  اسے مجلس میں سیدھے ہاتھ پر بٹھاتے تھے۔ کسی کے متعلق یہ کہنا ہوتا کہ میرے دل میں اس کی بڑی عزت ہے تو کہتے فلانٌ  مِنِّی بالیمین، ’’ وہ تو میرے سیدھے ہاتھ کی طرف ہے ’’ اردو میں بھی کسی شخص کو کسی بڑی ہستی کا دست راست اس معنی میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس کا خاص آدمی ہے۔ اور اگر اس کو یُمن سے ماخوذ مانا جائے تو اصحاب المیمنہ کے معنی ہوں گے خوش نصیب اور نیک بخت لوگ۔

وہ بے خار بیریوں،

یعنی ایسی بیریاں جن کے درختو ں میں کانٹے نہ ہوں گے۔ ایک شخص تعجب کا اظہار کر سکتا ہے کہ بیر ایسا کونسا نفیس پھل ہے جس کے جنت میں ہونے کی خوشخبری سنائی جائے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ جنت کے بیروں کا توکیا ذکر، خود اس دنیا کے بھی بعض علاقوں میں یہ پھل اتنا لذیذ خوشبو دار اور میٹھا ہوتا ہے کہ ایک دفعہ منہ کو لگنے کے بعد اسے چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور بیر جتنے اعلیٰ درجے کے ہوتے ہیں، ان کے درختوں میں کانٹے اتنے ہی کم ہوتے ہیں۔ اسی لیے جنت کے بیروں کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ ان کے درخت بالکل ہی کانٹوں سے خالی ہوں گے، یعنی ایسی بہترین قسم کے ہوں گے جو دنیا میں نہیں پائی جاتی۔

بے روک ٹوک ملنے والے بکثرت پھلوں

اصل الفاظ ہیں لَا مَقْطُوْعَۃٍ وَّلَا مَمْنُوْ عَۃٍ : لا مقطوعہ سے مراد یہ ہے کہ یہ پھل نہ موسمی ہوں گے کہ موسم گزر جانے کے بعد نہ مل سکیں، نہ ان کی پیداوار کا سلسلہ کبھی منقطع ہوگا کہ کسی باغ کے سارے پھل اگر توڑ لیے جائیں تو ایک مدت تک وہ بے ثمر رہ جائے، بلکہ ہر پھل وہاں ہر موسم میں ملے گا اور خواہ کتنا ہی کھایا جائے، لگا تار پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ اسی طرح  لا ممنوعہ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے باغوں کی طرح وہاں کوئی روک ٹوک نہ ہو گی، نہ پھلوں کے توڑنے اور کھانے میں کوئی امر مانع ہو گا کہ درختوں پر کانٹے ہونے یا زیادہ بلندی پر ہونے کی وجہ سے توڑنے میں کوئی زحمت پیش آئے۔

انہیں باکرہ بنا دیں گے

اس سے مراد دنیا کی وہ نیک خواتین ہیں جو اپنے ایمان و عمل صالح کی  بنا پر جنت میں جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو وہاں جوان بنا دے گا، خواہ وہ کتنی ہی بوڑھی ہو کر مری ہوں۔ نہایت خوبصورت بنا دے گا، خواہ دنیا میں وہ حسین رہی ہوں یا نہ رہی ہوں۔ باکرہ بنا دیگا، خواہ دنیا میں وہ کنواری مری ہوں یا بال بچوں والی ہو کر۔ان کے شوہر بھی اگر ان کے ساتھ جنت میں پہنچیں گے تو وہ ان سے ملا دی جائیں گی،ورنہ اللہ تعالیٰ کسی اور جنتی سے ان کو بیاہ دے گا۔ اس آیت کی یہی تشریح متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  سے منقول ہے۔ شمائیل ترمذی میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا نے حضور سے عرض کیا میرے حق میں جنت کی دعا فرمائیں۔ آپ نے فرمایا جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی۔ وہ روتی ہوئی واپس چلی گئی تو آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ ’’ اسے بتاؤ، وہ بڑھاپے کی حالت میں داخل جنت نہیں ہوگی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم انہیں خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے اور باکرہ بنا دیں گے ‘‘۔ ابن ابی حاتم نے حضرت سلمہ بن یزید کی یہ روایت نقل کی ہے کہ میں نے اس آیت کی تشریح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے سنا، ’’ اس سے مراد دنیا کی عورتیں ہیں، خواہ وہ باکرہ مری ہوں یا شادی شدہ ‘‘۔ طبرانی میں حضرت ام سلمہ کی ایک طویل روایت ہے جس میں وہ جنت کی عورتوں کے متعلق قرآن مجید کے مختلف مقامات کا مطلب حضورؐ سے دریافت فرماتی ہیں۔ اس سلسلہ میں حضورؐ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ھن اللواتی قبضن فی دارلدنیا عجائز رمصاً شمطاً خلقھن اللہ بعد الکبر فجعلھن عذاریٰ۔ ’’ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا کی زندگی میں مری ہیں۔ بوڑھی پھونس،آنکھوں میں چیپڑ، سر کے بال سفید۔ اس بڑھاپے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو پھر سے باکرہ پیدا کر دے گا’’۔ حضرت ام سلما پوچھتی ہیں اگر کسی عورت کے دنیا میں کئی شوہر رہ چکے ہوں اور وہ سب جنت میں جائیں تو وہ ان میں سے کس کو ملے گی؟ حضورؐ فرماتے ہیں : انھا تُخیَّر فتختار احسنہم خلقا فتقول یا رب ان ھٰذا کان احسن خلقاً معی فزوجنیھا، یا ام سلمہ، ذھب حسن الخلق بخیر الدنیا والاٰخرۃ۔ ’’ اس کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جسے چاہے چن لے،اور وہ اس شخص کو چنے گی جو ان میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق کا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گی کہ اے رب، اس کا برتاؤ میرے ساتھ سب سے اچھا تھا اس لیے مجھے اسی کی بیوی بنا دے۔ اے ام سلمہ، حسن اخلاق دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لوٹ لے گیا ہے۔

اپنے شوہروں کی عاشق

اصل میں لفظ عُرُباً استعمال ہوا ہے، یہ لفظ عربی زبان میں عورت کی بہترین نسوانی خوبیوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایسی عورت ہے جو طرح دار ہو، خوش اطوار ہو، خوش گفتار ہو، جسمانی جذبات سے لبریز ہو، اپنے شوہر کو دل و جان سے چاہتی ہو، اور اس کا شوہر بھی اس کا عاشق ہو۔

عمر میں ہم سِن۔

اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ اپنے شوہروں کی ہم سن ہوں گی۔ دوسرا یہ کہ وہ آپس میں ہم سن ہوں گی، یعنی تمام جنتی عورتیں ایک ہی عمر کی ہوں گی اور ہمیشہ اسی عمر کی رہیں گی۔ بعید نہیں کہ یہ دونوں ہی باتیں بیک وقت صحیح ہوں، یعنی یہ خواتین خود بھی ہم سن ہوں اور ان کے شوہر بھی ان کے ہم سن بنا دیے جائیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ یدخلاھلالجنۃالجنۃ جرد امرد ابیضا جعاد امکحلینابناء ثلاث و ثلاثین۔ ’’ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے جسم بالوں سے صاف ہوں گے۔ مسیں بھیگ رہی ہوں گی مگر ڈاڑھی نہ نکلی ہوگی۔ گورے چٹے ہوں گے۔ گٹھے ہوئے بدن ہوں گے۔آنکھیں سرمگیں ہوں گی۔ سب کی عمریں 33 سال کی ہوں گی‘‘۔ (مسند احمد، مرو یا ت ابی ہریرہؓ) قریب قریب یہی مضمون ترمذی میں حضرت معاذؓ بن جَبَل اور حضرت ابو سعید خدریؓ سے بھی مروی ہے۔

یہ کچھ دائیں بازوں والوں کے لیے ہے

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْيَمِيْنِۙ۰۰۹۰فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْيَمِيْنِؕ۰۰۹۱

اور اگر وہ اصحابِ یمین میں سے ہو تو اس کا استقبال یُوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے، تُواصحاب الیمین میں سے ہے۔ ا

 

 

 

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں