منکرین آخرت اللہ کی صفات حسنہ کے منکر ہیں

 

منکرین آخرت اللہ کی صفات حسنہ کے منکر ہیں

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت

صفحہ 269-270

سورہ رحمان آیات 60-61

هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ۰۰۶۰

نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔

سورۃ الرحمٰن حاشیہ نمبر۴۷

یعنی آخرت یہ کیسے ممکن ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی خاطر دنیا میں عمر بھر اپنے نفس پر پابندیاں لگائے رہے ہوں، حرام سے بچتے اور حلال پر اکتفا کرتے رہے ہوں، فرض بجا   لا تے رہے ہوں، حق کو حق مان کر تمام حق داروں کے حقوق ادا کرتے رہے ہوں، اور شر کے مقابلے میں ہر طرح کی تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کر کے خیر کی حمایت کرتے رہے ہوں، اللہ ان کی یہ ساری قربانیاں ضائع کر دے اور انہیں کبھی ان کا اجر نہ دے؟

فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۰۰۶۱

پھر اے جِنّ و اِنس۔ اپنے رب کے کن کن اوصاف ِحمیدہ کا تم انکار کرو گے؟

سورة رحمان حاشیہ نمبر۴۸

ظاہر بات ہے کہ جو شخص جنت اور اس کے اجر و ثواب کا منکر ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفات حسنہ کا انکار کرتا ہے۔ وہ اگر خدا کو مانتا بھی ہے تو اس کے متعلق بہت بری رائے رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک وہ ایک چوپٹ راجہ ہے جس کی اندھیر نگری میں نیکی کرنا گویا اسے دریا میں ڈال دینا ہے۔ وہ یا تو اسے اندھا اور بہرا سمجھتا ہے جسے کچھ خبر ہی نہیں کہ اس کی خدائی میں کون اس کی رضا کی خاطر جان، مال، نفس اور محنتوں کی قربانیاں دے رہا ہے۔ یا اس کے نزدیک وہ بے حس اور نا قدر شناس ہے جسے بھلے اور برے کی کچھ تمیز نہیں۔ یا پھر اس کے خیال ناقص میں وہ عاجز و در ماندہ ہے جس کی نگاہ میں نیکی کی قدر چاہے کتنی ہی ہو، مگر اس کا اجر دینا اس کے بس ہی میں نہیں ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ جب آخرت میں نیکی کا نیک بدلہ تمہاری آنکھوں کے سامنے دے دیا جائے گا، کیا اس وقت بھی تم اپنے رب کے اوصاف حمیدہ کا انکار کر سکو گے؟

آخرت میں اس امر حق کو سب دیکھ رہے ہوں گے  جس کا اب انکار کیا جاتا ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت

صفحہ  127

سورہ ق آیت 42

يَّوْمَ يَسْمَعُوْنَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ

جس دن سب لوگ آوازہٴ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے

سورۃ ق حاشیہ نمبر۵۳

اصل الفاظ ہیں يَسْمَعُوْنَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ سب لوگ امِر حق کی پکار کو سن رہے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ آواز حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ لوگ اسی امر حق کی پکار کو اپنے کانوں سے سن رہے  ہوں گے جس کو دنیا میں وہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے، جس سے انکار کرنے پر انہیں اصرار تھا، اور جس کی خبر دینے والے پیغمبروں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ یقینی طور پر یہ آوازہ حشر سنیں گے، انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ یہ کوئی وہم نہیں ہے بلکہ واقعی یہ آوازہ حشر ہی ہے، کوئی شبہ انہیں اس امر میں نہ رہے گا کہ جس حشر کی انہیں خبر دی گئی تھی وہ آگیا ہے اور یہ اسی کی پکار بلند ہو رہی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں