آخرت میں انسان کے اسی دنیوی جسم میں جان ڈالی جائے گی

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آخرت میں  انسان کے اسی دنیوی  جسم میں جان ڈالی جائے گی

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت

صفحہ 110

سورہ ق آیت  1تا4

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِۚ۰۰۱بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَيْءٌ عَجِيْبٌۚ۰۰۲ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ۰۰۳قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِيْظٌ۰۰۴

ق، قسم ہےقرآن مجید کی ۔۔۔۔ بلکہ ان لوگوں کو تعجب اس بات پر ہوا کہ ایک خبردار کرنے والا خود انہی میں سے ان کے پاس آگیا۔ پھر  منکرین کہنے لگے”یہ تو عجیب بات ہے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک ہو جائیں گے (تو دوبارہ اٹھا ئے جائیں گے)؟ یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے۔“ (حالانکہ) زمین ان کے جسم میں سے کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے۔

یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے

یہ ان لوگوں کا دوسرا تعجب تھا۔ پہلا اور اصل تعجب زندگی بعد موت پر نہ تھا بلکہ اس پر تھا کہ انہی کی جنس اور قوم کے ایک فرد نے اٹھ کر دعویٰ کیا تھا کہ میں خدا کی طرف سے تمہیں خبر دار کرنے کے لیے آیا ہوں۔ اس کے بعد مزید تعجب انہیں اس پر ہوا کہ وہ شخص انہیں جس چیز پر خبردار کر رہا تھا وہ یہ تھی کہ تمام انسان مرنے کے بعد از سر نو زندہ کیے جائیں گے، اور ان سب کو اکٹھا کر کے اللہ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، اور وہاں ان کے اعمال کا محاسبہ کرنے کے بعد جزا اور سزا دی جائے گی۔

یعنی یہ بات اگر ان لوگوں کی عقل میں نہیں سماتی تو یہ ان کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے۔ اس سے یہ  تو لازم نہیں آتا کہ اللہ کا علم اور اس کی قدرت بھی تنگ ہو جائے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش سے قیامت تک مرنے والے بے شمار انسانوں کے جسم کے اجزاء جو زمین میں بکھر چکے ہیں اور آئندہ بکھرتے چلے جائیں گے، ان کو جمع کرنا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ہر جُز جس شکل میں جہاں بھی ہے، اللہ تعالیٰ براہ راست اس کو جانتا ہے، اور مزید براں اس کا پورا ریکارڈ اللہ کے دفتر میں محفوظ کیا جا رہا ہے جس سے کوئی ایک ذرہ بھی چھُوٹا ہوا نہیں ہے۔ جس وقت اللہ کا حکم ہو گا اسی وقت آناً فاناً اس کے فرشتے اس ریکارڈ سے رجوع کر کے ایک ایک ذرے کو نکال لائیں گے اور تمام انسانوں کے وہ جسم پھر بنا دیں گے جن میں رہ کر انہوں نے دنیا کی زندگی میں کام کیا تھا۔

 

یہ آیت بھی من جملہ ان آیات کے ہے جن میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ آخرت کی زندگی نہ صرف یہ کہ ویسی ہی جسمانی زندگی ہو گی جیسی اس دنیا میں ہے، بلکہ جسم  بھی ہر شخص کا وہی ہوگا جو اس دنیا میں تھا اگر حقیقت یہ نہ ہوتی تو کفار کی بات کے جواب میں یہ کہنا بالکل بے معنی تھا کہ زمین تمہارے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم ہے۔ اور ذرے ذرے کا ریکارڈ موجود ہے (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، تفسیر سورہ حٰم السجدہ، حاشیہ 25)۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں