آخرت میں کفار و منافقین اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
آخرت میں کفار و منافقین اور مجرمین
کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد
پنجم – آخرت
صفحہ 119
سورہ ق آيات 24تا26
اَلْقِيَا
فِيْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍۙ۰۰۲۴مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ
مُعْتَدٍ مُّرِيْبِۙ۰۰۲۵ا۟لَّذِيْ
جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِيٰهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيْدِ۰۰۲۶
حکم دیا گیا ”پھینک دو جہنم میں ہر کَٹّے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا، خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا تھا، شک میں
پڑا ہوا تھا اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے
کو خدا بنائے بیٹھا تھا۔ ڈال دو اُسے سخت عذاب میں۔“
پھینک دو جہنم میں
اصل الفاظ میں اَلْقِيَا
فِيْ جَهَنَّمَ، ’’ پھینک دو جہنم میں تم دونوں ‘‘۔ سلسلہ
کلام خود بتا رہا ہے کہ یہ حکم ان دونوں فرشتوں کو دیا جائے گا جنہوں نے مرقد سے
اٹھتے ہی مجرم کو گرفتار کیا تھا اور لا کر عدالت میں حاضر کر دیا تھا۔
كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍۙ
ہر کَٹّے کافر کو
اصل میں لفظ ’’کَفَّار‘‘ استعمال ہوا
ہے جس کے دو معنی ہیں۔ ایک، سخت نا شکرا۔ دوسرے سخت منکر حق۔
مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ
خیر کو روکنے والا
خیر کا لفظ عربی زبان میں مال کے لیے
بھی استعمال ہوتا ہے اور بھلائی کے لیے بھی۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ
وہ اپنے مال میں سے کسی کا حق ادا نہ کرتا تھا۔ نہ خدا کا نہ بندوں کا۔ دوسرے معنی
کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ وہ بھلائی کے راستے سے خود ہی رک جانے پر اکتفا نہ
کرتا تھا بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکتا تھا۔ دنیا میں خیر کے لیے سدِّ راہ بنا ہوا تھا۔ اپنی ساری قوتیں
اس کام میں صرف کر رہا تھا کہ نیکی کسی طرح پھیلنے نہ پائے۔
مُعْتَدٍ
حد سے تجاوز کرنے والا تھا
یعنی اپنے ہر کام میں اخلاق کی حدیں
توڑ دینے والا تھا۔ اپنے مفاد اور اپنی اغراض اور خواہشات کی خاطر سب کچھ کر گزرنے
کے لیے تیار تھا۔ حرام طریقوں سے مال سمیٹتا اور حرام راستوں میں صرف کرتا تھا۔
لوگوں کے حقوق پر دست درازیاں کرتا تھا۔ نہ اس کی زبان کسی حد کی پا بند تھی نہ اس
کے ہاتھ کسی ظلم اور زیادتی سے رکتے تھے۔ بھلائی کے راستے میں صرف رکاوٹیں ڈالنے ہی
پر بس نہ کرتا تھا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر بھلائی اختیار کرنے والوں کو ستاتا تھا
اور بھلائی کے لیے کام کرنے والوں پر ستم ڈھاتا تھا۔
مُّرِيْبِۙ
شک میں پڑا ہوا تھا
اصل میں لفظ’’مُرِیْب‘‘ استعمال ہوا
ہے جس کے دو معنی ہیں۔ ایک، شک کرنے والا۔ دوسرے، شک میں ڈالنے والا۔ اور دونوں ہی
معنی یہاں مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خود شک میں پڑا ہوا تھا اور دوسروں کے دلوں
میں شکوک ڈالتا تھا۔ اس کے نزدیک اللہ اور آخرت اور ملائکہ اور رسالت اور وحی، غرض
دین کی سب صداقتیں مشکوک تھیں۔ حق کی جو بات بھی انبیاء کی طرف سے پیش کی جاتی تھی
اس کے خیال میں وہ قابل یقین نہ تھی۔ اور یہی بیماری وہ اللہ کے دوسرے بندوں کو
لگاتا پھرتا تھا۔ جس شخص سے بھی اس کو سابقہ پیش آتا اس کے دل میں وہ کوئی نہ کوئی
شک اور کوئی نہ کوئی وسوسہ ڈال دیتا۔
فَاَلْقِيٰهُ فِي الْعَذَابِ
الشَّدِيْدِ
ڈال دو اُسے سخت عذاب میں
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے وہ صفات
گِن کر بتا دی ہیں جو انسان کو جہنم کا مستحق بنانے والی ہیں، (1) انکار حق، (2)
خدا کی ناشکری،(3) حق اور اہل حق سے عناد، (4) بھلائی کے راستے میں سدِّ راہ بننا،
(5) اپنے مال سے خدا اور بندوں کے حقوق ادا نہ کرنا، (6) اپنے معاملات میں حدود سے
تجاوز کرنا، (7) لوگوں پر ظلم اور زیادتیاں کرنا، (8) دین کی صداقتوں پر شک کرنا،
(9)دوسروں کے دلوں میں شکوک ڈالنا، اور (10) اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو خدائی میں
شریک ٹھیرانا۔
آخرت میں کفار و منافقین
اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 121
سورہ ق آیت 30
يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ
هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ۰۰۳۰
وہ دن جبکہ ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا
تُو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کیا اور کچھ ہے؟
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ
’’ میرے اندر اب مزید آدمیوں کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘ دوسرے یہ کہ ’’اور جتنے مجرم بھی
ہیں انہیں لے آیئے ‘‘ پہلا مطلب لیا جائے تو اس ارشاد سے تصور یہ سامنے آتا ہے کہ
مجرموں کو جہنم میں اس طرح ٹھونس ٹھونس کر بھر دیا گیا ہے اس میں ایک سوئی کی بھی
گنجائش نہیں رہی، حتیٰ کہ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ
گھبرا کر چیخ اٹھی کہ کیا ابھی اور آدمی بھی آنے باقی ہیں؟ دوسرا مطلب لیا جائے تو
یہ تصور ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ جہنم کا غیظ اس وقت مجرموں پر کچھ اس بری طرح
بھڑکا ہوا ہے کہ وہ ہل من مزید کا مطالبہ کیے جاتی ہے اور چاہتی ہے کہ آج کوئی
مجرم اس سے چھوٹنے نہ پائے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جہنم سے
اللہ تعالیٰ کے اس خطاب اور اس کے جواب کی نوعیت کیا ہے۔؟ کیا یہ محض مجازی کلام
ہے؟ یا فی الواقع جہنم کوئی ذی روح اور ناطق چیز ہے جسے مخاطب کیا جا سکتا ہو اور وہ
بات کا جواب دے سکتی ہو؟ اس معاملہ میں درحقیقت کوئی بات قطعیت کے ساتھ نہیں کہی
جا سکتی۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مجازی کلام ہو اور محض صورت حال کا نقشہ کھینچنے کے لیے جہنم کی کیفیت کو سوال و جوا ب کی شکل میں
بیان کیا گیا ہو، جیسے کوئی شخص یوں کہے کہ میں نے موٹر سے پوچھا تو چلتی کیوں نہیں،
اس نے جواب دیا، میرے اندر پٹرول نہیں ہے۔ لیکن یہ بات بھی بالکل ممکن ہے کہ یہ
کلام مبنی بر حقیقت ہو۔ اس لیے کہ دنیا کی جو چیزیں ہمارے لیے جامد و صامت ہیں ان
کے متعلق ہمارا یہ گمان کرنا درست نہیں ہو سکتا کہ وہ ضرور اللہ تعالیٰ کے لیے بھی
ویسی ہی جامدو صامت ہوں گی۔ خالق اپنی ہر مخلوق سے کلام کر سکتا ہے اور اس کی ہر
مخلوق اس کے کلام کا جواب دے سکتی ہے خواہ ہمارے لیے اس کی زبان کتنی ہی ناقابل
فہم ہو۔
آخرت میں کفار و منافقین
اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 135،
136
سورہ زاریات آیت 12تا14
يَسْـَٔلُوْنَ اَيَّانَ
يَوْمُ الدِّيْنِؕ۰۰۱۲يَوْمَ
هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُوْنَ۰۰۱۳ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا
الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۠۰۰۱۴
پوچھتے ہیں آخر وہ روزِ جزاء کب آئے
گا؟ وہ اُس روز آئے گا جب یہ لوگ آگ پر تپائے
جائیں گے۔
(اِن سے کہا جائےگا) اب چکھو مزا اپنے
فتنے کا۔ یہ وہی چیز ہےجس کے لیے تم جلدی مچارہے تھے۔
يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ
يُفْتَنُوْنَ
وہ اُس روز آئے گا جب یہ لوگ آگ پر
تپائے جائیں گے۔
کفار کا یہ سوال کہ روز جزاء کب آئے
گا، علم حاصل کرنے کے لیے نہ تھا بلکہ طعن اور استہزاء کے طور پر تھا، اس لیے ان
کو جواب اس انداز سے دیا گیا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی شخص کو بد کرداریوں
سے باز آنے کی نصیحت کرتے ہوئے اس سے کہیں
کہ ایک روز ان حرکات کا برا نتیجہ دیکھو گے، اور وہ اس پر ایک ٹھٹھا مار کر آپ سے
پوچھے کہ حضرت، آخر وہ دن کب آئے گا؟ ظاہر ہے کہ اس کا یہ سوال اس بُرے انجام کی
تاریخ معلوم کرنے کے لیے نہیں بلکہ آپ کی نصیحتوں کا مذاق اڑانے کے لیے ہو گا۔ اس
لیے اس کا صحیح جواب یہی ہے کہ وہ اس روز آئے گا جب تمہاری شامت آئے گی۔ اس کے
ساتھ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آخرت کے مسئلے پر اگر کوئی منکر آخرت
سنجیدگی کے ساتھ بحث کر رہا ہو تو وہ اس کے موافق و مخالف دلائل پر تو بات کر سکتا
ہے، مگر جب تک اس کا دماغ بالکل ہی خراب نہ ہو چکا ہو، یہ سوال وہ کبھی نہیں کر
سکتا بتاؤ، وہ آخرت کس تاریخ کو آئے گی۔اس کی طرف سے یہ سوال جب بھی ہو گا طنز اور
تمسخر کے طور پر ہی ہو گا۔ اس لیے کہ آخرت کے آنے کی تاریخ بیان کرنے اور نہ کرنے
کا کوئی اثر بھی اصل بحث پر نہیں پڑتا۔ کوئی شخص نہ اس بنا پر آخرت کا انکار کرتا
ہے کہ اس کی آمد کا سال، مہینہ اور دن نہیں بتایا گیا ہے، اور نہ یہ سن کر اس کی
آمد کو مان سکتا ہے کہ وہ فلاں سال فلاں مہینے کی
فلاں تاریخ کو آئے گی۔ تاریخ کا تعین سرے کوئی دلیل ہی نہیں ہے کہ وہ کسی
منکر کو اقرار پر آمادہ کر دے، کیونکہ اس کے بعد پھر یہ سوال پیدا ہو جاتا ہے کہ
وہ دن آنے سے پہلے آخر کیسے یہ یقین کر لیا جائے کہ اس روز واقعی آخرت برپا ہو
جائے گی۔
ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ
(اِن سے کہا جائےگا) اب چکھو مزا اپنے
فتنے کا۔
فتنے کا لفظ یہاں دو معنی دے رہا ہے۔
ایک معنی یہ ہیں کہ اپنے اس عذاب کا مزہ چکھو۔ دوسرے معنی یہ کہ اپنے اس فتنے کا
مزہ چکھو جو تم نے دنیا میں بر پا کر رکھا تھا۔ عربی زبان میں اس لفظ کے ان دونوں
مفہوموں کی یکساں گنجائش ہے۔
هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ
تَسْتَعْجِلُوْنَ۠
یہ وہی چیز ہےجس کے لیے تم جلدی
مچارہے تھے۔
کفار کا یہ پوچھنا کہ ’’آخر وہ روز
جزا کب آئے گا‘‘ اپنے اندر خود یہ مفہوم رکھتا تھا کہ اس کے آنے میں دیر کیوں لگ
رہی ہے؟ جب ہم اس کا انکار کر رہے ہیں اور اس کے جھٹلانے کی سزا ہمارے لیے لازم ہو
چکی ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتا؟ اسی لیے جہنم کی آگ میں جب وہ تپ رہے ہوں گے اس
وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔ اس فقرے سے
یہ مفہوم آپ سے آپ نکلتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ مہر بانی تھی کہ اس نے تم سے
نافرمانی کا ظہور ہوتے ہی تمہیں فوراً نہ
پکڑ لیا اور سوچنے، سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے وہ تم کو ایک لمبی مہلت دیتا رہا۔
مگر تم ایسے احمق تھے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹا یہ مطالبہ کرتے
رہے کہ یہ وقت تم پر جلدی لے آیا جائے۔ اب دیکھ لو کہ وہ کیا چیز تھی جس کے جلدی آ
جا نے کا مطالبہ تم کر رہے تھے۔
آخرت میں کفار و منافقین
اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 166، 167
سورہ طور آیات 13، 14
يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى
نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ۰۰۱۳هٰذِهِ
النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ۰۰۱۴
جس دن انہیں دھکے مار مار کر نارِ
جہنم کی طرف لے چلا جائے گا اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ”یہ
وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔
آخرت میں کفار و منافقین
اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 183
سورہ طور آیات 45تا47
فَذَرْهُمْ حَتّٰى يُلٰقُوْا
يَوْمَهُمُ الَّذِيْ فِيْهِ يُصْعَقُوْنَۙ۰۰۴۵يَوْمَ لَا
يُغْنِيْ عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْـًٔا وَّ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَؕ۰۰۴۶وَ اِنَّ
لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا
يَعْلَمُوْنَ۰۰۴۷
۔ پس اے نبیؐ ، انہیں ان کے حال پر
چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن کوپہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے، جس
دن نہ ان کی اپنی کوئی چال ان کے کسی کام آئے گی نہ کوئی ان کی مدد کو آئے گا۔ اور
اس وقت کے آنے سے پہلے بھی ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے ،مگر ان میں سے اکثر جانتے
نہیں ہیں
یہ اسی مضمون کا اعادہ ہے جو سورہ
السجدہ، آیت 21 میں گزر چکا ہے کہ ’’ اس بڑے عذاب سے پہلے ہم اسی دنیا میں کسی نہ
کسی چھوٹے عذاب کا مزا انہیں چکھاتے رہیں گے ، شاید کہ یہ اپنی باغیانہ روش سے باز
آ جائیں ‘‘۔ یعنی دنیا میں وقتاً فوقتاً شخصی اور قومی مصیبتیں نازل کر کے ہم انہیں
یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ اوپر بالا تر طاقت ان کی قسمتوں کے فیصلے کر رہی ہے اور
کوئی اس کے فیصلوں کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ مگر جو لوگ جہالت میں مبتلا ہیں
انہوں نے نہ پہلے کبھی ان واقعات سے سبق لیا ہے نہ آئندہ کبھی لیں گے ۔وہ دنیا میں
رونما ہونے والے حوادث کے معنی نہیں سمجھتے ، اس لیے ان کی ہر وہ تاویل کرتے ہیں
جو حقیقت کے فہم سے ان کو اور زیادہ دور لے جانے والی ہو، اور کسی ایسی تاویل کی
طرف ان کا ذہن کبھی مائل نہیں ہوتا جس سے اپنی دہریت یا اپنے شرک کی غلطی ان پر
واضح ہو جائے۔ یہی بات ہے جو ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد
فرمائی ہے کہ : ان المنافق اذا مرض تم اعفی کان کالبعیر عقل اھلہ تم ارسلوہ فَلَمْ
یدرلِمَ عقلوہ ولم ید ر لِمَ ارسلوہ (ابو داؤد، کتاب الجنائز) یعنی ’’ منافق جب بیمار
پڑتا ہے اور پھر اچھا ہو جاتا ہے تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہوتی ہے جسے اس کے
مالکوں نے باندھا تو اس کی کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیوں باندھا ہے اور جب کھول دیا
تو وہ کچھ نہ سمجھا کہ کیوں کھول دیا ہے
آخرت میں کفار و منافقین
اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 240
سورہ قمر آیات 46تا48
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ
وَ السَّاعَةُ اَدْهٰى وَ اَمَرُّ۰۰۴۶اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ ضَلٰلٍ
وَّ سُعُرٍۘ۰۰۴۷يَوْمَ
يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ١ؕ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۰۰۴۸
بلکہ اِن سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا
وقت تو قیامت ہےاور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے۔ یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط
فہمی میں مبتلا ہیں اور اِن کی عقل ماری گئی ہے۔ جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے
جائیں گے اُس روز اِن سے کہا جائے گا کہ
اب چکھو جہنّم کی لَپٹ کا مزا۔
آخرت میں کفار و منافقین
اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 264، 265
سورہ رحمان آیات 41تا45
يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ
بِسِيْمٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِيْ وَ الْاَقْدَامِۚ۰۰۴۱فَبِاَيِّ
اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۰۰۴۲هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيْ
يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُوْنَۘ۰۰۴۳يَطُوْفُوْنَ
بَيْنَهَا وَ بَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍۚ۰۰۴۴فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِؒ۰۰۴۵
مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے
جائیں گے اور انہیں پیشانی کے با ل اور پاؤں
پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ اُس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ
گے؟(اُس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے۔ اسی
جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ
گردش کرتے رہیں گے۔ پھر اپنے رب کی کن کن
قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟
يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَ
بَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍۚ
اسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے
یعنی جہنم میں بار بار پیاس کے مارے
ان کا برا حال ہوگا، بھاگ بھاگ کر پانی کے چشموں کی طرف جائیں گے، مگر وہاں کھولتا
ہوا پانی ملے گا جس کے پینے سے کوئی پیاس نہ بجھے گی۔ اس طرح جہنم اور ان چشموں کے
درمیان گردش کرنے ہی میں ان کی عمریں بیت جائیں گی۔
فَبِاَيِّ اٰلَآءِ
رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِؒ
پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم
جھٹلاؤ گے
یعنی یا اس وقت بھی تم اس کا انکار کر
سکو گے کہ خدا قیامت لا سکتا ہے، تمہیں موت کے بعد دوسری زندگی دے سکتا ہے،تم سے
باز پرس بھی کر سکتا ہے، اور یہ جہنم بھی بنا سکتا ہے جس میں آج تم سزا پا رہے ہو؟
آخرت میں کفار و منافقین
اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 282تا284
سورہ واقعہ آیات 41تا46
وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬
مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ۰۰۴۱فِيْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِيْمٍۙ۰۰۴۲وَّ ظِلٍّ مِّنْ
يَّحْمُوْمٍۙ۰۰۴۳لَّا
بَارِدٍ وَّ لَا كَرِيْمٍ۰۰۴۴اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ
مُتْرَفِيْنَۚۖ۰۰۴۵وَ
كَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيْمِۚ۰۰۴۶
اور بائیں بازو والے ، بائیں بازو
والوں کی بد نصیبی کا کیا پُوچھنا۔ وہ لُو کی لَپَٹ اور کَھولتے ہوئے پانی اور
کالے دُھوئیں کے سائے میں ہو ں گے جو نہ ٹھنڈا ہو گا نہ آرام دہ۔ یہ وہ لوگ ہوں گے
جو اِس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے اور گناہِ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔
یعنی خوشحالی نے ان پر الٹا اثر کیا
تھا۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہونے کے بجائے وہ الٹے کافر نعمت ہو گئے تھے۔ اپنی
لذات نفس میں منہمک ہو کر خدا کو بھول گئے تھے۔ اور گناہ عظیم پر مصر تھے۔’’گناہ
عظیم‘‘ کا لفظ جامع ہے۔ اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال
کا ہر بڑا گناہ بھی۔
آخرت میں کفار و منافقین
اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 311تا313
سورہ حدید آيات 13تا15
يَوْمَ يَقُوْلُ
الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ
مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِيْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ
فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَ
ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ۰۰۱۳يُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ
مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ
تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِيُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ
اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ۰۰۱۴فَالْيَوْمَ لَا
يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ
النَّارُ١ؕ هِيَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِيْرُ۰۰۱۵
اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا
حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا
ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نُور سے کچھ فائدہ اُٹھائیں، مگر ان سے کہا جائے گا پیچھے ہٹ جاؤ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو۔ پھر
ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی
جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ وہ مومنوں
سے پکار پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، موقع پرستی کی، شک میں پڑے رہے، اور جُھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا، اور آخر وقت تک
وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے معاملہ میں
دھوکا دیتارہا۔لہذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ اُن لوگو ں سے جنہوں نے کُھلا کُھلا
کُفر کیا تھا۔ تمہارا ٹھکانا جہنم ہے، وہی
تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین
انجام ہے۔
انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ
نُّوْرِكُمْ
ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے
نُور سے کچھ فائدہ اُٹھائیں
مطلب
یہ ہے کہ اہل ایمان جب جنت کی طرف جا رہے
ہونگے تو روشنی ان کے آگے ہو گی اور پیچھے منافقین اندھیرے میں ٹھوکریں کھا
رہے ہونگے ۔ اس وقت وہ ان اہل ایمان کو جو دنیا میں ان کے ساتھ ایک ہی مسلم معاشرے
میں رہتے تھے ، پکار پکار کر کہیں گے کہ ذرا ہماری طرف پلٹ کر دیکھو تاکہ ہمیں بھی
کچھ روشنی مل جائے۔
فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ
لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ
الْعَذَابُؕ
پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ
ہوگا۔ اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل جنت اس
دروازے سے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور دروازہ بند کر دیا جائیگا۔ دروازے کے ایک
طرف جنت کی نعمتیں ہونگی، اور دوسری طرف دوزخ کا عذاب۔ منافقین کے لیے اس حد فاصل
کو پار کرنا ممکن نہ ہو گا جو ان کے اور جنت کے درمیان حائل ہو گی۔
يُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ
نَكُنْ مَّعَكُمْ
وہ مومنوں سے پکار پکار کر
کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے
یعنی کیا ہم تمہارے ساتھ ایک ہی مسلم
معاشرے میں شامل نہ تھے ؟ کیا ہم کلمہ گو نہ تھے ؟ کیا تمہاری طرح ہم بھی نمازیں
نہ پڑھتے تھے ؟ روزے نہ رکھتے تھے ؟ حج اور زکوٰۃ ادا نہ کرتے تھے ؟ کیا تمہاری
مجلسوں میں ہم شریک نہ ہوتے تھے ؟ تمہارے ساتھ ہمارے شادی بیاہ اور رشتہ داری کے
تعلقات نہ تھے ؟ پھر آج ہمارے اور تمہارے درمیان یہ جدائی کیسی پڑگئی؟
قَالُوْا بَلٰى وَ
لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ
مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے
اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا
یعنی مسلمان ہو کر بھی تم مخلص مسلمان
نہ بنے ، ایمان اور کفر کے درمیان لٹکتے رہے ، کفر اور کفار سے تمہاری دلچسپیاں
کبھی ختم نہ ہوئیں ، اور اسلام سے تم نے کبھی اپنے آپ کو پوری طرح وابستہ نہ کیا۔
وَ تَرَبَّصْتُمْ
موقع پرستی کی
اصل الفاظ ہیں تَرَبَّصْتُمْ۔
تَرَبُّص عربی زبان میں انتظار کرنے اور موقع کی تلاش میں ٹھیرے رہنے کو کہتے ہیں
۔ جب کوئی شخص دو راستوں میں سے کسی ایک پر جانے کا قطعی فیصلہ نہ کرے ، بلکہ اس
فکر میں کھڑا ہو کہ جدھر جانا مفید ہوتا نظر آئے اسی طرف چل پڑے ، تو کہا جائے گا
کہ وہ تربص میں مبتلا ہے ۔ منافقین نے کفر و اسلام کی کشمکش کے اس نازک دور میں یہی
رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ وہ نہ کھل کر کفر
کا ساتھ دے رہے تھے ، نہ پورے اطمینان کے ساتھ اپنی طاقت اسلام کی نصرت و
حمایت میں صرف کر رہے تھے ۔ بس اپنی جگہ بیٹھے یہ دیکھ رہے تھے کہ اس قوت آزمائی میں
آخر کار پلڑا کدھر جھکتا ہے ، تاکہ اسلام کامیاب ہوتا نظر آئے تو اس کی طرف جھک
جائیں اور اس وقت مسلمانوں کے ساتھ کلمہ گوئی کا تعلق ان کے کام آئے، اور کفر کو
غلبہ حاصل ہو تو اس کے حامیوں سے جا ملیں اور اسلام کی طرف سے جنگ میں کسی قسم کا
حصہ نہ لینا اس وقت ان کے حق میں مفید ثابت ہو۔
وَ ارْتَبْتُم
شک میں پڑے رہے
اس سے مراد مختلف قسم کے شکوک میں جو
ایک منافق کو لاحق ہوتے ہیں ، اور وہی اس کی منافقت کا اصل سبب ہوا کرتے ہیں ۔ اسے
خدا کی ہستی میں شک ہوتا ہے ۔ قرآن کے کتاب اللہ ہونے میں شک ہوتا ہے ۔ آخرت اور
وہاں کی باز پرس اور جزا و سزا میں شک ہوتا ہے اور اس امر میں شک ہوتا ہے کہ حق
اور باطل کا یہ جھگڑا واقعی کوئی حقیقت بھی رکھتا ہے یا یہ سب محض ڈھکوسلے ہیں اور
اصل چیز بس یہ ہے کہ خوش باش دمے کہ زندگانی این است۔ کوئی شخص جب تک ان شکوک میں
مبتلا نہ ہو وہ کبھی منافق نہیں ہو سکتا۔
وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِيُّ
حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ
اور جُھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں یہاں
تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا
اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں ۔ ایک کہ
تم کو موت آ گئی اور مرتے دم تک تم اس فریب سے نہ نکلے ۔ دوسرے یہ کہ اسلام کو
غلبہ نصیب ہو گیا اور تم تماشا دیکھتے رہ گئے ۔
وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ
الْغَرُوْرُ
اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز تمہیں
اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتارہا
مراد ہے شیطان۔
وَّ لَا مِنَ الَّذِيْنَ
كَفَرُوْا
جنہوں نے کُھلا کُھلا کُفر کیا تھا
یہاں اس امر کی تصریح ہے کہ آخرت میں
منافق کا انجام وہی ہو گا جو کافر کا ہو گا۔
هِيَ مَوْلٰىكُمْ
وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے
اصل الفاظ ہیں هِيَ
مَوْلٰىكُمْ ، ’’ دوزخ ہی تمہاری مولیٰ ہے ‘‘ اس کے دو
مطلب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ وہی تمہارے لیے موزوں جگہ ہے ۔ دوسرا یہ کہ اللہ کو
تو تم نے اپنا مولیٰ بنایا نہیں کہ وہ تمہاری خبر گیری کرے ، اب تو دوزخ ہی تمہاری
مولیٰ ہے ، وہی تمہاری خوب خبر گیری کرے گی۔
آخرت میں کفار و منافقین
اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 520
سورہ منافقون آیت 6
سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ
اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ
لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۰۰۶
اے نبیؐ ، تم چاہے ان کے لیے مغفرت کی دُعا کرو یا نہ
کرو، ان کے لیے یکساں ہے، اللہ ہر گز انہیں معاف نہ کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہر گز ہدایت نہیں دیتا۔
لَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ
لَهُمْ
اللہ ہر گز انہیں معاف نہ کرے گا
یہ بات سورہ توبہ میں (جو سورہ
منافقون کے تین سال بعد نازل ہوئی ہے ) اور زیادہ تاکید کے ساتھ فرما دی گئی۔ اس میں
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو مخاطب کر کے منافقین کے متعلق
فرمایا کہ ’’ تم چاہے ان کے لیے استغفار کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر(70) مرتبہ بھی
ان کے لیے دعائے مغفرت کرو گے تو اللہ ان
کو ہر گز معاف نہ کرے گا۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا
ہے ، اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ’’ (التوبہ۔ آیت 80)۔ آگے چل کر
پھر فرمایا’’ اگر ان میں سے کوئی مر جائے
تو اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔ ان
لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے اور یہ فاسق ہونے کی حالت میں مرے ہیں
‘‘(التوبہ۔ آیت 84)۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي
الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۰۰۶
اللہ فاسق لوگوں کو ہر گز ہدایت نہیں
دیتا
اس آیت میں دو مضمون بیان کیے گئے ہیں۔
ایک یہ کہ دعائے مغفرت صرف ہدایت یافتہ لوگوں ہی کے حق میں مفید ہو سکتی ہے۔ جو
شخص ہدایت سے پھر گیا ہو اور جس نے اطاعت کے بجائے فسق و نا فرمانی کی راہ اختیار
کر لی ہو، اس کے لیے کوئی عام آدمی تو در کنار، خود اللہ کا رسول بھی مغفرت کی دعا
کرے تو اسے معاف نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے یہ کہ ایسے لوگوں کو ہدایت بخشنا اللہ کا
طریقہ نہیں ہے جو اس کی ہدایت کے طالب نہ ہوں۔اگر ایک بندہ خود اللہ تعالیٰ کی ہدایت
سے منہ موڑ رہا ہو، بلکہ ہدایت کی طرف اسے بلایا جائے تو سر جھٹک کر غرور کے ساتھ
اس دعوت کو رد کر دے ، تو اللہ کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ اس کے پیچھے پیچھے اپنی ہدایت
لیے پھرے اور خوشامد کرے اسے راہ راست پر لائے۔
آخرت میں کفار و منافقین
اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 538تا541
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ
سورہ تغابن آیات 8، 9
فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ
رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِيْۤ اَنْزَلْنَا١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ
خَبِيْرٌ۰۰۸يَوْمَ
يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ
پس ایمان لاؤ اللہ پر، اور اُس کے
رسُول پر ، اور اُس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے۔ (اِس
کا پتہ تمہیں اُس روز چل جائے گا) جب اجتماع کے دن وہ تم سب کواکٹھا کرے گا۔ وہ دن ہوگا ایک دُوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی
ہار جیت کا
اصل میں لفظ یَوْمُ التَّغابُنِ
استعمال ہوا ہے جس کے معنی میں اتنی وسعت ہے کہ اردو زبان تو کیا، کسی دوسرے زبان
کے بھی ایک لفظ، بلکہ ایک فقرے میں اس کا مفہوم ادا نہیں کیا جا سکتا۔ خود قرآن مجید
میں بھی قیامت کے جتنے نام آئے ہیں ، ان میں غالباً سب سے زیادہ پُر معنی نام یہی
ہے۔ اس لیے اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے تھوڑی سی تشریح ناگزیر ہے۔
تغابُن غبْن سے ہے جس کا تلفظ غَبْن
بھی ہے اور غَبَن بھی۔ غَبْن زیادہ تر خرید و فروخت اور لین دین کے معاملہ میں
بولا جاتا ہے اور غَبَن رائے کے معاملہ میں۔ لیکن کبھی کبھی اس کے بر عکس بھی
استعمال ہوتا ہے۔ لغت میں اس کے متعدد معنی بیان کیے ہیں : غَبَنُوا خَبَرالنَّاقَۃ،
’’ ان لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ ان کی اونٹنی کہاں گئی‘‘۔ غَبَنَ فُلَاناً فِی
الْبَیْعِ، ’’ اس نے فلاں شخص کو خرید و فروخت میں دھوکا دے دیا’’۔ اس نے فلاں شخص
کو گھاٹا دے دیا ‘‘۔ غَبِنْتُ مِنْ حَقِّ عِنْدِ فلانٍ، ’’ فلاں شخص سے اپنا حق
وصول کرنے میں مجھ سے بھول ہو گئی ‘‘ غَبِیْن، ’’ وہ شخص جس میں ذہانت کی کمی ہو
اور جس کی رائے کمزور ہو‘‘ مَغْبُوْن، ’’ وہ شخص جو دھوکا کھا جائے‘‘۔ الغبن،
الغفلۃ، النسیان، فوت الحظ، ان یبخس صاحبک فی معاملۃ بینک و بینہ لضرب من الاخفاء،
’’ غبن کے معنی ہیں غفلت، بھول،اپنے حصے سے محروم رہ جانا، ایک شخص کا کسی غیر
محسوس طریقے سے کارو بار یا باہمی معاملہ میں دوسرے کو نقصان دینا‘‘۔ امام حسن بصریؒ
نے دیکھا کہ ایک شخص دوسرے کو بیع میں دھوکا دے رہا ہے تو فرمایا ھٰذٰا یغبن عقلک
’’ یہ شخص تجھے بیوقوف بنا رہا ہے ‘‘۔
اس سے جب لفظ تغابُن بنایا جائے تو اس
میں دو یا زائد آدمیوں کے درمیان غبن واقع ہونے کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے۔ تَغَا
بَنَ الْقَوْمُ کے معنی ہیں بعض لوگوں کا بعض لوگوں کے ساتھ غبن کا معاملہ کرنا۔ یا
ایک شخص کا دوسرے کو نقصان پہنچانا اور دوسرے کا اس کے ہاتھوں نقصان اٹھا جانا۔ یا
ایک کا حصہ دوسرے کو مل جانا اور اس کا اپنے حصے سے محروم رہ جانا۔ یا تجارت میں ایک
فریق کا خسارہ اٹھانا اور دوسرے فریق کا نفع اٹھا لے جانا۔ یا کچھ لوگوں کا کچھ
دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں غافل یا ضعیف الرائے ثابت ہونا۔
اب اس بات پر غور کیجیے کہ آیت میں قیامت
کے متعلق فرمایا گیا ہے ذٰلِکَ یَوْ مُ التَّغَابُنِ،’’وہ دن ہو گا تغابن کا ‘‘۔
ان الفاظ سے خود بخود یہ مفہوم نکلتا ہے کہ دنیا میں تو شب و روز تغابن ہوتا ہی
رہتا ہے ، لیکن یہ تغابن ظاہری اور نظر فریب ہے ، اصل اور حقیقی تغابن نہیں ہے۔
اصل تغابن قیامت کے روز ہو گا۔ وہاں جاکر
پتہ چلے گا کہ اصل میں خسارہ کس نے اٹھایا اور کون نفع کما لے گیا۔ اصل میں
کس کا حصہ کسے مل گیا اور کون اپنے حصے سے محروم رہ گیا۔ اصل میں دھوکا کس نے کھایا
اور کون ہوشیار نکلا۔اصل میں کس نے اپنا تمام سرمایۂ حیات ایک غلط کاروبار میں
کھپا کر اپنا دیوالہ نکال دیا، اور کس نے اپنی قوتوں اور قابلیتوں اور مساعی اور
اموال اور اوقات کو نفع کے سودے پر لگا کر وہ سارے فائدے لوٹ لیے جو پہلے شخص کو
بھی حاصل ہو سکتے تھے اگر وہ دنیا کی حقیقت سمجھنے میں دھوکا نہ کھاتا۔
مفسرین نے یوم التغابن کی تفسیر کرتے
ہوئے اس کے متعدد مطلب بیان کیے ہیں جو سب کے سب صحیح ہیں اور اس کے معنی کے مختلف
پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اس روز
اہل دوزخ جنتیوں کا وہ حصہ لوٹ لیں گے جو انہیں دوزخ میں ملتا اگر انہوں نے دنیا میں
دوزخیوں کے سے کام کیے ہوتے۔ اس مضمون کی تائید بخاری کی وہ حدیث کرتی ہے جو انہوں
نے کتاب الرِقاق میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ حضورؐ نے فرمایا’’ جو شخص
بھی جنت میں جائے گا اسے وہ مقام دکھادیا جائے گا جو اسے دوزخ میں ملتا اگر وہ بُرا
عمل کرتا، تاکہ وہ اور زیادہ شکر گزار ہو۔ اور جو شخص بھی دوزخ میں جائے گا اسے وہ
مقام دکھا دیا جائے گا جو اسے جنت میں ملتا اگر اس نے نیک عمل کیا ہوتا، تاکہ اسے
اور زیادہ حسرت ہو ‘‘
بعض اور مفسرین کہتے ہیں کہ اس روز
ظالم کی اتنی نیکیاں مظلوم لوٹ لے جائے گا جو اس کے ظلم کا بدلہ ہو سکیں ، یا
مظلوم کے اتنے گناہ ظالم پر ڈال دیے جائیں گے جو اس کے حق کے برابر وزن رکھتے ہوں۔
اس لیے کہ قیامت کے روز آدمی کے پاس کوئی مال و زر تو ہو گا نہیں کہ وہ مظلوم کا
حق ادا کرنے کے لیے کوئی ہرجانہ یا تاوان دے سکے۔ وہاں تو بس آدمی کے اعمال ہی ایک
زر مبادلہ ہوں گے۔ لہٰذا جس شخص نے دنیا میں کسی پر ظلم کیا ہو وہ مظلوم کا حق اسی
طرح ادا کر سکےگا کہ اپنے پلے میں جو کچھ بھی نیکیاں رکھتا ہو ان میں سے اس کا
تاوان ادا کرے ، یا مظلوم کے گناہوں میں سے کچھ اپنے اوپر لے کر اس کا جرمانہ
بھگتے۔ یہ مضمون بھی متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہے۔
بخاری، کتاب الرقاق میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا، ’’ جس
شخص کے ذمہ اپنے کسی بھائی پر کسی قسم کے ظلم کا بار ہو اسے چاہیے کہ یہیں اس سے
سبکدوش ہولے ، کیونکہ آخرت میں دینار و درہم تو ہونگے ہی نہیں۔ وہاں اس کی نیکیوں
میں سے کچھ لے کر مظلوم کو دلوائی جائیں گی، یا اگر اس کے پاس نیکیاں کافی نہ ہوں
تو مظلوم کے کچھ گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے ‘‘۔ اسی طرح مسند احمد میں حضرت جابر
بن عبداللہ بن اُنیس کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا ’’ کوئی جنتی جنت میں اور کوئی
دوزخی دوزخ میں اس وقت تک نہ جا سکے گا جب تک کہ اس ظلم کا بدلہ نہ چکا دیا جائے
جو اس نے کسی پر کیا ہو، حتیٰ کہ ایک تھپڑ کا بدلہ بھی دینا ہو گا‘‘۔ ہم نے عرض کیا
کہ یہ بدلہ کیسے دیا جائے گا جبکہ قیامت میں ہم ننگے بُچّے ہوں گے ؟ فرمایا ’’
اپنے اعمال کی نیکیوں اور بدیوں سے بدلہ چکانا ہو گا‘‘۔ مسلم اور مسند احمد میں
حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ حضورؐ نے ایک مرتبہ اپنی مجلس میں لوگوں سے پوچھا،
’’ جانتے ہو مفلس کون ہوتا ہے ؟ ‘‘ لوگوں نے عرض کیا ہم میں سے مفلس وہ ہوتا ہے جس
کے پاس مال متاع کچھ نہ ہو۔ فرمایا ’’میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز
نماز اور روزہ اور زکوٰۃ ادا کر کے حاضر ہوا ہو، مگر اس حال میں آیا ہو کہ کسی کو
اس نے گالی دی تھی اور کسی پر بہتان لگایا تھا اور کسی کا مال مار کھایا تھا اور
کسی کا خون بہایا تھا اور کسی کو مارا پیٹا تھا۔ پھر ان سب مظلوموں میں سے ہر ایک
پر اس کی نیکیاں لے لے کر بانٹ دی گئیں۔
اور جب نیکیوں میں سے کچھ نہ بچا جس سے ان کا بدلہ چکا یا جا سکے تو ان میں
سے ہر ایک کے کچھ کچھ گناہ لے کر اس پر ڈال دیے گئے، اور وہ شخص دوزخ میں پھینک دیا
گیا‘‘۔ ایک اور حدیث میں ، جسے مسلم اور ابو داؤد نے حضرت بُریدہ سے نقل کیا ہے ، حضورؐ نے فرمایا کہ ’’ کسی
مجاہد کے پیچھے اگر کسی شخص نے اس کی بیوی اور
اس کے گھر والوں کے معاملہ میں خیانت کی تو قیامت کے روز وہ اس مجاہد کے
سامنے کھڑا کر دیا جائے گا اور اس کو کہا جائے گا کہ اس کی نیکیوں میں سے جو کچھ
تو چاہے لے لے ’’ پھر حضورؐ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا ’’ پھر تمہارا کیا خیال
ہے ‘‘؟ یعنی تم کیا اندازہ کرتے ہو کہ وہ اس کے پاس کیا چھوڑ دے گا؟
بعض اور مفسرین نے کہا ہے کہ تغابن کا
لفظ زیادہ تر تجارت کے معاملہ میں بولا
جاتا ہے۔ اور قرآن مجید میں جگہ جگہ اس رویے کو جو کافر اور مومن اپنی دنیا کی
زندگی میں اختیار کرتے ہیں ، تجارت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مومن اگر نافرمانی کا
راستہ چھوڑ کر اطاعت اختیار کرتا ہے اور اپنی جان، مال اور محنتیں خدا کے راستے میں
کھپا دیتا ہے تو گویا وہ گھاٹے کا سودا چھوڑ کر ایک ایسی تجارت میں اپنا سرمایہ
لگا رہا ہے جو آخر کار نفع دینے والی ہے۔ اور ایک کافر اگر اطاعت کی راہ چھوڑ کر
خدا کی نا فرمانی اور بغاوت کی راہ میں اپنا سب کچھ لگا دیتا ہے تو گویا وہ ایک ایسا
تاجر ہے جس نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ہے اور آخر کار وہ اس کا خسارہ اٹھانے
والا ہے۔ دونوں کا نفع اور نقصان قیامت کے روز ہی کھلے گا۔ دنیا میں یہ ہو سکتا ہے
کہ مومن سراسر گھاٹے میں رہے اور کافر بڑے فائدے حاصل کرتا ہے۔ مگر آخرت میں جا کر
معلوم ہو جائے گا کہ اصل میں نفع کا سودا کس نے کیا ہے اور نقصان کا سودا کس نے۔
ایک اور سورت تغابن کی یہ بھی ہے کہ
دنیا میں لوگ کفر و فسق اور ظلم و عصیان پر بڑے اطمینان سے آپس میں تعاون کرتے
رہتے ہیں اور یہ اعتماد رکھتے ہیں کہ ہمارے درمیان بڑی گہری محبت اور دوستی ہے۔ بد
کردار خاندانوں کے افراد، ضلالت پھیلانے والے پیشوا اور ان کے پیرو، چوروں اور
ڈاکوؤں کے جتھے ، رشوت خور اور ظالم افسروں اور ملازمین کے گٹھ جوڑ، بے ایمان
تاجروں ، صنعت کاروں اور زمینداروں کے گروہ، گمراہی اور شرارت و خباثت برپا کرنے
والی پارٹیاں اور بڑے پیمانے پر ساری دنیا میں ظلم و فساد کی علمبردار حکومتیں اور
قومیں ، سب کا باہمی ساز باز اسی اعتماد پر قائم ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ
تعلق رکھنے والے افراد اس گمان میں ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے بڑے اچھے رفیق ہیں اور
ہمارے درمیان بڑا کامیاب تعاون چل رہا ہے۔ مگر جب یہ لوگ آخرت میں پہنچیں گے تو ان
پر یکایک یہ بات کھلے گی کہ ہم سب نے بہت بڑا دھوکا کھایا ہے۔ ہر ایک یہ محسوس کرے
گا کہ جسے میں اپنا بہترین باپ بھائی، بیوی، شوہر، اولاد، دوست، رفیق، لیڈر، پیر،
مرید، یا حامی و مدد گار سمجھ رہا تھا وہ در اصل میرا بد ترین دشمن تھا۔ ہر رشتہ
داری اور دوستی اور عقیدت و محنت، عداوت میں تبدیل ہو جائے گی۔ سب ایک دوسرے کو
گالیاں دیں گے ، ایک دوسرے پر لعنت کریں گے ، اور ہر ایک یہ چاہے گا کہ اپنے جرائم
کی زیادہ سے زیادہ ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر اسے سخت سے سخت سزا دلوائے۔
آخرت میں کفار و منافقین اور مجرمین
کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد
پنجم – آخرت
صفحہ
آخرت میں کفار و منافقین
اور مجرمین کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 580
سورہ طلاق آیات 8، 9
وَ كَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ
عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِيْدًا١ۙ وَّ
عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا۰۰۸فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ
كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا۰۰۹
کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب
اور اُس کے رسُولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے اُن سے سخت محاسبہ کیا اور اُن کو بُری طرح سزا دی۔ انہوں نے اپنے کیے
کا مزا چکھ لیا اور اُن کا انجامِ کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے، اللہ نے (آخرت میں) اُن
کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
اب مسلمانوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ
اللہ کے رسول اور اس کی کتاب کے ذریعہ سے جو احکام ان کو دیے گئے ہیں ان کی اگر وہ
نافرمانی کریں گے تو دنیا اور آخرت میں کس انجام سے دوچار ہونگے ، اور اگر اطاعت کی
راہ اختیار کریں گے تو کیا جزا پائیں گے ۔
Comments
Post a Comment