آخرت میں اس امر حق کو سب دیکھ رہے ہوں گے جس کا اب انکار کیا جاتا ہے

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آخرت میں اس امر حق کو سب دیکھ رہے ہوں گے جس کا اب انکار کیا جاتا ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت

صفحہ  127

سورہ ق آیت 42

يَّوْمَ يَسْمَعُوْنَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ

جس دن سب لوگ آوازہٴ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے

سورۃ ق حاشیہ نمبر۵۳

اصل الفاظ ہیں يَسْمَعُوْنَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ سب لوگ امِر حق کی پکار کو سن رہے ہوں گے۔ دوسرے یہ کہ آواز حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے۔ پہلے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ لوگ اسی امر حق کی پکار کو اپنے کانوں سے سن رہے  ہوں گے جس کو دنیا میں وہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے، جس سے انکار کرنے پر انہیں اصرار تھا، اور جس کی خبر دینے والے پیغمبروں کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ دوسرے معنی کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ وہ یقینی طور پر یہ آوازہ حشر سنیں گے، انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ یہ کوئی وہم نہیں ہے بلکہ واقعی یہ آوازہ حشر ہی ہے، کوئی شبہ انہیں اس امر میں نہ رہے گا کہ جس حشر کی انہیں خبر دی گئی تھی وہ آگیا ہے اور یہ اسی کی پکار بلند ہو رہی ہے۔

منکرین آخرت کو دھکے مار مار کر جہنم میں داخل کیا  جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے، اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے۔

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت

صفحہ 166-167

سورہ طور  آیات 11-14

فَوَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَۙ۰۰۱۱الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ خَوْضٍ يَّلْعَبُوْنَۘ۰۰۱۲يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ۰۰۱۳هٰذِهِ النَّارُ الَّتِيْ كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ۰۰۱۴

تباہی ہے اُس روز اُن جُھٹلانے والوں کے لیے جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجّت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں۔  جس دن انہیں دھکے مار مار کر نارِ جہنم  کی طرف  لے چلا جائے گا اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ”یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے، اب بتاؤیہ جادُو ہے یا تمھیں سُوجھ نہیں رہا ہے؟  جاؤ اب جُھلسو اِس کے اندر ، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو ، تمہارے لیے یکساں ہے، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جار ہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے۔

حجّت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں

سورۃ الطور حاشیہ نمبر۹

مطلب یہ ہے کہ نبی سے قیامت اور آخرت اور جنت و دوزخ کی خبریں سن کر انہیں مذاق کا موضوع بنا رہے ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ ان پر غور کرنے کے بجائے محض تفریحاً ان پر باتیں چھانٹ رہے ہیں ۔آخرت پر ان کی بحثوں کا مقصود حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں ہے ، بلکہ ایک کھیل ہے جس سے یہ دل بہلاتے ہیں اور انہیں کچھ ہوش نہیں ہے کہ فی الواقع یہ کس انجام کی طرف چلے جا رہے ہیں ۔

 

اب بتاؤیہ جادُو ہے یا تمھیں سُوجھ نہیں رہا ہے؟

سورۃ الطور حاشیہ نمبر۱۰

یعنی دنیا میں جب رسول تمہیں اس جہنم کے عذاب سے ڈراتے تھے تو تم کہتے تھے کہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے جس سے ہمیں بے وقوف بنایا جا رہا ہے ۔ اب بولو، یہ جہنم جو تمہارے سامنے ہے یہ اسی جادو کا کرشمہ ہے یا اب بھی تمہیں نہ سوجھا کہ واقعی اسی جہنم سے تمہارا پالا پڑ گیا ہے جس کی خبر تمہیں دی جا رہی تھی؟

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں