سابقین کے لیے نعمتیں
بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سابقین کے لیے نعمتیں
فہرست موضوعات –تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 278تا280، 295
سورہ واقعہ آیات 10تا26
وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ۰۰۱۰اُولٰٓىِٕكَ
الْمُقَرَّبُوْنَ۠ۚ۰۰۱۱فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۰۰۱۲ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَۙ۰۰۱۳وَ قَلِيْلٌ
مِّنَ الْاٰخِرِيْنَؕ۰۰۱۴عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ۰۰۱۵مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ۰۰۱۶يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ۰۰۱۷بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِيْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۙ۰۰۱۸لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا يُنْزِفُوْنَۙ۰۰۱۹وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَۙ۰۰۲۰وَ لَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَؕ۰۰۲۱وَ حُوْرٌ عِيْنٌۙ۰۰۲۲كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ۰۰۲۳جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۴لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًاۙ۰۰۲۵اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا۰۰۲۶
اور آگے والے تو پھر
آگے والے ہی ہیں۔ وہی تو مُقَرَّب لوگ ہیں۔ نعمت بھری جنّتوں میں رہیں گے۔ اگلوں میں
سے بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے کم۔
مرصّع تختوں پر تکیے لگائے آمنے
سامنے بیٹھیں گے۔ اُن کی مجلسوں میں اَبَدی لڑکے
شرابِ چشمہٴ جاری سے لبریز پیالے اور کنٹر اور ساغر لیے دوڑتے پھرتے ہونگے
جسے پی کر نہ ان کا سر چکرائے گا نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا۔ اوروہ اُن کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں
گے کہ جسے چاہیں چُن لیں، اور پرندوں کا گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندےکا چاہیں
استعمال کریں۔ اور ان کے لیے خوبصورت
آنکھوں والی حُوریں ہونگی، ایسی حسین جیسے چُھپا کر رکھے ہوئے موتی۔ یہ سب کچھ اُن اعمال کی جزا کے طور پر انہیں
ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔ وہاں وہ کوئی بیہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ
سنیں گے ۔ جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی۔
وَ
السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ
اور آگے والے تو پھر
آگے والے ہی ہیں۔
سابقین (آگے والوں )
سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیکی اور حق پرستی میں سب پر سبقت لے گئے ہوں، بھلائی کے ہر
کام میں سب سے آگے ہوں، خدا اور رسول کی پکار پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے ہوں،
جہاد کا معاملہ ہو یا انفاق فی سبیل اللہ کا یا خدمت خلق کا یا دعوت خیر اور تبلیغ
حق کا، غرض دنیا میں بھلائی پھیلانے اور برائی مٹانے کے لیے ایثار و قربانی اور
محنت و جانفشانی کا جو موقع بھی پیش آئے اس میں وہی آگے بڑھ کر کام کرنے والے ہوں۔
اس بنا پر آخرت میں بھی سب سے آگے وہی رکھے جائیں گے۔ گویا وہاں اللہ تعالیٰ کے
دربار کا نقشہ یہ ہوگا کہ دائیں بازو میں صالحین، بائیں بازو میں فاسقین، اور سب
سے آگے بارگاہ خداوندی کے قریب سابقین۔ حدیث میں حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں سے پوچھا’’ جانتے ہو قیامت کے روز کون لوگ سب
سے پہلے پہنچ کر اللہ کے سایہ میں جگہ پائیں گے؟‘‘ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اللہ
کا رسول ہی زیادہ جانتا ہے۔ فرمایا الذین اذا اعطو االحق قبلوہ، واذا سُئِلوہ بذلوہ، وحکمو االناس کحکمہم لا نفسہم، ’’ وہ جن
کا حال یہ تھا کہ جب ان کے آگے حق پیش کیا گیا انہوں نے قبول کر لیا، جب ان سے حق
مانگا گیا انہوں نے ادا کر دیا، اور دوسروں کے معاملہ میں ان کا فیصلہ وہی کچھ تھا
جو خود اپنی ذات کے معاملہ میں تھا۔ ‘‘ (مسند احمد)۔
اُولٰٓىِٕكَ
الْمُقَرَّبُوْنَ۠ۚ۰۰۱۱
وہی تو مُقَرَّب لوگ
ہیں۔
فِيْ جَنّٰتِ
النَّعِيْمِ۰۰۱۲ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَۙ۰۰۱۳وَ قَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَؕ۰۰۱۴
نعمت بھری جنّتوں میں
رہیں گے۔ اگلوں میں سے بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے کم۔
مفسرین کے درمیان اس
امر میں اختلاف ہے کہ اولین اور آخرین یعنی اگلوں اور پچھلوں سے مراد کون ہیں۔ ایک
گروہ کا خیال ہے کہ آدم علیہ السلام کے وقت سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت تک
جتنی امتیں گزری ہیں وہ اولین ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد قیامت
تک کے لوگ آخرین ہیں۔اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ بعثت محمدی سے پہلے
ہزارہا برس کے دوران میں جتنے انسان گزرے ہیں ان کے سابقین کی تعداد زیادہ ہو گی،
اور حضورؐ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک آنے والے انسانوں میں سے جو لوگ سابقین کا
مرتبہ پائیں گے ان کی تعداد کم ہو گی۔ دوسرا گروپ کہتا ہے کہ یہاں اولین و آخرین
سے مراد نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی امت کے اولین و آخرین ہیں جن میں سابقین کی تعداد کم ہوگی۔تیسرا گروہ کہتا ہے اس
سے مراد ہر نبی کی امت کے اولین و آخرین ہیں، یعنی ہر نبی کے ابتدائی پیروؤں میں
سابقین بہت ہونگے اور بعد کے آنے والوں میں وہ کم پائے جائیں گے۔ آیت کے الفاظ ان
تینوں مفہوموں کے حامل ہیں اور بعید نہیں کہ یہ تینوں ہی صحیح ہوں کیونکہ در حقیقت
ان میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ان کے علاوہ ایک اور مطلب بھی ان الفاظ سے نکلتا ہے اور
وہ بھی صحیح ہے کہ ہر پہلے دور میں انسانی آبادی کے اندر سابقین کا تناسب زیادہ
ہوگا اور بعد کے دور میں ان کا تناسب کم نکلے گا۔ اس لیے کہ انسانی آبادی جس رفتار
سے بڑھتی ہے، سبقت فی الخیرات کرنے والوں کی تعداد اسی رفتار سے نہیں بڑھتی۔ گنتی
کے اعتبار سے یہ لوگ چاہے پہلے دور کے سابقین سے تعداد میں زیادہ ہوں، لیکن بحیثیت
مجموعی دنیا کی آبادی کے مقابلے میں ان کا
تناسب گھٹتا ہی چلا جاتا ہے۔
عَلٰى سُرُرٍ
مَّوْضُوْنَةٍۙ۰۰۱۵مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ۰۰۱۶يَطُوْفُ
عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ۰۰۱۷بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِيْقَ١ۙ۬ وَ
كَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۙ۰۰۱۸لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا يُنْزِفُوْنَۙ۰۰۱۹
مرصّع تختوں پر تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ اُن کی
مجلسوں میں اَبَدی لڑکے شرابِ چشمہٴ جاری سے لبریز پیالے اور کنٹر اور ساغر لیے
دوڑتے پھرتے ہونگے جسے پی کر نہ ان کا سر چکرائے گا نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا
ابدی لڑکے
اِس سے مراد ہیں ایسے
لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، انکی عمر ہمیشہ ایک ہی حالت پر ٹھہری رہے گی۔ حضرت
علیؓ اور حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ یہ اہل دنیا کے وہ بچے ہیں جو بالغ ہونے سے
پہلے مر گئے، اس لیے نہ ان کی کچھ نیکیاں ہونگی کہ ان کی جزا پائیں اور نہ بدیاں ہونگی کہ ان کی سزا پائیں۔ لیکن ظاہر بات ہے کہ
اس سے مراد صرف وہی اہل دنیا ہو سکتے ہیں جن کو جنت نصیب نہ ہوئی ہو۔ رہے مومنین
صالحین، تو ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں یہ ضمانت دی ہے کہ ان کی
ذریت ان کے ساتھ جنت میں لا ملائی جائے گی (الطور،آیت 21)۔ اسی کی تائید اس حدیث
سے ہوتی ہے جو ابو داؤد، طیالِسی، طبرَانی اور بزَّار نے حضرت انَسؓ اور حضرت
سَمُرہ بنؓ جُندُب سے نقل کی ہے۔ اس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ
مشرکین کے بچے اہل جنت کے خادم ہونگے۔
وَ فَاكِهَةٍ
مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَۙ۰۰۲۰وَ لَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَؕ۰۰۲۱
اوروہ اُن کے سامنے
طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے کہ جسے چاہیں چُن لیں، اور پرندوں کا گوشت پیش کریں
گے کہ جس پرندےکا چاہیں استعمال کریں۔
اس آیت میں اہل جنت
کو مطلقاً ہر قسم کا گوشت دیے جانے کا ذکر ہے ، اور سورہ واقعہ آیت 21 میں فرمایا
گیا ہے کہ پرندوں کے گوشت سے ان کی تواضع کی جائے گی۔ اس گوشت کی نوعیت ہمیں ٹھیک
ٹھیک معلوم نہیں ہے ۔ مگر جس طرح قرآن کی بعض تصریحات اور بعض احادیث میں جنت کے دودھ
کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا نہ ہوگا،اور جنت کے شہد
کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ مکھیوں کا بنایا ہوا نہ ہوگا، اور جنت کی شراب کے
متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ پھلوں کو سڑا کر کشید کی ہوئی نہ ہوگی، بلکہ اللہ کی
قدرت سے یہ چیزیں چشموں سے نکلیں گی اور نہروں میں بہیں گی، اس سے یہ قیاس کیا جا
سکتا ہے کہ جنت کا گوشت بھی جانوروں کا ذبیحہ نہ ہوگا بلکہ یہ بھی قدرتی طور پر پیدا
ہوگا۔ جو خدا زمین کے مادوں سے براہ راست دودھ اور شہد اور شراب پیدا کر سکتا ہے
اس کی قدرت سے یہ بعید نہیں ہے کہ ان ہی مادوں سے ہر طرح کا لذیذ ترین گوشت پیدا
کر دے جو جانوروں کے گوشت سے بھی اپنی لذت میں بڑھ کر ہو
وَ حُوْرٌ
عِيْنٌۙ۰۰۲۲كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ۰۰۲۳
اور ان کے لیے
خوبصورت آنکھوں والی حُوریں ہونگی، ایسی حسین جیسے چُھپا کر رکھے ہوئے موتی۔
تشریح کے لیے ملاحظہ
ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم،تفسیر سورہ صافات، حاشیہ 28۔29۔ الدخان، حاشیہ 42۔ جلد
پنجم، الرحمٰن، حاشیہ 51۔
بعید نہیں ہے کہ یہ
وہ لڑکیاں ہوں جو دنیا میں سنّ رشد کو پہنچنے سے پہلے مر گئی ہوں اور جن کے والدین
جنت میں جانے کے مستحق نہ ہوئے ہوں ۔ یہ
بات اس قیاس کی بنا پر کہی جا سکتی ہے کہ جس طرح ایسے لڑکے اہل جنت کی خدمت کے لیے
مقرر کر دیے جائیں گے اور وہ ہمیشہ لڑکے ہی
رہیں گے ، اسی طرح ایسی لڑکیاں بھی اہل جنت کے لیے حوریں بنا دی جائیں گی اور وہ
ہمیشہ نو خیز لڑکیاں ہی رہیں گی۔ واللہ اعلم با صواب۔
اصل الفاظ ہیں حُوْرٌ
عِیْن ۔ حور جمع ہے حوراءکی اور حوراء عربی زبان میں گوری عورت کو کہتے ہیں۔اور عِین
جمع ہے عَیناء کی ، اور یہ لفظ بڑی بڑی آنکھوں والی عورت کےلیے بولا جاتا ہے۔
حور کی تشریح کے لیے
ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورہ صافات، حاشیہ 28۔29۔ اور تفسیر
سورہ دخان حاشیہ 42۔ خیموں سے مراد غالباً اس طرح کے خیمے ہیں جیسے امراء و رؤساء
کے لیے سیر گاہوں میں لگائے جاتے ہیں۔ اغلب یہ ہے کہ اہل جنت کی بیویاں ان کے ساتھ
ان کے قصروں میں رہیں گی اور انکی سیر گاہوں میں جگہ جگہ خیمے لگے ہو گے جن میں
حوریں ان کے لیے لطف و لذت کا سامان فراہم کریں گی۔ ہمارے اس قیاس کی بنا یہ ہے کہ
پہلے خوب سیرت اور خوب صورت بیویوں کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد اب حوروں کا
ذکر الگ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ ان بیویوں سے مختلف قسم کی خواتین ہوں گی۔ اس قیاس
کو مزید تقویت اس حدیث سے حاصل ہوتی ہے جو حضرت ام سلمہ سے مروی ہے۔ وہ فرماتی ہیں
کہ ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا، یا رسول اللہ، دنیا کی عورتیں
بہتر ہیں یا حوریں؟ حضورؐ نے جواب دیا، دنیا
کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ابر ے کو استر پر ہوتی ہے۔ میں نے
پوچھا کس بنا پر؟ فرمایا اس لیے کہ ان عورتوں نے نماز یں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں
اور عبادتیں کی ہیں۔‘‘ (طبرانی)۔ اس سے معلوم ہو ا کہ اہل جنت کی بیویاں تو وہ
خواتین ہوں گی جو دنیا میں ایمان لائیں، اور اعمال صالحہ کرتی ہوئی دنیا سے رخصت ہوئیں۔ یہ اپنے ایمان و حسن عمل کے نتیجے میں داخل جنت ہوں گی اور
بذات خود جنت کی نعمتوں کی مستحق ہوں گی۔ یہ اپنی مرضی اور پسند کے مطابق یا تو
اپنے سابق شوہروں کی بیویاں بنیں گی اگر وہ بھی جنتی ہوں۔یا پھر اللہ تعالی کسی دوسرے جنتی سے انہیں
بیاہ دیگا جب کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی رفاقت پسند کریں۔ رہیں حوریں تو وہ اپنےکسی حسن عمل کے نتیجے میں خود اپنے استحقاق
کی بنا پر جنتی نہیں بنیں گی بلکہ اللہ
تعالیٰ جنت کی دوسری نعمتوں کی طرح انہیں بھی اہل جنت کے لیے ایک نعمت کے طور پر
جوان اور حسین و جمیل عورتوں کی شکل دے کر جنتیوں کو عطا کر دے گا تا کہ وہ ان کی صحبت سے لطف اندوز ہوں۔ لیکن
بہرحال یہ جن و پری قسم کی مخلوق نہ ہوں گی، کیوں کہ انسان کبھی صحبت نا جنس سے
مانوس نہیں ہو سکتا۔ اس لیے اغلب یہ ہے کہ یہ وہ معصوم لڑکیاں ہوں گی جو نابالغی کی
حالت میں فوت ہو گئیں اور ان کے والدین جنت کے مستحق نہ ہوئے کہ وہ ان کی ذریت کی
حیثیت سے جنت میں ان کے ساتھ رکھی جائیں۔
جَزَآءًۢ
بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۲۴لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا
تَاْثِيْمًاۙ۰۰۲۵
یہ سب کچھ اُن اعمال
کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔ وہاں وہ کوئی بیہودہ
کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے
یہ جنت کی بڑی نعمتوں
میں سے ایک ہے، جسے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے، کہ انسان کے
کان وہاں بیہودگی، یا وہ گوئی، جھوٹ، غیبت، چغلی، بہتان، گالی، لاف و گزاف، طنز
تمسخر اور طعن و تشنیع کی باتیں سننے سے محفوظ ہوں گے۔ وہ بد زبان اور بد تمیز
لوگوں کی سوسائٹی نہ ہوگی جس میں لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں۔ وہ شریف اور مہذب
لوگوں کا معاشرہ ہوگا جس کے اندر یہ لغویات ناپید ہوں گی۔ اگر کسی شخص کو اللہ نے
کچھ بھی شائستگی اور مذاق سلیم سے نوازا ہو تو وہ اچھی طرح محسوس کر سکتا ہے کہ دنیوی
زندگی کا یہ کتنا بڑا عذاب ہے جس سے انسان کو جنت میں نجات پانے کی امید دلائی گئی
ہے۔
اِلَّا
قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا۰۰۲۶
جو بات بھی ہوگی ٹھیک
ٹھیک ہوگی۔
اصل الفاظ ہیں الا قیلاً
سلٰماً سلٰماً۔ بعض مفسرین و مترجمین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہاں ہر طرف سلام
سلام ہی کی آوازیں سننے میں آئیں گی۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد ہے قول سلیم،
یعنی ایسی گفتگو جو عیوب کلام سے پاک ہو جس میں وہ خرابیاں نہ ہوں جو پچھلے فقرے میں
بیان کی گئی ہیں۔ یہاں سلام کا لفظ قریب قریب اسی مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے جس
کے لیے انگریزی میں لفظ sane استعمال ہوتا ہے۔
فَاَمَّاۤ
اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ۠ۙ۰۰۸۸فَرَوْحٌ وَّ
رَيْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِيْمٍ۰۰۸۹
پھر وہ مرنے والا اگر
مقرّبین میں سے ہو تو اس کے لیے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنّت ہے۔
Comments
Post a Comment