آخرت میں اہل ایمان کو نور نصیب ہوگا

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آخرت میں اہل ایمان کو نور نصیب ہوگا

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت

صفحہ 299،  300

سورہ حدید موضوع اور مضمون

آخرت میں نور انہی اہل ایمان کو نصیب ہو گا جنہوں نے راہ خدا میں اپنا مال خرچ کیا ہو۔ رہے وہ منافق جو دنیا میں اپنے ہی مفاد کو دیکھتے رہے اور جنہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں رہی کہ حق غالب ہوتا ہے یا باطل، وہ خواہ دنیا کی اس زندگی میں مومنوں کے ساتھ ملے جلے رہے ہوں ، مگر آخرت میں ان کو مومنوں سے الگ کر دیا جائے گا، نور سے وہ محروم ہوں گے اور ان کا حشر کافروں کے ساتھ ہو گا۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے انبیاء آتے رہے جن کی دعوت سے کچھ لوگ راہ راست پر آئے اور اکثر فاسق بنے رہے ۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام آئے جن کی تعلیم سے لوگوں میں بہت سی اخلاقی خوبیاں پیدا ہوئیں ، مگر ان کی امت نے رہبانیت کی بدعت اختیار کر لی۔ اب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو بھیجا ہے ۔ ان پر جو لوگ ایمان لائیں گے اور خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کریں گے ، اللہ ان کو اپنی رحمت کا دہرا حصہ دے گا اور انہیں وہ نور بخشے گا جس سے دنیا کی زندگی میں وہ ہر ہر قدم پر ٹیڑھے راستوں کے درمیان سیدھی راہ صاف دیکھ کر چل سکیں گے ۔ اہل کتاب چاہے اپنے آپ کو اللہ کے فضل کا ٹھیکہ دار سمجھتے رہیں ، مگر اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، اسے اختیار ہے جسے چاہے اپنے فضل سے نواز دے ۔

آخرت میں اہل ایمان کو نور نصیب ہوگا

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت

صفحہ 311

سورہ حدید آیت 13

يَوْمَ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ

اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں  سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نُور سے کچھ فائدہ اُٹھائیں

مطلب  یہ ہے کہ اہل ایمان جب جنت کی طرف جا رہے  ہونگے تو روشنی ان کے آگے ہو گی اور پیچھے منافقین اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہونگے ۔ اس وقت وہ ان اہل ایمان کو جو دنیا میں ان کے ساتھ ایک ہی مسلم معاشرے میں رہتے تھے ، پکار پکار کر کہیں گے کہ ذرا ہماری طرف پلٹ کر دیکھو تاکہ ہمیں بھی کچھ روشنی مل جائے۔

آخرت میں اہل ایمان کو نور نصیب ہوگا

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت

صفحہ 317

سورہ حدید آیت 19

وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ۠١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ

اور جو لوگ اللہ اور اُس کے رسُولوں  پر ایمان لائے ہیں  وہی اپنے رب کے نزدیک صِدّیق اور شہید  ہیں،اُن کے لیے اُن کا اجر  اور اُن کا نُور ہے

یعنی ان میں سے ہر ایک جس مرتبے کے اجر اور جس درجے کے نور کا مستحق ہو گا وہ اس کو ملے گا۔ وہ اپنا اپنا اجر اور اپنا اپنا نور پائیں گے ۔ ان کے لیے ان کا حصہ آج ہی سے محفوظ ہے ۔

آخرت میں اہل ایمان کو نور نصیب ہوگا

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت

صفحہ 333

سورہ حدید آیت 28

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ يَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌۚۙ۰۰۲۸

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسُول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لاؤ،  اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصّہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے،  اور تمہارے قصُور معاف  کر دے  گا،  اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔

ٖ وَ يَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ

اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے

یعنی دنیا میں علم و بصیرت کا وہ نور عطا فرمائے گا جس کی روشنی میں تم کو قدم قدم پر صاف نظر آتا رہے گا کہ زندگی کے مختلف معاملات میں جاہلیت کی ٹیڑھی راہوں کے درمیان اسلام کی سیدھی راہ کونسی ہے ۔ اور آخرت میں وہ نور بخشے گا جس کا ذکر آیت 12 میں گزر چکا ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں