انکار آخرت، گناہ عظیم ہے

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حق سے پھرے ہوئے لوگوں کے سوا آخرت سے کوئی انکار نہیں کرتا

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد پنجم-آخرت

صفحہ 135

سورہ ذاریات آیت 9

يُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ۰۰۹

اس  سے وہی بر گشتہ ہوتا ہے جو حق سے پِھرا ہوا ہے۔

 

سورۃ الذٰریٰت حاشیہ نمبر۷

اصل الفاظ ہیں يُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ۰۰۹اس فقرے میں عَنْہُ کی ضمیر کے دو مرجع ہو سکتے ہیں۔ ایک جزائے اعمال۔ دوسرے قول مختلف۔پہلی صورت میں اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ ’’ جزائے اعمال کو تو ضرور پیش آنا ہے، تم لوگ اس کے بارے میں طرح طرح کے مختلف عقیدے رکھتے ہو، مگر اس کو ماننے سے وہی شخص برگشتہ ہوتا ہے جو حق سے پھرا ہوا ہے۔’’ دوسری صورت میں مطلب یہ ہے کہ ’’ ان مختلف اقوال سے وہی شخص گمراہ ہوتا ہے جو دراصل حق سے برگشتہ ہے ‘‘

انکار آخرت، گناہ عظیم ہے

فہرست موضوعات-تفہیم القرآن جلد پنجم-آخرت

صفحہ 283

سورہ واقعہ آیات 45، 46

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِيْنَۚۖ۰۰۴۵وَ كَانُوْا يُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيْمِۚ۰۰۴۶

یہ وہ لوگ ہوں گے جو اِس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے اور گناہِ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔

سورۃ الواقعہ حاشیہ نمبر۲۰

یعنی خوشحالی نے ان پر الٹا اثر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہونے کے بجائے وہ الٹے کافر نعمت ہو گئے تھے۔ اپنی لذات نفس میں منہمک ہو کر خدا کو بھول گئے تھے۔ اور گناہ عظیم پر مصر تھے۔’’گناہ عظیم‘‘ کا لفظ جامع ہے۔ اس سے مراد کفر و شرک اور دہریت بھی ہے اور اخلاق و اعمال کا ہر بڑا گناہ بھی۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں