آخرت کی تاریخ دریافت کرنے والوں کو جواب
بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آخرت کی تاریخ دریافت
کرنے والوں کو جواب
فہرست موضوعات –
تفہیم القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 135
سورہ ذاریات آیات
12تا14
يَسْـَٔلُوْنَ
اَيَّانَ يَوْمُ الدِّيْنِؕ۰۰۱۲يَوْمَ هُمْ
عَلَى النَّارِ يُفْتَنُوْنَ۰۰۱۳ذُوْقُوْا
فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ۠۰۰۱۴
پوچھتے ہیں آخر وہ
روزِ جزاء کب آئے گا؟ وہ اُس روز آئے گا جب یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے۔
(اِن سے کہا جائےگا) اب چکھو مزا اپنے فتنے کا۔
یہ وہی چیز ہےجس کے لیے تم جلدی مچارہے تھے۔
وہ اُس روز آئے گا جب
یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے۔
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۱۰
کفارہ کا یہ سوال کہ
روز جزاء کب آئے گا، علم حاصل کرنے کے لیے نہ تھا بلکہ طعن اور استہزاء کے طور پر
تھا، اس لیے ان کو جواب اس انداز سے دیا گیا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ کسی شخص
کو بد کرداریوں سے باز نہ آنے کی نصیحت کرتے ہوئے اس سے کہیں کہ ایک روز ان حرکات
کا برا نتیجہ دیکھو گے، اور وہ اس پر ایک ٹھٹھا مار کر آپ سے پوچھے کہ حضرت، آخر
وہ دن کب آئے گا؟ ظاہر ہے کہ اس کا یہ سوال اس بُرے انجام کی تاریخ معلوم کرنے کے
لیے نہیں بلکہ آپ کی نصیحتوں کا مذاق اڑانے کے لیے ہو گا۔ اس لیے اس کا صحیح جواب یہی
ہے کہ وہ اس روز آئے گا جب تمہاری شامت آئے گی۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی اچھی طرح
سمجھ لینی چاہیے کہ آخرت کے مسئلے پر اگر کوئی منکر آخرت سنجیدگی کے ساتھ بحث کر
رہا ہو تو وہ اس کے موافق و مخالف دلائل پر تو بات کر سکتا ہے، مگر جب تک اس کا
دماغ بالکل ہی خراب نہ ہو چکا ہو، یہ سوال وہ کبھی نہیں کر سکتا بتاؤ، وہ آخرت کس
تاریخ کو آئے گی۔اس کی طرف سے یہ سوال جب بھی ہو گا طنز اور تمسخر کے طور پر ہی ہو
گا۔ اس لیے کہ آخرت کے آنے کی تاریخ بیان کرنے اور نہ کرنے کا کوئی اثر بھی اصل
بحث پر نہیں پڑتا۔ کوئی شخص نہ اس بنا پر آخرت کا انکار کرتا ہے کہ اس کی آمد کا
سال، مہینہ اور دن نہیں بتایا گیا ہے، اور نہ یہ سن کر اس کی آمد کو مان سکتا ہے
کہ وہ فلاں سال فلاں مہینے کی فلاں تاریخ
کو آئے گی۔ تاریخ کا تعین سرے سے کوئی دلیل
ہی نہیں ہے کہ وہ کسی منکر کو اقرار پر آمادہ کر دے، کیونکہ اس کے بعد پھر یہ سوال
پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ دن آنے سے پہلے آخر کیسے یہ یقین کر لیا جائے کہ اس روز
واقعی آخرت برپا ہو جائے گی۔
اب چکھو مزا اپنے
فتنے کا
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۱۱
فتنے کا لفظ یہاں دو
معنی دے رہا ہے۔ ایک معنی یہ ہیں کہ اپنے اس عذاب کا مزہ چکھو۔ دوسرے معنی یہ کہ
اپنے اس فتنے کا مزہ چکھو جو تم نے دنیا میں بر پا کر رکھا تھا۔ عربی زبان میں اس
لفظ کے ان دونوں مفہوموں کی یکساں گنجائش ہے۔
تم جلدی مچارہے تھے
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۱۲
کفار کا یہ پوچھنا کہ
’’آخر وہ روز جزا کب آئے گا‘‘ اپنے اندر خود یہ مفہوم رکھتا تھا کہ اس کے آنے میں
دیر کیوں لگ رہی ہے؟ جب ہم اس کا انکار کر رہے ہیں اور اس کے جھٹلانے کی سزا ہمارے
لیے لازم ہو چکی ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتا؟ اسی لیے جہنم کی آگ میں جب وہ تپ رہے
ہوں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے۔
اس فقرے سے یہ مفہوم آپ سے آپ نکلتا ہے کہ یہ تو اللہ تعالیٰ مہر بانی تھی کہ اس
نے تم سے نافرمانی کا ظہور ہوتے ہی تمہیں
فوراً نہ پکڑ لیا اور سوچنے، سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے وہ تم کو ایک لمبی
مہلت دیتا رہا۔ مگر تم ایسے احمق تھے کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے الٹا یہ
مطالبہ کرتے رہے کہ یہ وقت تم پر جلدی لے آیا جائے۔ اب دیکھ لو کہ وہ کیا چیز تھی
جس کے جلدی آ جا نے کا مطالبہ تم کر رہے تھے۔
آخرت کی تاریخ دریافت
کرنے والوں کو جواب
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 157
سورہ ذاریات آیات
59، 60
فَاِنَّ
لِلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا
يَسْتَعْجِلُوْنِ۠۰۰۵۹فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ يَّوْمِهِمُ الَّذِيْ
يُوْعَدُوْنَؒ۰۰۶۰
پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا
اِنہی جیسے لوگوں کو اُن کے حصے کا مل چکا ہے، اس کے لیے یہ لوگ جلدی نہ مچائیں
۔ آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے
اُس روز جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے۔
جن لوگوں نے ظلم کیا
ہے
ظلم سے مراد یہاں حقیقت
اور، صداقت پر ظلم کرنا، اور خود اپنی فطرت پر ظلم کرنا ہے۔ سیاق و سبا خود بتا
رہا ہے کہ یہاں ظلم کرنے والوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو خداوند عالم کے سوا دوسروں کی
بندگی کر رہے ہیں، جو آخرت کے منکر ہیں اور اپنے آپ کو دنیا میں غیر ذمہ دار سمجھ
رہے ہیں، اور ان انبیاء کو جھٹلا رہے ہیں جنہوں نے ان کو حقیقت سے خبردار کرنے کی
کوشش کی ہے۔
جلدی نہ مچائیں
یہ جواب ہے کفار کے
اس مطالبہ کا کہ وہ یوم الجزا کہاں آتے آتے رہ گیا ہے، آخر وہ آ کیوں نہیں جاتا۔
Comments
Post a Comment