قرآن میں آخرت کے برحق ہونے پر مختلف اشیا کی قسمیں کس مناسبت سے کھائی گئی ہیں؟
بسم اللہ الرحمن
الرحیم
قرآن میں آخرت کے
برحق ہونے پر مختلف اشیا کی قسمیں کس مناسبت سے کھائی گئی ہیں؟
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ132، 133
سورہ زاریات آیات 1تا6
بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ
الذّٰرِيٰتِ ذَرْوًاۙ۰۰۱فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ۰۰۲فَالْجٰرِيٰتِ يُسْرًاۙ۰۰۳فَالْمُقَسِّمٰتِ۠
اَمْرًاۙ۰۰۴اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ۰۰۵وَّ اِنَّ الدِّيْنَ لَوَاقِعٌؕ۰۰۶
قسم ہے ان ہواؤں کی
جو گرد اڑانے والی ہیں، پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے
والی ہیں۔ پھر سُبک رفتاری کے ساتھ چلنے والی ہیں، پھر ایک
بڑے کام (بارش) کی تقسیم کرنے والی ہیں، حق یہ ہے کہ جس چیز کا تمہیں خوف دلایا جارہا ہے وہ
سچی ہے اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔
جزائے اعمال ضرور پیش
آنی ہے۔
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۴
یہ ہے وہ بات جس پر
قسم کھائی گئی ہے۔ اس قسم کا مطلب یہ ہے کہ جس بے نظیر نظم اور باقاعدگی کے ساتھ
بارش کا یہ عظیم الشان ضابطہ تمہاری آنکھوں کے سامنے چل رہا ہے، اور جو حکمت اور
مصلحتیں اس میں صریح طور پر کار فرما نظر آتی ہیں، وہ اس بات پر گواہی دے رہی ہیں
کہ یہ دنیا کوئی بے مقصد اور بے معنی گھروندا نہیں ہے جس میں لاکھوں کروڑوں برس سے
ایک بہت بڑا کھیل بس یوں ہی الل ٹپ ہوئے جا رہا ہو، بلکہ یہ در حقیقت ایک کمال درجے کا حکیمانہ نظام ہے
جس میں ہر کام کسی مقصد اور کسی مصلحت کے لیے ہو رہا ہے۔ اس نظام میں یہ کسی طرح
ممکن نہیں ہے کہ یہاں انسان جیسی ایک مخلوق کو عقل، شعور، تمیز اور تصرف کے اختیارات
دے کر، اس میں نیکی و بدی کی اخلاقی حس پیدا کر کے، اور اسے ہر طرح کے اچھے اور
برے، صحیح اور غلط کاموں کے مواقع دے کر، زمین میں تُرکتازیاں کرنے کے لیے محض
فضول اور لایعنی طریقے سے چھوڑ دیا جائے، اور اس سے کبھی یہ باز پرس نہ ہو کہ دل و
دماغ اور جسم کی جو قوتیں اس کو دی گئی تھیں، دنیا میں کام کرنے کے لیے جو وسیع
ذرائع اس کے حوالے کیے گئے تھے، اور خدا کی بے شمار مخلوقات پر تصرف کے جو اختیارات
اسے دیے گئے تھے،انکو اس نے کس طرح استعمال کیا۔ جس نظام کائنات میں سب کچھ با
مقصد ہے، اس میں صرف انسان جیسی عظیم مخلوق کی تخلیق کیسے بے مقصد ہو سکتی ہے ! جس
نظام میں ہر چیز مبنی بر حکمت ہے اس میں تنہا ایک انسان ہی کی تخلیق کیسے فضول اور
عبث ہو سکتی ہے؟ مخلوقات کی جو اقسام عقل و شعور نہیں رکھتیں ان کی تخلیق کی مصلحت تواسی عالم طبعی میں پوری ہو
جاتی ہے۔ اس لیے اگر وہ اپنی مدت عمر ختم ہونے کے بعد ضائع کر دی جائیں تو یہ عین
معقول بات ہے، کیونکہ انہیں کوئی اختیارات دیے ہی نہیں گئے ہیں کہ ان سے محاسبے کا کوئی سوال پیدا ہو۔ مگر عقل
و شعور اور اختیارات رکھنے والی مخلوق، جس کے افعال محض عالم طبیعت تک محدود نہیں
ہیں بلکہ اخلاقی نوعیت بھی رکھتے ہیں، اور جس کے اخلاقی نتائج پیدا کرنے والے
اعمال کا سلسلہ محض زندگی کی آخری ساعت تک ہی نہیں چلتا بلکہ مرنے کے بعد بھی اس
پر اخلاقی نتائج مترتب ہوتے رہتے ہیں، اسے صرف اس کا طبعی کام ختم ہو جانے کے بعد
نباتات و حیوانات کی طرح کیسے ضائع کیا جا سکتا ہے؟ اس نے تو اپنے اختیار و ارادہ
سے جو نیکی یا بدی بھی کی ہے اس کی ٹھیک ٹھیک
مبنی برحق و انصاف جزاء اس کو
لازماً ملنی ہی چاہیے، کیونکہ یہ اس مصلحت کا بنیادی تقاضا ہے جس کے تحت دوسری
مخلوقات کے برعکس اسکو ایک ذی اختیار مخلوق بنایا گیا ہے۔ اس سے محاسبہ نہ ہو، اس
کے اخلاقی اعمال پر جزاء و سزانہ ہو، اور اس کو بھی بے اختیار مخلوقات کی طرح عمر
طبعی ختم ہونے پر ضائع کر دیا جائے، تو لامحالہ اس کی تخلیق سراسر عبث ہو گی، اور
ایک حکیم سے فعل عبث کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
اس کے علاوہ آخرت
اور جزاء و سزا کے وقوع پر ان چار مظاہر
کائنات کی قسم کھانے کی ایک اور وجہہ بھی ہے۔ منکرین آخرت زندگی بعد موت کو جس بنا
پر غیر ممکن سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم جب مر کر خاک میں رل مل جائیں گے اور ہمارا
ذرہ ذرہ جب زمین میں منتشر ہو جائے گا تو کیسے ممکن ہے کہ سارے منتشر اجزائے جسم
پھر اکٹھے ہو جائیں اور ہمیں دو بارہ بنا کر کھڑا کیا جائے۔ اس شبہ کی غلطی ان
چاروں مظاہر کائنات پر غور کرنے سے خود بخود رفع ہو جاتی ہے جنہیں آخرت کے لیے دلیل
کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سورج کی شعاعیں روئے زمین کے ان تمام ذخائر آب پر اثر
انداز ہوتی ہیں جن تک ان کی حرارت پہنچتی ہے۔ اس عمل سے پانی کے بے حد و حساب قطرے
اڑ جاتے ہیں اور اپنے مخزن میں باقی نہیں رہتے۔ مگر وہ فنا نہیں ہو جاتے بلکہ بھاپ بنکر ایک ایک قطرہ ہوا میں
محفوظ رہتا ہے۔ پھر جب خدا کا حکم ہوتا ہے تو یہ ہوا ان قطروں کی بھاپ کو سمیٹ لاتی
ہے،اس کو کثیف بادلوں کی شکل میں جمع کرتی ہے، ان بادلوں کو لے کر روئے زمین کے
مختلف حصوں میں پھیل جاتی ہے، اور خدا کی طرف سے جو وقت مقرر ہے ٹھیک اسی وقت ایک
ایک قطرے کو اسی شکل میں جس میں وہ پہلے تھا، زمین پر واپس پہنچا دیتی ہے۔ یہ منظر
جو آئے دن انسان کی آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے، اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ مرے
ہوئے انسانوں کے اجزائے جسم بھی اللہ تعالیٰ کے ایک اشارے پر جمع ہو سکتے ہیں اور
ان انسانوں کو اسی شکل میں پھر اُٹھا کھڑا کیا جا سکتا ہے جس میں وہ پہلے موجود
تھے۔ یہ اجزا خواہ مٹی میں ہوں، یا پانی میں، یا ہوا میں، بہر حال رہتے اسی زمین
اور اس کے ماحول ہی میں ہیں۔ جو خدا پانی کے بخارات کو ہوا میں منتشر ہو جانے کے
بعد پھر اسی ہوا کے ذریعہ سے سمیٹ لاتا ہے اور انہیں پھر پانی کی شکل میں برسا دیتا
ہے، اس کے لیے انسانی جسموں کے بکھرے ہوئے اجزاء کو ہوا، پانی اور مٹی میں سے سمیٹ
لانا اور پھر سابق شکلوں میں جمع کر دینا آخر کیوں مشکل ہو؟
قرآن میں آخرت کے
برحق ہونے پر مختلف اشیا کی قسمیں کس مناسبت سے کھائی گئی ہیں؟
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ 162تا166
سورہ طور آیات 1تا 8
بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَ
الطُّوْرِۙ۰۰۱وَ كِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍۙ۰۰۲فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍۙ۰۰۳وَّ
الْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِۙ۰۰۴وَ السَّقْفِ
الْمَرْفُوْعِۙ۰۰۵وَ الْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِۙ۰۰۶اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ۰۰۷مَّا لَهٗ
مِنْ دَافِعٍۙ۰۰۸
قسم ہے ُطور کی، اور ایک ایسی کُھلی کتاب کی جو رقیق جِلد میں
لکھی ہوئی ہے، اور آباد گھر کی، اور اُونچی چھت کی، اور مَوجْزَن سمندر کی، کہ تیرے رب کا عذاب
ضرور واقع ہونے والا ہے جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔
6. یہ ہے وہ حقیقت جس پر ان پانچ چیزوں کی قَسم کھائی گئی ہے ۔ رب کے عذاب سے
مراد آخرت ہے ۔ چونکہ یہاں اس پر ایمان لانے والے مخاطب نہیں ہیں بلکہ اس کا انکار
کرنے والے مخاطب ہیں ، اور ان کے حق میں اس کا آنا عذاب ہی ہے ، اس لیے اس کو قیامت
یا آخرت یا روز جزا کہنے کے بجائے’’ رب کا عذاب‘‘ کہا گیا ہے ۔اب غور کیجیے کہ اس
کے وقوع پر وہ پانچ چیزیں کس طرح دلالت کرتی ہیں جن کی قَسم کھائی گئی ہے ۔
طور وہ جگہ ہے جہاں ایک
دبی اور پسی ہوئی قوم کو اٹھانے اور ایک غالب و قاہر قوم کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا،
اور یہ فیصلہ قانونِ طبیعی (Physical Law)
کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون اخلاقی (Moral Law ) اور
قانون مکافات (Law of
Retribution) کی بنیاد پر تھا۔ اس
لیے آخرت کے حق میں تاریخی استدلال کے طَور پر طُور کو بطور ایک علامت کے پیش کیا
گیا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ بنی اسرائیل جیسی ایک بے بس قوم کا اٹھایا جانا اور فرعون
جیسے ایک زبردست فرمانروا کا اپنے لشکروں سمیت غرق کر دیا جانا، جس کا فیصلہ ایک
سنسان رات میں کوہ طُور پر کیا گیا تھا، انسانی تاریخ میں اس امر کی ایک نمایاں ترین
مثال ہے کہ سلطنت کائنات کا مزاج کس طرح انسان جیسی ایک ذی عقل و ذی اختیار مخلوق
کے معاملہ میں اخلاقی محاسبے اور جزائے اعمال کا تقاضا کرتا ہے ، اور اس تقاضے کی
تکمیل کے لیے ایک ایسا یوم الحساب ضروری ہے جس میں پوری نوع انسانی کو اکٹھا کر کے
اس کا محاسبہ کیا جائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، تفسیر
سورہ ذاریات، حاشیہ 21)۔
کُتُب مُقدَّسہ کے
مجموعے کی قَسم اس بنا پر کھائی گئی ہے کہ خداوند عالم کی طرف سے دنیا میں جتنے بھی
انبیاء آئے اور جو کتابیں بھی وہ لائے، ان سب نے ہر زمانے میں وہی ایک خبر دی ہے
جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم دے رہے ہیں ، یعنی یہ کہ تمام اگلے پچھلے انسانوں کو ایک
دن از سر نو زندہ ہو کر اپنے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کے مطابق
جزا اور سزا پانی ہے ۔ کوئی کتاب آسمانی کبھی ایسی نہیں آئی ہے جو اس خبر سے خالی
ہو، یا جس نے انسان کو الٹی یہ اطلاع دی ہو کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی
زندگی ہے ، اور انسان بس مر کر مٹی ہو جانے والا ہے جس کے بعد نہ کوئی حساب ہے نہ
کتاب۔
بیت المعمور کی قَسم
اس لیے کھائی گئی ہے کہ خاص طور پر اہل عرب کے لیے اس زمانے میں خانہ کعبہ کی
عمارت ایک ایسی کھلی نشانی تھی جو اللہ کے پیغمبروں کی صداقت پر اور اس حقیقت پر
کہ اللہ جل شانہ کی حکمت بالغہ و قدرت قاہرہ ان کی پشت پر ہے ، صریح شہادت دے رہی
تھی۔ ان آیات کے نزول سے ڈھائی ہزار برس پہلے بے آب و گیاہ اور غیر آباد پہاڑوں میں
ایک شخص کسی لاؤ لشکر اور سر و سامان کے بغیر آتا ہے اور اپنی ایک بیوی اور ایک شیر
خوار بچے کو بالکل بے سہارا چھوڑ کر چلا جاتا ہے ۔ پھر کچھ مدت بعد وہی شخص آ کر
اس سنسان جگہ پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ایک گھر بناتا ہے اور پکار دیتا ہے
کہ لوگو، آؤ اس گھر کا حج کرو۔ اس تعمیر اور اس پکار کو یہ حیرت انگیز مقبولیت
حاصل ہوتی ہے کہ وہی گھر تمام اہل عرب کا مرکز بن جاتا ہے ، اس پکار پر عرب کے ہر
گوشے سے لوگ لبیک لبیک کہتے ہوئے کھچے چلے آتے ہیں ، ڈھائی ہزار برس تک یہ گھر ایسا
امن کا گہوارہ بنا رہتا ہے کہ اس کے گرد و پیش سارے ملک میں کشت و خون کا بازار
گرم ہوتا ہے مگر اس کے حدود میں آ کر کسی کو کسی پر ہاتھ اٹھانے کی ہمت نہیں ہوتی،
اور اسی گھر کی بدولت عرب کو ہر سال چار مہینے ایسے امن کے میسر آ جاتے ہیں جن میں
قافلے اطمینان سے سفر کرتے ہیں ، تجارت چمکتی ہے اور بازار لگتے ہیں ۔ پھر اس گھر
کا یہ دبدبہ تھا کہ اس پوری مدت میں کوئی بڑے سے بڑا جبار بھی اس کی طرف آنکھ اٹھا
کر نہ دیکھ سکا، اور جس نے یہ جرأت کی وہ اللہ کے غضب کا ایسا شکار ہوا کہ عبرت بن
کر رہ گیا۔یہ کرشمہ ان آیات کے نزول سے صرف 45 ہی برس پہلے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ
چکے تھے اور اس کے دیکھنے والے بہت سے آدمی اس وقت مکہ معظمہ میں زندہ موجود تھے
جب یہ آیات اہل مکہ کو سنائی جا رہی تھیں ۔ اس سے بڑھ کر کیا چیز اس بات کی دلیل
ہو سکتی تھی کہ خدا کے پیغمبر ہوائی باتیں نہیں کیا کرتے ۔ اس کی آنکھیں وہ کچھ دیکھتی
ہیں جو دوسروں کو نظر نہیں آتیں ۔ ان کی زبان پر وہ حقائق جاری ہوتے ہیں جن تک
دوسروں کی عقل نہیں پہنچ سکتی۔ وہ بظاہر ایسے کام کرتے ہیں جن کو ایک وقت کے لوگ دیکھیں
تو دیوانگی سمجھیں اور صدیوں بعد کے لوگ ان ہی کو دیکھ کر ان کی بصیرت پر دنگ رہ
جائیں ۔ اس شان کے لوگ جب بالاتفاق ہر زمانے میں یہ خبر دیتے رہے ہیں کہ قیامت آئے
گی اور حشر و نشر ہو گا تو اسے دیوانوں کی بڑ سمجھنا خود دیوانگی ہے ۔
اُونچی چھت (آسمان)
اور موجزن سمندر کی قَسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ کی حکمت اور
اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں اور اسی حکمت و قدرت سے آخرت کا امکان بھی ثابت ہوتا
ہے اور اس کا وقوع و وجوب بھی۔ آسمان کی دلالت پر ہم اس سے پہلے تفسیر سورۃ ’’ق‘‘ حاشیہ
نمبر 7 میں کلام کرچکے ہیں ۔ رہا سمندر، تو جو شخص بھی انکار کا پیشگی فیصلہ کیے
بغیر اس کو نگاہ غور سے دیکھے گا اس کا دل یہ گواہی دے گا کہ زمین پر پانی کے اتنے
بڑے ذخیرے کا فراہم ہو جانا بجائے خود ایک ایسی کاریگری ہے جو کسی اتفاقی حادثے کا
نتیجہ نہیں ہو سکتی۔ پھر اس کے ساتھ اتنی بے شمار حکمتیں وابستہ ہیں کہ اتفاقاً ایسا
حکیمانہ نظام قائم ہو جانا ممکن نہیں ہے ۔ اس میں بے حد و حساب حیوانات پیدا کیے
گئے ہیں جن میں سے ہر نوع کا نظام جسمانی ٹھیک اس گہرائی کے لیے موزوں بنایا گیا
ہے جس کے اندر اسے رہنا ہے ۔ اس کے پانی کو نمکین بنا دیا گیا ہے تاکہ روزانہ
کروڑوں جانور جو اس میں مرتے ہیں ان کی لاشیں سڑ نہ جائیں ۔ اس کے پانی کو ایک خاص
حد پر اس طرح روک رکھا گیا ہے کہ نہ تو وہ زمین کے شگافوں سے گزر کر اس کے پیٹ میں
اتر جاتا ہے اور نہ خشکی پر چڑھ کر اسے غرق کر دیتا ہے ، بلکہ لاکھوں کروڑوں برس
سے وہ اسی حد پر رُکا ہوا ہے ۔اسی عظیم ذخیرہ آب کے موجود اور برقرار رہنے سے زمین
کے خشک حصوں پر بارش کا انتظام ہوتا ہے جس میں سورج کی گرمی اور ہواؤں کی گردش اس
کے ساتھ پوری باقاعدگی کے ساتھ تعاون کرتی ہے ۔ اسی کے غیر آباد نہ ہونے اور طرح
طرح کی مخلوقات اس میں پیدا ہونے سے یہ فائدہ حاصل ہوا ہے کہ انسان اس سے اپنی غذا
اور اپنی ضرورت کی بہت سی چیزیں کثیر مقدار میں حاصل کر رہا ہے ۔ اسی کے ایک حد پر
رکے رہنے سے وہ بر اعظم اور جزیرے قائم ہیں جن پر انسان بس رہا ہے اور اسی کے چند
اٹل قواعد کی پابندی کرنے سے یہ ممکن ہوا ہے کہ انسان اس میں جہاز رانی کر سکے ۔ ایک
حکیم کی حکمت اور ایک قادر مطلق کی زبردست قدرت کے بغیر اس انتظام کا تصور نہیں کیا
جا سکتا اور نہ یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ انسان اور زمین کی دوسری مخلوقات کے
مفاد سے سمندر کے اس انتظام کا یہ گہرا تعلق بس الل ٹپ ہی قائم ہو گیا ہے ۔ اب اگر
فی الواقع یہ اس امر کی ناقابل انکار شہادت ہے کہ ایک خدائے حکیم و قادر نے انسان
کو زمین پر آباد کرنے کے لیے دوسرے بے شمار انتظامات کے ساتھ یہ بحر شور بھی اس
شان کا پیدا کیا ہے تو وہ شخص سخت احمق ہوگا جو اس حکیم سے اس نادانی کی توقع رکھے
کہ وہ اس سمندر سے انسان کی کھیتیاں سیراب کرنے اور اس کے ذریعہ سے انسان کو رزق دینے
کا انتظام تو کر دے گا مگر اس سے کبھی یہ نہ پوچھے گا کہ تو نے میرا رزق کھا کر اس
کا حق کیسے ادا کیا، اور وہ اس سمندر کے سینے پر اپنے جہاز دوڑانے کی قدرت تو
انسان کو عطا کر دے گا مگر اس سے کبھی یہ نہ پوچھے گا کہ یہ جہاز تو نے حق اور
راستی کے ساتھ دوڑائے تھے یا ان کے ذریعے سے دنیا میں ڈاکے مارتا پھرتا تھا۔ اسی
طرح یہ تصور کرنا بھی ایک بہت بڑی کند ذہنی ہے کہ جس قادر مطلق کی قدرت کا ایک ادنیٰ
کرشمہ اس عظیم الشان سمندر کی تخلیق ہے ، جس نے فضا میں گھومنے والے اس معلق کُرّے
پر پانی کے اتنے بڑے ذخیرے کو تھام رکھا ہے ، جس نے نمک کی اتنی بڑی مقدار اس میں
گھول دی ہے ، جس نے طرح طرح کی ان گنت مخلوقات اس میں پیدا کی ہیں اور ان سب کی
رزق رسانی کا انتظام اسی کے اندر کر دیا ہے ، جو ہر سال اربوں ٹن پانی اس میں سے
اٹھا کر ہوا کے دوش پر لے جاتا ہے اور کروڑوں مربع میل کے خشک علاقہ پر اسے بڑی
باقاعدگی کے ساتھ بر ساتا رہتا ہے ، وہ انسان کو ایک دفعہ پیدا کر دینے کے بعد ایسا
عاجز ہو جاتا ہے کہ پھر اسے پیدا کرنا چاہے بھی تو نہیں کر سکتا۔
قرآن میں آخرت کے
برحق ہونے پر مختلف اشیا کی قسمیں کس مناسبت سے کھائی گئی ہیں؟
فہرست موضوعات-تفہیم
القرآن جلد پنجم-آخرت
صفحہ534، 535
سورہ تغابن آیت 7
زَعَمَ
الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ
لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ١ؕ وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ
يَسِيْرٌ۰۰۷
مُنکرین نے بڑے دعوے
سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اُٹھائے جائیں گے۔ ان سے کہو”نہیں، میرےرب کی قسم تم ضرور اُٹھائے جاؤ گے، پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے (دنیا میں)کیا
کچھ کیا ہے، اور ایسا کرنا اللہ کے لیے
بہت آسان ہے۔“
تم ضرور اُٹھائے جاؤ گے
15. یہ تیسرا مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ سے فرمایا ہے کہ اپنے رب کی
قسم کھا کر لوگوں سے کہو کہ ضرور ایسا ہو کر رہے گا۔ پہلے سورہ یونس میں فرمایا : وَ يَسْتَنْۢبِـُٔوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِيْ وَ
رَبِّيْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَؒ۰۰۵۳ ۔
’’ وہ پوچھتے ہیں کیا واقعی یہ حق ہے ؟ کہو، میرے رب کی قسم یہ یقیناً حق ہے اور
تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہور میں آنے سے روک دو‘‘(آیت 53)۔ پھر سورہ
سبا میں فرمایا وَ قَالَ
الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ١ؕ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ
لَتَاْتِيَنَّكُمْ’’ منکرین کہتے ہیں کیا
بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آ رہی ہے ! کہو، قسم ہے میرے رب کی وہ تم پر آ کر رہے
گی‘‘ (آیت 3)۔
یہاں یہ سوال پیدا
ہوتا ہے کہ ایک منکر آخرت کے لیے آخر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ آپ اسے آخرت کے آنے
کی خبر قسم کھا کر دیں یا قسم کھائے بغیر دیں ؟ وہ جب اس چیز کو نہیں مانتا تو محض
اس بنا پر کیسے مان لے گا کہ آپ قسم کھا کر اس سے یہ بات کہہ رہے ہیں ؟ اس کا جواب
یہ ہے کہ اول تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے مخاطب وہ لوگ تھے جو اپنے ذاتی
علم اور تجربے کی بنا پر یہ بات خوب جانتے تھے کہ یہ شخص کبھی عمر بھر جھوٹ نہیں
بولا ہے ، اس لیے چاہے زبان سے وہ آپ کے خلاف کیسے ہی بہتان گھڑتے رہے ہوں ، اپنے
دلوں میں وہ یہ تصور تک نہ کر سکتے تھے کہ ایسا سچا انسان کبھی خدا کی قسم کھا کر
وہ بات کہہ سکتا ہے جس کے بر حق ہونے کا اسے کامل یقین نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ آپؐ محض
آخرت کا عقیدہ ہی بیان نہیں کرتے تھے ، بلکہ اس کے لیے نہایت معقول دلائل بھی پیش
فرماتے تھے۔ مگر جو چیز نبی اور غیر نبی کے درمیان فرق کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک غیر
نبی آخرت کے حق میں جو مضبوط سے مضبوط دلائل دے سکتا ہے ان کا زیادہ سے زیادہ
فائدہ بس یہی ہو سکتا ہے کہ آخرت کے نہ ہونے کی بہ نسبت اس کا ہونا معقول تر اور
اغلب تسلیم کر لیا جائے۔ اس کے برعکس نبی کا مقام ایک فلسفی کے مقام سے بالا تر
ہے۔ اس کی اصل حیثیت یہ نہیں ہے کہ عقلی استدلال سے وہ اس نتیجہ پر پہنچا ہو کہ
آخرت ہونی چاہیے۔ بلکہ اس کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اس بات کا علم رکھتا ہے کہ
آخرت ہو گی اور یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ وہ ضرور ہو کر رہے گی۔ اس لیے ایک نبی ہی
قسم کھا کر یہ بات کہہ سکتا ہے ، ایک فلسفی اس پر قسم نہیں کھا سکتا۔ اور آخرت پر
ایمان ایک نبی کے بیان ہی سے پیدا ہو سکتا ہے ، فلسفی کا استدلال اپنے اندر یہ قوت
نہیں رکھتا کہ دوسرا شخص تو در کنار، فلسفی خود بھی اپنی دلیل کی بنا پر اسے اپنا
ایمانی عقیدہ بنا سکے۔ فلسفی اگر واقعی صحیح الفکر فلسفی ہو تو وہ ’’ ہونا چاہیے
‘‘ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ ’’ ہے اور یقیناً ہے ‘‘ کہنا صرف ایک نبی کا کام ہے۔
Comments
Post a Comment