خوف آخرت جنت کے مستحق افراد کی صفت ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
خوف آخرت جنت کے مستحق افراد کی صفت
ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد
پنجم – آخرت
صفحہ 171
سورہ طور آیات 25تا28
وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى
بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ۰۰۲۵قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ
فِيْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِيْنَ۰۰۲۶فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَ
وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ۰۰۲۷اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ
نَدْعُوْهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيْمُؒ۰۰۲۸
یہ لوگ آپس میں ایک
دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے
گھروالوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے، آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور
ہمیں جھلسادینے والی ہوا کے عذاب سے بچالیا
۔ ہم پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے ، وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم
ہے۔
ہم پہلے اپنے گھروالوں میں ڈرتے ہوئے
زندگی بسر کرتے تھے
یعنی ہم وہاں عیش میں منہمک اور اپنی
دنیا میں مگن ہو کر غفلت کی زندگی نہیں گزار رہے تھے ، بلکہ ہر وقت ہمیں یہ دھڑکا
لگا رہتا تھا کہ کہیں ہم سے کوئی ایسا کام نہ ہو جائے جس پر خدا کے ہاں ہماری پکڑ
ہو۔ یہاں خاص طور پر اپنے گھر والوں کے درمیان ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرنے کا ذکر اس
لیے کیا گیا ہے کہ آدمی سب سے زیادہ جس
وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے بال بچوں کو عیش کرانے اور ان کی دنیا
بنانے کی فکر ہے ۔ اسی کے لیے وہ حرام کماتا ہے ، دوسروں کے حقوق پر ڈاکے ڈالتا ہے
، اور طرح طرح کی نا جائز تدبیریں کرتا ہے ۔ اسی بنا پر اہل جنت آپس میں کہیں گے
کہ خاص طور پر جس چیز نے ہمیں عاقبت کی خرابی سے بچایا وہ یہ تھی کہ اپنے بال بچوں
میں زندگی بسر کرتے ہوئے ہمیں ان کو عیش کرانے اور ان کا مستقبل شاندار بنانے کی
اتنی فکر نہ تھی جتنی اس بات کی تھی کہ ہم ان کی خاطر وہ طریقے نہ اختیار کر بیٹھیں
جن سے ہماری آخرت برباد ہو جائے، اور اپنی اولاد کو بھی ایسے راستے پر نہ ڈال جائیں
جو ان کو عذاب الہیٰ کا مستحق بنا دے ۔
خوف آخرت جنت کے مستحق افراد کی صفت
ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد
پنجم – آخرت
صفحہ266
سورہ رحمان آیت 46
وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ
رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ۰۰۴۶
اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے
حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں۔
جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف
رکھتا ہو
یعنی جس نے دنیا میں خدا سے ڈرتے ہوئے
زندگی بسر کی ہو، جسے ہمیشہ یہ احساس رہا ہو کہ میں دنیا میں شتر بے مہار بنا کر
نہیں چھوڑ دیا گیا ہوں، بلکہ ایک روز مجھے اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو نا اور اپنے
اعمال کا حساب دینا ہے۔ یہ عقیدہ جس شخص کا ہو وہ لامحالہ خواہشات نفس کی بندگی سے
بچے گا اندھا دھند ہر راستے پر نہ چل کھڑا ہو گا۔ حق و باطل، ظلم و انصاف، پاک و ناپاک اور حلال و حرام میں تمیز کرے گا۔
اور جان بوجھ کر خدا کے احکام کی پیروی سے منہ نہ موڑے گا۔ یہی اس اصل علّت ہے جو
آگے بیان کی جا رہی ہے۔
دو باغ ہیں
جنت کے اصل معنی باغ کے ہیں۔ قرآن مجید
میں کہیں تو اس پورے عالم کو جس میں نیک لوگ رکھے جائیں گے جنت کہا گیا ہے، گویا
کہ وہ پورا کا پورا ایک باغ ہے۔ اور کہیں فرمایا گیا ہے کہ ان کے لیے جنتیں ہیں جن
کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس بڑے باغ میں بے شمار باغات
ہوں کے۔ اور یہاں تعین کے ساتھ ارشاد ہو ہے کہ ہر نیک شخص کو اس بڑی جنت میں دو دو
جنتیں دی جائیں گی جو اسی کے لیے مخصوص ہوں گی، جن میں اس کے اپنے قصر ہوں گے، جن
میں وہ اپنے متعلقین اور خدام کے ساتھ شاہانہ ٹھاٹھ کے ساتھ رہے گا، جن میں اس کے
لیے وہ کچھ سرو سامان فراہم ہوگا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Comments
Post a Comment