منکرین آخرت کو مرتے ہی آخرت کی حقیقت معلوم ہوجائے گی
بِسْمِ
اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
منکرین آخرت کو مرتے
ہی آخرت کی حقیقت معلوم ہوجائے گی
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 117-118
سورہ ق آیات 19، 20
وَ جَآءَتْ
سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ۰۰۱۹
پھر دیکھو، وہ موت کی
جاں کنی حق لے کر آ پہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تُو
بھاگتا تھا۔
موت کی جاں کنی حق لے
کر آ پہنچی
سورۃ ق حاشیہ نمبر۲۲
حق لے کر آ پہنچنے سے
مراد یہ ہے کہ موت کی جانکنی وہ نقطۂ آغاز ہے جہاں سے وہ حقیقت کھلُنی شروع ہو جاتی
جس پر دنیا کی زندگی میں پردہ پڑا ہوا تھا۔ اس مقام سے آدمی وہ دوسرا عالم صاف دیکھنے لگتا ہے جس کی خبر انبیاء علیہم
السلام نے دی تھی۔ یہاں آدمی کو یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ آخرت بالکل برحق ہے، اور یہ حقیقت بھی اس
کو معلوم ہو جاتی ہے کہ زندگی کے اس دوسرے مرحلے میں وہ نیک بخت کی حیثیت سے داخل
ہو رہا ہے یا بد بخت کی حیثیت سے۔
جس سے تُو بھاگتا تھا
سورۃ ق حاشیہ نمبر۲۳
یعنی یہ وہی حقیقت ہے
جس کو ماننے سے تو کنّی کتراتا تھا۔ تو چاہتا تھا کہ دنیا میں بے نتھے بیل کی طرح چھوٹا پھرے اور مرنے کے بعد
کوئی دوسری زندگی نہ ہو جس میں تجھے اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے۔ اسی لیے
آخرت کے تصور سے تو دور بھا گتا تھا اور کسی طرح یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھا کہ
کبھی یہ عالم بھی برپا ہونا ہے۔ اب دیکھ لے، یہ وہی دوسرا علم تیرے سامنے آ رہا
ہے۔
منکرین آخرت کو مرتے
ہی آخرت کی حقیقت معلوم ہوجائے گی
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 136، 137
سورہ ذاریات آیات 10،
11
قُتِلَ
الْخَرّٰصُوْنَۙ۰۰۱۰الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ۰۰۱۱
مارے گئے قیاس و گمان
سے حکم لگانے والے، جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں۔
قیاس و گمان سے حکم
لگانے والے
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۸
ان الفاظ میں قرآن مجید
ایک اہم حقیقت پر انسان کو متنبہ کر رہا ہے۔ قیاس و گمان کی بنا پر کوئی اندازہ
کرنا یا تخمینہ لگانا، دنیوی زندگی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں تو کسی حد تک چل سکتا ہے، اگر چہ
علم کا قائم مقام پھر بھی نہیں ہو سکتا، لیکن اتنا بڑا بنیادی مسئلہ کہ ہم اپنی
پوری زندگی کے اعمال کے لیے کسی کے سامنے ذمہ دار و جواب دہ ہیں یا نہیں، اور ہیں
تو کس کے سامنے، کب اور کیا جوابدہی ہمیں کرنی ہو گی، اور اس جوابدہی میں کامیابی
و ناکامی کے نتائج کیا ہوں گے، یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اس کے متعلق آدمی محض
اپنے قیاس و گمان کے مطابق ایک اندازہ قائم کر لے اور پھر اسی جوئے کے داؤں پر
اپنا تمام سرمایہ حیات لگا دے۔ اس لیے کہ یہ اندازہ اگر غلط نکلے تو اس کے معنی یہ
ہوں گے کہ آدمی نے اپنے کو بالکل تباہ و برباد کر لیا۔ مزید براں یہ مسئلہ سرے سے
ان مسائل میں سے ہے ہی نہیں جن کے بارے میں آدمی محض قیاس اور ظن و تخمین سے کوئی
صحیح رائے قائم کر سکتا ہو۔کیونکہ قیاس ان امور میں چل سکتا ہے جو انسان کے دائرہ
محسوسات میں شامل ہوں، اور یہ مسئلہ ایسا ہے جس کا کوئی پہلو بھی محسوسات کے دائرے
میں نہیں آتا۔لہٰذا یہ بات ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کے بارے میں کوئی قیاسی اندازہ
صحیح ہو سکے۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر آدمی کے لیے ان ماورائے حس و ادراک مسائل کے
بارے میں رائے قائم کرنے کی صحیح صورت کیا ہے، تو اس کا جواب قرآن مجید میں جگہ
جگہ یہ دیا گیا ہے، اور خود اس سورہ سے بھی یہی جواب مترشح ہوتا ہے کہ(1) انسان
براہ راست خود حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا، (2) حقیقت کا علم اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی
ذریعہ سے دیتا ہے، اور (3) اس علم کی صحت کے متعلق آدمی اپنا اطمینان اس طریقہ سے
کر سکتا ہے کہ زمین اور آسمان اور خود اس کے اپنے نفس میں جو بے شمار نشانیاں
موجود ہیں ان پر غائر نگاہ ڈال کر دیکھے اور پھر بے لاگ طرز پر سوچے کہ یہ نشانیاں
آیا اس حقیقت کی شہادت دے رہی ہیں جو نبی بیان کر رہا ہے، یا ان مختلف نظریات کی
تائید کرتی ہیں جو دوسرے لوگوں نے اس کے بارے میں پیش کیے ہیں؟ خدا اور آخرت کے
متعلق علمی تحقیق کا یہی ایک طریقہ ہے جو قرآن میں بتایا گیا ہے۔ اس سے ہٹ کر جو
بھی اپنے قیاسی اندازوں پر چلا وہ مارا گیا۔
جو جہالت میں غرق اور
غفلت میں مدہوش ہیں
سورۃ الذٰریٰت حاشیہ
نمبر۹
یعنی انہیں کچھ پتہ
نہیں ہے کہ اپنے ان غلط اندازوں کی وجہ سے وہ کس انجام کی طرف چلے جا رہے ہیں۔ ان
اندازوں کی بنا پر جو راستہ بھی کسی نے اختیار کیا ہے وہ سیدھا تباہی کی طرف جاتا
ہے۔ جو شخص آخرت کا منکر ہے وہ سرے سے کسی جوابدہی کی تیاری ہی نہیں کر رہا ہے اور
اس خیال میں مگن ہے کہ مرنے کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہو گی، حالانکہ اچانک وہ
وقت آ جائے گا جب اس کی توقعات کے بالکل خلاف دوسری زندگی میں اس کی آنکھیں کھلیں
گی، اور اسے معلوم ہو گا کہ یہاں اس کو اپنے ایک ایک عمل کی جواب دہی کرنی ہے۔ جو
شخص اس خیال میں ساری عمر کھپا رہا ہے کہ مر کر پھر اسی دنیا میں واپس آؤں گا اسے
مرتے ہی معلوم ہو جائے گا کہ اب واپسی کے سارے دروازے بند ہیں، کسی نئے عمل سے
پچھلی زندگی کے اعمال کی تلافی کا اب کوئی موقع نہیں،اور آگے ایک اور زندگی ہے جس
میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسے اپنی دنیوی زندگی کے نتائج دیکھنے اور بھگتنے ہیں۔ جو
شخص اس امید میں اپنے آپ کو ہلاک کیے ڈالتا ہے کہ نفس اور اس کی خواہشات کو جب پوری
طرح مار دونگا تو فنائے محض کی شکل میں مجھے عذاب ہستی سے نجات مل جائے گی، وہ موت
کے دروازے سے گزرتے ہی دیکھ لے گا کہ آگے فنا نہیں بلکہ بقا ہے اور اسے اب اس امر
کی جوابدہی کرنی ہے کہ کیا تجھے وجود کی نعمت اسی لیے دی گئی تھی کہ تو اسے بنانے
اور سنوارنے کے بجائے مٹانے میں اپنی ساری محنتیں صرف کر دیتا؟ اسی طرح جو شخص کسی
ابن اللہ کے کفارہ بن جانے یا کسی بزرگ ہستی کے شفیع بن جانے پر بھروسہ کر کے عمر بھر
خدا کی نا فرمانیاں کرتا رہا اسے خدا کے سامنے پہنچتے ہی پتہ چل جائے گا کہ یہاں
نہ کوئی کسی کا کفارہ ادا کرنے والا ہے اور نہ کسی میں یہ طاقت ہے کہ اپنے زور سے یا
اپنی محبوبیت کے صدقے میں کسی کو خدا کی پکڑ سے بچا لے۔ پس یہ تمام قیاسی عقیدے در
حقیقت ایک افیون ہیں جس کی پینگ میں یہ لوگ بے سدھ پڑے ہوئے ہیں اور انہیں کچھ خبر
نہیں ہے کہ خدا اور نبیاء کے دیے ہوئے صحیح علم کو نظر انداز کر کے اپنی جس جہالت
پر یہ مگن ہیں وہ انہیں کدھر لیے جا رہی ہے۔
منکرین آخرت کے لیے قیامت
کا دن بڑا کٹھن ہوگا
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد پنجم – آخرت
صفحہ 232
يَوْمَ
يَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَيْءٍ نُّكُرٍۙ۰۰۶خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ
مُّنْتَشِرٌۙ۰۰۷مُّهْطِعِيْنَ اِلَى الدَّاعِ١ؕ يَقُوْلُ الْكٰفِرُوْنَ
هٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ۰۰۸
جس روز پکارنے والا ایک
سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا، لوگ سہمی
ہوئی نگاہوں کے ساتھ اپنی قبروں سے اِس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹِڈیاں ہیں۔ پکارنے والے کی
طرف دوڑے جا رہے ہوں گےاور وہی منکرین (جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اُس وقت
کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کَٹھن ہے۔
Comments
Post a Comment