آخرت کو ہنسی مذاق سمجھنے والوں کو قران کا جواب
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
آخرت کو ہنسی مذاق سمجھنے والوں کو
قران کا جواب
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 305، 306
سورہ طارق
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ
الرَّجْعِۙ۰۰۱۱وَ
الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ۰۰۱۲اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ۰۰۱۳وَّ مَا هُوَ
بِالْهَزْلِؕ۰۰۱۴
قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی اور (نباتات اُگتے وقت) پھَٹ جانے والی زمین کی،
یہ ایک جچی تُلی بات ہے، ہنسی مذاق نہیں ہے۔
یعنی جس طرح آسمان سے بارشوں کا برسنا
اور زمین کا شق ہو کر نباتات اپنے اندر سے اُگلنا کوئی مذاق نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ
حقیقت ہے، اُسی طرح قرآن مجید جس چیز کی خبر دے رہا ہے کہ انسان کو پھر اپنے خدا کی
طرف پلٹنا ہے، یہ بھی کوئی ہنسی مذاق کی بات نہیں ہے بلکہ ایک دو ٹوک بات ہے، ایک
سنجیدہ حقیقت ہے، ایک اٹل قولِ حق ہے جسے پورا ہو کر رہنا ہے۔
Comments
Post a Comment