پورے تکوینی اختیارات کا اللہ ہی کے ہاتھ میں ہونا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
پورے تکوینی اختیارات کا اللہ ہی کے
ہاتھ میں ہونا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– توحید
صفحہ 243
سورہ آل عمران آیات 26، 27
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ
الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ
تَشَآءُ١ٞ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِيَدِكَ
الْخَيْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۲۶تُوْلِجُ
الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ١ٞ وَ تُخْرِجُ
الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ١ٞ وَ تَرْزُقُ
مَنْ تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ۰۰۲۷
کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تُو جسے
چاہے، حکومت دے اور جس سے چاہے، چھین لے۔ جسے چاہے، عزّ ت بخشے اور جس کو چاہے، ذلیل
کردے ۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ رات
کو دن میں پِروتا ہوالے آتا ہے اور دن کو رات میں۔ جاندار میں سے بے جان کو نکالتا
ہے اور بے جان میں سے جاندار کو۔ اور جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق دیتا ہے۔
سورة ال عمران حاشیہ نمبر۲۴
جب انسان ایک طرف کافروں اور
نافرمانوں کے کرتُوت دیکھتا ہے اور پھر یہ دیکھتا ہے کہ وہ دنیا میں کِس طرح پَھل
پھول رہے ہیں ، دوسری طرف اہلِ ایمان کی اطاعت شعاریاں دیکھتا ہے اور پھر ان کو اس
فقر و فاقہ اور اُن مصائب و آلام کا شکار
دیکھتا ہے، جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہٴ کرام سن ۳ ہجری اور اس کے لگ بھگ زمانے میں مُبتلا تھے، تو
قدرتی طور پر اس کے دل میں ایک عجیب حسرت آمیز استفہام گردش کرنے لگتا ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے یہاں اس استفہام کا جواب دیا ہے
اور ایسے لطیف پیرائے میں دیا ہے کہ اس سے زیادہ لطافت کا تصّور نہیں کیا
جا سکتا۔
Comments
Post a Comment