آخرت کے آنے کی تاریخ

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آخرت کے آنے کی تاریخ پوچھنے والوں کو جواب

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 52

سورۃ الملک آیت 25، 26

وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۲۵قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۰۰۲۶

یہ کہتے ہیں” اگر تم سچے ہو تو بتاوٴ یہ وعدہ کب پُورا ہوگا؟ “کہو” اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں۔“

وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۲۵

یہ کہتے ہیں” اگر تم سچے ہو تو بتاوٴ یہ وعدہ کب پُورا ہوگا؟

یہ سوال اس غرض کے لیے نہ تھا کہ وہ قیامت کا وقت اور اُس کی تاریخ معلوم کرنا چاہتے تھے اور اس بات کے لیے تیار تھے کہ اگر انہیں اُس کی آمد کا سال، مہینہ، دن اور وقت بتا دیا جائے تو وہ اسے مان لیں گے ۔ بلکہ دراصل وہ اُس کے آنے کو غیر ممکن اور بعید از عقل سمجھتے تھے اور یہ سوال اس غرض کے لیے کرتے تھے کہ اُسے جھٹلانے کا ایک بہانہ اُن کے ہاتھ آئے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ حشر ونشر کا یہ عجیب و غریب افسانہ جو تم ہمیں سنا رہے ہو آخر یہ کب ظہور میں آئے گا؟ اسے کس وقت کے لیے اٹھا رکھا گیا ہے؟ ہماری آنکھوں  کے سامنے لا کر اسے دکھا کیوں نہیں دیتے کہ ہمیں اس کا یقین آجائے؟ اس سلسلے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ کوئی شخص اگر قیامت کا قائل ہو سکتا ہے تو عقلی دلائل سے ہو سکتا ہے ، اور قرآن میں جگہ جگہ وہ دلائل تفصیل کے ساتھ دے دیے گئے ہیں۔ رہی اُس کی تاریخ ، تو قیامت کی بحث میں اُس کا سوال اٹھانا ایک جاہل آدمی ہی کا کام ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ اگر بالفرض وہ بتا بھی دی جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ نہ ماننے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ جب وہ تمہاری بتائی ہوئی تاریخ پر آجائے گی تو مان لوں گا، آج آخر میں کیسے یقین کر لوں کہ وہ اُس روز ضرور آجائے گی۔

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۰۰۲۶

کہو” اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں۔“

یعنی یہ تو مجھے معلوم ہے کہ وہ ضرور آئے گی، اور لوگوں کو اس کی آمد سے پہلے خبر دار کر دینے کے لیے یہی جاننا کافی ہے ۔ رہی یہ بات کہ وہ کب آئے گی، تو اس کا علم اللہ کو ہے ، مجھے نہیں ہے، اور خبردار کرنے کے لیے اس علم کی کوئی حاجت نہیں۔ اس معاملہ کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھاجا سکتاہے ۔ یہ بات کہ کون شخص کب مرے گا، اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ البتہ یہ ہمیں معلو م ہے کہ ہر شخص کو ایک دن مرنا ہے ۔ ہمارا یہ علم اس بات کے لیے کافی ہے کہ ہم اپنے کسی غیر محتاط دوست کو یہ تنبیہ کریں کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے مفاد کی حفاظت کا انتظام کر لے۔ اس تنبیہ کے لیے یہ جاننا ضروری نہیں ہے  کہ وہ کس روز مرے گا۔

آخرت کے آنے کی تاریخ پوچھنے والوں کو جواب

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 247

سورہ نازعات آیات 42تا45

يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَاؕ۰۰۴۲فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ۰۰۴۳اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ۰۰۴۴اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَاؕ۰۰۴۵

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ”آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی؟“ تمہارا کیا کام کہ اُس کا وقت بتاوٴ۔ اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے۔ تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے۔

يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَاؕ۰۰۴۲

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ”آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی؟“

کُفّارمکّہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال بار بار کرتے تھے اور اس سے مقصود قیامت کی آمد کا وقت اور اس کی تاریخ معلوم کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کا مذاق اڑانا ہوتا تھا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں