انسان کی سرکشی کی اصل وجہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
انسان کی سرکشی کی اصل وجہ
یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے حضور
پیش ہونے سے مبرا سمجھتا ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ397
سورہ علق آیات 6تا8
كَلَّاۤ اِنَّ الْاِنْسَانَ
لَيَطْغٰۤىۙ۰۰۶اَنْ
رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ۰۰۷اِنَّ
اِلٰى رَبِّكَ الرُّجْعٰىؕ۰۰۸
ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ
کو بے نیاز دیکھتا ہے (حالانکہ) پلٹنا یقیناً
تیرے ربّ ہی کی طرف ہے۔
اَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰىؕ۰۰۷
اِس بنا پر کہ وہ اپنے
آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے
یعنی یہ دیکھ کر کہ مال، دولت، عزّت
وجاہ اور جو کچھ بھی دنیا میں وہ چاہتا
تھا وہ اسے حاصل ہو گیا ہے، شکر گزار ہونے کے بجائے وہ سرکشی پر اتر آتا ہے اور
حدّ بندگی سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔
اِنَّ اِلٰى رَبِّكَ
الرُّجْعٰىؕ۰۰۸
(حالانکہ) پلٹنا یقیناً
تیرے ربّ ہی کی طرف ہے
یعنی خواہ کچھ بھی اس نے دنیا میں
حاصل کر لیا ہو جس کے بل پر وہ تمُّرد اور سرکشی کر رہا ہے ، آخر کار اسے جانا تو
تیرے رب ہی کے پاس ہے۔ پھر اسے معلوم ہو جائے گا کہ اِس روش کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Comments
Post a Comment