نظریۂ تقلید کا قرآنی جواب

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نظریۂ تقلید کا قرآنی جواب

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – تقلید

صفحہ 118

سورہ  بقرہ آیت 141

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَؒ۰۰۱۴۱

وہ کچھ لوگ تھے ،  جو گزر چکے۔ ان کی کمائی ان کےلیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے۔ تم سے ان کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہو گا۔ “

دنیا میں پیشواؤں اور رہنماؤں کی پیروی کرنے  والے پشیمان ہوں گےجب وہ ان سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کریں گے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – تقلید

صفحہ 132

سورہ بقرہ آیات 166،  167

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ۰۰۱۶۶وَ قَالَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ يُرِيْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَيْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنَ النَّارِؒ۰۰۱۶

جب وہ سزا دے گا اس وقت کیفیت یہ ہو گی کہ وہی پیشوا اور رہنما، جن کی دنیا میں پیروی کی گئی تھی،  اپنےپیروؤں سے بے تعلقی ظاہر کریں گے ، مگر سز ا پا کر رہیں گے اور ان کے سارے اسباب و  وسائل کا سلسلہ کٹ جائے گا۔ اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے ، کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا   تو جس طرح آج یہ ہم سے بے زاری ظاہر کر رہے ہیں ، ہم ان سے بے زار ہو کر دکھا دیتے ۔ یوں اللہ ان لوگو ں کے وہ اعمال ، جو یہ دنیا میں کر رہے ہیں ،ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔

فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ

ہم ان سے بے زار ہو کر دکھا دیتے

یہاں خاص طور پر گمراہ کرنے والے پیشوا ؤ ں اور لیڈروں اور اُن کے نادان پیرو ؤ ں کے انجام کا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ جس غلطی میں مُبتلا ہو کر پچھلی  اُمتّیں بھٹک گئیں اس سے مسلمان ہوشیار رہیں اور رہبروں  میں امتیاز کرنا سیکھیں اور غلط رہبری کرنے والوں کے پیچھے چلنے سے بچیں۔

تقلید گمراہی و ضلالت کی سیڑھی ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – تقلید

صفحہ 133

سورہ بقرہ آیت  170

وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ۰۰۱۷۰

ان سے  جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیےہیں ان کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گےجس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔  اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہیں  کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟

قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ

جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گےجس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے

یعنی ان پابندیوں کے لیے ان کے پاس کوئی سَنَد اور کوئی حجّت اس کے سوا نہیں ہے کہ باپ دادا سے یُوں ہی ہوتا چلا آیا ہے۔ نادان سمجھتے ہیں کہ کسی طریقے کی پیروی کے لیے یہ حجّت بالکل کافی ہے۔

باپ دادا کی اندھی تقلید نہایت اہم سبب ضلالت ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – تقلید

صفحہ 509

سورہ مائدہ آیت 104

وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ۰۰۱۰۴

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آوٴ اُس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آوٴ پیغمبر ؐ کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کیے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو؟

مذہبی پیشواؤں، سرداروں اور باپ دادا کی اندھی تقلید اور ان کی بنائی ہوئی جاہلی رسوم اور حلال حرام کی بے مقصد قیود کی تردید اور مذمت

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول – تقلید

صفحہ 588،  589

سورہ انعام آیات 138تا  140

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا يَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَيْهَا افْتِرَآءً عَلَيْهِ١ؕ سَيَجْزِيْهِمْ بِمَا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۰۰۱۳۸وَ قَالُوْا مَا فِيْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ يَّكُنْ مَّيْتَةً فَهُمْ فِيْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَيَجْزِيْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ۰۰۱۳۹قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَؒ۰۰۱۴۰

 

کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، انہیں صرف وہی لوگ کھاسکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے۔ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے، اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراکیا ہے، عنقریب اللہ انہیں ان افتراپردازیوں کا بدلہ دے گا۔اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہوسکتے ہیں۔ یہ باتیں جو انہوں نے گھڑلی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کررہے گا۔ یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے۔

یقیناً خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بنا پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو اللہ پر افترا پردازی کرکے حرام ٹھیرالیا۔ یقیناً وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہِ  راست پانے والوں میں سے نہ تھے۔

افْتِرَآءً عَلَيْهِ١ؕ

انہوں نے اللہ پر افتراکیا ہے

یعنی قاعدے خدا کے مقرر کیے ہوئے نہیں ہیں، مگر وہ ان کی پابندی یہی سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں کہ انھیں خدا نے مقرر کیا ہے ، اور ایسا سمجھنے کے لیے ان کے پاس خدا کے کسی حکم کی سند نہیں ہے بلکہ صرف یہ سند ہے کہ باپ دادا سے یونہی ہوتا چلا آرہا ہے۔

قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَؒ۰۰۱۴۰

یقیناً وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہِ  راست پانے والوں میں سے نہ تھے۔

یعنی اگرچہ وہ لوگ جنھوں نے یہ رسم و رواج گھڑے تھے تمہارے باپ دادا تھے، تمہارے مذہبی بزرگ تھے، تمہارے پیشوا اور سردار تھے، لیکن حقیقت بہرحال حقیقت ہے ، ان کے ایجاد کیے ہوئے غلط طریقے صرف اس لیے صحیح اور مقدس نہیں ہو سکتے کہ وہ تمہارے اسلاف اور بزرگ تھے ۔ جن ظالموں نے قتلِ اولاد جیسے وحشیانہ فعل کو رسم بنایا ہو، جنہوں نے خدا کے دیے ہوئے رزق کو خواہ مخواہ خدا کے بندوں پر حرام کیا ہو ، جنھوں نے دین میں اپنی طرف سے نئی نئی باتیں شامل کر کے خدا کی طرف منسُوب کی ہوں، وہ آخر فلاح یاب اور راست رَو کیسے ہو سکتے ہیں۔ چاہے وہ تمہارے اسلاف اور بزرگ ہی کیوں نہ ہوں، بہر حال تھے وہ گمراہ اور اپنی اس گمراہی کا بُرا انجام  بھی وہ دیکھ کر رہیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں