پوری سیاسی حاکمیت اللہ ہی کےلیے مخصوص ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
پوری سیاسی حاکمیت اللہ ہی کےلیے
مخصوص ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– توحید
صفحہ 296
سورہ آل عمران آیت 154
قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ
لِلّٰهِ
ان سے کہو” (کسی کا کوئی حصہ نہیں)اس
کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں
ایمان باللہ
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اللہ
صفحہ 424
سورہ نساء آیت 162
لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِي
الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ
مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِيْمِيْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ
الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ
سَنُؤْتِيْهِمْ اَجْرًا عَظِيْمًاؒ۰۰۱۶۲
مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے
والے ہیں اور ایماندار ہیں وہ سب اس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف
نازل کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی
گئی تھی۔ اس طرح کے ایمان لانے والے اور نماز و زکوٰة کی پابندی کرنے والے اور
اللہ اور روز آخرت پر سچّا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں
گے۔
رحمان
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اللہ
صفحہ 43
سورہ فاتحہ آیات 1تا3
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ
الْعٰلَمِيْنَۙ۰۰۱الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِۙ۰۰۲
تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام کائنات کا رب ہے ، رحمان اور رحیم ہے
تعریف اللہ ہی کے لیے ہے
جیسا کہ ہم دیباچہ میں بیان کر چکے ہیں
سورہ فاتحہ اصل میں تو ایک دعا ہے ، لیکن دعا کی ابتدا اس ہستی کی تعریف سے کی جارہی ہے جس سے ہم دعا
مانگنا چاہتے ہیں ۔یہ گویا اس امر کی تعلیم ہے کہ دعا جب مانگو تو مہذب طریقہ سے
مانگو۔یہ کوئی تہذیب نہیں ہے کہ منہ کھولتے ہی جھٹ اپنا مطلب پیش کر دیا ۔ تہذیب
کا تقاضا یہ ہے کہ جس سے دعا کر رہے ہو ، پہلے اس کی خوبی کا ،اس کے احسانات اور
اس کے مرتبے کا اعتراف کرو۔
تعریف ہم جس کی بھی کرتے ہیں ، دو
وجوہ سے کیا کرتے ہیں۔ایک یہ کہ وہ بجائے خود حسن و خوبی اور کمال رکھتا ہو ، قطع
نظر اس سے کہ ہم پر اس کے ان فضائل کا کیا اثر ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ ہمارا محسن ہو
اور ہم اعترافِ نعمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اس کی خوبیاں بیان کریں ۔ اللہ تعالیٰ
کی تعریف ان دونوں حیثیتوں سے ہے۔ یہ ہماری قدر شناسی کا تقاضہ بھی ہے اور احسان
شناسی کا بھی کہ ہم اس کے تعریف میں رَطبُ
اللّسان ہوں۔
اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ تعریف
اللہ کے لیےہے ، بلکہ صحیح یہ ہے کہ‘‘ تعریف
اللہ ہی’’ کے لیے ہے۔ یہ بات کہہ کر ایک
بڑی حقیقت پر سے پردہ اٹھا یا گیا ہے ، اور وہ حقیقت ایسی ہے جس کی پہلی ہی ضرب سے
مخلوق پرستی کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ دنیا میں جہاں ، جس چیز اور جس شکل میں بھی کوئی
حسن ، کوئی خوبی ،کوئی کمال ہے، اس کا سر چشمہ اللہ ہی کی ذات ہے ۔ کسی انسان ،کسی
فرشتے ،کسی سیارے،غرض کسی مخلوق کا کمال بھی ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ کاعطیّہ ہے۔
پس اگر کوئی اس کا مستحق ہے کہ ہم اس کے گرویدہ اور پرستار،احسان مند اور شکر گذار
، نیاز مند اور خدمت گار بنیں تو وہ خالقِ کمال ہے نہ کہ صاحبِ کمال۔
جو تمام کائنات کا رب ہے
رب کا لفظ عربی زبان میں تین معنوں میں
بولا جاتا ہے ۔(١)
مالک اور آقا۔(۲) مربیّ،
پرورش کرنے والا، خبر گیری اور نگہبانی کرنے والا۔(۳)فرمانروا، حاکم ، مدّبر
اور منتظم ۔ اللہ تعالیٰ ان سب معنوں میں کائنات کا ربّ ہے ۔
رحمان اور رحیم ہے
انسان کا خاصّہ ہے کہ جب کوئی چیز اس
کی نگاہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے تو وہ مبالغہ کے صیغوں میں اس کو بیان کرتاہے، اور
اگر ایک مبالغہ کا لفظ بول کروہ محسوس کرتا ہے کہ اُس شے کی فراوانی کا حق ادا نہیں
ہوا، تو پھر وہ اسی معنی کا ایک اور لفظ بولتا ہے تاکہ وہ کمی پوری ہوجائےجو اس کے
نزدیک مبالغہ میں رہ گئی ہے۔ اللہ کی تعریف میں رحمن کا لفظ استعمال کرنے کے بعد
پھر رحیم کا اضافہ کرنے میں بھی یہی نقطہ پوشیدہ ہے ۔ رحمان عربی زبان میں بڑے
مبالغہ کا صیغہ ہے۔ لیکن خدا کی رحمت اور مہر بانی اپنی مخلوق پر اتنی زیادہ ہے ،
اس قدر وسیع ہے، ایسی بے حد وحساب ہے کہ اس کے بیان میں بڑے سے بڑا مبالغہ
کالفظ بول کر بھی جی نہیں بھرتا۔اس لیے اس
کی فراوانی کا حق ادا کرنے کے لیے پھر رحیم کا لفظ مزید استعمال کیاگیا۔
رحمان
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد اول
– اللہ
صفحہ 130
سورہ
بقرہ آیت 163
وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ
وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُؒ۰۰۱۶۳
۔تمہارا خدا ایک ہی خدا ہےاس رحمٰن
اور رحیم کے سوا کوئی اور خدا نہیں ۔
Comments
Post a Comment