عذاب آخرت کن لوگوں کے لیے ہے؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
عذاب آخرت کن لوگوں کے لیے ہے؟
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 86
سَاَلَ سَآىِٕلٌۢ بِعَذَابٍ
وَّاقِعٍۙ۰۰۱لِّلْكٰفِرِيْنَ
لَيْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ۰۰۲
مانگنے والےنے عذاب مانگا ہے، (وہ عذاب)جو ضرور واقع ہونے والا ہے، کافروں کے
لیے ہے، کوئی اُسے دفع کرنے والا نہیں
سورة المعارج حاشیہ نمبر۱
اصل الفاظ ہیں سَاَلَ سَا ئِلٌ۔ بعض
مفسرین نے یہاں سوال کو پوچھنے کے معنی میں لیا ہے اور وہ آیت کا مطلب یہ بیان
کرتے ہیں کہ پوچھنے والے نے پوچھا ہے کہ وہ عذاب ، جس کی ہمیں خبر دی جا رہی ہے ،
کس پر واقع ہوگا؟ اور اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ وہ کافروں پر واقع
ہو گا ۔ لیکن اکثر مفسرین نے اس جگہ سوال
کو مانگنے اور مطالبہ کر نے کے معنی میں لیا ہے۔ نسائی اور دوسرے محدثین نے
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے
کہ نَضربن حارِث بن کلدہ نے کہا تھا اَللّٰھُمَّ اِنْ
كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ
السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ۰۰۳۲الانفال،
آیت ۳۲)۔”خدایا
اگر یہ واقعی تیری ہی طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد
ناک عذاب لے آ۔“اس کے علاوہ متعدد مقامات پر قرآن مجید میں کفارِ مکہ کے اس چیلنج
کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے۔ مثال کے
طور پر حسبِ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں : یونس، آیات ۴۶ تا ۴۸۔ الانبیاء، ۳۶ تا ۴۱۔ النمل، ۲۷ تا۷۲۔ سبا،۲۶ تا ۳۰۔ یٰس، ۴۵ تا ۵۲۔الملک،۲۴ تا ۲۷۔
عذاب آخرت کن لوگوں کے لیے ہے؟
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 281
سورہ مطففین آیات 10تا17
وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ
لِّلْمُكَذِّبِيْنَۙ۰۰۱۰الَّذِيْنَ
يُكَذِّبُوْنَ بِيَوْمِ الدِّيْنِؕ۰۰۱۱وَ مَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا
كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍۙ۰۰۱۲اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا
قَالَ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَؕ۰۰۱۳كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى
قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۰۰۱۴كَلَّاۤ
اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَؕ۰۰۱۵ثُمَّ اِنَّهُمْ
لَصَالُوا الْجَحِيْمِؕ۰۰۱۶ثُمَّ
يُقَالُ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَؕ۰۰۱۷
تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے
جو روزِ جزا کو جھُٹلاتے ہیں۔ اور اُسے نہیں جھُٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر
جانے والا بدعمل ہے۔ اُسے جب ہماری آیات
سُنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے
وقتوں کی کہانیاں ہیں۔ ہر گز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے بُرے
اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ ہر گز نہیں، بالیقین
اُس روز یہ اپنے ربّ کی دید سے محروم رکھے جائیں گے، پھر یہ جہنّم میں جا پڑیں گے،
پھر اِن سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے
جسے تم جھُٹلایا کرتے تھے۔
Comments
Post a Comment