دنیا پرستوں کی غلط فہمی کہ جو یہاں مزے کررہا ہے وہ آخرت میں بھی اللہ کا مقبول ہوگا

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دنیا پرستوں کی غلط فہمی کہ جو یہاں مزے کررہا ہے وہ آخرت میں بھی اللہ کا مقبول ہوگا

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 64،  65

اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۰۰۳۴اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَؕ۰۰۳۵مَا لَكُمْ١ٙ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَۚ۰۰۳۶اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَۙ۰۰۳۷اِنَّ لَكُمْ فِيْهِ لَمَا تَخَيَّرُوْنَۚ۰۰۳۸اَمْ لَكُمْ اَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ۰۰۳۹سَلْهُمْ اَيُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِيْمٌۚۛ۰۰۴۰اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْيَاْتُوْا بِشُرَكَآىِٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ۰۰۴۱

یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے ربّ  کے ہاں نعمت بھری جنّتیں ہیں۔  کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟ تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟  کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے  جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے  جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟ یا پھر کیا تمہارے لیے روزِ قیامت  تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاوٴ؟ اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟ 22 یا پھر اِن کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں(جنہوں نے اِس کا ذمّہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں۔

اِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۰۰۳۴اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَؕ

یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے ربّ  کے ہاں نعمت بھری جنّتیں ہیں۔  کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟

19. مکّہ کے بڑے بڑے سردار مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم کو یہ نعمتیں جو دنیا میں مل رہی ہیں ، یہ خدا کے ہاں ہمارے مقبول ہونے کی علامت ہیں، اور تم جس بد حالی میں مبتلا ہو یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ تم خدا کے مغضوب ہو۔ لہٰذا اگر کوئی آخرت ہوئی بھی، جیسا کہ تم کہتے ہو، تو ہم وہاں بھی مزے کریں گے اور عذاب تم پر ہوگا نہ کہ ہم پر ۔ اس کا جواب اِن آیات میں دیا گیا ہے۔

۰۰۳۵مَا لَكُمْ١ٙ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَۚ

تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟

20. یعنی یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ خدا فرمانبردار اور مجرم میں تمیز نہ کرے۔ تمہاری سمجھ میں آخر کیسے یہ بات آتی ہے کہ کائنات کا خالق کوئی اندھا راجہ ہے جو یہ نہیں دیکھے گا کہ کن لوگوں نے دنیا میں اس کے احکام کی اطاعت کی اور بُرے کاموں سے پرہیز کیا، اور کون لوگ تھے جو اُس سے بے خوف ہو کر ہر طرح کے گناہ اور جرائم اور ظلم و ستم کرتے رہے؟ تم نے ایمان لانے والوں کی خستہ حالی اور اپنی خوشحالی تو دیکھ لی، مگر اپنے اور اُن کے اخلاق و اعمال کا فرق نہیں دیکھا اور بے تکلف حکم لگا دیا کہ خدا کے ہاں اِن فرمانبرداروں کے ساتھ تو مجرموں کا سا معاملہ کیا جائے گا، اور تم جیسے مجرموں کو جنت عطا کر دی جائے گی۔

اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَۙ۰۰۳۷

کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو

21. یعنی اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتاب۔

سَلْهُمْ اَيُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِيْمٌۚۛ۰۰۴۰

اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟

22. اصل میں لفظ زَعِیْم استعمال ہوا ہے ۔ کلامِ عرب میں زعیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کفیل، یا ضامن یا کسی قوم کی طرف سے بولنے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کون آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اللہ سے تمہارے لیے ایسا کوئی عہدوپیمان لے رکھا ہے۔

اَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْيَاْتُوْا بِشُرَكَآىِٕهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِيْنَ۰۰۴۱

 

یا پھر اِن کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں(جنہوں نے اِس کا ذمّہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں۔

23. یعنی تم اپنے حق میں جو حکم لگا رہے ہو اس کے لیے سرے سے کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ عقل کے بھی خلاف ہے۔ خدا کی کسی کتاب میں بھی تم یہ لکھا ہوانہیں دکھا سکتے۔ تم میں سے کوئی یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتا کہ اُس نے خدا سے ایسا کوئی عہد لے لیا ہے۔ اور جن کو تم نے معبود بنا رکھا ہے اُن میں سے بھی کسی سے تم یہ شہادت نہیں دلوا سکتے کہ خدا کے ہاں تمہیں جنت دلوادینے کا وہ ذمّہ لیتا ہے۔ پھر یہ غلط فہمی آخر تمہیں کہاں سے لاحق ہو گئی؟

دنیا پرستوں کی غلط فہمی کہ جو یہاں مزے کررہا ہے وہ آخرت میں بھی اللہ کا مقبول ہوگا

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 92،  93

سورہ معارج آیات 38،  39

فَمَالِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِيْنَۙ۰۰۳۶عَنِ الْيَمِيْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِيْنَ۰۰۳۷اَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيْمٍۙ۰۰۳۸كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا يَعْلَمُوْنَ۰۰۳۹

پس اے نبیؐ ، کیا بات ہے کہ یہ منکرین دائیں اور بائیں سے گروہ در گروہ تمہاری طرف دوڑے چلے آرہے ہیں؟  کیا اِن میں سے ہر ایک یہ  لالچ رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کر دیا جائے گا؟  ہر گز نہیں ۔ ہم نے جس چیز سے اِن کو پیدا کیا اُسے یہ خود جانتے ہیں۔

فَمَالِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِيْنَۙ۰۰۳۶عَنِ الْيَمِيْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِيْنَ۰۰۳۷

پس اے نبیؐ ، کیا بات ہے کہ یہ منکرین دائیں اور بائیں سے گروہ در گروہ تمہاری طرف دوڑے چلے آرہے ہیں؟

یہ اُن لوگوں کا ذکر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و تبلیغ اور تلاوتِ قرآن کی آواز سن کر مذاق اڑانے اور آوازے کسنے کے لیے چاروں طرف سے دوڑ پڑتے تھے۔

اَيَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِيْمٍۙ۰۰۳۸

کیا اِن میں سے ہر ایک یہ  لالچ رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کر دیا جائے گا

مطلب یہ ہے کہ خدا کی جنت تو اُن لوگوں کے لیے ہے جن کی صفات ابھی ابھی بیان کی جا چکی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ جو حق بات سننا تک گورار نہیں کرتے اور حق کی آواز کو دبا دینے کے لیے یوں دوڑے چلے آرہے ہیں، جنت کے امید وار ہو سکتے ہیں؟ کیا خدا نے اپنی جنت ایسے ہی لوگوں کے لیے بنائی ہے؟ اس مقام پر سورة القلم کی آیات۳۴۔۴۱ بھی پیش نظر رکھنی چاہییں جن میں کفارِ مکہ کو اُن کی اِس بات کا جواب دیا گیا ہے کہ آخرت اگر ہوئی بھی تو وہاں وہ اُسی طرح مزے کریں گےجس طرح دنیا میں کر رہے ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے اُسی طرح خستہ حال رہیں گے جس طرح آج دنیا میں ہیں۔

اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا يَعْلَمُوْنَ۰۰۳۹

ہم نے جس چیز سے اِن کو پیدا کیا اُسے یہ خود جانتے ہیں۔

اس مقام پر اس فقرے کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ مضمونِ سابق کے ساتھ اس کا تعلق مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جس مادے سے یہ لوگ بنے ہیں اس کے لحاظ سے تو سب انسان یکساں ہیں۔ اگر وہ مادہ ہی انسان کے جنت میں جانے کا سبب ہو تو نیک و بد،ظالم و عادل، مجرم اور بے گناہ،سب ہی کو جنت میں جانا چاہیے۔لیکن معمولی عقل ہی یہ فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ جنت کا استحقاق انسان کے مادہ تخلیق کی بنا پر نہیں بلکہ صرف اُس کے اوصاف کے لحاظ سے پیدا ہو سکتا ہے۔ اور اگر اس فقرے کو بعد کے مضمون کی تمہید سمجھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ہمارے عذاب سے محفوظ سمجھ رہے ہیں اور جو شخص انہیں ہماری پکڑ سے ڈراتاہے اس کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ ہم اِن کو دنیا میں بھی جب چاہیں عذاب دے سکتے ہیں اور موت کے بعد دوبارہ زندہ کر کے بھی جب چاہیں اٹھا سکتے ہیں۔ یہ خود جانتے ہیں کہ نطفے کی ایک حقیر سی بُوند سے اِن کی تخلیق کی ابتدا کر کے ہم نے ان کو چلتا پھرتا انسان بنایا ہے۔ اگر اپنی اِس خلقت پر یہ غور کرتے تو اُنہیں کبھی یہ غلط فہمی لاحق نہ ہوتی کہ اب یہ ہماری گرفت سے باہر ہو گئے ہیں، یا ہم اِنہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہیں۔

آخرت میں کوئی معذرت قبول نہ ہوگی، اور ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا کسی کا  عمل ہوگا

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ  30

سورہ تحریم آیت 7

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَؒ۰۰۷

(اُس وقت کہا جائے گا کہ) اے کافرو، آج معذرتیں پیش نہ کرو، تمہیں  تو ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے۔

اِن دونوں آیتوں کا اندازِ بیان اپنے اندر مسلمانوں کے لیے سخت تنبیہ لیے ہوئے ہے ۔ پہلی آیت میں مسلمانوں کو خطاب کر کے فرمایا گیا  کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اِس خوفناک عذاب سے بچا و  ٔ ۔ اور دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ  جہنّم میں عذاب دیتے وقت کافروں سے یہ کہا جائے گا۔ اِس سے خود بخود یہ مضمون مترشح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں وہ طرزِ عمل اختیار کرنے سے بچنا چاہیے جس کی بدولت آخرت میں ان کا انجام کافروں کے ساتھ ہو۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں