منکرآخرت قوموں کا انجام

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منکرآخرت قوموں کا انجام

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ  70

سورہ الحاقہ موضوع مضمون

پہلے رکوع کا آغاز اس بات سے ہوا ہے کہ قیامت کا آنا اور آخرت کا بر پا ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو ضرور پیش آکر رہنی ہے۔ پھر آیت۴ سے ۱۲ تک یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کیا ہے وہ آخر کار خدا کے عذاب کی مستحق ہو کر رہی ہیں

منکرآخرت قوموں کا انجام

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 72تا74

سورہ الحاقہ آیات 4 تا 12

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ۰۰۴فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِيَةِ۰۰۵وَ اَمَّا عَادٌ فَاُهْلِكُوْا بِرِيْحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍۙ۰۰۶سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّ ثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوْمًا١ۙ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍۚ۰۰۷فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ۰۰۸وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ۰۰۹فَعَصَوْا رَسُوْلَ رَبِّهِمْ فَاَخَذَهُمْ اَخْذَةً رَّابِيَةً۰۰۱۰اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِۙ۰۰۱۱لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ۰۰۱۲

ثمود اور عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی  آفت  کو جھُٹلایا۔ تو ثمود ایک سخت حادثہ  سے ہلاک کیے گئے۔ اور عادایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اُس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلّط رکھا۔ (تم وہاں ہوتے تو)دیکھتے کہ وہاں اِس طرح پَچھڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔ اب کیا اُن میں سے کوئی تمہیں باقی بچا نظر آتا ہے؟

اور اِسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں نے اور تَل پٹ ہوجانے والی بستیوں نے کیا۔  ان سب نے اپنے ربّ کے رسول کی بات نہ مانی تو اُس نے اُن کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا۔

جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا  تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا تھا  تاکہ اِس واقعہ کو تمہارے لیے ایک سبق آموز یادگار بنادیں  اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں۔

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ وَ عَادٌۢ بِالْقَارِعَةِ۰۰۴

ثمود  اور عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی  آفت  کو جھُٹلایا۔

کفارِ مکہ چونکہ قیامت کو جھٹلا رہے تھے اور اُس کے آنے کی خبر کو مذاق سمجھتے تھے اس لیے پہلے اُن کو خبردار کیاگیا کہ وہ تو ہونی شُدنی ہے، تم چاہے مانو یا نہ مانو، وہ بہر حال آکر رہے گی۔ اس کے بعد اب اُن کو بتایا جارہا ہے کہ یہ معاملہ صرف اتنا سادہ سا معاملہ نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک پیش آنے والے واقعہ کی خبر کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں، بلکہ اس کا نہایت گہرا تعلق قوموں کےاخلاق اور پھر اُن کے مستقبل سے ہے۔ تم سے پہلے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ شاہد ہے کہ جس قوم نے بھی آخرت کا انکار کر کے اسی دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھا اور اس بات کو جھٹلا دیا کہ انسان کو آخر کار خدا کی عدالت میں اپنا حساب دینا ہوگا ، وہ سخت اخلاقی بگاڑ میں مبتلا ہوئی، یہاں تک کہ خدا کے عذاب نے آکر دنیا کو اس کے وجود سے پاک کر دیا۔

بِالْقَارِعَةِ۰۰۴

اچانک ٹوٹ پڑنے والی  آفت 

اصل لفظ القارعہ ہے۔ قرع عربی زبا ن میں ٹھوکنے، کوٹنے، کھڑ کھڑا دینے ، اور ایک چیز کو دوسری چیز پر مار دینے کے لیے بولا جاتا ہے۔ قیامت کے لیے یہ دوسرا لفظ اُس کی ہولناکی کا تصور دلانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

فَاَمَّا ثَمُوْدُ فَاُهْلِكُوْا بِالطَّاغِيَةِ۰۰۵

تو ثمود ایک سخت حادثہ  سے ہلاک کیے گئے

سورہ اعراف ، آیت ۷۸ میں اس کو الرّجْفہ (زبردست زلزلہ)کہا گیا ہے۔ سورہ ہود ، آیت ٦۷ میں اس کے لیے الصَّیْحَہ (زور کے دھماکے)کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ سورہ حٰم السجدہ، آیت ١۷ میں فرمایا گیا ہے کہ ان کو صَاعِقَةُ الْعَذَاب (عذاب کے کڑکے) نے آلیا۔ اور یہاں اُسی عذاب کو الطَّاغیہ (حد سے زیادہ سخت حادثہ)سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ یہ ایک ہی واقعہ کی مختلف کیفیات کا بیا ن ہے۔

وَ جَآءَ فِرْعَوْنُ وَ مَنْ قَبْلَهٗ وَ الْمُؤْتَفِكٰتُ بِالْخَاطِئَةِۚ۰۰۹

اور اِسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں نے اور تَل پٹ ہوجانے والی بستیوں نے کیا۔

قومِ لوط کی بستیاں جن کے متعلق سورہ ہود ؑ (آیت ۸۲) اور سورہ حجر(آیت ۷۴) میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان کو تلپٹ کر کے رکھ دیا۔

اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ

جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا

اشارہ ہے طوفانِ نوح کی طرف جس میں ایک پوری قوم اسی خطائے عظیم کی بنا پر غرق کر دی گئی اور صرف وہ لوگ بچا لیے گئے جنہوں نے اللہ کے رسول کی بات مان لی تھی۔

حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِۙ۰۰۱۱

تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا تھا

اگرچہ کشتی میں سوار وہ لوگ کیے گئے تھے جو ہزاروں برس پہلے گزر چکے تھے، لیکن چونکہ بعد کی پوری انسانی نسل اُنہی لوگوں کی اولا دہے جو اُس وقت طوفان سے بچائے گئے تھے، اس لیے فرمایا کہ ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر ادیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم آج دنیا میں اسی لیے موجود ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اُس طوفان میں صرف مُنکر ین کو غرق کیا تھا اور ایمان لانے والوں کو بچا لیا تھا۔

لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّ تَعِيَهَاۤ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ۰۰۱۲

تاکہ اِس واقعہ کو تمہارے لیے ایک سبق آموز یادگار بنادیں  اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں۔

یعنی وہ کان نہیں جو سُنی اَن سنی کر دیں اور جن کے پر دے پر سے آواز اُچٹ کر گزر جائے، بلکہ وہ کان جو سُنیں اور بات کو دل تک اُتاردیں۔ یہاں بظاہر کان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، مگر مراد ہیں سننے والے لوگ جو اس واقعہ کو سن کر اُسے یاد رکھیں ، اُس سے عبرت حاصل کریں اور اس بات کو کبھی نہ بھولیں کہ آخرت کے انکا راور خدا کے رسول کی تکذیب کا انجام کیسا ہولناک ہوتا ہے۔

منکرآخرت قوموں کا انجام

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ240تا243

سورہ نازعات آیات 10تا14

يَقُوْلُوْنَ ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ۠ فِي الْحَافِرَةِؕ۰۰۱۰ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ۰۰۱۱قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ۰۰۱۲فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ۰۰۱۳فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ۰۰۱۴

یہ لوگ کہتے ہیں” کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟ کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟“ کہنے لگے” یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی!“ حالانکہ یہ بس اِتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کُھلے میدان میں موجود ہوں گے۔

قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ۰۰۱۲

کہنے لگے” یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی!"

یعنی جب اُن کو جواب دیا گیا کہ ہاں ا یسا ہی ہوگا تو وہ مذاق کے طور پر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے یا رو، اگر واقعی ہمیں پلٹ کر دوبارہ زندگی کی حالت میں واپس آنا پڑا تب تو ہم مارے گئے، اس کے بعد تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔

فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ۰۰۱۳فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ۰۰۱۴

حالانکہ یہ بس اِتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کُھلے میدان میں موجود ہوں گے۔

یعنی یہ لوگ اسے ایک امِر محال سمجھ کر اس کی ہنسی اڑا رہے ہیں، حالانکہ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے جس کو  انجام دینے کے لیے کچھ بڑی لمبی چوڑی تیاریوں کی ضرورت ہو۔ اِس کے لیے صرف ایک ڈانٹ یا جھڑ کی کافی ہے جس کے ساتھ ہی تمہاری خاک یا راکھ، خواہ کہیں پڑی ہو ، ہر طرف سے سمٹ کر ایک جگہ  جمع ہو جائے گی اور تم یکایک اپنے آپ کو زمین کی پیٹھ پر زندہ موجود پاؤ گے۔ اِس واپسی کو گھاٹے کی واپسی سمجھ کر چاہے تم اِس سے کتنا ہی فرار کرنے کی کوشش کرو، یہ تو ہو کر رہنی ہے  ، تمہارے انکار یا فرار یا تمسخر سے یہ رُک نہیں سکتی۔

Comments