توحید
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
توحید
فہرست موضوعات – تفہیم القران جلد اول
– توحید سیریز
صفحہ 61
هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ
مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ
سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌؒ۰۰۲۹
۔وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی
ساری چیزیں پیدا کیں،پھر اُوپر کی طرف توجّہ فرمائی اور سات آسمان استوار کیے ۔اور
وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
اس فقرے میں دو اہم حقیقتوں پر
مُتنبّہ فرمایا گیا ہے۔ ایک یہ کہ تم اس خدا کے مقابلے میں کفر و بغاوت کا رویّہ
اختیار کرنے کی جُراٴت کیسے کرتے ہو جو تمہاری تمام حرکات سے باخبر ہے، جس سے
تمہاری کوئی حرکت چھپی نہیں رہ سکتی۔ دوسرے یہ کہ جو خدا تمام حقائق کا عِلم رکھتا
ہے، جو درحقیقت علم کا سرچشمہ ہے، اس سے منہ موڑ کر بجز اس کے کہ تم جہالت کی تاریکیوں
میں بھٹکو اور کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ جب اس کے سوا علم کا اور کوئی منبع ہی نہیں
ہے ، جب اس کے سوا اور کہیں سے وہ روشنی نہیں مل سکتی جس میں تم اپنی زندگی کا
راستہ صاف دیکھ سکو، تو آخر اُس سے رُوگردانی کرنے میں کیا فائدہ تم نے دیکھا ہے؟
توحید
فہرست موضوعات – تفہیم القران جلد اول
– توحید سیریز
صفحہ 91
وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ
عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۰۰۸۵
اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو
تم کر رہے ہو
صرف اللہ کے لیے حمد تفہیم القران جلد
اول
صفحہ 43
سورہ فاتحہ آیت1
اَلْحَمْدُ
لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَۙ۰۰۱
تعریف اللہ ہی کے لیے
ہے جو تمام کائنات کا رب ہے ،
تعریف ہم جس کی بھی کرتے ہیں ، دو
وجوہ سے کیا کرتے ہیں۔ایک یہ کہ وہ بجائے خود حسن و خوبی اور کمال رکھتا ہو ، قطع
نظر اس سے کہ ہم پر اس کے ان فضائل کا کیا اثر ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ ہمارا محسن ہو
اور ہم اعترافِ نعمت کے جذبہ سے سرشار ہو کر اس کی خوبیاں بیان کریں ۔ اللہ تعالیٰ
کی تعریف ان دونوں حیثیتوں سے ہے۔ یہ ہماری قدر شناسی کا تقاضہ بھی ہے اور احسان
شناسی کا بھی کہ ہم اس کی تعریف میں رَطبُ
اللّسان ہوں۔
اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ تعریف
اللہ کے لیےہے ، بلکہ صحیح یہ ہے کہ‘‘ تعریف
اللہ ہی’’ کے لیے ہے۔ یہ بات کہہ کر ایک
بڑی حقیقت پر سے پردہ اٹھا یا گیا ہے ، اور وہ حقیقت ایسی ہے جس کی پہلی ہی ضرب سے
مخلوق پرستی کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ دنیا میں جہاں ، جس چیز اور جس شکل میں بھی کوئی
حسن ، کوئی خوبی ،کوئی کمال ہے، اس کا سر چشمہ اللہ ہی کی ذات ہے ۔ کسی انسان ،کسی
فرشتے ،کسی سیارے،غرض کسی مخلوق کا کمال بھی ذاتی نہیں ہے بلکہ اللہ کاعطیّہ ہے۔
پس اگر کوئی اس کا مستحق ہے کہ ہم اس کے گرویدہ اور پرستار،احسان مند اور شکر گذار
، نیاز مند اور خدمت گار بنیں تو وہ خالقِ کمال ہے نہ کہ صاحبِ کمال۔
صرف اللہ ہی کے لیے عبادت
اِيَّاكَ نَعْبُدُ
ہم تیری ہی عبادت کرتے
ہیں
عبادت کا لفظ بھی عربی زبان میں تین
معنوں میں استعمال ہوتاہے۔ (١)پوجا
اور پرستش (۲)اطاعت
اور فرمانبرداری (۳)بندگی
اور غلامی۔ اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں۔یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں
،مطیع فرمان بھی اور بندہ و غلام بھی۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ہم تیرے
ساتھ یہ تعلق رکھتے ہیں ۔بلکہ واقعی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا تعلق صرف تیرے ہی ساتھ
ہے ۔ان تینوں معنوں میں سے کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا ہمارا معبود نہیں ہے۔
صرف اللہ ہی سے استمداد
وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُؕ۰۰۴
اور تجھی سے مدد مانگتے
ہیں
یعنی تیرے ساتھ ہمارا تعلق محض عبادت
ہی کا نہیں ہے بلکہ استعانت کا تعلق بھی ہم تیرے ہی ساتھ رکھتے ہیں ۔ہمیں معلوم ہے
کہ ساری کائنات کا ربّ تو ہی ہے، اور ساری طاقتیں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ،اور ساری
نعمتوں کا تو ہی اکیلا مالک ہے، اس لیے ہم اپنی حاجتوں کی طلب میں تیری طرف ہی
رجوع کرتے ہیں ، تیرے ہی آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے اور تیری مدد پر ہمارا اعتماد
ہے ۔ اسی بناپر ہم اپنی درخواست لے کر تیری خدمت میں حاضر ہورہے ہیں۔
Comments
Post a Comment