موجودہ زندگی کے بعد ایک اور زندگی کیوں مقدر کی گئی ہے؟
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
موجودہ زندگی کے بعد ایک اور زندگی
کیوں مقدر کی گئی ہے؟
فہرست موضوعات—تفہیم القرآن جلد ششم –
آخرت
صفحہ 71
سورہ الحاقہ موضوع مضمون
آیت 19تا 37 میں وہ اصل مقصد بیان کیا
گیا ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی موجودہ زندگی کے بعد نوعِ انسانی کے لیے
ایک دوسری زندگی مقدر فرمائی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اُس روز تمام انسان اپنے
رب کی عدالت میں پیش ہوں گے جہاں اُن کا کوئی راز چھپا نہ رہ جائے گا۔ ہر ایک کا
نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا۔ جن لوگوں نے دنیامیں یہ سمجھتے ہوئے
زندگی بسر کی تھی کہ ایک دن اُنہیں اپنے رب کو اپنا حساب دینا ہے، اور جنہوں نے دنیا
کی زندگی میں نیک عمل کر کےاپنی آخرت کی بھلائی کے لیے پیشگی سامان کر لیا تھا، وہ
اپنا حساب پاک دیکھ کر خوش ہو جائیں گے اور انہیں جنت کا ابدی عیش نصیب ہو گا۔ اس
کے بر عکس جن لوگوں نے خدا کا حق مانا نہ بندوں کا حق ادا کیا، انہیں خدا کی پکڑ
سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے ۔
موجودہ زندگی کے بعد ایک اور زندگی کیوں
مقدر کی گئی ہے؟
فہرست موضوعات—تفہیم القرآن جلد ششم –
آخرت
صفحہ 75تا78
سورہ الحاقہ آیات 19 تا 37
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ
كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ١ۙ فَيَقُوْلُ هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْۚ۰۰۱۹اِنِّيْ ظَنَنْتُ
اَنِّيْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْۚ۰۰۲۰فَهُوَ فِيْ عِيْشَةٍ رَّاضِيَةٍۙ۰۰۲۱فِيْ جَنَّةٍ
عَالِيَةٍۙ۰۰۲۲قُطُوْفُهَا
دَانِيَةٌ۰۰۲۳كُلُوْا
وَ اشْرَبُوْا هَنِيْٓـًٔۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ۰۰۲۴وَ اَمَّا مَنْ
اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ اُوْتَ
كِتٰبِيَهْۚ۰۰۲۵وَ
لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِيَهْۚ۰۰۲۶يٰلَيْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِيَةَۚ۰۰۲۷مَاۤ اَغْنٰى
عَنِّيْ مَالِيَهْۚ۰۰۲۸هَلَكَ
عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْۚ۰۰۲۹خُذُوْهُ
فَغُلُّوْهُۙ۰۰۳۰ثُمَّ
الْجَحِيْمَ صَلُّوْهُۙ۰۰۳۱ثُمَّ
فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ۰۰۳۲اِنَّهٗ كَانَ
لَا يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِيْمِۙ۰۰۳۳وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ
الْمِسْكِيْنِؕ۰۰۳۴فَلَيْسَ
لَهُ الْيَوْمَ هٰهُنَا حَمِيْمٌۙ۰۰۳۵وَّ لَا طَعَامٌ اِلَّا مِنْ
غِسْلِيْنٍۙ۰۰۳۶لَّا
يَاْكُلُهٗۤ اِلَّا الْخَاطِـُٔوْنَؒ۰۰۳۷
اُس وقت جس کا نامہٴ اعمال اُس کے سیدھے
ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا” لو دیکھو،
پڑھو میرا نامہٴ اعمال، میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا
ہے۔“ پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا، عالی مقام جنت میں جس کے پھلوں کے گچھے جُھکے
پڑ رہے ہوں گے۔ (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاوٴ اور پیو اپنے
اُن اعمال کے بدلے جو تم نے گُزرے
ہوئے دنوں میں کیے ہیں۔
اور جس کا نامہٴ اعمال اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا” کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا
ہوتا اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔
کاش میری وہی موت (جو دُنیا میں آئی تھی) فیصلہ کُن ہوتی۔ آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔ میرا سارا
اقتدار ختم ہوگیا۔“ (حکم ہوگا) پکڑو اِسے
اور اِس کی گردن میں طوق ڈال دو، پھر اِسے جہنّم میں جھونک دو، پھر اِس کو ستّر
ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو۔ یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا اور نہ مسکین
کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔ لہٰذا
آج نہ یہاں اِس کا کوئی یارِ غم خوار ہے اور نہ زخموں کے دھووَن کے سوا اس کے لیے
کوئی کھانا، جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں
کھاتا۔
فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ
كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ
اُس وقت جس کا نامہٴ اعمال اُس کے سیدھے
ہاتھ میں دیا جائے گا
12.
سیدھے ہاتھ میں نامہ اعمال کا دیا جانا ہی ظاہر کر دے
گا کہ اُس کا حساب بے باق ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں مجرم کی حیثیت سے نہیں
بلکہ صالح انسان کی حیثیت سے پیش ہو رہا ہے۔ اغلب یہ ہے کہ اعمال ناموں کی تقسیم
کے وقت صالح انسان خود سیدھا ہاتھ بڑھا کر اپنا نامہ اعمال لے گا، کیونکہ موت کے
وقت سے میدانِ حشر میں حاضری تک اُس کے ساتھ جو معاملہ پیش آیا ہوگا اس کی وجہ سے
اس کو پہلے ہی یہ اطمینان حاصل ہو چکا ہوگا کہ میں یہاں انعام پانے کے لیے پیش ہو
رہا ہوں نہ کہ سزا پانے کے لیے۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ بڑی صراحت کے ساتھ
بتائی گئی ہے کہ موت کے وقت ہی سے یہ بات انسان پر واضح ہوجاتی ہے کہ وہ نیک بخت
آدمی کی حیثیت سے دوسرے عالم میں جا رہا ہے یا بدبخت آدمی کی حیثیت سے ۔ پھر موت
سے قیامت تک نیک انسان کے ساتھ مہمان کا سا معاملہ ہوتا ہے اور بد انسان کے ساتھ
حوالاتی مجرم کا سا۔ اس کے بعد جب قیامت کے روز دوسری زندگی کا آغاز ہوتا ہے اسی
وقت سے صالحین کی حالت و کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور کفار و منافقین اور مجرمین کی
حالت و کیفیت کچھ اور۔
فَيَقُوْلُ
هَآؤُمُ اقْرَءُوْا كِتٰبِيَهْۚ۰۰۱۹
وہ کہے گا” لو دیکھو،
پڑھو میرا نامہٴ اعمال،
13.
یعنی نامہ اعمال ملتے ہی وہ خوش ہو جائے گا اور اپنے
ساتھیوں کو دکھائے گا ۔ سورہ انشقاق ، آیت ۹ میں بیان ہوا ہے کہ ”وہ خوش خوش اپنے
لوگوں کی طرف پلٹے گا۔
اِنِّيْ ظَنَنْتُ اَنِّيْ
مُلٰقٍ حِسَابِيَهْۚ۰۰۲۰
میں سمجھتا تھا کہ مجھے
ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے۔“
14.
یعنی وہ اپنی خوش قسمتی کی وجہ یہ بتائے گا کہ وہ دنیا
میں آخرت سے غافل نہ تھا بلکہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتا رہا کہ ایک روزاُسے
خدا کے حضور حاضر ہونا اور اپنا حساب دینا ہے۔
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ
كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬
اور جس کا نامہٴ
اعمال اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا
15.
سورہ انشقاق میں فرمایا گیا ہے ”اور جس کا نامہ اعمال
اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا“۔غالباً اس کی صورت یہ ہوگی کہ مجرم کو چونکہ
پہلے ہی سے اپنے مجرم ہونے کا علم ہو گا اور وہ جانتا ہو گا کہ اس نامہ اعمال میں
اس کا کیا کچھا چٹھا در ج ہے، اس لیے وہ نہایت بددلی کے ساتھ اپنا بایاں ہاتھ بڑھا
کر اُسے لے گا اور فوراً پیٹھ کے پیچھے چھپا لے گا تا کہ کوئی دیکھنے نہ پائے۔
فَيَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ لَمْ
اُوْتَ كِتٰبِيَهْۚ۰۰۲۵
وہ کہے گا” کاش میرا
اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا
16.
یعنی مجھے یہ نامہ اعمال دے کر میدان ِ حشر میں علانیہ
سب کے سامنے ذلیل و رسوا نہ کیا جاتا اور جو سزا بھی دینی تھی دے ڈالی جاتی۔
وَ لَمْ اَدْرِ مَا
حِسَابِيَهْۚ۰۰۲۶
اور میں نہ جانتا کہ میرا
حساب کیا ہے
17.
یعنی مجھے نہ بتایا جاتا کہ میں دنیا میں کیا کچھ کر کے
آیاہوں۔ دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے کبھی یہ نہ جانا تھا کہ
حساب کیا بلا ہوتی ہے، مجھے کبھی یہ خیال تک نہ آیا تھا کہ ایک دن مجھے اپنا حساب
بھی دینا ہوگا اور میرا سب کیا کرایا میرے سامنے رکھ دیا جائے گا۔
يٰلَيْتَهَا كَانَتِ
الْقَاضِيَةَۚ۰۰۲۷
کاش میری وہی موت (جو دُنیا میں آئی
تھی) فیصلہ کُن ہوتی۔
18.
یعنی دنیا میں مرنے کے بعد میں ہمیشہ کے لیے معدوم ہو گیا
ہوتا اور کوئی دسری زندگی نہ ہوتی۔
هَلَكَ عَنِّيْ سُلْطٰنِيَهْۚ۰۰۲۹
آج میرا مال میرے کچھ
کام نہ آیا۔ میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا۔“
19.
اصل الفاظ ہیں ھَلَکَ عَنِّی ْسُلطٰنِیَہْ۔ سلطان کا
لفظ دلیل وحجت کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اقتدار کے لیے بھی۔ اگر اُسے دلیل
وحُجت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جو دلیل باز یاں میں کیا کرتا تھا
وہ یہاں نہیں چل سکتیں ، میرے پاس اپنی صفائی میں پیش کرنے کے لیے اب کوئی حجت نہیں
رہی۔ اور اقتدار کے معنی میں لیا جائے تو مراد یہ ہوگی کہ دنیا میں جس طاقت کے بل
بوتے پر میں اکڑتا تھا وہ یہاں ختم ہو چکی ہے۔ اب یہاں کوئی میرا لشکر نہیں، کوئی
میرا حکم ماننے والا نہیں، میں ایک بے بس اور لا چار بندے کی حیثیت سے کھڑا ہوں جو
اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کر سکتا ۔
اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ
بِاللّٰهِ الْعَظِيْمِۙ۰۰۳۳وَ
لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِؕ۰۰۳۴
یہ نہ اللہ بزرگ و برتر
پر ایمان لاتا تھا اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔
20.
یعنی خود کسی غریب کو کھانا کھلانا تو درکنار ، کسی سے یہ
کہنا بھی پسند نہ کرتا تھا کہ خدا کے بھوکے بندوں کو روٹی دے دو۔
Comments
Post a Comment