اللہ اس پر قادر ہے کہ مرنے والوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللہ اس پر قادر ہے کہ مرنے والوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 177، 178

سورہ قیامہ آیات 36تا40

اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًىؕ۰۰۳۶اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰىۙ۰۰۳۷ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰۳۸فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰىؕ۰۰۳۹اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيِۧ الْمَوْتٰىؒ۰۰۴۰

کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یُونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟  کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحمِ مادر میں )ٹپکا یاجاتا ہے؟  پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے، پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں۔ کیا وہ اِس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے؟

کیا وہ اِس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے؟

یہ حیات بعدِ موت کے امکان کی دلیل ہے۔ جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے جو یہ مانتے ہیں کہ ابتدائی نطفے سے تخلیق کا آغاز کر کے پُور اانسان بنا دینے تک کا سارا فعل اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اورحکمت کا کرشمہ ہے ان کے لیے تو فی الحقیقت اس دلیل کا کوئی جواب ہے ہی نہیں، کیونکہ وہ خواہ کتنی ہی ڈِھٹائی برتیں، ان کی عقل تسلیم کرنے سے انکار نہیں کر سکتی کہ جو خدا اس طرح انسان کو دنیا میں پیدا کرتا ہے وہ دوبارہ بھی اسی انسان کو وجود میں لے آنے پر  قادر ہے۔ رہے وہ لوگ جو اس صریح حکیمانہ فعل کو محض اتفاقات کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، وہ اگر ہٹ دھرمی پر تُلے ہوئے نہیں ہیں تو آخر ان  کے پاس اس بات کی کیا توجیہ ہے کہ آغازِ آفرنیش سے آج تک دنیا کے ہر حصے اور ہر قوم میں کس طرح ایک ہی نوعیت کے تخلیقی فعل کے نتیجے میں لڑکوں اور لڑکیوں کی پیدائش مسلسل اِس تناسب سے ہوتی چلی جا رہی ہے کہ کہیں کسی زمانے میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی انسانی آبادی میں صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ہی پیدا ہوتی چلی جائیں اور آئندہ اُس کی نسل چلنے کا کوئی امکان باقی نہ رہے؟ کیا یہ بھی اتفاقاً ہی ہوئے چلا جا رہا ہے؟ اتنا بڑا دعویٰ کر نے کے لیے آدمی کو اتنا بے شرم ہونا چاہیے کہ وہ اٹھ کر بے تکلف ایک روز یہ دعویٰ کر  بیٹھے کہ لندن اور نیوریاک ، ماسکو اور پیکنگ اتفاقاً آپ سے آپ بن گئے ہیں۔

اللہ اس پر قادر ہے کہ مرنے والوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 229

سورہ نبا آیات 21تا23

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ۰۰۲۱لِّلطَّاغِيْنَ مَاٰبًاۙ۰۰۲۲لّٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًاۚ۰۰۲۳

در حقیقت جہنّم ایک گھات ہے،  سرکشوں کا ٹھکانا ، جس میں وہ مُدّتوں پڑے رہیں گے

اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًا۪ۙ۰۰۲۱

در حقیقت جہنّم ایک گھات ہے

گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جو شکار پھانسنے کے لیے بنائی جاتی ہے تا کہ وہ بے خبری کی حالت میں آئے اور اچانک اس میں پھنس جائے ۔ جہنم کے لیے یہ لفظ اس لیے استعمال کی گیا ہے کہ خدا کے باغی اس سے بے خوف ہو کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے اچھل کود کرتے پھر رہے ہیں کہ خدا کی خدائی ان کے لیے ایک کھلی  آماجگاہ ہے، اور یہاں کسی پکڑ کا خطرہ نہیں ہے، لیکن جہنم ان کے لیے ایک چھپی ہوئی گھات ہےجس میں وہ یکایک پھنسیں گے اور بس پھنس کر ہی  رہ جائیں گے۔

لّٰبِثِيْنَ فِيْهَاۤ اَحْقَابًاۚ۰۰۲۳

جس میں وہ مُدّتوں پڑے رہیں گے

”اصل میں لفظ احقاب استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں پے در پے آنے والے طویل زمانے ، ایسے مسلسل ادوار کے ایک دور ختم ہوتے ہی دوسرا دور شروع ہو جائے ۔ اس لفظ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ  جنت کی زندگی میں تو ہمیشگی ہو گی مگر جہنم میں ہمیشگی نہیں ہو گی کیونکہ یہ مدتیں خواہ کتنی ہی طویل ہوں، بہر حال جب مدتوں کا استعمال کیا گیا ہے تو اس سے یہی مقصود ہو تا ہے کہ  وہ لا متنا ہی نہ ہوں گی بلکہ کبھی نہ کبھی جا کر ختم ہو جائیں گی۔ لیکن یہ استدلال دو وجوہ سے غلط ہے۔ ایک یہ کہ عربی  لغت کے لحاظ سے  حقب کے لفظ ہی میں یہ مفہوم شامل ہے کہ ایک حقب کے پیچھے دوسرا حقب ہو ، اس لیے ا حقاب لازما ایسے ادوار ہی کے لیے بولا جائے گا جو پے در پے ایک دوسرے کے بعد آتے  چلے جائیں گے اور کوئی دور بھی ایسا نہ ہو جس کے پیچھے دوسرا دور نہ آئے۔ دوسرے یہ کہ کسی موضوع کے متعلق قرآن مجید کی کسی آیت میں سے کوئی ایسا مفہوم لینا اصولا غلط ہے جو اسی موضوع  کے بارے میں قرآن کے دوسرے بیانات سے متصادم ہوتا ہو۔ قرآن میں ۳۴ مقامات پر  اہل جہنم کے لیے خلود(ہمیشگی )کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تین جگہ صرف لفظ خُلُوْد ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس پر  ابداً(ہمیشہ ہمیشہ)کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے ، اور ایک جگہ صاف صاف ارشاد ہوا ہے کہ ”وہ چاہیں گے کہ جہنم سے نکل جائیں، مگر وہ اس سے ہر گز نکلنے والے نہیں ہیں اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے“(المائدہ،آیت۳۷)۔ایک دوسری جگہ فرمایاگیا ہے کہ ”اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہے الّا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے“۔اور یہی بات اہل ِ جنت کے متعلق بھی فرمائی گئی ہے کہ ”جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم  ہیں  اِلّا یہ کہ  تیرا رب کچھ اورچاہے“۔(ہود، آیات۱۰۷۔۱۰۸)۔ان تصریحات کے بعد لفظ احقاب کی بنیاد پر یہ کہنے کی آخر کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ جہنم میں خدا کے باغیوں کا قیام دائمی نہیں ہوگا بلکہ کبھی نہ کبھی ختم ہو جائے گا؟

اللہ اس پر قادر ہے کہ مرنے والوں کو دوبارہ زندگی عطا کرے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 304

سورہ طارق آیات 5تا8

فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ۰۰۵خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ۰۰۶يَّخْرُجُ مِنْۢ بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِؕ۰۰۷اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ۰۰۸

پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کِس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔   ایک اُچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔  یقیناً وہ (خالق) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے۔

اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ۰۰۸

یقیناً وہ (خالق) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے

یعنی جس طرح وہ انسان کو وجود میں لاتا ہے اور استقرارِ حمل کے وقت سے مرتے دم تک اس کی نگہبانی کرتا ہے ، یہی اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ وہ اُسے موت کے بعد پلٹا کر پھر وجود میں لا سکتا ہے ۔ اگر وہ پہلی چیز پر قادر تھا اور اُسی قدرت کی بدولت انسان دنیا میں زندہ موجود ہے، تو آخر کیا معقول دلیل یہ گمان کرنے کے لیے پیش کی جا سکتی ہے کہ دوسری چیز پر وہ قادر نہیں ہے۔ اِس قدرت کا انکار کرنے کے لیے آدمی کو سرے سے  اِس بات کا انکار کرنا ہوگا کہ خدا اُسے وجود میں لایا ہے، اور جو شخص اس  کا انکار کرے اس سے کچھ بعید نہیں کہ ایک روز اُس کے دماغ کی خرابی اُس سے یہ دعوٰی بھی کرادے کہ دنیا کی  تمام کتابیں ایک حادثہ کے طور پر چھپ گئی ہیں، دنیا کے تمام شہر ایک حادثہ کے طور پر بن گئے ہیں ، اور زمین پر کوئی اتفاقی حادثہ ایسا ہو گیا تھا جس سے تمام کار خانے بن کر خود بخود چلنے لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اور اس کے جسم کی بناوٹ اور اس کے اندر کام کرنے والی قوتوں اور صلاحیتوں کا پیدا ہونا اور اس کا ایک زندہ ہستی کی حیثیت سے باقی رہنا اُن تمام کاموں سے بدر جہا زیادہ پیچیدہ عمل ہے جو انسان کے ہاتھوں دنیا میں ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ اتنا بڑا پیچیدہ عمل اِس حکمت اور تناسُب اور تنظیم کے ساتھ اگر اتفاقی حادثہ کے طور پر ہو سکتا ہو تو پھر کونسی چیز ہے جسے ایک دماغی مریض حادثہ نہ کہہ سکے؟

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں