منکرین آخرت قیامت کے روز بھاگ کر کہیں پناہ لینے کی جگہ ڈھونڈتے پھریں گے اور نہ پائیں گے

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منکرین آخرت قیامت کے روز بھاگ کر کہیں پناہ لینے کی جگہ ڈھونڈتے پھریں گے اور نہ پائیں گے

فہرست موضوعات  -- تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 166

سورہ قیامہ آیات 10 تا 15

يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ اَيْنَ الْمَفَرُّۚ۰۰۱۰كَلَّا لَا وَزَرَؕ۰۰۱۱اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْمُسْتَقَرُّؕ۰۰۱۲يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَؕ۰۰۱۳بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌۙ۰۰۱۴وَّ لَوْ اَلْقٰى مَعَاذِيْرَهٗؕ۰۰۱۵

اُس وقت یہی انسان کہے گا” کہاں بھاگ کر جاوٴں؟“ ہر گز نہیں، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی، اُس روز تیرے ربّ ہی کے سامنے جا کر ٹھہرنا ہوگا۔ اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا۔  بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے۔

یعنی آدمی کا نامہ اعمال اس کے سامنے رکھنے کی غرض درحقیقت یہ نہیں ہو گی کہ مجرم کو اس کا جُرم بتا یا جائے، بلکہ ایسا کرنا تو اس وجہ سے ضروری ہو گا کہ انصاف کے تقاضے بر سرِ عدالت جرم کا ثبوت پیش کیےبغیر پُورے نہیں ہوتے۔ ورنہ ہر انسان خوب جانتاہے کہ وہ خود کیا ہے۔ اپنے آپ کو جاننے کے لیے وہ اِس کا محتاج نہیں ہو تا کہ کوئی دوسرا اُسے بتا ئے کہ وہ کیا ہے۔ ایک جھوٹا دنیا بھر کو دھوکہ دے سکتا ہے، لیکن اسے خود تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ ایک چور لاکھ حیلے اپنی چوری کو چھپانے کے لیے اختیار کرسکتا ہے، مگر اس کے اپنے نفس سے تو یہ بات مخفی نہیں ہوتی کہ وہ چور ہے۔ ایک گمراہ آدمی ہزار دلیلیں پیش کرکے لوگوں کو یہ یقین دلا سکتا ہے۔ کہ وہ جس کفر یا دہریّت یا شرک کا قائل ہے وہ درحقیقت اس کی ایماندارانہ رائے ہے، لیکن اس کا اپنا ضمیر تو اس سے بے خبر نہیں ہوتا کہ ان عقائد پر وہ کیوں جما ہوا ہے اور ان کی غلطی سمجھنے اور تسلیم کرنے سے دراصل کیا چیز اسے روک رہی ہے۔ ایک ظالم، ایک بد دیانت، ایک بد کر دار، ایک حرام خور، اپنی  بد اعمالیوں کے لیے طرح طرح کی معذرتیں پیش کر کے خود اپنے ضمیر تک کا منہ بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے تا کہ  وہ اسے ملامت کرنے سے باز آجائے اور یہ مان لے کہ واقعی کچھ مجبوریاں، کچھ مصلحتیں ، کچھ ضرورتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ یہ سب کچھ کر رہا ہے، لیکن اس کے با وجود اُس کو یہ علم تو بہر حال ہوتا ہی ہے کہ اس نے کس پر کیا ظلم کیا ہے، کس کا حق مارا ہے، کس کی عصمت خراب کی ہے، کس کو دھوکا دیا ہے، اور کِن ناجائز طریقوں سے کیا کچھ حاصل کیا ہے ۔ اس لیے آخرت کی عدالت میں پیش ہوتے وقت ہر کافر، ہر منافق، ہر فاسق وفاجر اور مجرم خود جانتا ہوگا کہ وہ کیا کر کے آیا ہے اور کس حیثیت میں آج اپنے خدا کے سامنے کھڑا ہے۔

انکار آخرت کرنے والوں کو تنبیہ

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم –آخرت

صفحہ216،  217

سورہ مرسلات آیات 46،  47

كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ۰۰۴۶وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۰۰۴۷

کھالو اور مزے کر لو تھوڑے دن۔  حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو۔ تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے

كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا

کھالو اور مزے کر لو تھوڑے دن

یعنی دنیا  کی اِس چند روزہ زندگی میں۔

اللہ تعالیٰ انسان کی انگلیوں کی پور پور  تککو  دوبارہ بنادینے پر قادر ہے

فہرست موضوعات  -- تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 165

سورہ قیامہ آیت  4

بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ۰۰۴

کیوں نہیں؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں۔

یعنی بڑی بڑی ہڈیوں کو جمع کر کے تمہارا  ڈھانچہ پھر سے کھڑا کر دینا تو درکنار، ہم تو اس بات پر  بھی قادر ہیں کہ تمہارے نازک ترین اجزائے جسم حتیٰ کہ تمہاری انگلیوں کی پوروں تک کوپھر ویسا ہی بنا دیں جیسی وہ پہلے تھیں۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں