آخرت میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کےلیےکن کن طریقوں سے شہادتیں پیش کی جائیں گی

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آخرت میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کےلیےکن کن طریقوں سے شہادتیں پیش کی جائیں گی

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 422

اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَهَاۙ۰۰۱وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَهَاۙ۰۰۲وَ قَالَ الْاِنْسَانُ مَا لَهَاۚ۰۰۳يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ۰۰۴

جب زمین اپنی پُوری شدّت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی،  اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی، اور انسان کہے گا کہ یہ اِس کو کیا ہو رہا ہے،  اُس روز وہ اپنے (اُوپر گزرے ہوئے) حالات بیان کرے گی

حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر پوچھا ” جانتے ہو اس کے وہ حالات کیا ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے ۔ فرمایا ” وہ حالات یہ ہیں کہ زمین بندے اور بندی کے بارے میں اُس عمل کی گواہی دے گی جو اس کی پیٹھ پر اس نے کہا ہو گا۔ وہ کہے گی کہ اِ س نے فلاں دن فلاں کام کیا تھا۔ یہ ہیں وہ حالات جو زمین بیان کرے گی۔“(مُسند احمد ، تِرْمِذی، نَسائی، ابن جریر، عبد بن حُمید، ابن المُنْذر، حاکم، ابن مَرْدُوْیَہ، بِیْہَقی فی الشعب)۔ حضرت رَبیعۃ الخَرشی کی روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا ” ذرا زمین سے بچ کر رہنا کیونکہ یہ تمہاری جڑ بنیا دہے اور اِس پر عمل کرنے والا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کے عمل کی یہ خبر نہ دے خواہ اچھا ہو یا بُرا“(مُعْجَم الطّبرَانی)۔ حضرت انس بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے روز زمین ہر اُس عمل کو لے آئے گی جو اس کی پیٹھ پر کیا گیا ہو“ پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائیں(ابن مَرْدُوْیَہ ۔ بیہقی)۔ حضرت علی کے حالات میں لکھا ہے کہ جب آپ بیت المال کا سب روپیہ اہلِ حقوق میں تقسیم کر کے اُسے خالی کر دیتے تو اس میں دو رکعت نماز پڑھتے اور پھر فرماتے ”تجھے گواہی دینی ہو گی کہ میں نے تجھ کو حق کے ساتھ بھرا اور حق ہی کے ساتھ خالی کر دیا“۔

 

زمین کے متعلق یہ بات کہ وہ قیامت کے روز اپنے اوپر گزرے ہوئے سب حالات اور واقعات بیان کر دے گی ، قدیم زمانے کے آدمی کے لیے تو بڑی حیران کُن ہو گی کہ آخر کیسے بولنے لگے گی، لیکن آج علومِ طبیعی کے اکتشافات اور سینما، لاؤڈاسپیکر، ریڈیو، ٹیلیویژن، ٹیپ ریکارڈر، الکٹرانِکس وغیرہ ایجادات کے اِس دور میں یہ سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں کہ زمین اپنے حالات کیسے بیان کرے گی۔ انسان اپنی زبان سے جو کچھ بولتا ہے اُس کے نقوش ہوا میں، ریڈیائی لہروں میں ، گھروں کی دیواروں اور اُن کے فرش اور چھت کے ذرّے ذرّے میں، اور اگر کسی سڑک یا میدان یا کھیت میں آدمی نے بات کی ہو تو اُن سب کے ذرّات میں ثبت ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس وقت چاہے ان ساری آوازوں کو ٹھیک اسی طرح ان چیزوں سے دُہر وا سکتا ہے جس طرح کبھی وہ انسان کے منہ سے نکلی تھیں۔ انسان اپنے کانوں سےاُس وقت سن لے گا کہ یہ اُس کی اپنی ہی آواز یں ہیں۔ اور اس کے سب جاننے والے پہچان لیں گے کہ جو کچھ وہ سُن رہے ہیں وہ اسی شخص کی آواز اور اسی کا لہجہ ہے۔ پھر انسان نے زمین پر جہاں جس حالت میں بھی کوئی کام کیا ہے اس کی ایک ایک حرکت کا عکس اُس کے گردو پیش کی تمام چیزوں پر پڑا ہے اور اس کی تصویر اُن پر نقش ہو چکی ہے۔ بالکل گھُپ اندھیرے میں بھی اُس نے کوئی فعل کیا ہو تو خدا کی خدائی میں ایسی شُعائیں موجود ہیں جن کے لیے اندھیرا اور اُجالا کوئی معنی نہیں رکھتا، وہ ہر حالت میں اس کی تصویر لے سکتی ہیں۔ یہ ساری تصویریں قیامت کے روز ایک متحرّک فلم کی طرح انسان کے سامنے آجائیں گی اور یہ دکھا دیں گی کہ وہ زندگی بھر کس وقت، کہاں کہاں کیا کچھ کرتا رہا ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کو براہِ راست خود جانتا ہے ، مگر آخرت میں جب وہ عدالت قائم کرے گا تو جس کو بھی سزا دے گا، انصاف کے تمام تقاضے پورے کر کے دے گا ۔ اُس کی عدالت میں ہر مجرم انسان کے خلاف جو مقدّمہ قائم کیا جائے گا اُس کو ایسی مکمّل شہادتوں سے ثابت کر دیا جائے گا کہ اس کے مجرم ہونے میں کسی کلام کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔ سب سے پہلے تو وہ نامۂ اعمال ہے جس میں ہر وقت اُس کے ساتھ لگے ہوئے کرامًا کاتبین اس کے ایک ایک قول اور فعل کا ریکارڈ درج کر رہے ہیں(قٓ، آیات ۱۸-۱۷۔ الانفِطار، آیات ۱۰ تا ۱۲)۔ یہ نامۂ اعمال اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ پڑھ اپنا کارنامۂ حیات ، اپنا حساب لینے کے لیے تو خود کافی ہے(بنی اسرائیل۔۱۴)۔ انسان اسے پڑھ کر حیران رہ جائے گا کہ کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہیں ہے جو اس میں ٹھیک ٹھیک درج نہ ہو(الکہف۔۴۹)۔ اِس کے بعد انسان کا اپنا جسم ہے جس سے اُس نے دنیا میں کام لیا ہے۔ اللہ کی عدالت میں اُس کی اپنی زبان شہادت دے گی کہ اُس سے وہ کیا کچھ بولتا رہا ہے ، اس کے اپنے ہاتھ پاؤں شہادت دیں گے کہ ان سے کیا کیا کام اُس نے لیے(النور۔۲۴)۔ اس کی آنکھیں شہادت دیں گی، اس کے کان شہادت دیں گے کہ ان سے اس نے کیا کچھ سُنا۔ اس کے جسم کی پوری کھال اس کے افعال کی شہادت دے گی۔ وہ حیران ہوکر اپنے اعضا سے کہے گا کہ تم بھی میرے خلاف گواہی دے رہے ہو؟ اس کے اعضا جواب دیں گے کہ آج جس خدا کے حکم سے ہر چیز بول رہی ہے اسی کے حکم سے ہم بھی بول رہے ہیں(حٰم السجدہ۔۲۰ تا ۲۲)۔ اس پر مزید وہ شہادتیں ہیں جو زمین اوراس کے پورے ماحول سے پیش کی جائیں گی جن میں آدمی اپنی آوازیں خود اپنے کانوں سے، اور اپنی حرکات کی ہو بہو تصویریں خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہ انسان کے دل میں جو خیالات ، ارادے اور مقاصد چھپے ہوئے تھے، اور جن نیتوں کے ساتھ اس نے سارے اعمال کیے تھے وہ بھی نکال کر سامنے رکھ دیے جائیں گے ، جیسا کہ آگے سُورۂ عادیات میں آرہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اِتنے قطعی اور صریح اور ناقابلِ انکار ثبوت سامنے آجانے کے بعد انسان دم بخود رہ جائے گا اور اُس کے لیے اپنی معذرت میں کچھ کہنے کا موقع باقی نہ رہے گا( المرسلٰت، آیات ۳۶-۳۵)۔

آخرت میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کےلیےکن کن طریقوں سے شہادتیں پیش کی جائیں گی

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 431

سورہ عادیات آیات 9تا11

اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِۙ۰۰۹وَ حُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِۙ۰۰۱۰اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌؒ۰۰۱۱

تو کیا وہ اُس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا،  اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اُسے بر آمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟  یقیناً اُن کا ربّ اُس روز اُن سے خوب باخبر ہوگا

یعنی دلوں میں جو ارادے اور نیّتیں ، جو اغراض و مقاصد، جو خیالات و افکار ، اور ظاہری افعال کے پیچھے جو باطنی محرّکات (Motives ) چھُپے ہوئے ہیں وہ سب کھول کر رکھ دیے جائیں گے اور ان کی جانچ پڑتا ل کر کے اچھائی کو الگ اور بُرائی کو الگ چھانٹ دیا جائے گا۔ بالفاظِ دیگر فیصلہ صرف ظاہر ہی کو دیکھ کر نہیں کیا جائے گا کہ انسان نے عملاً کیا کچھ کیا، بلکہ دلوں میں چھُپے ہوئے رازوں کو بھی نکال کر یہ دیکھا جائے گا کہ جو جو کام انسان نے کیے وہ کس نیت سے اور کس غرض سے کیے۔ اس بات پر اگر انسان غور کرے تو وہ یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا  کہ اصلی اور مکمّل انصاف خدا کی عدالت کے سوا اور کہیں نہیں ہو سکتا۔ دنیا کے لادینی قوانین بھی اصولی حیثیت سے یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ کسی شخص کے محض ظاہری فعل کی بنا پر اُسے سز ا نہ دی جائے بلکہ یہ بھی دیکھا جائے کہ اُس نے کس نیت سے وہ فعل کیا ہے۔ لیکن دنیا کی کسی عدالت کے پاس بھی وہ ذرائع نہیں ہیں جن سے وہ نیت کی ٹھیک ٹھیک تحقیق کر سکے۔ یہ صرف اور صرف خدا ہی کر سکتاہے کہ انسان کے ہر ظاہری فعل کے پیچھے جو باطنی محرِّکات کار فرما رہے ہیں ان کی بھی جانچ پڑتا کر ے اور اس کے بعد یہ فیصلہ کرے کہ وہ کس جزا یا سزا کا مستحق ہے۔ پھر آیت کے الفاظ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ محض اللہ کے اُس علم کی بنا پر نہیں ہو گا جو وہ دلوں کے ارادوں اور نیّتوں کے بارے میں پہلے ہی سے رکھتا ہے، بلکہ قیامت کے روز اِن رازوں کو کھول کر علانیہ سامنے رکھ دیا جائے گا  اور کھلی عدالت میں جانچ پڑتال کر کے یہ دکھا دیا جائے گا کہ ان میں خیر کیا تھی اور شر کیا تھا۔ اِسی لیے حُصِّلَ مَا فِی الصُّدُوْرِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ تحصیل کے معنی کسی چیز کو نکال کر باہر لانے کے بھی ہیں، مثلاً چھلکا اتار کر مغز نکالنا، اور مختلف قسم کی چیزوں کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کرنے کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ لہٰذا دلوں میں چھُپے ہوئے اسرار کی تحصیل میں یہ دونوں باتیں شامل ہیں۔ اُن کو کھول کر ظاہر کر دینا بھی ، اور ان کو چھانٹ کر بُرائی  اور بھلائی کو الگ  کر دینا بھی۔ یہی مضمون سُورۂ طارق میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآ ئِرُ۔” جس روز پوشیدہ  اَسرار کی جانچ پڑتا ہوگی۔“(آیت۹)۔

آخرت میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے کےلیےکن کن طریقوں سے شہادتیں پیش کی جائیں گی

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

                     صفحہ433    

سورہ القارعہ

موضوع اور مضمون:  اس کا موضوع ہے قیامت اور آخرت۔ سب سے پہلے لوگوں کو یہ کہہ کر چَونکا یا گیا ہے کہ عظیم حادثہ ! کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟ اِس طرح سامعین کو کسی ہولناک واقعہ کے پیش آنے کی خبر سننے کے لیے تیار کرنے کے بعد دو فقروں میں ان کے سامنے قیامت کا نقشہ پیش کر دیا گیا ہے کہ اُس روز لوگ گھبراہٹ کے عالم میں اِس طرح ہر طرف بھاگے بھاگے پھر یں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے بِکھرے ہوئے ہوتے ہیں، اور پہاڑوں کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے ، ان کی بندش ختم ہو جائے گی اور وہ دُھنکے ہوئے اون کی طرح ہو کر رہ جائیں گے۔ پھر بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب لوگوں کا حساب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی  عدالت قائم ہو گی تو اُس میں فیصلہ اِس بنیاد پر ہو گا کہ کس شخص کے نیک اعمال اس کے بُرے اعمال سے زیادہ وزنی ہیں ، اور کس کے نیک اعمال کا وزن اس کے بُرے اعمال کی بہ نسبت ہلکا ہے۔ پہلی قسم کے لوگوں کو وہ عیش نصیب  ہوگا  جس سے وہ خوش ہو جائیں گے ، اور دوسری قسم کے لوگوں کو اُس گہری کھائی میں پھینک دیا جائے گا جو آگ سے بھری ہوئی ہو گی۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں