منکرین آخرت قیامت کو دور سمجھتے ہیں لیکن اللہ اسے قریب دیکھ رہا ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
منکرین آخرت قیامت کو
دور سمجھتے ہیں لیکن اللہ اسے قریب دیکھ رہا ہے
فہرست موضوعات – تفہیم
القرآن جلد ششم – آخرت
صفحہ 87، 88
سورہ معارج آيات 6
، 7
اِنَّهُمْ
يَرَوْنَهٗ بَعِيْدًاۙ۰۰۶وَّ نَرٰىهُ قَرِيْبًاؕ۰۰۷
پس اے نبیؐ ، صبر
کرو، شائستہ صبر۔ یہ لوگ اُسے دُور سمجھتے
ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔
اس کے دو مطلب ہو
سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ لوگ اُسے بعید ازامکان سمجھتے ہیں اور ہمارے نزدیک وہ قریب
الوقوع ہے ۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے
کہ یہ لوگ قیامت کو بڑی دور کی چیز سمجھتے ہیں اور ہماری نگاہ میں وہ اس قدر قریب ہے گویا کل پیش آنے والی ہے۔
منکرین
آخرت کے اعتراض کا جواب کہ مرے ہوئے لوگوں کی کھوکھلی اور بوسیدہ ہڈیوں کو کیسے
جمع کیا جائے گا
فہرست
موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت
صفحہ 164،
165
سورہ
قیامہ آیات 3، 4 ،5
اَيَحْسَبُ
الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ۰۰۳بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ۰۰۴بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ۰۰۵
کیا انسان یہ سمجھ
رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟
کیوں نہیں؟ ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں۔ مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں
کرتا رہے۔
اَيَحْسَبُ
الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗؕ۰۰۳
کیا
انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟
اوپر کی دو دلیلیں ،
جو قسم کی صور ت میں بیان کی گئی ہیں، صرف دو باتیں ثابت کرتی ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا
کا خاتمہ (یعنی قیامت کا پہلا مرحلہ )ایک یقینی امر ہے۔ دوسرے یہ کہ موت کے بعد
دوسری زندگی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر انسان کے ایک اخلاقی وجود ہونے کے منطقی اور
فطری تقاضے پُورے نہیں ہو سکتے ، اور یہ امر ضرور واقع ہونے والا ہے، کیونکہ انسان
کے اندر ضمیر کی موجودگی اِس پر گواہی دے رہی ہے۔ اب یہ تیسری دلیل یہ ثابت کرنے کے لیے پیش کی گئی ہے کہ زندگی
بعدِ موت ممکن ہے۔ مکہ میں جو لوگ اس کا
انکار کرتے تھے وہ بار بار یہ کہتے تھے کہ
آخر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جن لوگون کو مرے ہوئے سینکڑوں ہزاروں برس گزر چکے ہوں،
جن کے جسم کا ذرہ ذرہ خا ک میں مل کر پر اگندہ ہو چکا ہو، جن کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو کر نہ معلوم زمین میں
کہاں کہاں منتشر ہو چکی ہوں ، جن میں سے کوئی جل مرا ہو، کوئی درندوں کے پیٹ میں جا چکا ہو، کوئی سمندر میں غرق ہو
کر مچھلیوں کی غذا بن چکا ہو، ان سب کے اجزائے جسم پھر سے جمع ہو جائیں اور ہر
انسان پھر وہی شخص بن کر اٹھ کھڑا ہو جو دس بیس ہزار برس پہلے کبھی وہ تھا؟ اس کا نہایت معقول اور انتہائی پر زور جواب اللہ تعالیٰ نے اِس مختصر سے سوال
کی شکل میں دے دیا ہے کہ ”کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اس کی ہڈیوں کو کبھی جمع نہ کر سکیں گے“؟یعنی اگر تم سے یہ کہا گیا
ہوتا کہ تمہارے یہ منتشر اجزائے جسم کسی وقت آپ سے آپ جمع ہو جائیں گے اور تم آپ
سے آپ اسی جسم کے ساتھ جی اٹھو گے، تو بلا شبہ تمہارا اِسے نا ممکن سمجھنا بجا ہوتا۔مگر تم سے تو کہا یہ گیا
ہے کہ یہ کام خود نہیں ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا۔ اب کیا تم واقعی یہ
سمجھ رہے ہو کہ کائنات کا خالق، جسے تم خود بھی خالق مانتے ہو ، اِس کام سے عاجز
ہے؟ یہ ایسا سوال تھا جس کے جواب میں کوئی شخص جو خدا کو خالقِ کائنات مانتا ہو،
نہ اُس وقت یہ کہہ سکتا تھا اور نہ آج یہ کہہ سکتا ہے کہ خدا بھی یہ کام کرنا چاہے
تو نہیں کر سکتا۔ اور اگر کوئی بے وقوف ایسی بات کہے تو اس سے پوچھا جا سکتا ہے کہ
تم آج جس جسم میں اِس وقت موجود ہو اس کے بے شمار اجزاء کو ہوا اور پانی اور مٹی
اور نہ معلوم کہا ں کہاں سے جمع کر کے اُسی خدا نے کیسے یہ جسم بنا دیا جس کے
متعلق تم یہ کہہ رہے ہو کہ وہ پھر ان اجزاء کو جمع نہیں کر سکتا؟
۰۰۳بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ۰۰۴
ہم تو
اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں۔
یعنی بڑی بڑی ہڈیوں
کو جمع کر کے تمہارا ڈھانچہ پھر سے کھڑا
کر دینا تو درکنار، ہم تو اس بات پر بھی
قادر ہیں کہ تمہارے نازک ترین اجزائے جسم حتیٰ کہ تمہاری انگلیوں کی پوروں تک پھر
ویسا ہی بنا دیں جیسی وہ پہلے تھیں۔
بَلْ
يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ لِيَفْجُرَ اَمَامَهٗۚ۰۰۵
مگر
انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتا رہے۔
اِس چھوٹے سے فقرے میں
منکرینِ آخرت کے اصل مرض کی صاف صاف تشخیص کر دی گئی ہے۔ اِن لوگوں کو جو چیز آخرت
کے انکار پر آمادہ کرتی ہے وہ دراصل یہ نہیں ہے کہ فی الواقع وہ قیامت اورآخرت کو
نا ممکن سمجھتے ہیں، بلکہ اُن کے اِس انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ آخرت کو ماننے سے
لازماً اُن پر کچھ اخلاقی پابندیاں عائد ہوتی ہیں، اور انہیں یہ پابندیاں ناگوار ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ اب تک زمین میں بے نَتھے بیل کی طرح پھرتے رہے ہیں اُسی
طرح آئندہ بھی پھر تے رہیں۔ جو ظلم ، جو بے ایمانیاں، جو فسق وفجور، جو بد کر داریاں
اب تک کرتے رہے ہیں ، آئندہ بھی ان کو اس کی کھلی چھوٹ ملی رہے، اور یہ خیال ان کو
یہ ناروا آزادیاں برتنے سے نہ روکنے پائے
کہ ایک دن انہیں اپنے خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اِن اعمال کی جواب دہی کرنی
پڑے گی۔ اس لیے دراصل اُن کی عقل اُنہیں آخرت پر ایمان لانے سے نہیں روک رہی ہے
بلکہ ان کی خوا ہشاتِ نفس اِس میں ما نع ہیں۔
منکرین
آخرت کے اعتراض کا جواب کہ مرے ہوئے لوگوں کی کھوکھلی اور بوسیدہ ہڈیوں کو کیسے
جمع کیا جائے گا
فہرست
موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت
صفحہ
240
سورہ نازعات آیات 10
تا 14
يَقُوْلُوْنَ
ءَاِنَّا لَمَرْدُوْدُوْنَ۠ فِي الْحَافِرَةِؕ۰۰۱۰ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا نَّخِرَةًؕ۰۰۱۱قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ۰۰۱۲فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ۰۰۱۳فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِؕ۰۰۱۴
یہ لوگ کہتے ہیں” کیا
واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟ کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے
ہوں گے؟“ کہنے لگے” یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی!“ حالانکہ یہ بس اِتنا کام
ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کُھلے میدان میں موجود ہوں گے۔
قَالُوْا
تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ۰۰۱۲
کہنے
لگے” یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی
یعنی جب اُن کو جواب
دیا گیا کہ ہاں ا یسا ہی ہوگا تو وہ مذاق کے طور پر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے
یا رو، اگر واقعی ہمیں پلٹ کر دوبارہ زندگی کی حالت میں واپس آنا پڑا تب تو ہم
مارے گئے، اس کے بعد تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔
فَاِنَّمَا
هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌۙ۰۰۱۳فَاِذَا هُمْ
بِالسَّاهِرَةِؕ۰۰۱۴
حالانکہ
یہ بس اِتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی اور یکایک یہ کُھلے میدان میں موجود
ہوں گے۔
یعنی یہ لوگ اسے ایک
امِر محال سمجھ کر اس کی ہنسی اڑا رہے ہیں، حالانکہ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام
نہیں ہے جس کو انجام دینے کے لیے کچھ بڑی
لمبی چوڑی تیاریوں کی ضرورت ہو۔ اِس کے لیے صرف ایک ڈانٹ یا جھڑ کی کافی ہے جس کے
ساتھ ہی تمہاری خاک یا راکھ، خواہ کہیں پڑی ہو ، ہر فرف سے سمٹ کر ایک جگہ جمع ہو جائے گی اور تم یکایک اپنے آپ کو زمین کی
پیٹھ پر زندہ موجود پاؤ گے۔ اِس واپسی کو گھاٹے کی واپسی سمجھ کر چاہے تم اِس سے
کتنا ہی فرار کرنے کی کوشش کرو، یہ تو ہو کر رہنی ہے ، تمہارے انکار یا فرار یا تمسخر سے یہ رُک نہیں
سکتی۔
منکرین
آخرت کے اعتراض کا جواب کہ مرے ہوئے لوگوں کی کھوکھلی اور بوسیدہ ہڈیوں کو کیسے
جمع کیا جائے گا
فہرست
موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت
صفحہ
243تا246
سورہ
نازعات آیات 27 تا 46
ءَاَنْتُمْ
اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ۰۰۲۷رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَاۙ۰۰۲۸وَ اَغْطَشَ
لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۪۰۰۲۹وَ الْاَرْضَ
بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَاؕ۰۰۳۰اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۪۰۰۳۱وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَاۙ۰۰۳۲مَتَاعًا
لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ۰۰۳۳فَاِذَا
جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى ٞۖ۰۰۳۴يَوْمَ
يَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى ۙ۰۰۳۵وَ بُرِّزَتِ
الْجَحِيْمُ لِمَنْ يَّرٰى۰۰۳۶فَاَمَّا
مَنْ طَغٰى ۙ۰۰۳۷وَ اٰثَرَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاۙ۰۰۳۸فَاِنَّ الْجَحِيْمَ هِيَ الْمَاْوٰى ؕ۰۰۳۹وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰى ۙ۰۰۴۰فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاْوٰى ؕ۰۰۴۱يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَاؕ۰۰۴۲فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ۰۰۴۳اِلٰى
رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ۰۰۴۴اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَاؕ۰۰۴۵كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِيَّةً اَوْ
ضُحٰىهَاؒ۰۰۴۶
کیا تم لوگوں کی تخلیق
زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا، اُس کی چھت خُوب اُونچی
اُٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا، اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن
نکالا۔ اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا، اُس کے اندر اُس کا پانی اور چارہ نکالا، اور
پہاڑ اس میں گاڑ دیے سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔
پھر جب وہ ہنگامہٴِ
عظیم برپا ہوگا، جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا، اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ
دی جائے گی، تو جس نے سرکشی کی تھی اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی، دوزخ ہی اس
کا ٹھکانا ہوگی۔ اور جس نے اپنے ربّ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو
بُری خواہشات سے باز رکھا تھا ، جنّت اس کا ٹھکانا ہوگی۔
یہ لوگ تم سے پوچھتے
ہیں کہ”آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی؟“ تمہارا کیا کام کہ اُس کا وقت بتاوٴ۔ اس کا
علم تو اللہ پر ختم ہے۔ تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف
کرے۔جس روز یہ لوگ اُسے دیکھ لیں گے تو
انہیں یوں محسوس ہو گا کہ (یہ دنیا میں یا حالتِ موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا
اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں۔
Comments
Post a Comment