آخرت کا عذاب دنیوی عذابوں سے شدید تر ہوگا
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
آخرت کا عذاب دنیوی عذابوں سے شدید تر
ہوگا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 63
سورہ القلم آیات 17تا33
اِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا
بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَيَصْرِمُنَّهَا۠
مُصْبِحِيْنَۙ۰۰۱۷وَ
لَا يَسْتَثْنُوْنَ۰۰۱۸فَطَافَ
عَلَيْهَا طَآىِٕفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآىِٕمُوْنَ۰۰۱۹فَاَصْبَحَتْ
كَالصَّرِيْمِۙ۰۰۲۰فَتَنَادَوْا
مُصْبِحِيْنَۙ۰۰۲۱اَنِ
اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِيْنَ۰۰۲۲فَانْطَلَقُوْا
وَ هُمْ يَتَخَافَتُوْنَۙ۰۰۲۳اَنْ لَّا يَدْخُلَنَّهَا
الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِّسْكِيْنٌۙ۰۰۲۴وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ
قٰدِرِيْنَ۰۰۲۵فَلَمَّا
رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ۰۰۲۶ بَلْ
نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ۰۰۲۷قَالَ
اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ۰۰۲۸قَالُوْا
سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ۰۰۲۹فَاَقْبَلَ
بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ يَّتَلَاوَمُوْنَ۠۰۰۳۰قَالُوْا
يٰوَيْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِيْنَ۰۰۳۱عَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ يُّبْدِلَنَا
خَيْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ۰۰۳۲كَذٰلِكَ
الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَؒ۰۰۳۳
ہم نے اِن (اہلِ مکّہ)کو اُسی طرح
آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا،
جب اُنہوں نے قسم کھائی کے صبح و سویرے
ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے۔ رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے ربّ کی طرف
سے ایک بلا اُس باغ پر پھر گئی اور اُس کا ایسا حال ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔
صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پُکارا کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔ چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چُپکے چُپکے کہتے جاتے تھے کہ آج کو ئی مسکین
تمہارے باغ میں نہ آنے پائے۔ وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ ( پھل توڑنے پر
)قادر ہیں۔ مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے” ہم راستہ بھُول گئے،۔۔۔۔نہیں، بلکہ
ہم محروم رہ گئے۔“ اُن میں جو سب سے بہتر
آدمی تھا اُس نے کہا”میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟ “وہ پکار اُٹھے پاک ہے ہمارا
ربّ ، واقعی ہم گنہگار تھے۔ پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا۔ آخر کو اُنہوں نے کہا”افسوس ہمارے حال پر، بے
شک ہم سرکش ہو گئے تھے۔ بعید نہیں کہ ہمارا ربّ ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا
فرمائے، ہم اپنے ربّ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔“ ایسا ہوتا ہے عذاب۔ اور آخرت کا عذاب
اِس سے بھی بڑا ہے، کا ش یہ لوگ اُس کو
جانتے۔ ؏۱
آخرت کا عذاب دنیوی
عذابوں سے شدید تر ہوگا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ333
سورہ فجر آیات 21تا26
كَلَّاۤ
اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ۰۰۲۱وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ۰۰۲۲وَ جِايْٓءَ يَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ
الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى ؕ۰۰۲۳يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ قَدَّمْتُ لِحَيَاتِيْۚ۰۰۲۴فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ۰۰۲۵وَّ لَا يُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ۰۰۲۶
ہرگز نہیں، جب زمین پے در پے کوُٹ کوُٹ کر ریگ زار بنا دی
جائے گی، اور تمہارا ربّ جلوہ فرما ہوگا
اِس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے، اور جہنّم اُس روز سامنے لے آئی
جائے گی، اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل
؟ وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اِس زندگی
کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا! پھر اُس
دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں، اور اللہ جیساباندھے گا ویسا
باندھنے والا کوئی نہیں۔
يَوْمَىِٕذٍ
يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى ؕ۰۰۲۳
اُس دن
انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟
اصل الفاظ ہیں يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ
الذِّكْرٰى ؕ۰۰۲۳۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اُس روز انسان یاد
کرے گا کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کر کے آیا ہے اور اُس پر نادم ہو گا ، مگر اُس وقت یاد
کرنے اور نادم ہونے کا کیا فائدہ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اُس روز انسان کو ہوش آئے
گا، اُسے نصیحت حاصل ہوگی، اُس کی سمجھ میں
یہ بات آئے گی کہ جو کچھ اُسے انبیاء نے بتایا تھا وہی صحیح تھا اور اُن کی بات نہ
مان کر اُس نے حماقت کی، مگر اُس وقت ہوش
میں آنے اور نصیحت پکڑنے اور اپنی غلطی کو
سمجھنے کا کیا فائدہ۔
Comments
Post a Comment