منکرین آخرت سمجھتے ہیں کہ اللہ کی طرف پلٹنا نہیں ہے

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منکرین آخرت سمجھتے ہیں کہ اللہ کی طرف پلٹنا نہیں ہے، حالانکہ ان کا رب ان کے سارے کرتوت دیکھ رہا ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 290

سورہ انشقاق آیات 10تا15

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ۰۰۱۰فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ۰۰۱۱وَّ يَصْلٰى سَعِيْرًاؕ۰۰۱۲اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ۰۰۱۳اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَۚۛ۰۰۱۴بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيْرًاؕ۰۰۱۵

رہا  وہ شخص جس کا  نامہٴ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا  تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا۔ وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا۔  اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے ۔ پلٹناکیسے نہ تھا، اُس کا ربّ اُس کے کرتُوت دیکھ رہا تھا۔

اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ۰۰۱۳

وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا۔

یعنی اُس کا حال خدا کے صالح بندوں سے مختلف تھا جن کے متعلق سورہ طور (آیت ۲۶) میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے، یعنی ہر وقت اُنہیں یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں بال بچوں کی محبت میں گرفتا ر ہو کر ہم اُن کی دنیا بنانے کےلیے اپنی عاقبت بر باد نہ کر لیں۔ اِس کے بر عکس اُس شخص کا حال یہ تھا کہ اپنے گھر میں وہ چین کی بنسری بجا رہا تھا اور خوب بال بچوں کو عیش کر ا رہا تھا، خوہ وہ کتنی ہی حرام خوریاں کر کے اور کتنے ہی لوگوں کے حق مار کر یہ سامانِ عیش فراہم کرے، اور اس لطف و لذت کے لیے خدا کی باندھی ہوئی حدوں کو کتنا ہی پامال کرتا رہے۔

اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيْرًاؕ۰۰۱۵

اُس کا ربّ اُس کے کرتُوت دیکھ رہا تھا

یعنی یہ خدا کے انصاف اور اس کی حکمت کے خلاف تھا کہ جو کرتوت وہ کر رہا تھا ان کو وہ نظر انداز کر دیتا اور اسے اپنے سامنے بلا کر کوئی باز پرس اس سے نہ کرتا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں