آخرت ایک حقیقت ہے جو ضرور پیش آنی ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
آخرت ایک حقیقت ہے جو ضرور پیش آنی ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 70
سورہ الحاقہ
موضوع اور مضمون: اس کا پہلا رکوع آخرت کے بیان میں ہے، اور دوسرا
رکوع قرآن کے مُنزَّل من اللہ اور محمد صلی
للہ علیہ وسلم کے رسول ِ برحق ہونے کے بارے میں۔
پہلے رکوع کا آغاز اس بات سے ہوا ہے
کہ قیامت کا آنا اور آخرت کا بر پا ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جو ضرور پیش آکر رہنی
ہے۔ پھر آیت۴
سے ۱۲
تک یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کیا ہے وہ آخر کار خدا
کے عذاب کی مستحق ہو کر رہی ہیں۔ اس کے بعد آیت ۱۷ تک قیامت کا نقشہ کھینچا
گیا ہے کہ وہ کس طرح بر پا ہوگی۔ پھر آیت۱۸ سے ۳۷ تک وہ اصل مقصد بیان کیا
گیا ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی موجودہ زندگی کے بعد نوعِ انسانی کے لیے
ایک دوسری زندگی مقدر فرمائی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اُس روز تمام انسان اپنے
رب کی عدالت میں پیش ہوں گے جہاں اُن کا کوئی راز چھپا نہ رہ جائے گا۔ ہر ایک کا
نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا۔ جن لوگوں نے دنیامیں یہ سمجھتے ہوئے
زندگی بسر کی تھی کہ ایک دن اُنہیں اپنے رب کو اپنا حساب دینا ہے، اور جنہوں نے دنیا
کی زندگی میں نیک عمل کر کےاپنی آخرت کی بھلائی کے لیے پیشگی سامان کر لیا تھا، وہ
اپنا حساب پاک دیکھ کر خوش ہو جائیں گے اور انہیں جنت کا ابدی عیش نصیب ہو گا۔ اس
کے بر عکس جن لوگوں نے خدا کا حق مانا نہ بندوں کا حق ادا کیا، انہیں خدا کی پکڑ
سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا اور وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے ۔
آخرت ایک حقیقت ہے جو ضرور پیش آنی ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 72
سورہ الحاقہ آیت 1
اَلْحَآقَّةُۙ۰۰۱
ہونی شُدنی!
اصل میں لفظ الحاقہ استعمال ہوا ہے جس
کے معنی ہیں وہ واقعہ جس کو لازماً پیش آکر رہنا ہے جس کا آنا برحق ہے ،جس کے آنے
میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ قیامت کے لیے یہ لفظ استعمال کر نا اور پھر کلام کا
آغاز ہی اس سے کرنا خود بخود یہ ظاہر کرتا ہے کہ مُخاطب وہ لوگ ہیں جو اُس کے آنے
کو جھٹلا رہے تھے۔ اُن کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ جس چیز کی تم تکذیب کر
رہے ہو وہ ہونی شُدنی ہے ، تمہارے انکار سے اُس کا آنا رُک نہیں جائے گا۔
Comments
Post a Comment