خوف آخرت کا فقدان گمراہی کی جڑ ہے

 

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

خوف آخرت کا فقدان گمراہی کی جڑ ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ141

سورہ مدثر موضوع اور مضمون

سورہ مدثر کی  آیات ۴۹۔۵۳ میں کفار کے مرض کی اصل جڑ بتا دی گئی ہے کہ وہ چونکہ آخرت سے بے خوف ہیں اور اِسی دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے ہیں، اس لیے وہ قرآن سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے شیر سے ڈر کر جنگلی گدھے بھاگے جا رہے ہوں ، اور ایمان لانے کے لیے طرح طرح کی غیر معقول شرطیں پیش کرتے ہیں، حالانکہ خواہ ان کی کوئی شرط بھی پوری کر دی جاِئے، انکارِ آخرت کے ساتھ وہ ایمان کی راہ پر ایک قدم بھی نہیں بڑھ سکتے۔

خوف آخرت کا فقدان گمراہی کی جڑ ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 155،  156

سورہ مدثر آیات 49تا53

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَۙ۰۰۴۹كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ۰۰۵۰فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ۰۰۵۱بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ۰۰۵۲كَلَّا١ؕ بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ۰۰۵۳

آخر اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اِس نصیحت سے مُنہ موڑ رہے ہیں گویا یہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں۔  بلکہ اِن میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے نام کُھلے خط بھیجے جائیں۔ ہر گز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔

کَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ۰۰۵۰فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ۰۰۵۱

گویا یہ جنگلی گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں

یہ ایک عربی محاورہ ہے ۔جنگلی گدھوں کا یہ خا صہ ہوتا ہے  کہ خطرہ بھانپتے ہی وہ اِس قدر بد حواس ہو کر بھاگتے ہیں کہ کوئی دوسرا جانور اس طرح نہیں بھاگتا ۔ اس لیے اہلِ عرب غیر معمولی طور پر بد حواس ہو کر بھاگنے والے کو اُن جنگلی گدھوں سے تشبیہ دیتے ہیں جو شیر کی بُو یا شکاریوں کی آہٹ پاتے ہی بھاگ پڑے ہوں۔

بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ۰۰۵۲

بلکہ اِن میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے نام کُھلے خط بھیجے جائیں

یعنی یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اگر واقعی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مقرر فرمایا ہے تو وہ مکہ کے ایک ایک سردار اور ایک ایک شیخ کے نام ایک خط لکھ کر بھیجے کہ محمد ؐ ہمارے نبی ہیں، تم ان کی پیروی قبول کرو، اور  یہ خط ایسے ہوں جنہیں دیکھ کر انہیں یقین آجائے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے یہ لکھ کر بھیجے ہیں۔ ایک اور مقام پر قرآن مجید میں کفارِ مکہ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ”ہم نہ مانیں گے جب تک وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے“

كَلَّا١ؕ بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ۰۰۵۳

ہر گز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔

یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ ان کے یہ مطالبے پُورے نہیں کیے جاتے، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت سے بے خوف ہیں۔ انہوں نے سب کچھ اسی دنیا  کو سمجھ رکھا ہے اور انہیں یہ خیال نہیں  ہے کہ اِس دنیا کی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی بھی ہے جس میں اِن کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اسی چیز نے اِن کو دنیا میں بے فکر اور غیر ذمّہ دار بنا دیا ہے ۔ یہ حق اور باطل کے سوال کو سرے سے بے  معنی سمجھتے ہیں، کیونکہ انہیں دنیا میں کوئی حق ایسا نظر نہیں آتا جس کی پیروی کا نتیجہ لازماً دنیا میں اچھا ہی نکلتا ہو، اور نہ کوئی باطل ایسا نظر آتا ہے جس کا نتیجہ دنیا میں ضرور بُرا  ہی نکلا کرتا ہو۔ اس لیے یہ اِس مسئلے پر غور کرنا لا حاصل سمجھتے ہیں کہ فی الواقع حق کیا ہے اور باطل کیا ۔ یہ مسئلہ سنجیدگی کے ساتھ قابلِ غور اگر ہو سکتا ہے تو صرف اُس شخص کے لیے جو دنیا کی موجودہ زندگی کو ایک عارضی زندگی سمجھتا ہو اور یہ تسلیم کرتا ہو کہ اصلی اور ابدی زندگی آخرت کی زندگی ہے جہاں حق کا انجام لازماً اچھا اور باطل کا انجام لازماً بُرا ہوگا۔ ایسا شخص تو اُن معقول دلائل اور اُن پاکیزہ تعلیمات کو دیکھ کر ایمان لائے گا جو قرآن میں پیش کی گئی ہیں اور اپنی عقل سے کام لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کرے گا کہ قرآن جن عقائد اور اعمال کو غلط کہہ رہا ہے ان میں فی الواقع کیا غلطی ہے۔ لیکن آخرت کا منکر جو سرے سے تلاشِ حق میں سنجیدہ ہی نہیں ہے وہ ایمان نہ لانے کے لیے آئے دن نتِ نئے مطالبے پیش کرے گا، حالانکہ اس کا خواہ کوئی مطالبہ بھی پورا کر دیا جائے، وہ انکار کرنے کے لیے کوئی دوسرا بہانا ڈھونڈنکالے گا۔ یہی  بات ہے جو سورہ انعام میں فرمائی گئی ہے کہ ”اے نبی، اگر ہم تمہارے اوپر کاغذ میں لکھی لکھائی کوئی کتاب بھی اُتار دیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چُھو کر بھی دیکھ لیتے تو جنہوں نے حق  کا انکار کیا ہے وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادو ہے“(الانعام،۷)۔

خوف آخرت کا فقدان گمراہی کی جڑ ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 274،  275

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّيْنِۙ۰۰۹

ہر گز نہیں،  بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ ) تم لوگ جزا و سزا کو جھُٹلاتے ہو

یعنی در اصل جس چیز نے تم لوگوں کو دھوکے میں ڈالا ہے وہ کوئی معقول دلیل نہیں ہے بلکہ محض تمہارا یہ احمقانہ خیال ہے کہ دنیا کے اس دارالعمل کے پیچھے کوئی دارالجزا نہیں ہے ۔ اسی غلط اور بے بنیاد گمان نے تمہیں خدا سے غافل ، اس کے انصاف سے بے خوف ، اور اپنے اخلاقی رویّے میں غیر ذمہ دار بنا دیا ہے۔

خوف آخرت کا فقدان گمراہی کی جڑ ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 278، 279

سورہ مطففین موضوع اور مضمون

اس کاموضوع بھی آخرت ہے۔

پہلی چھ آیتوں میں اُس عام بے ایمانی پر گرفت کی گئی ہے جو کاروباری لوگوں میں بکثرت پھیلی ہوئی تھی کہ دوسروں سے لینا ہوتا تھا تو پورا ناپ کر اور تول کر لیتے تھے، مگر جب دوسروں کو دینا ہوتا تو ناپ تول میں ہر ایک کو کچھ نہ کچھ  گھاٹا دیتے تھے۔ معاشرے کی  بے شمار خرابیوں میں سے اِس ایک خرابی  کو، جس کی قباحت سے کوئی انکار نہ کر سکتا تھا، بطورِ مثال لے کر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ آخرت سے غفلت کا لازمی نتیجہ ہے۔ جب تک لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ایک روز خدا کے سامنے پیش ہونا ہے اور کوڑی کوڑی کا حساب دینا ہے اُس وقت تک یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے معاملات میں کامل راستبازی اختیار کر سکیں۔ کوئی شخص دیانت داری کو”اچھی پالیسی“سمجھ کر بعض چھوٹے چھوٹے معاملات میں دیانت برت بھی لے تو ایسے مواقع پر وہ کبھی دیانت نہیں برت سکتا جہاں بے ایمانی ایک”مفید پالیسی“ثابت ہوتی ہو۔ آدمی کے اندر سچّی اور مستقل دیانت داری اگر پیدا ہو سکتی ہے تو صرف خدا کے خوف اور آخرت پر یقین ہی سے ہو سکتی ہے، کیونکہ اِس صورت میں دیانت ایک ”پالیسی“نہیں بلکہ”فریضہ“قرار پاتی ہے اور آدمی کے اُس پر قائم رہنے یا نہ رہنے کا انحصار دنیا میں اس کے مفید یا غیر مفید ہونے پر نہیں رہتا ۔

 

خوف آخرت کا فقدان گمراہی کی جڑ ہے

فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم – آخرت

صفحہ 290

سورہ انشقاق آیات 10تا15

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ۰۰۱۰فَسَوْفَ يَدْعُوْا ثُبُوْرًاۙ۰۰۱۱وَّ يَصْلٰى سَعِيْرًاؕ۰۰۱۲اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ۰۰۱۳اِنَّهٗ ظَنَّ اَنْ لَّنْ يَّحُوْرَۚۛ۰۰۱۴بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيْرًاؕ۰۰۱۵

رہا  وہ شخص جس کا  نامہٴ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا  تو وہ موت کو پکارے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا۔ وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا۔  اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے ۔ پلٹناکیسے نہ تھا، اُس کا ربّ اُس کے کرتُوت دیکھ رہا تھا

وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ وَرَآءَ ظَهْرِهٖۙ۰۰۱۰

رہا  وہ شخص جس کا  نامہٴ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا

سورہ اَلْحَاقّہ میں فرمایاگیا ہے کہ جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ اور یہاں ارشاد ہوا ہے اُ س کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا۔ غالبًا اِ س کی صورت یہ ہوگی کہ وہ شخص اِ س بات سے تو پہلے ہی مایوس ہوگا کہ اُسے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا، کیونکہ اپنے کرتوتوں سے وہ خوب واقف ہوگا اور اسے یقین ہوگا کہ مجھے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ملنے والا ہے ۔ البتہ سار ی خلقت کے سامنے بائیں  ہاتھ میں نامہ اعمال لیتے ہوئے اُسےخِفّت محسوس ہوگی، اس لیے وہ اپنا ہاتھ پیچھے کر لے گا۔ مگر اِس تدبیر سے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ اپنا کچّا چٹھا اپنے ہاتھ میں لینے سے بچ جائے۔ وہ تو بہر حال اسے پکڑا یا ہی جائے گا خواہ وہ ہاتھ آگے بڑھا کر لے یا پیٹھ کے پیچھے چھپالے۔

اِنَّهٗ كَانَ فِيْۤ اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًاؕ۰۰۱۳

وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا

یعنی اُس کا حال خدا کے صالح بندوں سے مختلف تھا جن کے متعلق سورہ طور (آیت ۲۶) میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں میں خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے، یعنی ہر وقت اُنہیں یہ خوف لاحق رہتا تھا کہ کہیں بال بچوں کی محبت میں گرفتا ر ہو کر ہم اُن کی دنیا بنانے کےلیے اپنی عاقبت بر باد نہ کر لیں۔ اِس کے بر عکس اُس شخص کا حال یہ تھا کہ اپنے گھر میں وہ چین کی بنسری بجا رہا تھا اور خوب بال بچوں کو عیش کر ا رہا تھا، خواہ وہ کتنی ہی حرام خوریاں کر کے اور کتنے ہی لوگوں کے حق مار کر یہ سامانِ عیش فراہم کرے، اور اس لطف و لذت کے لیے خدا کی باندھی ہوئی حدوں کو کتنا ہی پامال کرتا رہے۔

بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِيْرًاؕ۰۰۱۵

پلٹناکیسے نہ تھا، اُس کا ربّ اُس کے کرتُوت دیکھ رہا تھا

یعنی یہ خدا کے انصاف اور اس کی حکمت کے خلاف تھا کہ جو کرتوت وہ کر رہا تھا ان کو وہ نظر انداز کر دیتا اور اسے اپنے سامنے بلا کر کوئی باز پرس اس سے نہ کرتا۔

Comments

Popular posts from this blog

بہترین جماعت کے بدترین لوگ

گفتگو سائے اور غفلت سے

مسلمان جائیں تو کہاں جائیں