انکار آخرت کرنے والوں کو تنبیہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
انکار آخرت کرنے والوں کو تنبیہ
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
–آخرت
صفحہ216، 217
سورہ مرسلات آیات 46، 47
كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا
قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ۰۰۴۶وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۰۰۴۷
کھالو اور مزے کر لو تھوڑے دن۔ حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو۔ تباہی ہے اُس روز
جھُٹلانے والوں کے لیے
كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا
قَلِيْلًا
کھالو اور مزے کر لو تھوڑے دن
یعنی دنیا کی اِس چند روزہ زندگی میں۔
منکرین آخرت حساب کتاب
کی توقع نہیں رکھتے مگر اللہ نے ان کے ایک ایک کرتوت کو گن گن کر لکھ رکھا ہے اور
جہنم ان کی گھات میں ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ222
سورہ نبا موضوع مضمون
جو لوگ حساب کتاب کی توقع نہیں رکھتے
اور جنہوں نے ہماری آیات کو جُھٹلا دیا ہے، ان کا ایک ایک کرتوت گن گن کر ہمارے
ہاں لکھا ہوا ہے، اور ان کی خبر لینے کے لیے جہنم گھات لگا ئے ہوئے تیار ہے جہاں
ان کے اعمال کا بھر پور بدلہ انہیں دے دیا جائے گا۔
منکرین آخرت حساب کتاب
کی توقع نہیں رکھتے مگر اللہ نے ان کے ایک ایک کرتوت کو گن گن کر لکھ رکھا ہے اور
جہنم ان کی گھات میں ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ229
سورہ نبا آیات 21تا30
اِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ
مِرْصَادًا۪ۙ۰۰۲۱لِّلطَّاغِيْنَ
مَاٰبًاۙ۰۰۲۲لّٰبِثِيْنَ
فِيْهَاۤ اَحْقَابًاۚ۰۰۲۳لَا
يَذُوْقُوْنَ فِيْهَا بَرْدًا وَّ لَا شَرَابًاۙ۰۰۲۴اِلَّا حَمِيْمًا
وَّ غَسَّاقًاۙ۰۰۲۵جَزَآءً
وِّفَاقًاؕ۰۰۲۶اِنَّهُمْ
كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ حِسَابًاۙ۰۰۲۷وَّ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا
كِذَّابًاؕ۰۰۲۸وَ
كُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ كِتٰبًاۙ۰۰۲۹فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ
اِلَّا عَذَابًاؒ۰۰۳۰
در حقیقت جہنّم ایک گھات ہے،
سرکشوں کا ٹھکانا ، جس میں وہ مُدّتوں
پڑے رہیں گے۔ اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے
کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے، کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا
دھوون، (اُن کے کرتُوتوں)کا بھر پُور بدلہ۔ وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے اور
ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھُٹلا دیا تھا،
اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گِن گِن کر لکھ رکھی تھی۔ اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز
میں ہر گز اضافہ نہ کریں گے۔
در حقیقت جہنّم ایک
گھات ہے
14.
گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جو شکار پھانسنے کے لیے بنائی
جاتی ہے تا کہ وہ بے خبری کی حالت میں آئے اور اچانک اس میں پھنس جائے ۔ جہنم کے لیے
یہ لفظ اس لیے استعمال کی گیا ہے کہ خدا کے باغی اس سے بے خوف ہو کر دنیا میں یہ
سمجھتے ہوئے اچھل کود کرتے پھر رہے ہیں کہ خدا کی خدائی ان کے لیے ایک کھلی
آماجگاہ ہے، اور یہاں کسی پکڑ کا خطرہ نہیں ہے، لیکن جہنم ان کے لیے ایک چھپی ہوئی
گھات ہےجس میں وہ یکایک پھنسیں گے اور بس پھنس کر ہی رہ جائیں گے۔
سرکشوں کا ٹھکانا ، جس
میں وہ مُدّتوں پڑے رہیں گے۔
15.
”اصل میں لفظ احقاب استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں
پے در پے آنے والے طویل زمانے ، ایسے مسلسل ادوار کے ایک دور ختم ہوتے ہی دوسرا
دور شروع ہو جائے ۔ اس لفظ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی ہے کہ جنت
کی زندگی میں تو ہمیشگی ہو گی مگر جہنم میں ہمیشگی نہیں ہو گی کیونکہ یہ مدتیں
خواہ کتنی ہی طویل ہوں، بہر حال جب مدتوں کالفظ استعمال کیا گیا ہے تو اس سے یہی مقصود ہو تا ہے
کہ وہ لا متنا ہی نہ ہوں گی بلکہ کبھی نہ کبھی جا کر ختم ہو جائیں گی۔ لیکن یہ
استدلال دو وجوہ سے غلط ہے۔ ایک یہ کہ عربی لغت کے لحاظ سے حقب کے لفظ ہی میں یہ
مفہوم شامل ہے کہ ایک حقب کے پیچھے دوسرا حقب ہو ، اس لیے ا حقاب لازما ایسے ادوار
ہی کے لیے بولا جائے گا جو پے در پے ایک دوسرے کے بعد آتے چلے جائیں گے اور کوئی
دور بھی ایسا نہ ہو جس کے پیچھے دوسرا دور نہ آئے۔ دوسرے یہ کہ کسی موضوع کے متعلق
قرآن مجید کی کسی آیت میں سے کوئی ایسا مفہوم لینا اصولا ًغلط ہے جو اسی موضوع کے
بارے میں قرآن کے دوسرے بیانات سے متصادم ہوتا ہو۔ قرآن میں ۳۴ مقامات پر اہل جہنم کے لیے
خلود(ہمیشگی )کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تین جگہ صرف لفظ خُلُوْد ہی پر اکتفا نہیں
کیا گیا ہے بلکہ اس پر ابداً(ہمیشہ ہمیشہ)کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے ، اور ایک
جگہ صاف صاف ارشاد ہوا ہے کہ ”وہ چاہیں گے کہ جہنم سے نکل جائیں، مگر وہ اس سے ہر
گز نکلنے والے نہیں ہیں اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے“(المائدہ،آیت۳۷)۔ایک دوسری جگہ فرمایاگیا
ہے کہ ”اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہے الّا یہ کہ تیرا
رب کچھ اور چاہے“۔اور یہی بات اہل ِ جنت کے متعلق بھی فرمائی گئی ہے کہ ”جنت میں
وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں اِلّا یہ کہ تیرا رب کچھ اور
چاہے“۔(ہود، آیات۱۰۷۔۱۰۸)۔ان تصریحات کے بعد لفظ
احقاب کی بنیاد پر یہ کہنے کی آخر کیا گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ جہنم میں خدا کے
باغیوں کا قیام دائمی نہیں ہوگا بلکہ کبھی نہ کبھی ختم ہو جائے گا؟
کچھ ملے گا تو بس گرم
پانی اور زخموں کا دھوون
16.
اصل میں لفظ غَسّاق استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق پیپ،
لہو، کچ لہو، اور آنکھوں اور کھالوں سے بننے والی اُن تمام رطوبتوں پر ہوتا ہے جو
شدید تعذیب کی وجہ سے بہ نکلتی ہوں۔ اس کے علاوہ یہ لفظ ایسی چیز کے لیے بھی بولا
جاتا ہے جس میں سخت تعفُّن اور سڑا ند ہو۔
وہ کسی حساب کی توقع نہ
رکھتے تھے اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھُٹلا دیا تھا،
17.
یہ ہے وہ سبب جس کی بنا پر وہ جہنم کے اس خوفناک عذاب
کے مستحق ہوں گے۔ ایک یہ کہ دنیا میں وہ یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہے کہ کبھی
وہ وقت آنا ہے جب انہیں خدا کے سامنے حاضر ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہو۔
دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کے ذریعہ سے اُن کی ہدایت کے لیے جو آیات
بھیجی تھیں انہیں ماننے سے انہوں نے قطعی انکار کر دیا اور ان کو جھوٹ قرار دیا۔
اور حال یہ تھا کہ ہم
نے ہر چیز گِن گِن کر لکھ رکھی تھی۔
18.
یعنی اُن کے اقوال و افعال، ان کی حرکات و سکنات، حتٰی
کہ ان کی نیتوں اور خیالات اور مقاصد تک کا مکمل ریکارڈ ہم تیار کرتے جا رہے تھے
جس سے کوئی چیز چھوٹی ہوئی نہ تھی ،اور وہ بے وقوف اِس سے بے خبر اپنی جگہ یہ
سمجھے بیٹھے تھے کہ وہ کسی اندھیر نگری میں جی رہے ہیں جہاں وہ اپنی مرضی اور
خواہش سے جو کچھ چاہیں کرتے رہیں ، اُس کی باز پرس کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
منکرین آخرت کو تنبیہ
کہ آخرت کا آنا برحق ہے، اسے دور نہ سمجھو اور جو انکار کرے گا اس کا سارا کیا
دھرا جلد ہی اس کے سامنے آجائے گا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 223
سورہ نبا موضوع مضمون
پھر کلام کو اس تنبیہ پر ختم کیا گیا
ہے کہ جس دن کے آنے کی خبر دی جا رہی ہے اس کا آنا بر حق ہے، اسے دور نہ سمجھو، وہ
قریب ہی آئے گا ، اب جس کا جی چاہے اسے مان کر اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے۔ لیکن
اس تنبیہ کے باوجود جو اس کا انکار کرے گا
اس کا سارا کیا دھرا اس کے سامنے آجائے گا اور پھر وہ پچھتا پچھتا کر کہے گا کہ
کاش میں دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا اس وقت اس کا یہ احساس اس دنیا کے بارے میں ہو
گا جس پر وہ آج لٹو ہو رہا ہے۔
منکرین آخرت کو تنبیہ کہ آخرت کا آنا
برحق ہے، اسے دور نہ سمجھو اور جو انکار کرے گا اس کا سارا کیا دھرا جلد ہی اس کے
سامنے آجائے گا
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 232
سورہ نبا آیت 40
اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ
عَذَابًا قَرِيْبًا١ۖۚ۬ يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ وَ
يَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًاؒ۰۰۴۰
ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا
ہے جو قریب آلگا ہے۔ جس روز آدمی وہ سب
کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے ، اور کافر پکار اُٹھے گا کہ کاش
میں خاک ہوتا۔
اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ
عَذَابًا قَرِيْبًا
ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا
ہے جو قریب آلگا ہے۔
بظاہر ایک آدمی یہ خیال کر سکتا ہے کہ
جن لوگوں کو خطاب کر کے یہ بات کہی گئی تھی
ان کو مرے ہوئے اب ۱۴
سو سال گزر چکے ہیں، اور اب بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قیامت آئندہ کتنے سو، یا
کتنے ہزار ، یا کتنے لاکھ برس بعد آئے گی۔ پھر یہ بات کس معنی میں کہی گئی ہے کہ
جس عذاب سے ڈرایا گیا ہے و ہ قریب آلگا ہے؟ اور سورہ کے آغاز میں یہ کیسے کہا گیا
ہے کہ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انسان کو وقت کا احساس
صرف اُسی وقت تک رہتا ہے جب تک وہ اِس دنیا میں زمان و مکان کی حدود کے اندر جسمانی
طور پر زندگی بسر کر رہاہے۔ مرنے کے بعد جب صرف روح باقی رہ جائے گی، وقت کااحساس
و شُعور باقی نہ رہے گا، اور قیامت کے روز جب انسان دوبارہ زندہ ہو کر اٹھے گا اس
وقت اسے یوں محسوس ہو گا کہ ابھی سوتے سوتے اسے کسی نے جگا دیا ہے ۔ اس کو یہ
احساس بالکل نہیں ہوگا کہ وہ ہزار ہا سال کے بعد دوبارہ زندہ ہوا ہے۔
وَ يَقُوْلُ الْكٰفِرُ
يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًاؒ۰۰۴۰
اور کافر پکار اُٹھے گا کہ کاش میں
خاک ہوتا۔
یعنی دنیا میں پیدا ہی نہ ہوتا، یا مر
کر مٹی میں مل جاتا اور دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کی نوبت نہ آتی۔
Comments
Post a Comment