آخرت کے لیے جو کچھ کسی نے کما کر آگے بھیج دیاوہی اس کا اصل سرمایہ اور بہتر سرمایہ ہےاور اسی کا بڑا اجر ہے
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ
الرَّحِيْمِ
آخرت کے لیے جو کچھ کسی نے کما کر آگے
بھیج دیاوہی اس کا اصل سرمایہ اور بہتر سرمایہ ہےاور اسی کا بڑا اجر ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ 134، 135
سورہ مزمل آیت 20
اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ
اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَيِ الَّيْلِ وَ نِصْفَهٗ وَ ثُلُثَهٗ وَ
طَآىِٕفَةٌ مِّنَ الَّذِيْنَ مَعَكَ١ؕ وَ اللّٰهُ يُقَدِّرُ الَّيْلَ وَ
النَّهَارَ١ؕ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُوْا مَا
تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ١ؕ عَلِمَ اَنْ سَيَكُوْنُ مِنْكُمْ مَّرْضٰى١ۙ وَ
اٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١ۙ وَ
اٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ۖٞ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ
مِنْهُ١ۙ وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ
قَرْضًا حَسَنًا١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ
عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرًا وَّ اَعْظَمَ اَجْرًا١ؕ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ
اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌؒ۰۰۲۰
اے نبیؐ ، تمہارا ربّ جانتا ہے کہ تم
کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں
کھڑے رہتے ہو، اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتا ہے۔ اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتا ہے
، اُسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک
شمار نہیں کر سکتے، لہٰذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ
سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ اُسے معلوم ہے کہ تم
میں کچھ مریض ہوں گے، کچھ دُوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں، اور
کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔
پس جتنا قرآن بآسانی پڑھا جاسکے
پڑھ لیا کرو، نماز قائم کرو، زکوٰة
دو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو۔
جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاوٴ گے، وہی
زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے۔ اللہ سے مغفرت مانگتے رہو، بے شک اللہ
بڑا غفور و رحیم ہے۔
وَ اٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ
فِي الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ١
کچھ دُوسرے لوگ اللہ کے
فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں
22.
جائز اور حلال طریقوں سے رزق کمانے کے لیے سفر کرنے کو
قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ کا فضل تلاش کرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
وَ اٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ
فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ
اور کچھ اور لوگ اللہ کی
راہ میں جنگ کرتے ہیں۔
23.
یہاں اللہ تعالیٰ نے پاک رزق کی تلاش اور جہاد فی سبیل
اللہ کا ذکر جس طرح ایک ساتھ کیا ہے اور بیماری کی مجبوری کے علاوہ اِن دونوں کا
موں کو نماز تہجّد سے معافی یا اس میں تخفیف کا سبب قرار دیا ہے، اس سے اندازہ
ہوتا ہے کہ اسلام میں جائز طریقوں سے روزی کمانے کی کتنی بڑی فضیلت ہے۔ حدیث میں
حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مامن جالبٍ یجلبُ طعامًا الیٰ بلد من بلدٍ ان المسْلمین فیبیعہ لِسِعْرِ یو مہٖ
الا کانت منزلتہٗ عند اللہ ثم قر أ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و اٰ خرون یضربون
فی الارض....”جو شخص مسلمانوں کے کسی شہر میں غلّہ لے کر آیا اور اُس روز کے بھا ؤ
پر اسے بیچ دیا اس کو اللہ کا قرب نصیب ہوگا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
یہی آیت پڑھی“(ابن مَرْدُوْیَہ)۔ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ فرمایا ما من حال یا تینی
علیہ الموت بعد الجھاد فی سبیل اللہ احبّ الی من ان یا تینی و انا بین شِعبتَی جبل
التمس من فضل اللہ و قر أ ھٰذا الاٰ یتہ۔”جہاد فی سبیل اللہ کے بعد اگر کسی حالت میں
جان دینا مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے تو وہ یہ حالت ہے کہ میں اللہ کا فضل تلاش
کرتے ہوئے کسی پہاڑی درے سے گزر رہا ہوں اور وہاں مجھ کو موت آ جائے، پھر انہوں نے
یہی آیت پڑھی“(بَیْہَقی فی شُعَب الایمان)۔
وَ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ
اٰتُوا الزَّكٰوةَ
نماز قائم کرو، زکوٰة دو
24.
مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد پنجوقتہ فرض
نماز اور فرض زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔
وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ
قَرْضًا حَسَنًا
اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو۔
25.
ابن زید کہتے ہیں کہ اس سے مراد زکوٰۃ کے علاوہ اپنا
مال خدا کی راہ میں صرف کرنا ہے، خواہ وہ جہاد فی سبیل اللہ ہو ، یا بندگانِ خدا کی
مدد ہو، یا ر فاہِ عام ہو، یا دوسرے بھلائی کے کام۔
وَ مَا تُقَدِّمُوْا
لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَيْرًا وَّ اَعْظَمَ
اَجْرًا
جو کچھ بھلائی تم اپنے
لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاوٴ گے، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر
بہت بڑا ہے
26. “مطلب یہ ہے کہ تم نے آگے اپنی
آخرت کے لیے جو کچھ بھیج دیا وہ تمہارے لیے اُس سے زیادہ نافع ہے جو تم نے دنیا ہی
میں روک رکھا اور کسی بھلائی کے کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچ نہ کیا۔
حدیث میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے پو چھا ایکم مالہ احب الیہ من مال وارثہ؟”تم میں سے کون ہے جس کو اپنا مال
اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جسے اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب
نہ ہو۔فرمایا اعملو ا ما تقولون۔”سوچ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو“۔ لوگوں نے عرض کیا یا
رسول اللہ ہمارا حال واقعی یہی ہے۔ اس پر حضور ؐ نے فرمایا: انما مال احد کم ما
قدّ م ومال وارثہٖ ما اخّر۔”تمہارا اپنا مال تو وہ ہے جو تم نے اپنی آخرت کے لیے
بھیج دیا ۔ اور جو کچھ تم نے روک کر رکھا وہ تو وارث کا مال ہے“۔(بخاری۔نسائی۔
مُسند احمد ابویَعلیٰ)
آخرت کے لیے جو کچھ کسی
نے کما کر آگے بھیج دیاوہی اس کا اصل سرمایہ اور بہتر سرمایہ ہےاور اسی کا بڑا اجر
ہے
فہرست موضوعات – تفہیم القرآن جلد ششم
– آخرت
صفحہ
315، 316
سورہ الاعلی آیات 15تا17
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى
ۙ۰۰۱۴وَ
ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ۰۰۱۵بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ
الدُّنْيَاٞۖ۰۰۱۶وَ
الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ؕ۰۰۱۷
فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار
کی اور اپنے ربّ کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی۔ مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے
ہو، حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے
والی ہے۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى
فلاح پا گیا وہ جس نے
پاکیزگی اختیار کی
پاکیزگی سے مراد ہے کفر و شرک چھوڑ کر
ایمان لانا، برے اخلاق چھوڑ کر اچھے اخلاق اختیار کرنا اور برے اعمال چھوڑ کر نیک
اعمال کرنا۔ فلاح سے مراد دنیوی خوشحالی
نہیں ہے بلکہ حقیقی کامیابی ہے ، خواہ دنیا کی خوشحالی اس کے ساتھ میسّر ہو یا نہ
ہو
وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ
اور اپنے ربّ کا نام یاد
کیا
یاد سے مراد دل میں بھی اللہ کو یاد
کرنا ہے اور زبان سے بھی اُس کا ذکر کرنا ہے۔ دونوں چیزیں ذکرِ الہٰی کی تعریف میں
آتی ہیں۔
فَصَلّٰىؕ
پھر نماز پڑھی
. یعنی صرف یاد کر کے رہ نہیں گیا
بلکہ نماز کی پابندی اختیار کر کے اس نے ثابت کر دیا کہ جس خدا کو وہ اپنا خدا مان
رہا ہے اس کی اطاعت کے لیے وہ عملاً تیار ہے اور اس کو ہمیشہ یا د کرتے رہنے کا
اہتمام کر رہا ہے۔ اِس آیت میں علی الترتیب دو باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ پہلے
اللہ کو یاد کرنا، پھر نماز پڑھنا۔ اسی کے مطابق یہ طریقہ مقرر کیا گیا ہے کہ اللہ
اکبر کہہ کر نماز کی ابتدا کی جائے۔ یہ مِن جملہ اُن شواہد کے ہے جن سے معلوم ہوتا
ہے کہ نماز کا جو طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے اُس کے تمام
اجزاء قرآنی اشارات پر مبنی ہیں۔ مگر اللہ کے رسول کے سوا اِن اشارات کو جمع کر کے
کوئی شخص بھی نماز کی یہ ہیئت ترتیب نہیں دے سکتا تھا۔
بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ
الدُّنْيَاٞۖ
مگر تم لوگ دنیا کی
زندگی کو ترجیح دیتے ہو،
. یعنی تم لوگوں کی ساری فکر بس دنیا
اور اس کی راحت و آسائش اور اس کے فائدوں اور لذّتوں کے لیے ہے۔ یہاں جو کچھ حاصل
ہو جائے تم سمجھتے ہو کہ بس وہی اصل فائدہ ہے جو تمہیں حاصل ہو گیا، اور یہاں جس چیز
سے محروم رہے تمہارا خیال ہے کہ بس وہی اصل نقصان ہے جو تمہیں پہنچ گیا۔
وَ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى
حالانکہ آخرت بہتر ہے
اور باقی رہنے والی ہے
یعنی آخرت دو حیثیتوں سے دنیا کے
مقابلے میں قابلِ ترجیح ہے۔ ایک یہ کہ اس کی راحتیں اور لذّتیں دنیا کی تمام
نعمتوں سے بڑھ کر ہیں ، اور دوسرے یہ کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی۔
Comments
Post a Comment